عدلیہ کو درپیش چیلنجزاور سیاسی قیادت کا کردار

پاکستان میں عدالتی اصلاحات کے حوالہ سے ایک شور ہے۔ شاید پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عدالتی اصلاحات کی کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ عدلیہ اس وقت عوام کے کٹہرے میں ہے۔ لوگ عدلیہ پر بات کر رہے ہیں۔ عدلیہ کی کارکردگی پر بات ہو رہی ہے۔ خوشی کی بات تو یہ ہے کہ عدلیہ کے ذمہ داران خود بھی عدالتی اصلاحات پر بات کر رہے ہیں۔ نظر آرہا ہے کہ انہیں بھی احساس ہے کہ عدالتی اصلاحات کے بغیر اب کام نہیں چلے گا۔ بہت ہو گئی۔ عوام کی بھی بس ہو گئی ۔ اب اس نظام کو مزید ایسے نہیں چلا یا جا سکتا۔

عدلیہ کو اس وقت دو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ پہلا چیلنج مخصوص سیاسی قیادت کی جانب سے عدلیہ پر چڑھائی ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ نا اہلی کے بعد نواز شریف کی جانب سے عدلیہ پر جو چڑھائی شروع کی گئی تھی اس نے عدلیہ کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ عدلیہ کو مقدمات کے سیاسی تقاضوں کے مطابق نہیں بلکہ قانونی تقاضوں کے مطابق فیصلے کرنے چاہئیں لیکن پھر بھی سیاسی مقدمات کے سیاسی محرکات ہوتے ہیں۔ شاید نواز شریف کے مقدمہ میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ وقت ثابت کر رہا ہے کہ جو لوگ کہہ رہے تھے کہ لڑتے لڑتے ہو گئی گم ایک کی چونچ ایک کی دم، کے مصداق عمران اور نواز دونوں کو نااہل کر دیا جائے۔ وہ شاید سیاسی طور پر درست بات کر رہے تھے۔ اس سے عدلیہ پر آج جو دباؤ محسوس کیا جا رہا ہے ۔ وہ نہ ہوتا۔ نواز شریف کا عوامی مقدمہ بھی کمزور ہو جاتا۔ مجھے کیوں نکالا کی اہمیت ختم ہو جاتی۔ عمران بھی شور مچانے کی پوزیشن میں نہ ہوتے۔ عدلیہ کے وقار میں بھی اضافہ ہو جاتا۔ آج عدلیہ عمران کے بچ جانے کی وجہ سے مشکل میں ہے۔ اور شاید جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں۔ عدلیہ کی مشکلات میں اضافہ ہو تا جا رہا ہے۔ کیونکہ عدلیہ کے فیصلے کی وجہ سے نواز شریف کی عوامی مقبولیت میں کمی نہیں ہوئی ہے۔ جو سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

عدلیہ کی مشکل صرف نواز شریف کے حوالہ سے نہیں ہے۔ آپ تحریک انصاف کو ہی دیکھ لیں۔ تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کو عدلیہ کی جانب سے نا اہل قرار دیا گیا ہے۔ لیکن تحریک انصاف نے انہیں پارٹی سے نہیں نکالا۔ بلکہ ان کے استعفیٰ کے باوجود سیکرٹری جنرل کا عہدہ خالی رکھا گیا ہے۔ ان کے بیٹے کو ان کی جگہ ٹکٹ دے دیا گیاہے۔ طاہر القادری کی اے پی سی میں وہی نا اہل جہانگیر ترین تحریک انصاف کی نمائندگی کر رہے تھے۔ حیرانگی کی بات تو یہ تھی کہ نہ طاہر القادری کو اس پر اعتراض تھا اور نہ ہی عمران خان کو اس پر اعتراض ہے۔ ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور کے مصداق عمران خان کا بھی نا اہلی کے حوالہ سے دوہرا معیار ہے۔ نواز شریف کی نا اہلی اور ان کی پارٹی صدارت پر عمران خان کا کچھ اور موقف ہے جبکہ جہانگیر ترین کی نا اہلی اور پارٹی کے سیکرٹری جنرل کے عہدہ کے حوالہ سے ان کا موقف اور ہے۔  اگر دیکھا جائے تو دونوں جماعتوں نے عدلیہ کے فیصلوں کو ماننے سے انکار کیا ہے۔ انداز اور حکمت عملی مختلف ہے۔ نواز شریف کی مجبوری ہے کہ انہیں اپنا مقدمہ عوام کی عدالت میں لے جانا تھا تاکہ وہ اپنا ووٹ بنک بچا سکتے۔ جبکہ جہانگیر ترین کے کیس میں تحریک انصاف نے ان کو بحال رکھ کر عدلیہ کے فیصلے کی نفی کر دی ہے۔ انداز مختلف ہے لیکن بات ایک ہی ہے۔

