شہباز شریف کو دیوار سے کیوں لگایا جا رہا ہے

آپ مانیں یا نہ مانیں لیکن شہباز شریف کو دیوار سے لگانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ شہباز شریف کو بطور خاص ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ لیکن ہمیں یہ بات سمجھنی ہو گی کہ شہباز شریف کو ٹارگٹ کرنے کی حکمت عملی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ نقصان ہی نقصان ہوگا۔ پہلے ہی نواز شریف کی نا اہلی ایک بے لذت گناہ ثابت ہو رہی ہے۔ ایسے میں سمجھ نہیں آرہی کہ شہباز شریف کو ٹارگٹ کرنے والے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دوستوں کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ شہباز شریف کو بے وجہ ٹار گٹ کرنے کی حکمت عملی کا نہ تو پہلے فائدہ ہوا ہے اور نہ ہی اب ہوگا۔

خدا کا شکر ہے کہ زینب کیس حل ہو گیا۔ اس کا سفاک قاتل پکڑا گیا ہے۔ لیکن زینب کے قتل کے حوالہ سے بھی ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ شہباز شریف کو بے وجہ ٹارگٹ کیا گیا۔ شہباز شریف کے سیاسی مخالفین نے جو شہباز شریف کو اپنے راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں اس واقعہ کو شہباز شریف کے خلاف استعمال کرنے کی بھر پور کی کوشش کی۔ لاہور میں متحدہ اپوزیشن کے ناکام جلسہ کے بعد اپوزیشن کو جو خٖفت ہوئی اس کو زینب کے واقعہ سے دھونے کی مذموم کوشش کی گئی۔ جس طرح سب قصور گئے اس سے بھی سوالیہ نشان پیدا ہوئے ہیں۔ لائن در لائن جو قصور پہنچے وہ سب مردان کیوں نہیں پہنچے۔ یہ سب نقیب کے جرگہ میں کیوں نہیں پہنچے۔ یہ سب انتظار کے والد کے پاس کیوں نہیں پہنچے۔ اور یہ سب چند ماہ پہلے ڈیرہ اسماعیل خان کی اس مظلوم لڑکی کے پاس کیوں نہیں پہنچے تھے۔ انہی سوالات میں سارا جواب بھی موجود ہے۔  سوال یہ بھی ہے کہ نیب شہباز شریف کو کیوں ٹارگٹ کر رہی ہے۔ کیا شہباز شریف کے خلاف کوئی گریٹ گیم کھیلی جارہی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ نیب صرف شہباز شریف کو کیوں ہی ٹارگٹ کر رہی ہے۔ کیا باقی سب وزرائے اعلیٰ دودھ کے دھلے ہیں۔ کسی کا کوئی سکینڈل نہیں ہے۔ کے پی کے کا بند احتساب کمیشن کیوں کسی کو نظر نہیں آتا۔ کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے والے اس کا تالہ کیوں نہیں کھولتے۔ کیوں بلوچستان کی کرپشن پر خاموشی ہے۔ سارا پاکستان اور سارے غیر جانبدار سروے سندھ کی بیڈ گورننس پر شور مچا رہے ہیں لیکن معنی خیز خاموشی بھی ہے۔ مراد علی شاہ کے دور کو ایک طرف رکھیں لوگ قائم علی شاہ کے دور کی داستانیں سناتے تھکتے نہیں ہیں۔ لیکن خاموشی بھی ہے۔ یہ شہباز شریف سے محبت بے وجہ نہیں ہے۔ مجھے میڈیا کے ایک خاص حصہ کی تو شہباز شریف سے محبت سمجھ آتی ہے ۔ سیاسی مخالفین کی شہباز شریف سے محبت توسمجھ آتی ہے۔ لیکن اداروں کو اس کا حصہ نہیں بننا چاہئے۔

