جنات کی جکڑپکڑ

جنات کی جکڑ میں آیا قاتل بالآخر قانون کی پکڑ میں آ ہی گیا۔
اس کے جن اگر قانون سے زیادہ طاقتور ہوئے تو کسی مرحلے پر اسےچھڑوا لیں گے۔
لیکن پولیس کچہری کے چکر میں پڑنے کی بجائے وہ اسے اس کے حال پر چھوڑ کر اگرکسی سلیمانی پہاڑی کی طرف کوچ کر گئے تو ذرا مشکل ہو جائے گی۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ شاطر جن ملک چھوڑ کر ہی چلے جائیں۔ ان حالات میں تو ان کا نام ’’ ای۔سی۔ایل ‘‘ پر پہلے ہی ڈال دینا چاہیئے۔ کون نہیں جانتا کہ دوسرے مقدمات میں مطلوب کئی چھوٹے بڑے جن تو پہلے ہی اپنے فرنٹ مینوں کے کاندھوں پر سوار ہو کرسلیمانی پہاڑوں کی طرف سدھار چکے ہیں۔

پولیس کیلئے اس گھناؤنے واقعے کی تفتیش خاصی بڑی سر دردی بھی ہو سکتی ہے۔
ان جنات کا عقیدہ، فرقہ، مذہب اور روحانی پیشواؤں کے نام بھی انہیں معلوم کرنا ہوں گے۔ لیکن فکر کی کیا بات ہے۔ ہماری پنجاب پولس کیلئے یہ کونسا ایسا مشکل کام ہے۔ جرم کا اقرار تو وہ جرم سرزد ہونے سے پہلے ہی کروا سکتے ہیں۔ لیکن مجرم یا ملزم اگر مقابلے پر تل جائے تو اس کی مرضی۔

لیکن ہوا کیا۔
نہ آسمان ٹوٹا نہ زمین کا سینہ شق ہوا۔
’’ ریڈ رائیڈنگ ہڈ ‘‘ کی طرح ایک بچی تھی جس کی قسمت میں اسی گلے سڑے سماج میں پیدا ہونا لکھا تھا۔ ایک بھیڑیے نے اسے ادھیڑ کر رکھ دیا۔ اور بس وہ مر گئی۔
نارمل انسانوں کے کسی معاشرے میں اس نے جنم لیا ہوتا تو شاید کوئی روایتی لکڑہارا  آ کر اسے بچا لیتا۔
زینب تو اب لوٹ کر آنے والی نہیں۔
کوئی معجزہ اسے واپس لانا بھی چاہے تو شاید نہ آئے کہ بچی سہی پر اتنا تو جان گئی ہوگی کہ ایسے پھول سے بدن اس بدبودار معاشرے میں گوشت کے لوتھڑے سے کچھ زیادہ نہیں جن پر جو نظر بھی اٹھتی ہے دانت گاڑنے کیلئے ہی اٹھتی ہے۔

درندوں کی اس بستی میں زینب بیچاری کس باغ کا پھول ہے۔
ایک تسلی البتہ دل کو ضرور ہے۔
جنوں کی بے دام سواری بننے والا یہ بندہ کوئی کافر یا مرتد نہیں۔ مضبوط عقیدے کا ہے ماشا اللہ۔
ظاہر ہے پھر اس پر قابض ہونے والے جن بھی اسی عقیدے سے ہوں گے۔ وہ کسی کافر یا مرتد کے ناپاک کندھوں پر کیوں بیٹھتے۔
یہ جن یقیناٌ انہی عظیم المرتبت ہستیوں کے مرید بھی ہوں گے جن کا  یہ ملزم  مرید ہے۔ وہ ہستیاں جن کے دم سے یہ خطۂ پاک بقعہ نور بنا رہتا ہے اور جن کے علم و تبحر کا شہرہ ایک عالم میں ہے۔

