معاشرہ کی تعمیر میں تعلیم اور انصاف کاکردار

مسلم دنیا ہمہ وقت متعدد مسائل کا شکار ہے۔ دشمنان اسلام کی طرف سے تخلیق کردہ مسائل سے تو ہر کوئی آگاہ ہے ۔ مگر ہم اپنے پاؤں پر ماری جانے والی اپنی کلہاڑیوں کو پہچاننے سے کتراتے ہیں۔ دین اسلام کے دشمن تو اول روز سے ہی نت نئی سازشوں اور پروپیگنڈا میں مصروف ہیں۔ ماضی کے ادوار سے بھی اس بات کا باخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ہمیں حضور اکرمﷺ کے دور سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ آپ ﷺ نے راہزنوں اور لٹیروں کو کیسے مہذب قوم بنایا۔ آپﷺ کی تعلیمات ہمارے لئے مشعل راہ ہیں ۔ آج ہم آپﷺ کی تعلیمات پر مکمل عمل پیرا نہیں اسی بدولت دشمنوں کی سازشوں میں پھنستے چلے جا رہے ہیں۔ آپﷺ کے دور اور صحابہ اکرم رضی اللہ کے ادوار میں مسلمان مٹھی بھر تھے مگر ان کے حوصلے اور ایمان پختہ تھے ۔ اللہ نے اس وقت کے حقیقی مسلمانوں کو مدد فراہم کی اور یوں اسلام دنیا میں پھیلتا گیا۔

آج مسلمان دنیا کی کل آبادی کا 25فیصد حصہ ہیں۔ دنیا میں دوسری بڑی مذہبی آبادی ہیں۔ مگر مسائل کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی آبادی ہیں۔ موجودہ دور میں دنیا بھر میں ہونے والی دہشت گردی کی زد میں آنے والوں میں 76فیصد مسلمان ہیں۔ دنیا کے مسلح تنازعات میں سے 60 فیصد تنازعات کی زد میں مسلمان ہیں۔ دنیا میں موجود مہاجرین کی بات کی جائے تو 67 فیصد مسلمان مہاجرین ہیں۔ جن میں سے متعدد دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ جیسے روہنگیا مسلمان، فلسطینی مسلمان اور کشمیری مسلمان وغیرہ۔ مانتے ہیں کہ ایسے حالات کے پس پردہ یہود و نصاری کی صدیوں پرانی منظم منصوبہ بندی ہے۔ مگر ماضی میں بھی تو مسلمانوں نے ایسی سازشوں کا سامنا کیا اور ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اب ہمارے جذبات ختم ہو رہے ہیں۔ ہمارا ایمان کمزور ہے ۔ جس سے بے دین فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ آج اپنی اس حالت کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔

موجودہ دور میں ہم عمل و کردار سے تو کوسوں دور ہیں۔ ہمارے کردار میں میں مسلمانوں کی جھلک دکھائی نہیں دیتی۔ ہمارے ایمان کی بات کی جائے تو وہ بھی کمزور ہو چکا ہے ۔ ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان تو رکھتے ہیں۔ مگر ہم قران اور حدیث کی رہنمائی حاصل کرنے کی بجائے اپنے ہی تجربات و خیالات کی من مانی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم زوال کا شکار ہو رہے ہیں۔ جب ہمارے ایمان ہی پختہ نہیں ہوں گے اور ہم خود اپنی بھلائی کا نہیں سوچیں گے۔ایسے میں اللہ ہماری رہنمائی کیسے کرے گا۔  ہم  دھن کی بیماری کا شکار ہو چکے ہیں۔ یعنی ہمیں دنیا اور دنیا داری سے اتنی محبت ہو چکی ہے کہ موت ہمیں یاد ہی نہیں اور موت سے آنکھیں چراتے ہیں۔ ہم دنیا کی اس بناوٹی محبت میں اللہ کی محبت سے دور ہوچکے ہیں ۔ اس دنیا اور زندگی کی محبت نے ہمیں دنیا وی طاقتوں کے تابع کردیا ہے ۔ آج ہم دنیا کی چاہت و لذت میں جانے انجانے میں بے دینوں کی پیروی کرتے ہیں۔  ہمارے ذاتی مفادات اور خواہشات نے ہمارے اتحاد و اتفاق کی دھجیاں اڑا دیں۔ ہم اپنے مفادات کی دوڑ میں اپنے بھائی چارے کو روندتے چلے جاتے ہیں۔ اب بھی ایسی دوڑ اور راستے پر گامزن ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی مسلم دنیا کا معنی خیز اتحاد معرض وجود میں نہیں آیا ۔