عمران خان کی جانب سے شہباز شریف کو اب سے نہیں گزشتہ ایک سال سے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ عمران خان کی جانب سے شہبازشریف پر کئی حملہ کئے گئے ہیں۔ پانامہ کے بعد حدیبیہ سے امیدیں باندھ لی گئیں کہ شہباز شریف حدیبیہ سے آؤٹ ہو جائے گا۔ پھر ملتان میٹرو سے امیدیں لگائی گئیں کہ بس ملتان میٹرو سے شہباز شریف آؤٹ ہو جائے گا۔ وہ تو چین نے سامنے آکر شہباز شریف کی ایمانداری کی گواہی دے دی۔ نجفی رپورٹ سے امید لگائی گئی کہ بس یہ رپورٹ شہباز شریف کے گلے کا پھندا بن جائے گی۔ تاہم حیرانی کی بات یہ ہے کہ شہباز شریف ان سب حملوں سے بچ گئے ہیں۔ یہی سب سے بڑی پریشانی ہے کہ شہباز شریف بچتے جا رہے ہیں۔  یہ بھی حقیقت ہے کہ ان حملوں سے زچ ہو کر شہباز شریف نے عمران خان کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا ہے۔ اور عمران خان اس کا عدالت میں جواب نہیں دے رہے۔ مجھے شہباز شریف کی بے بسی پر افسوس بھی ہو تا ہے کہ وہ عدالت سے انصاف حاصل کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ شائد عدالتوں کے لئے یہ مقدمہ اہم نہیں۔ حالانکہ اگر اس مقدمہ کا فیصلہ ہو جائے تو پاکستان کی سیاست سے جھوٹ ختم ہو سکتا ہے۔ کم از کم یہ تو طے ہو جائے گا کہ دونوں میں سے کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔ مجھے تو ایسا لگ رہا کہ شہباز شریف کو بھی انصاف لینے کے لئے دھرنا ہی دینا ہوگا۔

جہاں تک پیپلزپارٹی کا تعلق ہے تو پیپلزپارٹی کو شاید براہ راست شہباز شریف سے کوئی مخالفت نہیں ہے۔ وہ توا س چکر میں شہباز شریف کے خلاف محاز گرم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کہیں وہ پی ٹی آئی سے پیچھے نہ رہ جائیں۔ تحریک انصاف پیپلزپارٹی کے حواس پر سوار ہے۔ اس لئے تحریک انصاف سے مقابلہ کے چکر میں وہ شہباز شریف کی مخالفت کر رہے ہیں۔ لیکن یہ بھی ماننا ہوگا کہ پیپلزپارٹی اس وقت تحریک انصاف کے سامنے دبی ہوئی ہے۔ اسی لئے تو اعتزاز ا حسن جو بڑی دھوم دھام سے قصور تو چلے گئے لیکن انہیں مردان جانے کی ہمت نہ ہوئی۔ کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ کہیں عمران خان ناراض نہ ہو جائیں۔ یہ درست ہے کہ بلاول اور آصف زرداری اپنی تقاریر میں عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں لیکن پیپلزپارٹی پنجاب ایسا نہیں کرتی۔ کیونکہ شاید پوری پیپلزپارٹی پنجاب تحریک انصاف کو ہی اپنا اگلا گھر سمجھتی ہے۔ جو ابھی رکے بھی ہوئے ہیں وہ بھی اس نتخاب تک رکے ہوئے ہیں۔ اگر اس انتخاب میں پیپلز پارٹی پنجاب میں کوئی معرکہ کرنے میں کامیاب نہ ہوئی تو باقی سب بھی لائن لگا کر تحریک انصاف میں چلے جائیں گے۔

بات شہباز شریف کو دیوار سے لگانے کی ہو رہی تھی۔ کہیں نہ کہیں ایسا بھی لگ رہا ہے کہ جب سے نواز شریف نے شہباز شریف کو نون لیگ کی جانب سے اگلے انتخابات میں وزارت عظمیٰ کا باقاعدہ امیدوار نامزد کر دیا ہے۔ تب سے شہباز شریف پر حملوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ جن سیاسی قوتوں کا یہ خیال تھا کہ نواز شریف کی نا اہلی کے بعد ان کے لئے میدان صاف ہو جائے گا۔ وہ اکیلے ہی میدان سیاست میں دندناتے پھریں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ شہباز شریف ان کے راستے کی رکاوٹ بن گئے ہیں۔ یہ درست ہے کہ نواز شریف بھی ایک بیانیہ کے ساتھ سامنے آئے ہیں لیکن شہباز شریف نے نون لیگ کی کشتی کو سہارا دیا ہے۔ ووٹر کو امید دی ہے کہ نواز شریف کے بعد شہباز شریف ہیں اور وہ اگلے انتخاب میں مقابلہ کریں گے۔ شاید اس صورتحال نے سب کو پریشان کر دیا ہے۔ سکرپٹ کو الٹ دیا ہے۔