ہماری خوش  بختی کہ ایسے ہی ایک یاقوتی ریش دمکتے ستارے کو پچھلے دنوں یو ٹیوب پر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ موصف انتہائی خلوص اور دینی جذبے سے سرشار  تھے اور کھیرے کو اسلامی طریق کے مطابق کاٹنے کا علم اپنے مریدین کو مرحمت فرما رہے تھے۔  کھیرے کے بعد مولی، گاجر اور ٹینڈے کی باری تھی جو پیتل کی چمکتی رکابیوں میں شرماتے لجاتے اپنی باری کا انتطار کر رہے تھے۔
واللہ ! یہ روح پرور منظر دیکھ کر دل بھر آیا۔
آبدیدہ ہونے کے بعد آنکھیں پونچھنے میں جتنا وقت لگا اس میں بزرگوار تین یا شاید چار کھیروں کو لخت لخت کرکےکھیرا کاٹنے کا اسلامی طریق بیان فرما چکے تھے۔
اب مولی کی باری تھی جس کے موٹے حصے پر اگی کونپلوں کا رنگ بالکل جناب کے پگڑی کے رنگ سے میچ کرتا تھا۔ آپ نے لپک کر مولی کو اپنے دست رسا میں لیا۔ دو ایک  مرتبہ سختی سے دبا کر دیکھا۔ پھر نفرت سےاسے ایک زور دارجھٹکا دیتے ہوئے فرمایا:
صاحبو ! یہ انتہائی فحش اور واہیات سبزی ہے۔ اسے بچوں والے گھر میں لانا کسی طور مناسب نہیں۔ لانا بھی ہو تو کاٹ کر لائیے۔ ایسے۔ جیسے میں بتاتا ہوں۔
پھر اس کے بعد مولی کو شرعی طریقے سے کاٹنے کا نسخہ تھا اور ہم تھے جو نہ جانے کیوں مسلسل آبدیدہ ہوئے جاتے تھے۔

ویسے آپس کی بات ہے۔ اس ملک میں فرقے اور مسلک کی بنیاد پر بنی ہزاروں ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی مساجد میں آپ کو ایسے عالم فاضل کثیر تعدادا میں ملیں گےجن میں کھیرا اور مولی ڈیزائینر بھی ہوں گے اور حور ایکسپرٹ  بھی۔ بالوں کی طوالت کا اسلامی پیمانہ بتانے والے بھی ہوں گے اور غسل ایکسپرٹ بھی۔
لیکن اس پر حیرت کیسی۔
جس ملک میں آبادی کے تناسب سے تعلیم کا اوسط تقریباٌ چار سال بنتا ہو ، وہاں انہیں سن کر سر دھننے والے بھی کثیر تعداد میں ہی ملیں گے۔

اب جہاں ایسے عالم فاضل سماج سدھارنے پر لگے ہوں۔ خود ساختہ دانشور سکرٹ کی لمبائیوں پر چسکے لے لے کر لعن طعن کرتے ہوں یا کرکٹ کھیلتی بچیوں اور آٹا گوندھتی عورتوں کی سانسوں کے زیر وبم ماپتے ہوں۔ جہاں لواطت میں سزا پانے والے پارٹی سربراہ رہ چکے ہوں جن کے لٹھ اور اسلحہ بردار معتقدین یونیورسٹیوں میں پڑھائی کے معیار کی بجائے  طلباء و طالبات کے درمیان کلاس روم میں رکھے گئے فاصلوں کی کمی بیشی پر زیا دہ فکر مند ہوں۔ جہاں اپنے غلیظ بدن جمہوریت کے برقعوں میں چھپائے عوام کے حق پر ڈاکہ مارنے والے ، پورے ملک کو کچرے کے ڈھیر میں تبدیل کر دینے والےغاصب،  گول گول ٹوپیاں اوڑھ کر سرکاری خرچوں پر نمائیشی عمرے اور حج کرکے اپنی پارسائی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوں۔ جہاں قحبہ خانوں میں نو عمر بچوں کو زنانہ کپڑے پہنوا کر نچوایا جاتا ہو اور انہیں نچوانے والے فی سبیل اللہ جہاد کرنے والے مجاہد کہلاتے ہوں۔ جہاں شہدے اور چھچھورے سیاستدان زینب جیسے اندوہناک سانحات کے بعد سجے سجائے پنڈالوں میں تالیاں بجوا کر دادا لیتے ہوں اورا یسے میں جبکہ ساتھ ہی بچی کا مغموم باپ بیٹھا تفتیشی افسران اور ملزم کے عقائد کے مسئلے میں الجھا ہو۔

تب ایسی دھرتیوں پر زندگی کی حرارت سے تپتا سورج زیادہ دیر اپنا نور نہیں برساتا۔
رہے نام اللہ کا۔