پیپلزپارٹی کو بھی عدلیہ کے حوالہ سے شدید تحفظات ہیں۔ اسی لئے بلاول بھٹو اور خورشید شاہ نے چیف جسٹس پاکستان کے ریمارکس اور تقاریر پر منفی رد عمل ظاہر کیا ہے۔ دونوں کی جانب سے عدلیہ کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ عدالتی اصلاحات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ گرین سگنل بھی دیا گیا ہے لیکن مقدمات کے التوا کی بھی بات کی گئی ہے۔  ایسے میں یہ تاثر غلط نہ ہوگا کہ پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو عدالتی نظام اور عدلیہ کے حوالہ سے تحفظات ہیں جن کا اب وہ کسی نہ کسی شکل میں کھل کر اظہار کر رہے ہیں۔ اسی اظہار کی وجہ سے ایسا لگ رہا ہے کہ عدلیہ خود کٹہرے میں کھڑی ہے۔ لیکن اب جو صورتحال بن گئی ہے عدلیہ کے پاس بھی اس سے راہ فرار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ عدلیہ کو اب اپنے اندر اصلاحات کرنا ہوں گی۔ اس ساری بحث کا خدانخواستہ یہ مطلب نہیں ہے کہ عدلیہ کو سیاستدانوں کے مقدمات نہیں سننے چاہئیں۔ حالانکہ میرے چند دوستوں کی یہ رائے ہے اگر دہشت گردوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں جا سکتے ہیں تو سیاستدانوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں کیوں نہیں جا سکتے۔ میں نے اپنے دوستوں سے بہت گزارش کی ہے کہ ایک مہذب اور جمہوری معاشرہ میں متبادل عدالتی نظام کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن میرے دوست بضد ہیں کہ اگر نہیں ہے تو دہشت گردوں کے لئے کیوں بنائی گئی ہیں۔ میں نے کہا یہ درست ہے کہ ایک مہذب اور جمہوری معاشرہ میں دہشت گردوں کے مقدمات کے لئے بھی فوجی عدالتیں نہیں ہو سکتیں لیکن مخصوص حالات میں وہ پاکستان کی ضرورت تھی۔ میرے دوست ہنسنے اور مسکرانے لگے اور مجھے کہا کہ تم ڈرتے ہو اس لئے نہیں کہہ رہے کہ ہمارا عدالتی نظام دہشت گردوں کے مقدمات سننے کے قابل ہی نہیں تھا۔ اس میں اتنی سکت ہی نہیں تھی۔ اس لئے عدلیہ نے خود ہی فوجی عدالتوں کو راستہ دے دیا۔ کیونکہ عدلیہ جانتی تھی کہ وہ یہ کام نہیں کر سکتی ۔ میں نے کہا کیا تم یہ کہہ رہے ہو کہ اب سیاستدانوں کے مقدمات بھی فوجی عدالتوں میں بھیج دئے جائیں۔ دوست مسکرائے۔ اور ہنسنے لگے۔ پھر کہا کہ جو حالات ہیں۔ اس میں تو یہی ثابت ہو رہا ہے کہ دہشت گردوں کے بعد یہ عدلیہ اب سیاستدانوں کے مقدمات سننے کے قابل بھی نہیں ہے۔

