عمران کے استعفوں کی کہانی ختم، گیم ہی بدل گئی
- تحریر مزمل سہروردی
- ہفتہ 27 / جنوری / 2018
- 4675
استعفوں کی باز گشت ایک مرتبہ پھر سنائی دے رہی ہے۔ یہ باز گشت بھی عجیب ہے کہ ہے بھی اور نہیں بھی۔ استعفوں ہیں اور نہیں بھی۔ تحریک انصاف ایک عجیب دوراہے پر کھڑی ہے۔ استعفیٰ دیتی ہے تو مرتی ہے نہیں دیتی ہے تو مرتی ہے۔ یہ کچھ اسی قسم کی صورتحال ہے جو دھرنوں میں ہو گئی تھی کہ ایک طرف تحریک انصاف استعفیٰ دینا بھی چاہتی تھی دوسری طرف یہ بھی چاہتی تھی کہ یہ استعفے قبول نہ کئے جائیں۔ قومی اسمبلی سے استعفے دیئے لیکن کے پی کے کی اسمبلی سے استعفے نہیں دیئے۔ یہ دو عملی پہلے بھی تھی اب بھی ہے۔ اب بھی قومی اسمبلی سے استعفی پر تو بات بن رہی ہے لیکن کے پی کے اسمبلی سے استعفیٰ سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ کل بھی پرویز خٹک کی کابینہ استعفوں کی مخالف تھی آج بھی مخالف ہے۔ کل بھی عمران خان ان کے سامنے بے بس تھے۔ آج بھی بے بس ہیں۔
دوسری طرف اگر استعفیٰ نہیں دیئے جاتے تو کیا ہوگا۔ دھرنوں میں بھی استعفوں کے حوالہ سے یہ ابہام ہی ناکامی کی بڑی وجہ ہے۔ تب بھی عمران خان استعفوں کے حوالہ سے یکسوئی پیدا کر لیتے تو گیم جیتی جا سکتی تھی۔ لیکن نون لیگ نے ایک حکمت عملی سے پیلے بھی استعفے روک لئے تھے آج بھی نون لیگ کی یہی کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح استعفوں کو روک لیا جائے۔ اس طرح نواز لیگ بھی پرانی حکمت عملی پر ہی کام کر رہی ہے لیکن زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان نے بھی پہلے کی ناکامیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا ہے۔ شیخ رشید کو بھی اول تو استعفیٰ کا اعلان ہی نہیں کرنا چاہئے تھا اور اگر کر دیا توتھا دے دینا چاہئے تھا۔ یہ تو وہی بات ہو گئی کہ نانی اماں نے شادی کی برا کیا، کرکے ختم کر دی تو اور برا کیا۔ ایک تو لاہور میں متحدہ اپوزیشن کا شو ناکام تھا اوپر سے اس جلسہ کی واحد خاص بات شیخ رشید کا استعفیٰ تھا۔ وہ بھی ٹھس ہو گیا۔ ایک جلسہ ٹھس پھر استعفیٰ ٹھس ۔ متحدہ اپوزیشن کا تو بستر ہی گول نظر آرہا ہے۔
ایک طرف جب حکومت کی مدت پوری ہو رہی ہے۔ چند ماہ رہ گئے ہیں۔ آئندہ انتخابات کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔ انتخابات کا بگل بچ چکا ہے۔ سب جماعتیں انتخابات کی تیاری شروع کر چکی ہیں۔ امیدواران فائنل ہو رہے ہیں۔ انتخابات کی حکمت عملی طے ہو رہی ہے۔ ایسے میں استعفوں کا کیا جواز ہے۔ چند ماہ پہلے اس نظام کو گرانے سے کیا حاصل ہو جائے گا۔ دوست کہہ رہے ہیں کہ سب کچھ سینٹ کے انتخابات روکنے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ لیکن میں ایسا نہیں سمجھتا۔ سینٹ کے انتخابات کے لئے پورے سسٹم کو ختم کیا جا نا سمجھ سے باہر ہے۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا عمران خان پورے نظام کو اپنے استعفوں سے گرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ شاید ایسا نہیں ہے۔ کے پی کے کی بھی عجیب صورتحال ہے۔ دھرنے میں بھی پرویز خٹک دھرنے کے کنٹینر پر ڈانس تو کر رہے تھے لیکن استعفیٰ کے لئے تیار نہیں تھے۔ وہ تب بھی کے پی کے اسمبلی توڑنے کے لئے تیار نہیں تھے آج بھی نہیں ہیں۔ تب اور وجوہات تھیں۔ آج اور وجوہات ہیں۔ تب یہ تھا کہ ابھی تو ہم نے کیا ہی کچھ نہیں۔ کوئی کام نہیں کیا استعفیٰ کیسے دے دیں ۔ پہلے کوئی کام تو کرلیں۔ حکومت کا مزہ تو چکھ لیں۔ اور اب صورتحال مختلف ہے۔ میرے جو دوست کافی عرصہ سے پشاور نہیں گئے۔ وہ شاید اس وقت تحریک انصا ف کی کے پی کے کی حکومت کی مشکل نہیں سمجھ سکتے۔ تحریک انصاف پشاور میں میٹرو بنا رہی ہے۔ ان کی مشکل یہ ہے کہ انہوں نے میٹرو بنانے میں کافی تاخیر کر دی۔ اور اب وہ اسے انتخابات سے پہلے مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا ٹینڈر بھی ایسا کیا گیا ہے کہ یہ انتخابات سے پہلے مکمل ہو جائے۔ اس وقت پورا پشاور اس میٹرو کی وجہ سے کھنڈر بنا ہوا ہے۔ دن رات کام ہو رہا ہے۔ اگر اس موقع پر پرویز خٹک حکومت چھوڑ دیتے ہیں۔ اسمبلی توڑ دیتے ہیں ۔ استعفیٰ دے دیتے ہیں۔ تو ان کا یہ منصوبہ نہ صرف ڈوب جائے گا۔ بلکہ ان کے گلے کا پھندا بھی بن جائے۔ اس کی ناکامی آئندہ انتخابات میں تحریک انصاف کی نا کامی بن جائے گی۔ کھدی سڑکیں۔ مٹی ہی مٹی الیکشن میں تحریک انصاف کا بورہا بستر گول کر دے گی۔ اسی لئے یہ خبریں درست ہیں کہ ایک مرتبہ پھر پرویز خٹک استعفیٰ دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
لیکن عمران خان کی مشکل یہ ہے کہ دھرنے میں تو انہوں نے صرف قومی اسمبلی کے بلف استعفوں سے کام چلا لیا تھا لیکن سکرپٹ کی ڈیمانڈ اب بلف استعفیٰ نہیں ہیں۔ اب اصلی استعفیٰ دینا پڑیں گے۔ کے پی کے میں سپیکر بھی تحریک انصا ف کا ہی ہے۔ اسے یقینی بنانا ہو گا کہ نہ صرف استعفیٰ قبول ہو جائیں بلکہ اسمبلی بھی رخصت ہو جائے۔ لیکن یہ ایک خطرناک کھیل ہوگا ۔ تحریک انصاف کے پی کے میں بڑی بغاوت ہو چکی ہے۔ اس کھیل میں بغاوت کھل کر سامنے آجائے گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پرویز خٹک کی حکومت بھی اسی طرح رخصت ہو جائے جیسے بلوچستان میں ثنا اللہ زہری کی حکومت رخصت ہوئی ہے۔ کے پی کے میں عدم اعتماد کی اذانیں سنائی دینے لگ گئی ہیں۔ صرف جماعت اسلامی رکاوٹ ہے۔ لیکن اگر پرویز خٹک نے کوئی خود کش حملہ کی کوشش کی تو جماعت اسلامی پلٹی کھا سکتی ہے۔ اگر جماعت اسلامی نے اس موقع پر تحریک انصاف کا ساتھ چھوڑ دیا تو پھر تحریک انصا ف نظام کا بستر گول کرنے کے چکر میں اپنا بستر گول کروا بیٹھے گی۔
جنہوں نے بلوچستان اسمبلی کو ٹوٹنے نہیں دیا وہ کے پی کے کی اسمبلی میں نہیں ٹوٹنے دیں گے۔ جس طرح بلوچستان اسمبلی میں پانچ سیٹوں والی جماعت کا وزیر اعلیٰ آگیا ۔ عین ممکن ہے کہ کے پی کے میں بھی چند سیٹوں والی جماعت کا وزیر اعلیٰ آجائے۔ شاید عمران خان تو نہیں لیکن پرویز خٹک کو اس حقیقت کا ادراک ہے کہ ان کے اپنے ارکان بھی ایک طرف استعفیٰ دینے سے انکار کر سکتے ہیں دوسری طرف نئے وزیر اعلیٰ کو ووٹ بھی دے سکتے ہیں۔
جہاں تک سینٹ انتخابات کا تعلق ہے تو سکرپٹ ایسا لگ رہا ہے کہ سینٹ انتخابات میں نواز لیگ کا چیئرمین روکنے کے لئے آصف زرداری کو ٹاسک مل گیا ہے۔ ان کو گرین سگنل مل گیا ہے کہ وہ اپنی جماعت کا چیئرمین دوبارہ بنانے کے لئے ہوم ورک کریں۔ انہوں نے اپنی بہن فریال تالپور کو امیدوار بنا دیا ہے۔ بلوچستان میں ان کی سرگرمیاں اسی لئے ہیں۔ بلوچستان کابینہ بھی انہیں اسی لئے ملنے گئی ہے۔ زرداری کو گرین سگنل مل چکا ہے۔ اب دو اسمبلیاں سندھ اور بلوچستان ۔ باقی دو تقسیم ہیں۔ اس لئے ان کا چانس بن سکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن بھی ان کی مدد کر سکتے ہیں۔ اور بھی مدد مل سکتی ہے۔ اس لئے عمران خان کو کچھ نہیں مل رہا۔ وہ خالی ہاتھ ہیں۔ وہ سینٹ کی گیم میں نظر نہیں آرہے۔ ان کے پا س ایک ہی آپشن ہے کہ گیم خراب کر دیں۔ لیکن وہ ایسا بھی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ وہ استعفیٰ دے کر عزت بچانا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ بھی مشکل نظر آرہا ہے۔
زرداری نے گیم بدل دی ہے۔ وہ بعد میں آکر بڑی ڈیل کر رہے ہیں۔ اگر ایک بھائی وزیر اعظم اور ایک وزیر اعلیٰ ہو سکتا ہے۔ تو ایک بھائی صدر اور بہن چیئرمین سینٹ کیوں نہیں ہو سکتی۔ اس کے ساتھ سندھ اور بلوچستان کی حکومتیں مل جائیں اور مرکز میں کچھ نہ بھی ملے تو کام چل سکتا ہے۔ بلاول کا قومی اسمبلی میں پہنچ جانا ہی کافی ہوگا۔ وہ اپنی جگہ بنا لے گا۔ اس لئے عمران خان کو سمجھ نہیں آرہی کہ استعفیٰ اب سکرپٹ کا حصہ نہیں ہیں۔ وہ دیں گے بھی تو اپنی بقا کے لئے دیں گے۔ ورنہ ان کے استعفوں کی کسی کو کوئی ضرورت نہیں۔ بس یہی سیاست ہے۔