پاکستان اور قائد اعظم کا نظریہ ریاست

پاکستان بنیادی طور پر اپنی فکری سوچ اور فہم کی تلاش میں سرگرداں ہے ۔ کیونکہ آج کا پاکستان وہ پاکستان نہیں جو عملی طور پر قائد اعظم محمد علی جناح کے ذہن کا خاکہ تھا ۔ قائد اعظم اس پاکستان کو اسلامی ، فلاحی، جمہوری اور قانون کی بالادستی پر مبنی ریاست دیکھنے کے خواہش مند تھے ۔ لیکن آج کا پاکستان عملی طور پر قائد اعظم کی سوچ ، فکر اور افکار کے برعکس چل رہا ہے اور لگتا ایسا ہے کہ ہم ابتدائی طورپر یا قائد اعظم کے بعد اپنی منزل کھو بیٹھے ہیں ۔

قائد اعظم کی نظر میں یہ ملک کسی ایک فرقہ یا گروہ کے لیے نہیں بنایا گیا تھا  بلکہ اس میں رہنے والے تمام لوگوں کا پاکستان تھا جہاں مذہب، فرقہ ، رنگ ، نسل ، گروہ یا برادری کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں رکھی جائے گی ۔ لیکن آج کا پاکستان ایک تقسیم شدہ یا بکھرتے ہوئے سماج کی شکل میں خوفناک تقسیم اختیار کرگیا ہے جو ایک دوسرے کے وجود کو بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔  معروف دانشور، مصنف، کالم نگار اور سیاسی کارکن قیوم نظامی پاکستان کے سیاسی ، سماجی ، علمی اور فکری حلقوں میں کسی بھی طور پر تعارف کے محتاج نہیں ۔ اگرچہ وہ ایک پرانے نظریاتی سیاسی کارکن ہیں ، لیکن اب وہ عملی سیاست میں کم اور علم و فکر کے میدان میں زیادہ سرگرم نظر آتے ہیں ۔ ان کی سیاسی سوچ اور فکر بھی ایک اعتدال پسندی کی ہے اور نقطہ نظر کو جذباتی انداز میں پیش کرنے کی بجائے دلیل، تحقیق اور شواہد کو بنیاد بنا کر اپنا سیاسی مقدمہ پیش کرتے ہیں ۔ وہ کئی اہم اور تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں اور ان کی حالیہ کتاب ’’ قائد اعظم کا نظریہ ریاست- پہلے گورنر جنرل کی حیثیت میں نئی ریاست کی تشکیل ‘‘ بھی دیگر کتابوں کی طرح ایک مستند اور تحقیق پر مبنی کتاب ہے ۔

قائد اعظم محمد علی جناح برصغیر کے ان سیاسی راہنماوں میں شمار ہوتے ہیں جو اپنے وقت میں سب سے جدید افکار کے مالک تھے ۔ قیوم نظامی کی زیر نظر کتاب ایک شاندار تحقیقی اثاثہ ہے جو قائد اعظم کی جدوجہد ، سیاست اور فکر کو قتل کرنے کی بجائے انہیں اکھٹا کرکے تاریخ کو زندہ رکھنے کی ایک شاندار کاوش ہے ۔ اس کتاب کی اہم بات یہ ہے کہ اس میں مکمل طور پر حوالہ جات موجود ہیں جو حقائق کی عکاسی کرتے ہیں اور آسانی سے ان کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ کتاب کا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ مصنف نے بڑی محنت سے تمام مواد کو جمع کرکے نئی نسل میں قائد اعظم کی فکر اور سوچ کو اجاگر کیا ہے ، جوواقعی ان کا اہم کام ہے ۔
معروف دانشور پروفیسر شریف المجاہد کے بقول قیوم نظامی نے ’’قائد اعظم کے نظریات اور تصورات کو بڑی چھان بین کرکے دلائل کے ساتھ پیش کیا ہے ۔ اس کتاب میں فصاحت اور وضاحت کا جو معیار ہے وہ بہت کم اردو کتب میں ملے گا۔ نظامی صاحب نے بہت سے ایسے سوالات اٹھائے جو لوگوں کے زہنوں میں رہتے ہیں اور پھر مستند حوالوں سے ان کے جوابات دینے کی کوشش کی ہے ۔ ‘‘کتاب کے انتساب قیوم نظامی نے’’ ان انسانوں کے نام کیا ہے جو قائد اعظم کے رول ماڈل سے کامیاب زندگی کے طریقے سیکھنا چاہتے ہیں اور قائد اعظم کے پاکستان کی تلاش میں ہیں‘‘۔ واقعی آج کی نسل جب قائد اعظم کے افکار کا مطالعہ کرتی ہے تو ان کے زہنوں میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ہماری سیاست ، سیاست دان اور معاشرہ قائد کے پاکستان کو عملی طور پر بھول کر ایک طبقاتی تقسیم اور مختلف قسم کے مافیا اور نفرت پر مبنی سیاست کی شکل اختیار کرگیا ہے ۔

