میڈیا اور سرمایہ گٹھ جوڑ، ثقافتی یلغار کا سبب

1970کی دہائی کے آخر میں برطانیہ میں مار گریٹ تھیچر کے دور حکومت میں اقتصادی آزادی اور آزاد منڈی کے نام پر شروع ہونے والے عمل نے نیو لبرل ازم کے تصور پر مبنی معیشت کو مزید مستحکم کیا۔ جلد ہی ان معاشی تبدیلیوں نے امریکہ اور دیگر سرمایہ دار ملکوں میں اپنے قدم مضبوط کر لیے۔ نجکاری کا عمل برطانیہ اور امریکہ میں بہت مضبوط ہو گیا۔ بعد ازاں 1990کی دہائی کے اوائل میں سویت یونین تحلیل ہونے کے بعد معاشی ترقی کے اس تصور کو مزید تقویت دی اور اسے دنیاکے ہر کونے میں پہنچایا گیا۔

 عالمی بینک اور بین الاقوامی اداروں کے زیر اثر معاشی ترقی کے اس تصور نے جہاں معیشت کے دوسرے شعبوں کو متاثر کیا وہیں میڈیا بھی اس کے اثرات سے بچ نہ سکا۔ بڑی بڑی کار پوریشنوں نے میڈیا کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری شرو ع کر دی اور کئی صنعتی گروپوں اور مالیاتی اداروں نے اپنے میڈیا ہاؤسز بنا لئے۔ یہ میڈیا ہاوئسز جہاں ان صنعتی اور مالیاتی اداروں کیلئے منافع کمانے کا ذریعہ ہیں تواس کے ساتھ ہی انہوں نے سماج میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا ذمہ لے رکھا ہے۔ جس سے ثقافت ، معاشرت اور مذہب کو کمرشلائز کرکے لوگوں کو مختلف پروگراموں میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی پراڈکٹ خریدنے اور نئے فیشن کے کپڑوں کیلئے ذہنی طور پر تیار کیا جاتا ہے۔ آج سے تین دہائی قبل ملک میں ہونے والے مختلف ثقافتی اور مذہبی تہواروں  اور بالخصوص رمضان کے حوالہ سے ہونے والی سر گرمیوں کا جائزہ اس کمرشل رجحان کا منہ بولتا ثبوت ہے۔  یوں تو ہماری زندگیاں کس قدر سادہ تھیں۔ مختلف شہروں میں سحری اور افطار کے وقت محلہ کی مسجد سے گولہ چلایا جاتا تھا۔ شام سے پہلے  گولہ چلائے جانے والی جگہ پر بچے
اپنے  ہاتھوں میں کوئی کھانے کی چیز لے کر کھڑے ہو کر گولہ چلنے کا انتظار کرتے تھے۔ اس کے بعد سائرن بجانے کا آغاز ہوا۔  زیادہ سے زیادہ الیکٹرانک اطلاعات کا ذریعہ ریڈیو تھا جس میں پر مذہبی پروگرام نشر ہوتے تھے۔

