منو بھائی کی رخصتی اور شہر کی اداسی
- تحریر سلمان عابد
- جمعرات 25 / جنوری / 2018
- 5660
اگرچہ منو بھائی کے انتقال سے بہت سے لوگوں کی طرح دل اداس ہے لیکن خوشی اس بات کی بھی ہے کہ وہ ایک بھرپور اور بامعنی زندگی گزار کر اللہ کے حضور پیش ہوئے ہیں ۔ وہ محض ایک صحافی، کالم نگار، ڈرامہ نگار، ادیب، مصنف، دانشور ہی نہیں تھے بلکہ ایک اعلی کردار کی بڑی شخصیت اوراپنی ذات میں انجمن کی حیثیت رکھتے تھے ۔
عمومی طور پر ان کی ایک بڑی پہچان ایک معروف کالم نویس کی تھی ، لیکن ان کی ایک بڑی حیثیت ایک سیاسی اور سماجی ریفارمر کی بھی تھی جو سماجی تبدیلی چاہتے تھے ۔ منو بھائی ایک مجلسی آدمی تھے اور ایک کمال شخصیت کے طور پر ان کو مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ نہ کبھی کسی سے الجھے، نہ باہمی اختلافات کو انہوں نے اپنی منزل بنایا اور نہ کسی تعصب یا تضحیک کے پہلو کو اپنے اندر سمونے کی کوشش کی ۔ ہمیشہ ان کا پیغام محبت، عاجزی ، انکساری اور دوستی کا ہوتا تھا ۔ چہرے پر سنجیدگی اور مسکراہٹ دونوں ان کا خاصہ تھا اور ضرورت پڑنے پر دوستوں میں اس قدر محو ہوجاتے کہ ان کے اندر کا ایک معصوم بچہ سامنے آجاتا۔ ان کی محفل میں بیٹھنے والا کوئی فرد بور نہیں ہوتا تھا۔ قصے کہانیاں سنانا، لطیفے پیش کرنا اور مزاح کرنا ان کی خاص عادت تھی ۔ جب بھی کسی سے ملتے تو پوچھا کرتے تھے ، اوئے کی حال اے۔ منو بھائی نے اپنے قلم کو کبھی بھی سیاسی محاذآرائی اور شخصیت پرستی میں نہیں الجھایا ۔ وہ ایک منصفانہ سیاسی ، سماجی ، معاشی ، اخلاقی اور برابری پر مبنی معاشرے کے حامی تھے ۔ بالخصوص معاشرے کے محروم طبقات کے حقوق کے لیے ان کی قلمی اور عملی جدوجہد ناقابل فراموش ہے ۔ کسی کا دکھ دیکھتے یا سنتے تو اسے اپنے اندر کے دکھ کے ساتھ جوڑ کر اس دکھ کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ۔ منو بھائی کا شمار ان لکھاریوں میں ہوتا ہے جنہوں نے عوامی امنگوں، خوابوں، دکھوں اور انسان کی محرومیوں کو زبان دی ۔ منو بھائی وہ واحد لکھاری تھے جنہوں نے سماجی موضوعات پر خوب لکھا اور آخری دم تک اس مسئلہ پر قلمی جہاد کیا۔
منو بھائی ایک زندہ حساس انسان تھے ، کسی کا دکھ سنتے تو آنسو نمودار ہوجاتے ۔ ان کا اپنا دکھ بھی کافی رنجیدہ کردیتا ہے ۔ ان کے بقول ایک بار ان کے والد نے ان کی والدہ کو زور دار تھپڑ مارا تو ان پر اس قدر شدید سکتہ طاری ہوا کہ اس کے نتیجے میں ان کی قوت گویائی متاثر ہوئی اور ہمیشہ بولتے ہوئے لکنت کا شکار رہے ۔ ان کے بقول ان کی لکنت پر ان کے دوست ان کا خوب مذاق بھی آڑا تے لیکن وہ برا نہیں مناتے تھے ۔ ان کے بقول ان کے کالم نگار بننے میں ایک عورت کا بڑا ہاتھ ہے جو اپنے بچے کی گمشدگی کی خبر لگوانے کے لیے میرے دفتر آئی۔ بنیادی معلومات کے بعد جب میں نے پوچھا کہ اس نے کس رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے تو بولی سفید رنگ ، لیکن اب کافی میلے ہوگئے ہوں گے ۔ یہ جملہ ایک ماں ہی ادا کرسکتی تھی اور اس نے مجھے اس حد تک متاثر کیا کہ میں نے لکھنا شروع کردیا۔ منو بھائی ہم سے عمر میں بہت بڑے تھے ۔ میری پہلی ملاقات بھی اپنے والد مرحوم عبدالکریم عابد کے توسط سے ہوئی تھی ۔ وہ میرے والد کے اچھے دوست تھے۔ مجھے کہا کرتے تھے کہ کہ اگرچہ تمارے والد دائیں بازو کے ہیں لیکن اعتدال پسند اور انتہا پسندی کے سخت مخالف تھے اور یہ ہی ان سے میری دوستی کی بنیاد بھی تھی ۔ وہ جب بھی ملتے تو خوب باتیں کرتے۔ آخری بار ان سے تفصیلی ملاقات کا اہتمام میرے دوست فرخ سہیل گوئندی نے کیا تھا ۔ اس ملاقات میں افتخار مجاز ، شہباز انور خان ، خالد رسول ، علی عباس اور راقم بھی تھے ۔ کیا کمال کی مجلس تھی اور منو بھائی خوب بولے بھی۔ یہ ملاقات واقعی یادگار رہی ۔ منو بھائی جنگوں اور نفرتوں کی سیاست کے مخالف تھے ۔ پاک بھارت دوستی ان کا خواب تھا اور اس پر خوب لکھا بھی ۔ ایک بار بھارت کے دورے پر ان کے ساتھ سفر بھی کیا اور خوب انجوائے کیا۔ منو بھائی جب بھی میری پیشانی پر بوسہ لیتے تو سر فخر سے بلند ہوجاتا تھا ۔
منو بھائی کا اصل نام منیر احمد قریشی تھا ۔ لیکن احمد ندیم قاسمی نے ان کا قلمی نام منو بھائی رکھ دیا اور اس کے بعد ان کی یہ ہی پہچان بن کر رہ گئی ۔ ان کے بقول بعض اوقات ان کی بیوی بھی ان کو منو بھائی پکارتی تو وہ حیران ہوجاتے تھے ۔ بچوں سے پیار منو بھائی کی خاصیت تھی۔ یہ ہی وجہ تھی کہ ان کی زندگی کی ایک بڑی جدوجہد مظلوم بچوں کے حقوق کے تناظر میں بھی موجود ہے ۔ سندس فاونڈیش اور تھلسیمیا کے مریضوں کی دیکھ بھال میں ان کی جدوجہد قابل قدر ہے ۔ وہ اس ادارے کے ساتھ کئی دہائیوں سے کام کررہے تھے اور رضاکارانہ طور پر اس کے سفیر کی حیثیت رکھتے تھے۔ عورتوں، کسانوں اور مزدوروں سمیت اقلیتوں کے حقوق کے لیے بھی خوب لکھا ۔عورتوں کے حقوق کے بارے میں ان کی حساسیت کمال کی تھی اور لگتا تھا کہ عورتوں کے حقیقی مسائل پر وہ ایک انسائیکلو پیڈیا کی حیثیت رکھتے ہیں۔ منو بھائی کی ایک پہچان ڈرامہ نویس کی بھی تھی ۔ کیا خو ب ڈرامے لکھے۔ ان میں سونا چاندی ، جھوک سیال ، دشت جیسے ڈرامے شامل تھے ۔ سونا چاندی ان کی بڑی پہچان بنا۔ ان کی خوبی یہ تھی کہ ان کے ڈراموں میں گلیمر سے زیادہ حقیقی مسائل اور کردار کی عکاسی ہوتی تھی ۔ کئی اہم کتابوں کے مصنف بھی تھے۔ ان میں ان کی شاعری کی پنجابی کتاب ’’ اجے قیامت نہیں آئی ‘‘ کالموں کا مجموعہ جنگل اداس ہے کو بڑی پزیرائی ملی۔ اور وہ صدارتی ایوارڈ پرائڈ آف پرفارمنس کے حق دار بھی ٹھرے ۔ لیکن ان کا اصل ایوارڈ انسانوں سے محبت اور لوگوں سے ملنے والی وہ محبت ہے جو ان کی ذندگی کا بڑا سرمایہ تھی ۔ ان کی خاص بات یہ تھی کہ ہر مکتبہ فکر اور مختلف سوچ رکھنے والوں کے ساتھ ان کی دوستی تھی اور وہ ایک خاص فکر کو بنیاد بنا کر دوستی کرنے کے قائل نہیں تھے ۔