ہم نے قرآن کی پہلی صورت و آیت 'اقراء' کو بھلا دیا ہے ۔ تعلیم کے میدان میں بھی ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔ جبکہ قرآن میں علم کو بڑی فوقیت دی گئی۔ دشمن نے علم کے میدان میں سبقت کی وجہ سے ہمارے معاملات پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ آج ہمارے زرائع ابلاغ پر دشمنوں کا قبضہ ہے اور اپنے اس قبضے کی بدولت وہ مسلمانوں کو اخلاقی لحاظ سے کمزور کر رہے ہیں۔ میڈیا کے زریعے مسلم دنیا میں انتشار پھیلا رہے ہیں۔
عیش و عشرت اور کاہلی، عیاشی و سستی  نے تو جیسے ہمارے زوال پر مہر لگادی ہو۔ ہماری عیاشی و کاہلی نے معاشرے کو کھوکھلا کرکے ہمیں اخلاقی و معاشی پسماندگی کی طرف دھکیل دیا۔ عیش و عشرت میں دین سے ایسے دور ہوئے کہ بربادی نے ہمیں سنبھلنے کا موقع بھی نہ دیا ۔عیش و عشرت میں ہم نے اللہ کی طرف مسلمانوں کو ملنے والے انعام (زرعی و معدنی وسائل ) کا بھی غلط استعمال شروع کردیا۔  آپﷺ کی حیات مبارکہ سے دیکھا جائے تو آپﷺ نہ صرف اپنے کام خود کرتے بلکہ دوسروں کے کام میں بھی ہاتھ بٹاتے۔

کرپشن اور بددیانتی نے ہمیں احساس کمتری کا شکار کردیا ۔ کرپشن  نے ہمارے ایمان کی کمزوری کو عیاں کردیا ہے۔  ہم رنگ و نسل اور فرقوں و مسلکوں کی تفریق میں ایسا گھرے ہیں کہ ایک لڑی میں پرونا تو ہمیں آتا ہی نہیں۔ ہم خود ایک دوسرے کو کافر قرار دے کر انتشار کو فروغ دے رہے ہیں۔ دشمن ہمارے انتشار کو پروان چڑھا کر ہمیں کھوکھلا کرتا ہے۔  آج ہم اتنے شدت پسند ہو چکے ہیں کہ ایک دوسرے پر کفر کے فتوے جاری کردیتے ہیں ۔ معاملات کو سلجھانے کی بجھائے مزیدالجھاتے ہیں۔ یوں ہمارے انتشار کا سفر جاری ہے۔ اصلاح کی بات کی جائے تو ہم اپنی اصلاح کی بجائے دوسروں کو اصلاح کے مشورے دیتے ہیں۔ دوسروں کو برا کہنا اور خود غلطی پر غلطی کرتے جانا ہمارا معمول بن چکا ہے۔ اگر کوئی اصلاح کا مشورہ دے تو اس پر عمل کرنے کی بجائے ہم الٹا اس پر تنقید کرتے ہیں۔ خود احتسابی تو جیسے ہمارے پاس سے بھی نہ گزری ہو۔ ظلم و زیادتی اور ناانصافی ایک اہم ترین فیکٹر ہے۔ حضرت علی رضی اللہ کا قول ہے کہ ''معاشرے کفر کے ساتھ تو باقی رہ سکتے ہیں لیکن ظلم کے ساتھ باقی نہیں رہ سکتے''۔

ہم اپنے ماضی پر نظر دوڑائیں تو مسلمانوں کا ایک اہم اصول انصاف تھا۔ اسلام نے ہمیشہ سے ظلم و زیادتی کو ختم کرنے اور انصاف کو رائج کرنے کی کوشش کی۔ اسی انصاف کی بدولت مسلمانوں نے دنیا پر حکومتیں قائم کیں اور کامیابی سے چلائیں۔ مسلمانوں نے ہمیشہ سے اقلیتوں کو تحفظ فراہم کیا اور ان کے ساتھ صلح و انصاف کے ساتھ رہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس حکومت میں انصاف کی دھجیاں اڑائی گئیں ان کا خاتمہ ہی ان کا مقدر ٹھہرا۔ انصاف کا دامن چھوڑنے پر مسلمانوں کی حکومتیں بھی ختم ہوئیں ۔ جیسے مغلیہ سلطنت۔ ہمارے ہاں بےجا ناانصافی نے ہمارے معاشرے اور نظریے کو کھوکھلا کر دیا ہے۔

بہت سے ایسے مزید فیکٹربھی ہیں جو ہماری بربادی کا سبب ہیں۔ بے دین طاقتوں کی سازشوں کا عمل دخل بھی اسی وقت کامیاب ہوتا ہے جب ہم کمزور اور کھوکھلے ہوں۔ ہمیں اپنے ذاتی مسائل کو سمجھنا ہوگا۔ ہم دشمنوں کی سازشوں کا مقابلہ تب ہی کر سکیں گے جب ہم اسلام کے جھنڈے کو مضبوطی سے تھام کر ایمان، اتحاد اور تنظیم کو فروغ دیں گے۔ جب انصاف کا بول بالا ہوگا۔