دولت دیکھی جائے نہ غریبی
- تحریر
- جمعہ 26 / جنوری / 2018
- 7175
ڈرامے کی حد تک بات ہوتی تو مضائقہ نہ تھا لیکن یہ بات تو ہر دوسرے گھر کی کہانی بن کر ذہن سے چپک گئی ہے۔ اسّی اور نوے کی دِہائی میں بھی پی ٹی وی اپنے ڈرامے کی روایت میں عروج کی طرف گامزن رہا۔ ایک سے ایک عمدہ اور حقیقت پسند ڈرامے۔ لکھاری بھی ایک سے ایک اعلیٰ، لکھنے والوں کی ایک کہکشاں تھی، فاطمہ ثریا بجیا، حمید کاشمیری، حسینہ معین، قدسیہ بانو، اشفاق احمد اور ایسے ہی کئی نامور نام۔
معاشی ناہمواری یا امیری اور غریبی کے تفاوت پر یوں تو کئی ڈرامے لکھے اور پیش کئے گئے لیکن اس زمانے میں اشفاق احمد کا تحریر کردہ ایک ڈرامہ فہمیدہ کی کہانی استانی راحت کی زبانی ہم ایسوں کے ذہنوں سے چپک کر رہ گیا۔ ایک عام سی کہانی تھی لیکن کہنے کا انداز اور اس عام سی کہانی سے ایک چونکا دینے والا پہلو سامنے لانا اشفاق احمد کا ہی کمال تھا۔ ہدایت کار اور اداکا روں نے بھی باکمال اداکاری سے اس ڈرامے کو یادگار بنا دیا۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ استانی راحت ایک اسکول میں ٹیچر ہیں۔ بیوگی میں جوان بیٹی کا ساتھ ہے، اس کے ہاتھ پیلے کرنے کی رات دن فکر ہے لیکن غربت ہے کہ سر اٹھانے نہیں دیتی۔ ایک پوش علاقے میں ایک بہت بڑے عالی شان گھر کی ایک انیکسی کے دو کمرے کے کرائے کے مکان میں رہائش ہے۔ نئی نویلی گاڑیوں اور ملازمین کے جھرمٹ سے گزر کر استانی راحت اور ان کی بیٹی روزانہ اسکول آتے جاتے ہیں۔
استانی راحت نے عمر بھر کی کمائی سے بیٹی کے جہیز کے لئے چند کپڑے، پیتل کے کچھ برتن اور بستر وغیرہ بنا رکھے ہوتے ہیں۔ ہر وقت استانی راحت کو یہ فکر دامن گیر رہتی ہے کہ کوئی چور ان کی بیٹی کا یہ قیمتی سامان اڑا نہ لے جائے کہ اس صورت میں ان کی بیٹی کے ہاتھ پیلے ہونے سے رہ جائیں گے۔ اسی دوران بڑے گھر میں بھی بیٹی کی شادی طے ہوتی ہے اور دھوم دھام سے شادی کے انتظامات ہوتے ہیں۔ ماں بیٹی آتے جاتے روپے پیسے کے سیلاب اور رنگ و نور سے سجی اس شادی کو دیکھتے ہیں۔ گھر کی لائیٹنگ، کپڑے لتے اور زیورات، مہمانوں کے مہنگے اور عمدہ فیشن کے ملبوسات ۔۔۔ غرض ایک سے ایک انتظام اعلیٰ اور اس کے دکھاوے کا پورا پورا اہتمام۔ اس پورے عمل میں استانی راحت کی بیٹی فہمیدہ اپنی ممکنہ شادی کے انتظامات اور اس شادی کے انداز دیکھ کر شدید ڈیپریشن میں چلی جاتی ہے۔ اس قدر ذہنی دباؤ کہ وہ نوجوان بچی ایک اسٹروک کا شکار ہو کر فوت ہو جاتی ہے۔ استانی راحت اپنی جوان بیٹی کی اس موت کے صدمے کو کمال ہمت سے برداشت کرتے ہوئے پولیس اسٹیشن پہنچتی ہے اور اپنی بیٹی کے قتل کا مقدمہ درج کروانے کا اصرار کرتی ہے۔