جس طر ح جلسوں میں اس کو لکارا جا رہا ہے۔ اس نے عدلیہ کے وجود اور اس کی ساکھ پر سوالیہ نشان پیدا کر دیئے ہیں۔ میں اپنے دوستوں کی بات سن کر پریشان ہو گیا ہوں۔ یہ درست ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے کبھی بھی عدلیہ کا ساتھ نہیں دیا۔ بھٹو کے فیصلے سے لے کر ہر فیصلے کا مذاق ہی اڑایا گیا ۔ لیکن شاید اب صورتحال سنگین ہو گئی ہے۔ لیکن دہشت گردوں کی حد تک تو مان لیا گیا کہ ان کے مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیج دیے جائیں۔ اب یہ سیاستدانوں کے مقدمات بھی فوجی عدالتوں میں بھیج دیئے جائیں۔ پھر نیب کے مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجنے کی بات ہوگی۔ پھر کہیں گے کہ یہ آپشن ہونی چاہئے کہ آپ اپنا مقدمہ عام عدالتی نظام میں لے جانا چاہتے ہیں یا فوجی عدالت میں ۔ لیکن اس کو کون مانے گا۔ پھر تو عدلیہ کا وجود ہی ختم ہو جائے گا۔ پھر تو سارے مقدمے ہی فوجی عدالتوں میں بھیجنے پڑیں گے۔ پہلے ہی زینب کا کیس فوجی عدالت میں بھیجنے کی بات ہو رہی ہے جو درست نہیں۔ اس مقدمہ کا ٹرائل ہمارے عدالتی نظام کے تحت ہی ہونا چاہئے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ایسے میں عدلیہ کو کیا کرنا چاہئے۔

شاید چیف جسٹس پاکستان کو صورتحال کا اندازہ ہے۔ وہ متحرک بھی نظر آرہے ہیں۔ اتوار کو بھی کام کر رہے ہیں۔ وہ عوامی اہمیت کے ہر مقدمہ کو سن بھی رہے ہیں۔ لیکن عام آدمی کیا کرے وہ اپنا مقدمہ عوامی اہمیت کا کیسے بنائے۔ کیا انصاف صرف عوامی اہمیت کے مقدمات کے لیے ہے۔ اس لیے کہیں نہ کہیں یہ بھی محسوس ہو رہا ہے کہ یہ کافی نہیں۔ وہ اکیلے یہ جنگ لڑتے نظر آرہے ہیں۔ باقی جج ان کے ساتھ نہیں ہیں ۔ مزہ تو تب ہے کہ پورے پاکستان کی تمام عدالتیں اتوار کو کام کرنا شروع کر دیں۔ چھٹیاں ختم کر دی جائیں۔ اکیلے چیف جسٹس کے بنچ کا اتوار کو کام کرنا کافی نہیں۔ ماتحت عدلیہ کو بھی اتوار کو کام کرنا ہوگا۔ جس طرح چیف جسٹس مقدمات میں التوا نہیں د یتے۔ کم از کم جج صاحبان جو مقدمہ سننے لگیں اس میں تاریخ نہ دیں۔ جس کی باری نہ آئے وہ اور بات ہے۔

میری چیف جسٹس پاکستان سے گزارش ہے کہ پہلے اپنے قبیلہ کو بقا کی یہ جنگ  لڑنے کے لئے تیار کریں۔ اگر وہ خود رات کو آٹھ بجے تک کام کرنے کے لئے تیار ہیں۔ تو باقی جج صاحبان کو تیار کریں کہ کام کرنے کے اوقات میں اضافہ کریں۔ چھٹیاں ختم کریں۔ اگست کی چھٹیاں ختم کریں۔ سردیوں کی چھٹیاں ختم کریں۔ شام کو کام کریں۔ انشاء اللہ اللہ مدد کرے گا۔ ورنہ مسئلہ ہو سکتا ہے۔