قانون ہی جب قاتل بن جائے!
- تحریر شیخ خالد زاہد
- جمعہ 26 / جنوری / 2018
- 4342
ہر کوئی اپنی بات منوانا چاہتا ہے۔ منوانے والوں کے طریقے بھی مختلف ہوتے ہیں۔ جدید دورکی رعنائیوں میں میڈیا نے خوب چار چاند لگائے ہیں اور منوانے کی ذمہ داری اٹھانے کی بھرپور کوشش میں مصروف عمل ہے۔ آج لفظوں کا شور ہے اور منوانے والوں کہ ہاتھوں میں ڈھول ہیں ۔ یہ تو سب خوب سمجھتے ہیں کہ منوانے کا قانون سے گہرا تعلق ہے۔ قانون کا کام جرم کی روک تھام ہی نہیں بلکہ معاشرے میں ایک ایسی فضاء قائم کرنا ہے جس سے عوام میں قانون اور قانون کے محافظوں پر بھروسہ اور اعتماد قائم ہوسکے۔ اور وہ معاشرے میں رونما ہونے والے جرائم کے سدباب کیلئے قانون کے شانہ بشانہ کام کرنے میں فخر محسوس کریں۔
ترقی و تہذیب یافتہ ممالک میں ایسا ہی ہوتا ہوگا۔ قانون کا کام مجرم کو قرار واقعی سزا دینا ہوتا ہے نہ کہ اسے خطرناک مجرم قرار دے کر سڑک پر کھڑا کرکے گولیوں سے وہیں سزا دے دی جائے۔ کیا یہ ادارے کسی خوف جیسی بیماری میں مبتلا تو نہیں ہوگئے۔ ذہنوں میں اکثر ایسے سوالات اٹھتے ہیں کہ کیا ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے اتنے مجبور اور لاچار ہیں کہ ایک قاتل کو گرفتار نہیں کرسکتے اور ہمارا قانون اتنا کمزور ہے کہ اس کے فیصلوں کو کوئی بھی کہیں بھی زیر بحث لاسکے۔ جلسے اور جلوسوں میں ان فیصلوں کا مذاق بنا سکے۔ ایک تو قانون کی بالادستی ہی نہیں ہے اور رہی سہی قدر و منزلت قانون نافذ کرنے والوں نے پوری کر رکھی ہے۔
زیادہ تفصیل میں گئے بغیر کراچی میں ہونے والے ایک طویل بلکہ نہ ختم ہونے والے آپریشن کا تجزیہ کریں۔ ایک وقت تھا جب باقاعدہ گرفتاریاں ہوتی تھیں اور باقاعدہ پولیس مقابلے ہوتے تھے۔ یہاں تک کے گرفتاری کے وقت یہ بتا دیا جاتا تھا کہ لاش فلاں جگہ سے آکر لے جانا۔ اس وقت سے لےکر آج بھی کتنی ہی مائیں اپنے جگر کے ٹکڑوں کا راستہ دیکھ رہی ہیں اور کتنی ہی راستہ دیکھتے دیکھتے کھلی آنکھوں کے ساتھ اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں ہیں۔ قانون اتنا متحرک شاید ہی کبھی اس ملک میں رہا ہو جتنا کراچی میں رہا ہے اور آج بھی ایسا ہی ہے۔ قانون اپنا تسلط جتنا کراچی میں منواتا دکھائی دیتا ہے اتنا تو شاید وزیرستان یا بلوچستان میں بھی نہیں۔ بہت واضح ہے کہ کراچی پر ہرکوئی اپنی مرضی تھوپنا چاہتا ہے۔ کراچی جو کبھی پڑھے لکھے ، تہذیب و تمدن سے آراستہ اور باشعور لوگوں کا شہر تھا۔۔۔۔ اس تھوپے جانے کو، کسی کو اپنے اوپر مسلط کرنے کو تیاردکھائی نہیں دیتا۔ ویسے ہم اس بات سے خود بھی متفق نہیں کہ کراچی کے شہری ایک پوشیدہ خوف اپنے دلوں میں چھپائے گھومتے ہیں۔ مگر ایسا محسوس کیا جاسکتا ہے ۔ اب یہ خوف ایسے قانون کا ہے جو خود ہی قتل بھی کردیتا ہے۔
آج وہی سوشل میڈیا قانون کی آنکھیں بنا ہوا ہے جسے کہنے والے بہت برا بھلا کہتے تھے۔ اب تو یہی سوشل میڈیا معاشرے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر ارباب اختیار کی آنکھیں کھولنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ آج انتظار اور نقیب کا خون رنگ لا رہا ہے لیکن ابھی کچھ وقت ہی گزرا ہے جب بن قاسم باغ کے سامنے ایک لڑکے کو دن دہاڑے گولی مار کر نہ جانے کیا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ شاید قانون خوف زدہ ہے اور ہر اس فرد کو جس سے قانون کو لگتا ہے کہ کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے اسے بغیر کسی وجہ کہ قتل کردیا جائے۔ پولیس والے اپنی وردی کو قتل کرنے کا پرمٹ سمجھ بیٹھے ہیں ۔ کہیں بھی کسی کو بھی بغیر کسی وجہ کے گولیوں سے بھون سکتے ہیں۔ اس پر کسی بھی قسم کا الزام لگا سکتے ہیں۔ پاکستان چار صوبوں میں تقسیم ضرور ہے مگر ہے تو ایک مملکتِ خداداد، کوئی بھی ایسا قدم جو کسی بھی صوبے یا شہر میں تفریق کا باعث بنے نہیں اٹھانا چاہئے۔
ایک عام آدمی تو پہلے ہی کورٹ کچہری سے بھاگتا ہے اور اپنے علاقے کے بڑوں سے مل کر صلح صفائی اور معاملات حل کروانے کو ترجیح دیتا ہے۔ مگر کیا اکیسویں صدی میں شہروں میں رہنے والوں کو بھی لاقانونیت کے دلدل میں مزید دھکیلنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ابھی تو ہمارے ذہنوں سے تازہ ترین دو ایسے واقعات ہیں جن میں قانون کو تماشہ بنادیا ہے اور عوام کے دلوں میں مزید نفرت کا اضافہ کردیا ہے۔ قانون کے محافظوں کی یہ وردیاں کیا انہیں قانون کی بالادستی قائم کرنے کیلئے دی جاتی ہیں یا پھر یہ اسے بطور لائسنس ٹو کل کے طور پر استعمال کرنے کے لئے پہنا جاتا ہے۔