سیاست میں الزام تراشی اور دشنام طرازی کا کلچر
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 29 / جنوری / 2018
- 6335
پاکستانی سیاست حقیقی معنوں میں ابھی بھی اپنے ارتقائی عمل سے گزررہی ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج بھی ہماری سیاست اور جمہوریت کو بنیاد بنا کر اہل دانش بنیادی نوعیت کے سوالات اٹھاتے ہیں ۔ کیونکہ اصولی طور پر ہماری جمہوری سیاست اور اس سے جڑے ہوئے لوگوں سمیت سیاسی جماعتوں کی قیادت کو داخلی اور خارجی محاذ پر تعمیری سیاست کے تناظر میں جو کردار ادا کرنا چاہیے تھا، اس کا فقدان غالب نظر آتا ہے ۔
عمومی طور پر اہل سیاست اور سیاسی نظام معاشرے میں ایک بہتر، مثبت اور متبادل تبدیلی کے امکانات کو پیدا کرتا ہے ۔ کیونکہ اگر سیاست نے حقیقی معنوں میں متبادل ترقی پیدا نہیں کرنی تو سیاست غیر اہم ہوجاتی ہے ۔
پاکستان میں سیاست سے وابستہ افراد ملک میں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں۔ لیکن وہ یہ بنیادی نکتہ بھول جاتے ہیں کہ جمہوریت اور سیاست کی بنیاد اخلاقی اصولوں، تہذیب، تمدن ، کلچر، شائشتگی، احترام اور ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنا سمیت ایک دوسرے کی منفی کردار کشی اور الزامات کی سیاست سے گریز کرکے تعمیری سیاست کو فروغ دینا ہوتا ہے ۔ یہ ہی عمل بنیادی طور پر ملک میں سیاست ، جمہوریت اور جمہوری قوتوں کی سیاسی و اخلاقی ساکھ کو بھی پیدا کرکے لوگوں میں جمہوریت کا مقدمہ مضبوط بناتا ہے ۔ اگر ہم مجموعی طور پر پاکستان کی سیاست کا جائزہ لیں تو اس میں سب کچھ ملے گا لیکن اگر کچھ نہیں ملے گا توجمہوریت کا حقیقی منظرنامہ ہوگا۔ اہل سیاست جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو اپنی مفادات پر مبنی سیاست میں بطور ہتھیاراستعمال کرتے ہیں۔ ہماری سیاست میں اخلاقیات اور شائستگی کا جنازہ نکل گیا ہے اور اس کی جگہ بدتمیزی، بدتہذیبی اور گھٹیا نوعیت کی ذاتیات پر مبنی الفاظ کی سیاست کا غلبہ ہے ۔ ہمارے اہل سیاست اور اہل دانش سیاسی جلسوں ، تقریروں، مجالس، ٹی وی ٹاک شوز سمیت مختلف مجالس میں جو ایک دوسرے کے بارے میں لب ولہجہ اختیار کرتے ہی وہ ایک مہذہب معاشرے کی عکاسی نہیں کرتا۔
اہل دانش کی سطح پر ہم یہ بیانیہ آگے بڑھاتے ہیں کہ سیاست قوموں کو آگے کی طرف لے جاتی ہے مگر ہماری سیاست ہمیں آگے بڑھانے کی بجائے پیچھے کی طرف دکھیل رہی ہے ۔ اس میں سیاست اور جمہوریت کو کمزور کرنے میں خارجی مسائل بھی موجود ہیں وہیں سیاست کے داخلی مسائل بھی ہماری خرابی کی اہم وجہ ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم خارجی مسائل کا تو ماتم بہت کرتے ہیں ، مگر اپنی داخلی کمزوریوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جمہوریت اور سیاست میں جہاں خارجی مسائل بڑھ رہے ہیں وہیں داخلی مسائل میں بھی تسلسل سے اضافہ ہورہا ہے ۔ لیکن شاید ہمیں اس کا وہ ادراک نہیں جو اصولی طور پر ہونا چاہیے تھا۔ ملک میں محاز آرائی ، الزا م تراشیوں اور گالم گلوچ پر مبنی سیاست نے پانچ طریقوں سے قومی جمہوری سیاست کا مقدمہ کمزور کیا ہے ۔ اول ایسا لگتا ہے کہ ہماری جمہوری سیاست اور سیاسی جماعتوں سمیت قیادت کے پاس کوئی عوامی مسائل سے نمٹنے اور ان کے مفادات کو فوقیت دینے کا ایجنڈا ، فہم یا تدبر نہیں۔ دوئم اس طرز کی سیاست سے عام آدمی سیاست اور جمہوریت سے اپنے آپ کو لاتعلق رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ سارا کھیل ذاتی مفادات پر مبنی ہے ۔ سوئم معاشرے میں یہ مسائل مجموعی طور پر ایک ایسے کلچر کو متعارف کرواتے ہیں جس میں لعن طعن اور ذاتی مسائل پر سیکنڈلز کی سیاست کو فوقیت حاصل ہوتی ہے ، یہ ہی سیاست کا مجموعی کلچر بھی بن جاتا ہے ۔ چہارم اہل سیاست چونکہ اپنے آپ کو عوام کے سامنے جوابدہی کے لیے تیار نہیں ہوتے تو وہ ان الزامات کو بنیاد بنا کر یا جذبات کو ابھار کر لوگوں کو اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ پنجم ہمارے اہل دانش کی فکری مجالس اور میڈیا میں ریٹنگ کی بنیاد پر کھیلا جانے والا کھیل میں بھی الزام تراشیوں پر مبنی ایجنڈا غالب ہوگیا ہے۔
مسئلہ اس نئی نسل کا ہے جس میں ہماری سیاسی قیادت ایک ایسے سیاسی کلچر کو متعارف کروارہی ہے جو کسی بھی صورت میں جمہوریت کو مضبوط نہیں بناسکے گا۔ نئی نسل کے مزاج اور زہنوں میں بھی یہ ہی کچھ بھرا جارہا ہے کہ ہمیں اپنے مخالف نقطہ نظر کے لوگوں سے مکالمہ کرنا ، برداشت کرنا ، رواداری پر مبنی سوچ کو اجاگر کرنا ، ایک دوسرے کی رائے کا احترام ، سیاسی وجود کو تسلیم کرنا ، شائشتگی اور تہذیب پر مبنی کلچر اور سوچ کو فروغ دینے کی بجائے منفی انداز کو اپنا کر وہی کچھ کرنا چاہیے جوہمیں اب سیاست میں غالب نظر آتا ہے ۔ یہ سب کچھ غیر شعوری طور پر نہیں ہورہا بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت لوگوں کو حقیقی نوعیت کے مسائل سے نمٹنے کی بجائے ان کو غیر حقیقی مسائل سمیت ذاتیات پر مبنی سیاست میں الجھا کر حکمرانوں کے بالادست طبقات اپنی ذاتی سیاست کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔
اہل سیاست جب یہ نکتہ اٹھاتے ہیں کہ اس ملک میں ایک خاص سوچ اور فکر کو بنیاد بنا کر سیاست ، جمہوریت اور سیاست دانوں کو گالی اور گندہ بنا کر پیش کیا جارہا ہے ۔ یہ بات وزنی ہے ، یقینی طور پر غیر سیاسی قوتیں جمہوری قوتوں کے خلاف اپنا ایجنڈا رکھتی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ اہل سیاست خود وہ تمام مواد اپنے طرز عمل سے پیدا کررہے ہیں جو غیر جمہوری قوتوں کے حق میں جاتا ہے ۔ آپ نواز شریف ، عمران خان ، آصف زرداری ، بلاو ل بھٹو، مولانا فضل الرحمن سمیت تمام سیاست دانوں کی اپنے مخالفین کے بارے میں لب ولہجہ کا تجزیہ کریں تو سوائے مایوسی کے کچھ نہیں ملتا اور لگتا ہے کہ اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں۔ کوئی بھی سیاسی جماعت کا قائد اپنی جماعت میں موجود ان لوگوں کا کڑا احتساب نہیں کرتا جو اپنے مخالفین کے بارے میں سیاسی ، اخلاقی حد ود سے تجاوز کرتے ہیں ۔ مسئلہ یہ ہے کہ بعض سیاست دان براہ راست اور بعض دوسروں کی مدد سے اپنے مخالفین کی مخالفت میں ان کی ذات اور گھروں تک گھس جاتے ہیں۔ اس میں بدقسمتی سے گھروں کی عورتوں ، بیٹیوں، بہنوں اور بہوؤں سمیت سیاسی عورتوں کو بھی نہیں بخشا جاتا۔ یہ سب کچھ اس کھلے انداز اور بے شرمی یا ڈھٹائی سے کیا جاتا ہے کہ سر شرم سے جھک جاتے ہیں کہ عورتوں کو سیاست میں بطور ہتھیار استعمال کرکے ہم کیسی سیاست کا فروغ چاہتے ہیں۔
سیاست عملی طور پر ایک کوڈ آف کنڈکٹ یا سیاسی ضابطہ اخلاق یا سیاسی و اخلاقی دائرہ کار کے تحت کی جاتی ہے یا کی جانی چاہیے ۔ کیونکہ معاشرے کو چلانے کے لیے سیاست اور جمہوریت دونوں بنیادی لوازمات ہیں ۔ سیاسی جماعتوں میں یقینی طور پرآگے بڑھنے کے لیے قواعد وضوابط ہوتے ہوں گے ، لیکن اگر اس پر عملدرآمد نہیں کرنا تو ان کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی ۔ ایک مسئلہ سیاسی نظام میں لب ولہجہ میں تلخی یا غیر شائشتگی کی وجہ سے ردعمل کی سیاست بھی ہے ۔ جب ایک جماعت یا سیاست دان کیچڑ اچھالتا ہے تو دوسرا اس سے دو قدم آگے بڑھ کر اور زیادہ تلخیاں پیدا کرتا ہے ۔ عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ اہل دانش کا کردار ایک بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کرکے اہل سیاست کی سمت کو درست کرنا اور ان کو حقیقی سیاست اور جمہوری طرز عمل کی طرف لانا ہوتا ہے ۔ لیکن میڈیا کے ٹاک شوز میں وہ بھی مکالمہ کا کلچر فروغ دینے کی بجائے ایک دوسرے پر وہ لعن طعن کرتے ہیں کہ لگتا ہے کہ اہل دانش اپنی دانش بھول گئے ہیں ۔ اہل سیاست یہ منطق دیتے ہیں کہ میڈیا میں ہمیں لڑایا جاتا ہے ، سوال یہ ہے کہ آپ دوسرو ں کے ایجنڈے پرکام ہی کیوں کرتے ہیں اور کیوں اپنی عقل استعمال نہیں کرتے۔ سیاسی کارکنوں کی تربیت اہم نکتہ ہے۔
سوال یہ ہے کہ سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کے طرز عمل میں شائشتگی کا کلچر کیسے آگے بڑھایا جائے۔ اصولی طور پر تو یہ کام خود سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کو کرنا چاہیے ۔ لیکن اگر وہ اس کام کرنے کے لیے تیار نہیں تو اہل دانش سمیت رائے عامہ بنانے والے فکری اداروں کو آگے بڑھ کر ایک بڑے قومی سیاسی و اخلاقی نصاب کی بات پر دباو بڑھانا چاہیے جو نفرت، انتقا م اور غیر شائشتگی کی سیاست کو پیچھے دکھیلے ۔ ہمیں قومی سیاست کے اہم مسائل پر توجہ دینی چاہیے نہ کہ غیر ضروری اور غیر سنجیدہ مسائل میں الجھ کر خود کو بھی خراب کریں اور قومی جمہوری سیاست کو بھی نقصان پہنچائیں۔ لیکن یہ کام ایک بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیے بغیر ممکن نہیں اور اسی پر ہماری توجہ بھی ہونی چاہیے۔