تاہم  نجی ٹیلی ویژن چینلز کے آنے کے بعد اگر ہم ان کے نشر ہونے والے رمضان کے حوالہ سے پروگراموں کو دیکھیں تو یہ مینا بازار اور اسٹیج شو زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ خواتین اور مرد بن ٹھن کر ان شوز میں شرکت کرتے ہیں۔ ان پروگراموں میں وقت گزارنے کیلئے کھیل تماشے ہوتے ہیں اور مقصد محض کاروباری دنیا داری ہوتا ہے تاکہ سپانسر کار پوریٹ کی زیادہ سے زیادہ مصنوعات کی فروخت کو یقینی بنایا جا سکے۔  یوں ہمیں کمرشل ازم ہر شعبہ پر حاوی نظر آتا ہے۔ مذہبی راہنما اپنے اجتماعات میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شمولیت کو یقینی بنانے کیلئے عمرے اور حج کی ٹکٹوں کے انعام دینے کا اعلان کرتے ہیں۔ اس طرح ہماری سادہ زندگیوں نے مصنوعیت کا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔ تمام میڈیا ہاؤسز کارپوریشنوں کے زیر اثر ہیں۔ وہ مزدوروں کے احتجاج کی خبریں نہیں نشر کرتے اور نہ ہی ان کے استحصال کا تذکرہ ہوتا ہے اور نہ ہی محنت کشوں کے حقوق کی بات کرنے والے ٹریڈ یونین راہنماء اور نظریاتی لوگوں کو ٹاک شوز میں مدعو کیا جاتا ہے۔ کیونکہ اس سے چینلز کے اشتہارات بند ہو سکتے ہیں۔ لہذا ہمیں ٹی وی پروگراموں میں زیادہ تر ریٹائرڈ بیور کریٹس اور جنرل  دکھائی دیتے ہیں جو کہ قوم کے ہر قسم کے مسائل،  سیاسی ہوں یا معاشی  یا بین الاقوامی کے  حل کا امرت دھارا رکھتے ہیں ۔ حالانکہ پاکستان کے ماضی کو دیکھا جائے تو یہ لوگ جب شامل اقتداررہے ہیں ملک میں معاشی انتظامی داخلہ اور خارجہ امور کی خرابیوں میں ان کا مکمل طور پر عمل دخل رہا ہے۔

پاکستان کے موجودہ حکمران جو کہ چار دہائیوں سے اقتدار میں ہیں، وہ پنجاب میں پینے کے صاف پانی کا مسئلہ نہیں حل کر سکے بلکہ ملٹی نیشنل کمپنیوں نے زیر زمین پانی کی شفافیت کے بارے میں پروپیگنڈا کر کے بوتلوں میں بند پانی کی فروخت کو یقینی بنایا ہے۔ اور اس پانی کی کوالٹی پر بھی عدالت عالیہ نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ خوف ہراس پھیلانے میں بھی میڈیا کا اہم رول ہے۔ غیر اہم واقعات کو اچھالا جاتا ہے اور بعض اینکر ایسی غیر ذمہ دارانہ باتوں کا انکشاف کرتے ہیں جن کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہوتا۔ اب تو بعض حلقوں کو ان اینکرز کی ذہنی صلاحیتوں پر شبہ ہونے لگا ہے۔ اس  وجہ سے میڈیا اپنی شناخت اور ساکھ کھوتا چلا جا رہا ہے۔ میڈیا اب تک جمہوریت اور جمہوری عمل میں اپنا کردار ادا کرتا آیا ہے لیکن صنعتی اور مالیاتی گروپوں کے ہاتھ لگنے کے باعث یہ صرف حصول منافع کا ذریعہ بن گیا ہے۔ میڈیا کو اخلاقیات سے کوئی غرض نہیں ہے۔ سنجیدہ صحافت کی جگہ زرد صحافت اور بلیک ملینگ کو پروموٹ کیا گیا ہے۔ میڈیا جمہوری عمل کو مستحکم کرنے کی بجائے شہری درمیانے اور درمیانے طبقے کی چھوٹی چھوٹی خواہشات کو بڑھا وا دینے کیلئے استعمال ہو رہا ہے۔

میڈیا میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث شہری محض ناظرین اور قارئین بن کر رہ گئے ہیں۔ ان کی اپنی کوئی رائے نہیں ہے۔ نظریاتی سیاست ختم ہونے سے اب میڈیا ان کی رائے بتاتا ہے۔ میڈیا عوام کی سوچوں پر مکمل حاوی ہو چکا ہے جبکہ لیڈر شپ کے پاس کہنے اور کرنے کیلئے کچھ نہیں رہ گیا ہے۔  محسوس ہوتا ہے سیاست ثقافت اور سماجیات کا تعین صرف میڈیا ہی کر رہا ہے۔ اس طرح سماجی اور ثقافتی انتشار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عوام کی حیثیت صرف خریدار اور کلائنٹ کی ہے۔ خبریں اور معلومات ملاوٹ شدہ پہنچائی جاتی ہیں جو عوام کے مفادات کی بجائے میڈیا پر قابض معاشی طور پر طاقتور گروپوں کے مفادات سے ہم آہنگ ہوتی ہیں۔