منوبھائی بھی بزم سے روٹھ گئے!

نامور ادیب، شاعر، کالم نگار اور سماجی کارکن منو بھائی بھی ہم سے رخصت ہوئے۔ وہ 1933میں وزیر آباد میں پیدا ہوئے اصل نام منیر احمد قریشی تھا۔ ابتدائی تعلیم وزیر آبا د اور اٹک میں حاصل کی۔ مترجم کی حیثیت سے صحافتی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔  راولپنڈی، لاہور اور ملتان سمیت مختلف شہروں میں رپورٹر کی حیثیت سے فرائض سر انجام دیئے۔ 59 برس تک کالم لکھتے رہے۔ 1958میں روز نامہ تعمیر راولپنڈی میں اونٹ پٹانگ کے عنوان سے کالم لکھے۔ پھر گریبان کے عنوان سے امروز اخبار میں لکھنا شروع کر دیا۔ جبکہ گاہے بگاہے مساوات اور صداقت میں بھی لکھا۔  اپنی زندگی کے آخری ایام تک روز نامہ جنگ میں لکھتے رہے۔

راولپنڈی میں صحافتی سیاست میں فعال کردار ادا کیا اور وہاں پر صحافیوں کی یونین کے سیکرٹری رہے۔ پھر پریس کلب کی صدارت کی۔ امروز میں احمد ندیم قاسمی ایڈیٹر تھے انہوں نے منو بھائی کو رپورٹر مقرر کر دیا۔ بلکہ ان کا نام منو بھائی بھی احمد ندیم قاسمی نے تجویز کیا۔ صحافیوں کے ویج ایوارڈ میں نمائندگی کی۔ جب مساوات اخبار نکلا تو بھٹو کے کہنے پر استعفیٰ دیا اور مساوات میں آ گئے۔ مگر واپس امروز میں چلے گئے ۔ پاکستانی کی صحافتی تاریخ میں ترقی پسندانہ نظریات کے فروغ میں پروگریسو پیپرز لمیٹڈ کا اہم کردار ہے۔ اس کے تحت پاکستان ٹائمز، امروز اور ہفت روزہ لیل ونہار شائع ہوتے تھے۔ اس کے مالک میاں افتخار الدین تھے جس کی وجہ سے اخبار کی پالیسی لبرل لفٹ تھی۔ بائیں بازو کے ممتاز دانشور صحافی مظہر علی خان، فیض احمد فیض ، احمد ندیم قاسمی، شفقت تنویر مرزا ، صفدر محمود ، حمید جہلمی وغیرہ اس کا حصہ رہے۔ منو بھائی کو بھی ان با صلاحیت بائیں بازو کے دانشوروں سے کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ اس ادارے کے خلاف تمام دائیں بازو کے اخبارات تھے اور اس میں لکھنے والوں کو سرخے اور لا دین کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ وہ سیکو لرز کی باتیں کرتے تھے مگر اس ادارے کو ریاستی سازشوں سے ختم کر دیا گیا ۔جس کا فائدہ صحافت کو نہیں بلکہ دوسرے اخباروں کو ہوا۔ جبکہ دائیں بازو کی سیاست اور صحافت کا ابھار ہوا۔

منو بھائی نظریاتی کمیٹمنٹ رکھنے والے انسان تھے۔ انہوں نے انسانی احترام انسانی دوستی جمہوریت پسندی اور ترقی پسندی کے حوالے سے جدو جہد کی اور اس میں تحریری اور فکری حصہ بھی ڈالا۔ خبر بنانے سے لے کر اداریہ لکھنے تک اور فیچر سے لے کر کالم نگاری تک، ہر صنف صحافت پر مکمل عبور حاصل تھا۔ شاعری بالخصوص پنجابی شاعری میں پنجابی کلچر اور غریب طبقات کے جذبات کی عکاسی کی۔ انہوں نے انقلاب کو استحصالی نظام کے خاتمے کیلئے ضروری قرار دیا ۔ ان ترقی پسند ادیبوں اور لکھاریوں کی جدو جہد کا نتیجہ ہے آج دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں کے راہنما وہی نعرے لگا رہے ہیں جو کہ چند دہائیاں قبل بائیں بازو کے کارکن لگاتے تھے۔ اور انہیں ففتھ کالمسٹ، سیکولر اور ملک دشمن کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ انسانی حقوق کی بات کرنے والوں کو نظریہ پاکستان کا مخالف قرار دیا جاتا تھا۔ یہ منوبھائی اور ان کے نظریاتی لکھاری دوستوں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہر کوئی انسانی حقوق کی بات کرتا ہے۔