کتاب کے صفحہ 24 پر نظامی صاحب نے نامور مورخ اور واسرائے کے آئینی مشیر ایچ وی ہوڈسن کا حوالہ دیا ہے جو اپنی مستند کتاب ’’ گریٹ ڈیوائڈ‘‘ میں قائد اعظم کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ’’ مسٹر جناح مذموم مقاصد کے لیے اپنا موقف تبدیل نہیں کرتے تھے ، ان کے سیاسی مخالفین نے بھی کبھی ان پر کرپشن اور مفاد پرستی کا الزام نہیں لگایا، ان کو کوئی کسی بھی قیمت پر خرید نہیں سکتا تھا ۔ وہ ہوا کا رخ دیکھ کر اپنے نظریات تبدیل نہیں کرتے تھے ۔ وہ مستقل مزاج مثالی شخصیت تھے اور انتہائی باوقار شخصیت تھے ۔‘‘ اسی صفحہ پر لکھا ہے کہ امریکہ میں پاکستان کے پہلے سفیر اے ایچ اصفہانی 1946کے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے ۔ انہوں نے قائد اعظم سے پوچھا کہ ان کا مخالف امیدوار 250 روپے کے عوض میں ان کے حق میں دستبردار ہونے کے لیے تیار ہے ۔ قائد اعظم نے کہا کہ یہ بات اخلاقی اقدار اور عوامی مفاد کے منافی ہے۔ سندھ کے انتخابی مہم کے انچارج جی الانہ نے قائد اعظم کو کہا کہ ہمیں ووٹ خریدنے کے لیے پارٹی فنڈ چاہیے تو قائد اعظم نے کہا کہ ’’ میں ووٹ خرید کر جیتنے کی بجائے الیکشن ہارنے کو ترجیح دوں گا ۔‘‘

قائد اعظم کی یہ سوچ آج کی پاکستان میں موجود سیاست اور دولت کے باہمی گٹھ جوڑ کے بالکل برعکس ہے اور اگر آج وہ زندہ ہوتے تو دیکھتے کہ یہاں جو سیاست اور حکمرانی ہورہی ہے اس کے پیچھے محض دولت کو خرچ کرنا اور پھر سرکاری پیسے کو اپنی ذاتی دولت بنانے کا کھیل بالادست ہے ۔ قیوم نظامی نے صاف لکھا ہے کہ یہاں بدقسمتی سے قائد اعظم کے بیانیہ کے برعکس اسلام کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرکے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا۔ ان کے بقول قائد اعظم کی سیاسی زندگی کے تین مرحلے تھے ۔ اول آزادی کے قوم پرست مجاہد اور کانگریس کے اہم لیڈر، دوئم ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کانگریس اور مسلم لیگ کے مشترکہ لیڈر، سوئم مسلمانوں کی علیحدہ ریاست کے پرجوش کامیاب وکیل اور مسلم لیگ کے غیر متنازع قائد اعظم جو پاکستان کے بانی اور پہلے گورنر جنرل بنے ۔ ان کی خود اعتمادی اور مقصد سے وابستگی نے انہیں کرشماتی لیڈر بنایا ۔

