ساقی فاروقی کی دو تصویریں
کل رات سے، جب سے ان کے انتقال کی خبر سُنی ہے، ساقی فاروقی کی دو تصویریں رہ رہ کر میرے ذہن میں ابھر رہی ہیں۔ دونوں تصویروں کے درمیان طویل وقفہ ہے، ایک پوری داستان جس میں خرابی کی بہت صورتیں موجود ہیں۔
پہلی تصویر میں ساقی فاروقی مسکرا رہے ہیں، ہشاش بشاش اور تروتازہ۔ میں نے ان کو پہلی بار ریڈیو پاکستان کے بزم طلباء والے کمرے میں دیکھا تھا جہاں وہ قمر جمیل اور سلیم احمد سے ملنے کے لیے آئے تھے۔ وہ خاصے عرصے کے بعد پاکستان آئے تھے مگر ان کی شہرت مستحکم تھی۔ میں ان کی غزلیں ’’فنون‘‘ میں پڑھتا آیا تھا اور ان کا پہلا مجموعہ ’’پیاس کا صحرا‘‘ اتنی بار پڑھا تھا کہ بس حفظ کرنے کی کسر رہ گئی۔ غیررسمی لباس، گلے میں موٹے منکوں والی مالا۔ پھر وہ ٹھہر ٹھہر کے سنبھل کے بول رہے تھے اور درمیان میں زور سے قہقہہ لگاتے۔ وہ ذرا سی دیر میں بے تکلف ہوگئے۔ ’’ارے بدما آآش۔۔۔۔‘‘ وہ میری طرف دیکھ کر نعرہ مارتے۔ جُملے پھینکتے، فقرے کستے، برا بُھلا کہتے، شعر سُناتے ہوئے وہ کس قدر چونچال اور زندگی سے بھرپور معلوم ہورہے تھے۔
پھر اُن سے رسم و راہ ہو گئی جو بہت عرصے چلتی رہی مگر آخری ملاقات ہونے نہ پائی۔ پچھلے برس لندن گیا تو پہلی دفعہ ہوا کہ ساقی فاروقی سے ملے بغیر لوٹ آیا۔ انہوں نے دوستوں سے کہلوا دیا تھا کہ مجھ سے ملنے کوئی نہ آئے، بس یہ دعا مانگیں کہ میں مرجاؤں۔ وہ اولڈ ہوم میں رہنے لگے تھے، چند لوگ ان سے ملنے کے لیے جاتے تھے۔ اس سے پہلے اسپتال میں بہت دن داخل رہے۔ وہاں سے بھی کسی نے ویڈیو نشر کیا کہ مشینوں اور آلات کی جکڑ بندی کے دوران ایک نیم مسکراہٹ کے ساتھ شعر پڑھ رہے ہیں:
یہ کہہ کہ ہمیں چھوڑ گئی روشنی اک رات
اپنے چراغوں کی حفاظت نہیں کرتے
اس سے پچھلے سفر میں انتظار حسین کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی۔ وہ اداس اور پثرمُردہ نظر آئے۔ مایوسی اور بے دلی کی باتیں کرتے رہے۔ لندن کے شاعروں ادیبوں کی اس تصویر میں شامل ہوگئے جو انتظار صاحب کے ساتھ کھینچی گئی۔ دو نوجوانوں کی طرف اشارہ کرکے کہا، ان کے شعر ضرور سُنو۔ اب ساقی بزرگ استاد معلوم ہو رہے تھے۔ اس ملاقات میں افسردگی اتنی زیادہ تھی کہ تلخی کا اظہار نہیں ہوا۔ ورنہ میرے دل میں ان کے لیے گرم جوشی کب کی ختم ہوچکی تھی۔ میں ان کے نثرونظم کا مدّاح شروع سے رہا مگران کے بعض روّیے مجھے ایک آنکھ نہیں بھائے۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ اپنے آپ کو متنازع بنانے کے لیے جتن کررہے ہیں، اس کام کے لیے ان کی نظمیں اور ان کے تیز، تُند مضمون کافی نہیں ہیں۔ وہ Sensation کے باقاعدہ شوقین ہوگئے تھے۔ مجھے یقین ہے کہ احمد ہمیش سے میرے تعلقات کے شیشے میں بال تو پہلے پڑ چکا تھا، ساقی نے جلتی پر تیل چھڑکا۔ انھوں نے احمد ہمیش کو باور کرادیا کہ میں نے ان کا جو انٹرویو لیا ہے، اس میں انہوں نے تو تذکرہ کیا تھا مگر میں نے جان بوجھ کر نام کاٹ دیا۔ میں نے لکھ کر بھی صفائی دی کہ انٹرویو کا پورا متن ساقی کی نظر سے گزرا ہے اور انہوں نے اس کی تصحیح بھی کی ہے مگر احمد ہمیش ناراض ہی رہے۔ ساقی کی آپ بیتی کے چند اجزاء رسالوں میں شائع ہونے لگے تو انہوں نے شکایت کے لیے فون کیا کہ تم نے ابھی تک داد کیوں نہیں دی۔ اس آپ بیتی میں جس طرح انہوں نے دفعتاً پردے کا کونا کھینچ کر ایک خاتون کو بے نقاب بلکہ برہنہ کیا اس سے میری طبیعت مکدّر ہوگئی۔ کراچی کے ادبی حلقے ان کرداروں کو خوب پہچانتے تھے۔ کتاب موضوع گفتگو بن گئی مگر اپنی ادبی حیثیت کی وجہ سے نہیں۔
یہ ان کی سب سے زیادہ متنازع حرکت تھی۔ لندن میں نووارد اردو شاعر کے خلاف خط، پھر خط کی تشہیر، بعض مسلّمہ ادیبوں کی پگڑی اچھالنے میں دل چسپی، اپنی وضع اور جانوروں سے دل چسپی کے تذکرے اور ایسی باتیں اب پیچھے رہ گئیں اور ’’پاپ بیتی‘‘ والے ساقی فاروقی سامنے آ گئے۔ یہ شُہرت بھی انہیں قبول تھی۔ ان تمام قضیوں میں وہ شاعر کہاں گیا جس کے کاٹ دار مصرعے اور جان دار لہجہ دل کو چھولیتا تھا۔ اس کے سارے جھگڑے، قضیے خاک میں مل گئے مگر اس کی شاعری برابر یاد آتی رہے گی۔ بہت دن پہلے جب میں نے کراچی کے ادبی حلقوں میں ڈرتے ڈرتے پہلا قدم رکھا تو اس وقت ساقی فاروقی کراچی چھوڑ کر لندن جا بسے تھے مگر کراچی نے ان کو پوری طرح چھوڑا نہ تھا۔ ان کے فقرے، واقعات، تیز دھار کلمات اور سب سے بڑھ کر ان کے شعر گونجتے تھے۔ سلیم احمد اور قمر جمیل، اسد محمد خاں اور تصدّق سہیل برابر ان کا تذکرہ کرتے، ان کی باتیں دہراتے۔ وہ اپنے دوستوں کے تذکرے میں موجود تھے۔ جیسے ابھی اس محفل سے اٹھ کر گئے ہوں۔ اس شہر میں اب تعزیت کرنے کو ان کا شاید ہی کوئی پرانا دوست رہ گیا ہو۔ لے دے کے اسد محمد خاں موجود ہیں، خدا ان کو تا دیر سلامت رکھے۔ میں نے بس ان کو تعزیت کے لیے فون کیا۔ ان سے بات کرکے جی اور اداس ہو گیا۔