منو بھائی ایک عہد کا نام ہے جس میں فیض، بھٹو ،احمد ندیم قاسمی، آئی اے رحمان، حسن نقی، پروفیسر عزیز دین احمد، عابد حسن منٹو، مرزا ابراہیم، ڈاکٹر لال خان وغیرہ کے عہد شامل ہیں۔  یاد رہے کہ منو بھائی ڈاکٹر لال خان کی ترقی پسندانہ تحریک جدو جہد کا حصہ رہے ہیں اور اپنے کالموں میں اکثر و بیشتر جاوید شاہین کے انقلابی کلام کو شامل کرتے تھے۔ اورڈاکٹر لال خان کے لکشمی چوک میں جدو جہد کے دفتر میں موجود پائے جاتے تھے۔ مندرجہ بالا افراد نے ہمیشہ انسانی جمہوری معاشی اور ثقافتی آزادیوں کے بارے میں سوچا اور لکھا۔ منو بھائی نے تاریخی ارتقائی عمل میں بھرپور نظریاتی تحریری حصہ ڈالا جس میں کالموں اور شاعری سے لے کر ڈرامے بھی شامل ہیں۔ پی ٹی وی پر انہیں اپنی ڈرامہ سیریل سونا چاندی سے پہچان ملی جس کو پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈراموں میں یاد گار حیثیت حاصل ہے۔ ڈرامہ سیریل آشیانہ اور دشت کو بھی بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی۔ ان کے کالموں کا مجموعہ جنگل اداس کے نام سے 1980میں شائع ہوا تھا۔ منو بھائی بنیادی طو رپر شاعر تھا اور تعلق وزیر آباد سے تھا جہاں سے نامور دانشور ادیب جن میں مولانا ظفر علی خان، شفقت تنویر مرزا ، عطاء اللہ قاسمی اور زاہد مسعود بھی تعلق رکھتے ہیں۔ وہ بیشتر بائیں بازو کے دانشوروں کی طرح پیپلزپارٹی کے نظریاتی طور پر قریب تھے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم اور بے نظیر بھٹو شہید سے ان کے قریبی رابطے رہے تھے۔ حال ہی میں بلاول بھٹو زرداری نے ان کی تیمار داری کی تھی جس میں انہوں نے بلاول کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنے نانا اور والدہ کا انداز تقریر اپنائیں۔ انہیں ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ گہرا عشق تھا ۔ منو بھائی نے حکمران طبقات کے ساتھ تعلقات کے باوجود کبھی ذاتی مفاد حاصل نہیں کیا تھا جس کا ثبوت سات مرلہ کا ریواز گارڈن کا مکان ہے،  جس کی تعمیر کیلئے ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن سے قرضہ حاصل کیا گیا تھا۔  اقساط کی عدم ادائیگی کی وجہ سے بار بار نوٹس ملے۔