قائد اعظم کی شخصیت اور کردار کی خوبی یہ تھی کہ ایک بار ان کی بہن فاطمہ جناح نے اپنے بھائی سے التجا کی وہ اپنی صحت کا خیال رکھیں اور کام کے اوقات کم کردیں ، قائد اعظم نے جواب دیا ’’ کیا تم نے کبھی سنا ہے کہ فوج میدان جنگ میں اپنی بقا کی جنگ لڑرہی ہو اور اس کے جرنیل نے چھٹی لے لی ہو‘‘۔ اسی طرح اپنی صحت پر ایک جگہ وہ اپنی بہن سے کہتے ہیں کہ ’’ جب میں دس کروڑ افراد کی بقا کے لیے تشویش میں مبتلا ہوں تو ایک فرد کی صحت کیا حیثیت رکھتی ہے ۔‘‘ اسی طرح ان کی شخصیت کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ وہ کسی شخص سے غیر انسانی اور غیر اخلاقی سلوک نہیں کرتے تھے ۔ اگر ان کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا تو وہ معذرت کرلیتے تھے ۔ ایک دفعہ انہوں نے اپنے کسی سٹاف ممبر کو ڈانٹ دیا ، مگر بعد میں اسے اپنے دفتر بلایا اور کہا ’’ میں بوڑھا اور کمزور ہوں اور کبھی جذباتی ہوجاتا ہوں ، مجھے امید ہے کہ آپ میری بری عادت کو معاف کردو گے ۔  یہ بات وہی شخص کرسکتا ہے جو اعلی اخلاقی روایات اور انسانی برابری پر پختہ یقین رکھتا ہو۔

قائد اعظم سرکاری خزانے کے استعمال کے معاملے میں بڑے محتاط تھے۔ اس پر ان کی کئی مثالیں بھی موجود ہیں ۔ گورنر جنرل ہاؤس کے کم سے کم اخراجات، بہت کم سٹاف، کابینہ کے اجلاس میں چائے اور بسکٹ نہ پیش کرنا ، فضول خرچیوں سے گریز اور ٹوکن کے طور پر ایک روپہیہ ماہوار تنخواہ لینا ،ان کی خوبی تھی۔ آج کا حکمران سرکاری دولت کو صرف خود ہی بے دریغ استعمال نہیں کرتا بلکہ اپنے خاندان اور  دوستوں میں بھی نہ صرف خوب نوازتا ہے بلکہ بدعنوانی کے بھی مرتکب ہوتے ہیں ۔ اسی طرح قائد اعظم نے فوجی افسران کے بارے میں کہا کہ ’’ مت بھولو کہ تم ریاست کے ملازم ہو ، تم پالیسی نہیں بناتے ، ہم عوام کے نمائندے فیصلہ کرتے ہیں کہ ملک کو کیسے چلانا ہے ، تمارا کام صرف اپنے سول حاکموں کے فیصلوں پر عمل کرنا ہے“ ۔ یہ الفاظ ہمیں آج کے پاکستان میں سول ملٹری تضادات کی کہانی کی صورت میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے جو ریاستی امور کو کمزور کرنے کا سبب بن رہی ہے ۔

سوال یہ ہے کہ کیا آج کا پاکستان قائد اعظم کے پاکستان کی لوٹ سکے گا۔  کیونکہ یہ ہی وہ بنیادی نوعیت کا سوال ہے جس پر ہر اس پاکستانی کو غوروفکر کرنا چاہیے جو واقعی قائد اعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان دیکھنا چاہتا ہے ۔ یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ۔ اس کے لیے ہمیں اب نئی نسل کو بنیاد بنا کر ایسی جدوجہد ، دعوت فکر اور سوچ کو اجاگر کرنا ہوگا جو ان طبقوں اور طبقات کے خلاف جدوجہد کرے جس نے قائد اعظم کے پاکستان کو عملا یرغمال بنا کر ہم کو حقیقی پاکستان کی منزل سے دورکردیا ہے ۔ یہ عمل ہمیں ایک مہذب، جمہوری او رانصاف پر مبنی معاشرے کی تشکیل میں مدد دے سکے گا۔