پولیس افسر حیران ہوتا ہے اور بحث کرتا ہے کہ بی بی یہ قتل تو نہیں ہے۔ اور اس قتل کے ذمہ دار وہ بڑے گھر والے کیسے ہو گئے کہ انہوں نے تو تمہاری بیٹی کو کوئی گزند نہیں پہنچایا ۔ استانی راحت کا اصرار ہے کہ اس کی بیٹی کے قاقل اس بڑے گھر کے مکین ہی ہیں جنہوں نے اس قدر پر تعیش اور دکھاوے کی شادی کی کہ میری بیٹی دیکھ کر احساسِ کمتری میں مر گئی، میری بیٹی مری نہیں، احساس کمتری کے ہاتھوں ماری گئی ہے۔ اس لئے آپ مقدمہ درج کریں۔ امیر اور غریب کا فرق وقت گزرنے کے ساتھ کم ہونے کے کی بجائے بڑھتا جا رہا ہے، بلکہ اب کچھ سالوں سے بہت تیزی سے بڑھا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے دنیا بھر کے امراء، بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں، سرمایہ کار ، پالیسی ساز حکومتی اور غیر حکومتی عہدیدار جنوری کے وسط میں سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں جمع ہوتے ہیں۔ دنیا کے معاشی معاملات پر سیر حاصل بحث کرتے ہیں، ملتے ملاتے ہیں اور اگلے سال دوبار ملنے کے لئے ٹا ٹا گڈ بائے کر کے روانہ ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ سال اس ورلڈ اکنامک فورم کے افتتاحی تقریب کے مہمان چین کے صدر تھے جبکہ اس سال کے یہ اعزاز بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے حصے میں آیا۔ اختتامی اجلاسوں میں امریکی صدر ٹرمپ کی شرکت بھی طے ہے۔
اس موقعے پر ہر سال ایک عالمی تنظیم Oxfam ایک رپورٹ جاری کرتی ہے جس میں دنیا میں معاشی تفاوت اور ناہمواری کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ اس سال کی رپورٹ بھی گزشتہ سالوں کی طرح چشم کشا اور حیران کر دینے والی ہے۔ رپورٹ کی سب سے پہلی اور بڑی خبر یہ ہے کہ گزشتہ سال دنیا بھر میں وجود میں آنے والی دولت کا 82% حصہ صرف ایک فی صد اشرافیہ کی جیب میں چلا گیا جبکہ دنیا بھر کی نصف آبادی تعداد جن کی پونے چار ارب کے لگ بھگ ہے ان کی دولت میں گزشتہ سال ایک دھیلے کا بھی اضافہ نہیں ہوا۔ ارب پتی لوگوں کی دولت میں 2010 سے لے کر سالانہ تیرہ فی صد اضافہ ہوا جبکہ اسی دوران میں عام ورکر کی تنخواہ میں فقط سالانہ دو فی صد اضافہ ہوا، یعنی اضافے کی شرح ارب پتیوں کے لئے چھ گنا زائد رہی۔ اس قدر تفاوت اور دولت کے بے رحم ارتکاز کا ثمر کچھ یوں سامنے آیا کہ انسانی تاریخ میں ارب پتی لوگوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ، اضافہ بھی کچھ ایسا ویسا ! ہر دوسرے دن ایک نیا ارب تپی اس فہرست میں شامل ہوتا گیا۔ دنیا کے دس امیر ترین لوگوں میں نو مرد حضرات تھے۔
اس معاشی تفاوت کی بنیاد میں معاوضوں کی شرح بھی ایک اہم عنصر ہے۔ معاوضوں میں فرق کا یہ عالم ہے کہ بنگلہ دیش میں ایک عام خاتون گارمنٹ ورکر عمر بھر میں جو کماتی ہے وہ دنیا کے فیشن ملبوسات کے پانچ مشہور ترین برانڈز کے سربراہان میں سے کسی ایک کی تنخواہ کی صرف چار دنوں کی کمائی ہے۔ امریکہ میں معاوضوں میں اس فرق کا یہ عالم ہے کہ ایک ورکر جو معاوضہ سال بھر میں حاصل کرتا ہے وہ ایک بڑی کمپنی کا سربراہ کی تنخواہ کی ایک دن کی کمائی ہے۔ Oxfam نے اس چونکا دینے والے مشاہدات سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ارب پتی لوگوں کی تعداد میں اس قدر اضافہ عالمی معاشی نظام کی خوبی اور کمال نہیں بلکہ اس امر کی نشاندہی ہے کہ یہ نظام ناکام ہو رہا ہے۔ کیونکر ناکام ہو رہا ہے۔ وہ یوں کہ پورا عالمی اقتصادی نظام اب سرمایہ داروں اور بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے کنٹرول میں آ چکا ہے۔ بڑی کمپنیاں اپنے سرمایہ کاروں اور سربراہان کے بھاری بھر کم منافع اور مشاہروں کے لئے سستی لیبر کے متلاشی رہتے ہیں اور اپنے کاروباری حجم اور زور پر ان ہی ملکوں اور لوگوں کو کاروبار کا موقع دیتے ہیں جو سستی سے سستی لیبر سے ان کے منافع میں ہر لمحہ اضافے کا سامان کر سکیں۔ حکومتی پالیسیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، زیادہ سے زیادہ منافع کے حصول کی کوشش میں مزدوروں کے بنیادی حقوق کو منظم انداز میں دبایا جا رہا ہے۔
اس بے رحم معاشی نا ہمواری کنٹرول کرنے کا حل اس رپورٹ میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ ٹاپ ایگزیکٹوز کی تنخواہوں اور سرمایہ داران کو منافع کی ادائیگی کی مناسب بالائی حد مقرر کی جائے اور ورکرز کو کم سے کم اجرت کی بجائے living wages یعنی مناسب معیارِ زندگی کے حساب سے معاوضہ دیا جائے۔ مزید یہ کہ مرد اور خواتین کے معاوضوں میں امتیاز کو ختم کیا جائے۔ دولت مند اشرافیہ پر مناسب ٹیکس لگائے جائیں اور ٹیکس چھپانے کے راستوں کو بلاک کیا جائے۔ تعلیم اور صحت پر حکومتی سرمایہ کاری بڑھائی جائے تاکہ محروم طبقات بھی معاشی دوڑ میں بہتر مواقع کے قابل بن سکیں۔ اس رپورٹ سے یہ سمجھنا کہ دولت کا چند ہاتھوں میں ارتکاز صرف دوسرے ملکوں کا مسئلہ ہے، سراسر غلط ہوگا۔ پاکستان میں دولت کے ارتکاز کا سلسلہ عرصے سے جاری و ساری ہے اور گزشتہ پندرہ بیس سالوں سے بہت تیزی سے بڑھا ہے۔ پراپرٹی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے شہری آبادیوں کا توازن بے قابو کر دیا ہے۔ ایک طرف ایک سے ایک پوش کالونیاں بن رہی ہیں اور دوسری طرف اکثریت کو سر چھپانے کے لئے چھت میسر نہیں۔ جی ڈی پی میں تو اضافہ ہو رہا ہے لیکن ملازمتیں پیدا نہیں ہو رہی۔ تعلیم اور صحت میں نجی سیکٹر کی کلکاریوں اور حکومتی کی نا اہلیوں نے عوام کی اکثریت کو استانی راحت اور اس کی بیٹی فہمیدہ کی سظح پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف دولت کا یہ عالم کہ شادیوں پر کروڑوں خرچ ہوتے ہیں، ایک ایک لہنگا بیس بیس لاکھ میں بن رہا ہے، دوسری طرف غریب کی بیٹی کو مناسب طریقے سے رخصت کرنے کی ترکیب سمجھ نہیں آرہی۔
ترقی کی چکا چوند میں ہمارے آس پاس فہمیدہ اور استانی راحت کی کہانیاں کم ہوئیں نہ ان کے سینے پر مونگ دلنے والا دکھاوا اور اسراف۔ اشرافیہ کی چالاکی دیکھیں کہ معیشت کا دو تہائی کیش اکونومی ہے اور خزانے کا انحصار با لواسطہ ٹیکسوں پر ہے۔ بقول معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی بالائی دس فیصد اشرافیہ اپنی کمائی کا دس فیصد Indirect Taxes میں دیتے ہیں جبکہ غریب ترین دس فیصد اپنی اس بری بھلی آمدنی میں سے 16% ادا کرتے ہیں۔ ایسی دولت دیکھی جائے ہے نہ ایسی غربت ۔ اس اکونومی کے بارے میں ڈاکٹر بنگالی نے کیسینو اکونومی کی ترکیب استعمال کی ہے اور شاید یہ ترکیب اتنی غلط بھی نہیں۔