میرا ان کے ساتھ پہلا تعارف ان کی شادی کے موقع پر گجرات میں ہوا جہاں پر وہ لکھنوں کے بانکوں کے لباس کی شکل میں دولہا بنے دیکھائی دیئے۔ ان کے سسر مولوی محمد حسن ہمارے خاندانی استاد تھے جبکہ ممتاز دانشور اور شاعر شریف کنجاہی ان کی اہلیہ کے ماموں تھے۔ مولوی محمد حسن کئی دفعہ منو بھائی کو لے کر میرے والد صاحب کو ملنے کیلئے آتے تھے۔ اس وقت میں سکول میں تھا۔ شریف کنجاہی اور منو بھائی کو میں شاعر ہی سمجھتا تھا۔ شریف کنجاہی کے پڑوس میں گجرات کے ممتاز صحافی قربان طاہر رہتے تھے جو کہ حلقہ ارباب شعور گجرات کے سیکرٹری اور بائیں بازو کے نظریات کے حامی تھے۔ منو بھائی، میاں رشید احمد ٹھیکیدار کی رہائش گاہ پر تشریف لاتے رہے ہیں جہاں پر نظریات کے حوالے سے گفتگو ہوتی تھی جس میں اکبر علی ایم اے اور چوہدری مسعود اختر ایڈووکیٹ بھی اپنا حصہ ڈالا کرتے تھے۔ راقم الحروف کا ترقی پسند نظریات کی طرف راغب ہونا بھی منو بھائی کے سسرال کی دین ہے جس کا واقعہ میں نے ممتاز دانشور آئی اے رحمان اور منو بھائی کو انسانی حقوق کمیشن کے ایک اجلاس میں سنایا تھا۔ 1964میں انتخابی مہم کے سلسلہ میں محترمہ گجرات تشریف لائیں تو میں ان کے جلوس کے آگے نعرے لگا رہا تھا تو تمبل چوک میں ان کے سسر مولوی غلام حسن مجھے دیکھ رہے تھے۔ صبح سکول گیا تو اسمبلی میں مولوی صاحب عورت کی حاکمیت کے خلاف بھرپور تقریر کر رہے تھے اور اس کے بعد مجھے بلا کر کہا گیا یہ وہ بد بخت ہے جو کہ عورت کی حکمرانی کی حمایت کرکے عذاب کو دعوت دے رہا ہے۔ اس کے بعد چھڑی سے میری پٹائی کی گئی تو منو بھائی نے برجستہ کہا جب تم اشرافیہ کی اخلاقیات سے انحراف کرو گے تو تمہارے ساتھ ایسا ہی ہوگا۔ منو بھائی نے اپنے برادر نسبتی ڈاکٹر محمود الحسن کنجاہی کی وفات اور پروفیسر شریف کنجاہی کی دختر باجی خالدہ کی اسلام آباد منتقلی کے بعد گجرات سے اپنا رابطہ تقریبا منقطع کر لیا ۔ جب میں لاہور جاتا تو ان سے ملاقات ہوتی تو وہ گجرات کی ادبی سر گرمیوں اور دوستوں کے بارے میں ضرور پوچھتے تھے۔

حمید جہلمی کے ساتھ اکثر و بیشتر ان کی رہائش گاہ پر جانے کا موقع ملا۔ سو منو بھائی دنیا سے چلے گئے مگر وہ ایسے دیئے چلا کر گئے جو تا دیر جلتے رہیں گے۔ خواتین کے حقوق، تھلیسمیااور خون کی بیماریوں میں مبتلا بچوں کی دیکھ بھال کیلئے سندس فاؤنڈیشن کا قیام اس کی روشن مثال ہیں۔ خواتین کے حقوق کیلئے اس وقت لکھا اور آواز اٹھائی جب اس کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔ وہ لکھاری ہونے کے ساتھ متحرک انقلابی کارکن بھی تھے۔ تمام عمر سوشل ازم کا پرچم اٹھائے رکھا۔ اپنے سوشلسٹ نظریات کا برملا اظہار کیا۔ آزاد منڈی کی معیشت اور نیو لبرل پالیسیوں کے بارے میں بھرپور طور پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور انہیں کبھی انسانی سماج کے سدھار کے حوالے سے کبھی حصول منزل مقصود نہیں سمجھا تھا۔ وہ حقیقی عوامی جمہوریت معاشی اور سماجی انصاف کیلئے ہمیشہ غیر طبقاتی سماج کے قیام اور تشکیل کے حامی رہے ہیں۔ آج کا صحافتی المیہ ہے کہ انسانی حقوق،  استحصال اور ظلم و ستم پر لا جواب کالم لکھنے والا اب ان جیسا کوئی موجود نہیں ہے۔ آج کالم ملاقاتیں ، ذاتی تعریف، پذیرائی اور تعلقات بنانے کا ذریعہ ہیں۔ مگر ان جیسا لکھنے والا کوئی نہیں ہے۔ خدا انہیں ابدی مسرت سے نوازے ۔