تعلیم کے پھیلاؤ سے ان کی محبت لازوال تھی اور بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم پر ان کی خوب توجہ ہوتی تھی ۔ میرے دوست عبید اللہ چوہدری کے والد گرامی صادق چوہدری نے گوجرانولہ میں اپنے گاؤں نواں پنڈ میں ’’ کوشش سکول ‘‘ کی بنیاد رکھی اور اس کی افتتاح بھی منو بھائی نے کیا۔ مجھے خود اس سکول میں جانے اور دیکھنے کا موقع ملا اور آج وہاں ہزاروں بچے اور بچیاں فری تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ اس کا کریڈیٹ صادق چوہدری منو بھائی کو دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ منو بھائی کی قلمی اور مالی مدد کے بغیر یہ کام ممکن نہیں تھا۔ معلوم نہیں کتنے معصوم بچوں اور بچیوں کی ترقی میں منو بھائی کے قلم اور لوگوں کو عملی طور پر متحرک کرنے میں کردار ادا کیا ۔ وہ واقعی نظام کی حقیقی تبدیلی کے خواہش مند تھے ۔ سیاست سے بعض اوقات ان کو بیزاری بھی ہوتی تھی اور کہتے تھے کہ سیاست عام آدمی کی نہیں بلکہ مفاداتی طبقہ کی لونڈی بن کر رہ گئی ہے ۔
کئی اہل سیاست سے ان کے براہ راست تعلقات تھے اور سب سے ان کی نیاز مندی بھی تھی۔ لیکن اپنے آپ کو مالی مراعات سے دور رکھا اور دیانت داری کو اپنا نصب العین بنایا، یہ ان کا خاصہ تھا۔ آخری بار ان سے ٹیک کلب کی تقریب میں ملاقات ہوئی ۔ قیوم نظامی ، زبیر شیخ، صادق چوہدری کی موجودگی میں وہ ملک میں کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست سے سخت مایوس تھے ۔ انہوں نے اپنی شہرہ آفاق نظم ’’احتساب دے چیف کمشنرصاحب بہادر‘‘ بھی پڑھی ۔ اس کے چند اشعار ملاحظہ کیجئے:
چوروں ، ڈاکواں ، قاتلاں کولوں
چوراں ڈاکواں قاتلاں بارے کیہہ پوچھدے او
اے تانوں کیوں دسن گے ، کیوں دسن گے؟
دسن گے تے جنج وسدے نے ، کنج وسن گے
کون کہوے میرا پتر ڈاکو
قتل دا مجرم میرا بھائی
میرے چاچے جائیداداں تے قبضے کیتے
تے لوکاں دی عمر کمائی لٹ کے کھاگئی میری تائی
میرے پھوپھڑ ٹیکس چرائے میرا ماما چور سپاہی
دتی اے کدی کسی نے اپنے جرم دی آپ گواہی
اسی طرح ان کی ایک اور شاندار نظم ’’ سوال جواب ’’ ہے:
کییہ ہویا ائے ؟
کجھ نہیں ہویا
کییہ ہووے گا؟
کچھ نہیں ہونا
کیہ ہوسکدا ہے ؟
کجھ نہ کچھ ہوندا ہی رہندا اے
جو توں چاہنا اے او نہیں ہوناں
ہو نہیں سکدا
کرناں پیندا اے
حق دی خاطر لڑنا پیندا اے
جیون دے لئی مرنا پیندا اے ۔
منو بھائی آپ ہمیشہ یاد آئیں گے اور لاہور کی مجلسی بیٹھکیں آپ کے بغیر واقعی آداس ہیں ۔ لیکن میرا فخر یہ ہے کہ مجھ جیسے لوگوں نے منو بھائی کے عہد میں زندگی کا کچھ وقت گزارا ہے ۔