اب کیا ہوگا ۔ کیا واقعی شہباز شریف کو مائنس کیا جا سکتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب یہ ممکن نہیں۔ صرف شہباز شریف کو پریشان کیا جا رہا ہے۔ جیسے اورنج لائن کو روک کر پریشان کیا گیا۔ سب سمجھ رہے ہیں کہ شہباز شریف اپنے جن منصوبوں کی تکمیل کے لئے وزیر اعظم نہیں بنے تھے اور انہوں نے شاہد خاقان عباسی کو راستہ دے دیا تھا۔ اب اگر وہ منصوبے مکمل ہو گئے تو شہباز شریف کی گڈی چڑھ جائے گی۔ ایسے میں شہباز شریف کو شکست دینا مشکل ہو جائے گا۔ لہذا حکمت عملی یہی نظر آرہی ہے کہ شہباز شریف کو پریشان کیا جائے۔ اسی لئے جب زینب کے قاتل کو پکڑ بھی لیا گیا تو تالی کو ایشو بنایا جا رہا ہے۔ حالانکہ تالی تو اتنے سفاک قاتل کے پکڑنے پر بنتی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شاباش دی جانی چاہئے۔ لیکن مسئلہ تو شہباز شریف کی مخالفت کا ہے۔ اگر زینب کے والد کو ساتھ نہ بٹھایا جاتا تو کہتے نہیں بٹھایا اور اگر ساتھ بٹھا لیا تو بھی سوال ہے۔ اگر رانا ثناء اللہ زینب کے والد  کو یہ کہہ رہے ہیں کہ آج صرف ملزم کی سزا کی حد تک بات کی جائے تو کیا غلط کہہ رہے ہیں۔ زینب کے والد کے مائیک بند کرنے کی بات کو بھی شہباز شریف کی محبت میں ایشو بنایا جا رہا ہے ۔ وہ پریس کانفرنس اس کے والد کی نہیں تھی۔ وہ الگ پریس کانفرنس کر سکتے ہیں۔ بلکہ کرتے رہے ہیں۔ کوئی اس کے والد کی زبان بندی نہیں کی گئی بس وہ کہتے ہیں کہ آٹا گوندھتے ہلتی کیوں ہو کی مصداق شہباز کی مخالفت تو کرنی ہے۔ 

ایک طرف زینب کے واقعہ پر ایسا ماحول بنا دیا جائے کہ بس شہباز شریف کی حکومت ختم ہو گئی دوسری طرف کراچی کی سڑکوں پر دو نوجوان دن دیہاڑے قتل ہو جائیں لیکن کوئی مراد علی شاہ سے سوال نہ کرے۔ حتیٰ کہ عمران خان کو کراچی جانے کی ہمت نہ ہو۔ ہمارے سیاسی پندٹ خاموش ہو جائیں۔ اسی طرح مردان اور ڈیرہ اسماعیل خان کے واقعات پر پیپلزپارٹی سے خاموشی بھی معنی خیز ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف میں با ہمی طور پر میچ فکس ہو چکا ہے۔ دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ نرم گوشہ رکھنے کی پالیسی بنا لی ہے۔ بس لفظی جنگ ہے۔ عملی طور پر دونوں ایک دوسرے کے خلاف کچھ نہیں کر رہے۔ دوسری طرف شہباز شریف کے خلاف دونوں اکٹھے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان شہباز شریف کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے حوالہ سے معاہدہ نظر آرہا ہے۔

یہ سیاست ہے اس میں سب جائز ہے ۔ کل کے دوست آج کے دشمن۔ اور آج کے دوست کل کے دشمن ہیں۔ بس یہی شہباز شریف کے معاملہ میں بھی ہو رہا ہے۔ کل کے دشمن شہباز شریف کی مخالفت میں دوست بن گئے ہیں۔ صورتحال دلچسپ بھی ہے اور ڈرامائی بھی۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ شہباز شریف اس سب کے باوجود بچ جائیں گے اور سیاسی مخالفین کو انتخابات میں ہی آخری معرکہ لڑنا ہوگا۔