کچھ دیر کے بعد اسد بھائی نے اپنے تاثرات فیس بک پر درج کردیئے: ’’ساقی فاروقی کے بارے میں بلاخوف تردید کہہ سکتا ہوں کہ اس شخص نے لکھے ہوئے تازہ کار لفظ کے سوا (اور اپنے والدین، اقرباء، بیوی بچّوں اور دوستوں کے سوا) کسی سے وفا نہیں کی۔۔۔
’’شاعری کے حوالے کے سوا اپنے لیے کسی اور حوالے کو دستار فضیلت نہیں جانا۔ اردو نظم کی ڈرافٹنگ کرتے ہوئے اس نے ہر پامال روش کو چھوڑا، ایک نئی راہ نکالنے کی سعی کرتا رہا۔ ازکار رفتہ اور عامیانہ لفظوں (کلیشے) سے اس طرح گُریز کیا جیسے مومن لحمِ خنزیر سے گریز کرتا ہے۔‘۔۔۔ ’’اپنے لیے اس نے بس ایک ہی مسند چاہی۔۔۔ جو شاعری کی مسند ہے۔ ’’ساقی، مرنے کے سوا پچاس برس۔۔۔ بلکہ کئی سو برس بعد تک پڑھا جائے گا۔۔ یہ مدّت اس سے کم ہے، Infinity سواد زمانہ میں کسی بھی اردو شاعر کے لیے۔۔۔ خدا مغفرت کرے!۔۔۔‘‘ از طرف اسد محمد خاں
ساقی فاروقی کی موت پر مجھے ایک اور شاعر کی موت یاد آنے لگی۔ ن م راشد کی موت۔ وہی راشد:
مرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤ
وہ خدائوں کا مقرّب، وہ خداوندِ کلام۔۔۔
مجھے وہ زمانہ یاد آنے لگا۔ راشد کے انتقال پر لوگوں کو یہ احساس ہونے لگا تھا کہ کتنا بڑا شاعر ہمارے درمیان سے اٹھ گیا کہ اتنے میں ان کی وصیت کا قصّہ سامنے آگیا۔ انہوں نے خاک کا پیوند ہونے کے بجائے نذرِ آتش ہونا پسند کیا۔ اس پر بے یقینی اور بے اعتباری کی ایک لہر دوڑ گئی۔ کچھ عرصے کے بعد جمیل جالبی صاحب نے نیا دور کا خاص شمارہ شائع کیا جس میں ساقی فاروقی کا مضمون بھی شامل تھا۔ ساقی فاروقی نے درونِ خانہ باتیں بھی بیان کیں اور ن م راشد کی نجی زندگی کی بعض تفصیلات بھی سامنے آئیں۔ ساقی فاروقی کی گواہی اس لیے اہم تھی کہ راشد جیسے شخص اور شاعر سے اس طرح کی قُربت کا دعویٰ بھلا اور کون کرسکتا تھا۔ یہ خیال ہوا کہ شاید اسی طرح راشد کی بعض پیچیدگیوں کا معّمہ حل ہوجائے۔ ساقی فاروقی کے ساتھ یہ امکان بھی ختم ہوگیا۔ اپنے سوا، ان کا یہ حوالہ بھی تو مُنفرد تھا۔
اس مضمون میں ساقی فاروقی نے راشد کو ’’ضدی اور جنگ جو شاعر‘‘ قرار دیا۔ پھر ان کی تحریر کا اقتباس درج کرکے ’’راشد صاحب کی تحریر نقل کرتے ہوئے میری آنکھیں بھیگ گئی ہیں۔۔۔‘‘
یہ جُملہ دہراتے ہوئے میں سوچ رہا ہوں کہ ساقی فاروقی کے لیے میں تو ایسا جُملہ نہیں لکھ سکتا۔ میرے سامنے ساقی فاروقی کی دونوں تصویریں ساتھ ساتھ آجاتی ہیں اور ان دونوں کے درمیان، بقول ساقی، سفر آسان نہیں۔۔۔
مرگِ مجنوں پہ عقل گُم ہے میر
کیا دوانے نے موت پائی ہے
(بشکریہ: ہم سب ۔ لاہور)