عمران نہیں زرداری اسٹبلشمنٹ کے لاڈلے ہیں
- تحریر مزمل سہروردی
- منگل 30 / جنوری / 2018
- 5189
سیاست ایک ظالم کھیل ہے۔ اس میں دوست کے دشمن بننے اور دشمن کے دوست بننے میں دیر نہیں لگتی۔ تخت اور تختہ کے اس کھیل میں رحم، دوستی نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ پاکستان کی سیاست بھی اس وقت اسی دور سے گزر رہی ہے۔ لیکن ابھی تک کے کھیل میں آصف زرداری نے سب سے بہترین کھیل پیش کیا ہے۔ یہاں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ وہی آصف زرداری ہیں جو گزشتہ انتخاب میں چاروں شانے چت ہو گئے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ پاکستان کی سیاست سے پیپلزپارٹی اور آصف زرداری کا بوریا بستر گول ہو گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ سندھ کی حکومت بچ گئی تھی لیکن زبان زد عام تھا کہ یہ سندھ میں بھی زرداری کی آخری باری ہے۔ لیکن کیا کمال کر دیا ہے زرداری نے اگلے انتخابات سے قبل صورتحال کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ بلا شبہ کہنا پڑے گا ویلڈن زرداری۔ بہت خوب زرداری۔
نواز شریف ایسے ہی عمران خان کو لا ڈلا کہہ رہے ہیں۔ صورتحال تو ایسی ہے کہ جیسے جیسے دن گزر رہے ہیں زرداری اسٹبلشمنٹ کے لاڈلے سے لاڈلے ترین بنتے جا رہے ہیں۔ یہ آسان کام نہیں ہے۔ ابھی گزشتہ سال ان کے اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان تعلقات اتنے خراب ہو گئے تھے کہ انہیں ملک چھوڑنا پڑ گیا تھا۔ سب کہہ رہے تھے بس زرداری کی کہانی ختم ہو گئی۔ ایک تقریر نے ان کا ملک میں رہنا مشکل کر دیا تھا۔ اور آج وہی زرداری اسی اسٹبلشمنٹ کے آنکھ کا تارہ بن گئے ہیں۔ گیم بدل گئی۔ صورتحال بدل گئی۔ یہی سیاست ہے۔ نواز لیگ والوں کو زرداری سے بہت گلے ہیں۔ زرداری نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ اگر زرداری نوا زشریف کا ساتھ دے دیتے تو وہ گیم جیت سکتے تھے۔ یہ درست ہے کہ نواز شریف نے بھی بہت برے حالات میں بہت اچھا کھیل پیش کیا ہے۔ اپنی سیاسی بقا کی جنگ انہوں نے بہت اچھی لڑی ہے۔ لیکن یہ جنگ لڑتے لڑتے نواز شریف اسٹبلشمنٹ کے ایسے مخالف کیمپ میں چلے گئے ہیں۔ جہاں سے اب ان کے ا ور اسٹبلشمنٹ کے راستہ جدا ہو گئے ہیں۔ دوسری طرف زرداری اسٹبلشمنٹ کے لاڈلے ہو گئے ہیں۔ سادہ سی بات ہے کہ زرداری کو کیا ضرورت تھی کہ وہ نواز شریف کی خاطر اسٹبلشمنٹ سے لڑتے۔ وہی نواز شریف جو ان کی خاطر اسٹبلشمنٹ سے لڑنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ حیرانی ہے نواز شریف کی سوچ پر، اپنی باری تو زرداری کی مدد نہیں کی اور یہ توقع رکھ لی کہ زرداری ان کی مدد کرے گا۔ سیاست میں نہ تو کچھ مفت ملتا ہے اور نہ ہی خیرات ملتی ہے۔ سب سے پہلے نواز شریف کیمپ کا خیال تھا کہ ہمارے پاس زرداری کو دینے کے لئے بہت کچھ ہے۔ وہ جو مانگیں گے دے دیں گے۔ ڈیل ہو ہی جائے گی۔ دوبارہ صدر بنا دیں گے۔ وزارت عظمیٰ دے دیں گے۔ پنجاب میں گورنر دے دیں گے۔ وہ مانگ تو دیکھیں چاند بھی دے دیں گے۔ لیکن نواز شریف اپنا سودا رکھ کر بیٹھے رہے اور زرداری نے خریدنے سے انکار کر دیا۔ مفت لینے سے بھی انکار کر دیا۔ انہوں نے کھیل کا پانسہ ہی پلٹ دیا۔
عمران خان کو دیکھیں چار سال زرداری کو گالیاں نکلانے کے بعد عمران خان کا یہ خیال تھا کہ زرداری ان کے ساتھ اسمبلیوں سے استعفیٰ دے کر ملک میں قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار کر دے گا۔ عمران خان کی اس سوچ پر بھی حیرانی کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے۔ بھائی آپ نے زندگی میں زرداری کے ساتھ کونسی نیکی کی ہے جو وہ آپ کے اقتدار کی راہ ہموار کر دے۔ سینٹ کے انتخابات سے قبل اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے کا زرداری کو کیا فائدہ ہے۔ اس کا عمران خان تو فائدہ ہو سکتا ہے۔ لیکن زرداری کا کیا فائدہ ہے۔ لیکن عمران اور اس کے دوستوں سے ایسی غیر سیاسی سوچ کی ہی توقع کی جا سکتی ہے۔ اسی لئے اب کراچی میں عمران خان نے اعتراف جرم کر لیا ہے کہ ان کو توقع تھی کہ زرداری ان کا ساتھ دیں گے لیکن انہوں نے نہیں دیا۔ کون عمران خان کو سمجھائے یہ سیاست کی منڈی ہے یہاں مفت کچھ نہیں ملتا۔ عمران کے پاس زرداری کو دینے کے لئے کچھ تھا ہی نہیں۔ اگر عمران زرداری کے ساتھ مل کر کوئی گیم کرنا چاہتے تھے تو انہیں اس کے لئے ماحول بنانا چاہئے تھا۔ نواز شریف کے خلاف ایک ماحول۔ اکٹھے چلنے کا کم از کم پانچ سال کا روڈ میپ ۔ تب بات ہو سکتی تھی۔ لیکن عمران خان کو اتنی عقل ہوتی تو آج سیاسی طور پر تنہا کھڑے نہ ہوتے۔ لیکن زرداری نے عمران خان کا بھی کمال بستر گول کیا ہے۔ کہ آج لگنے لگ رہاہے کہ عمران خان کے پاس اگلے نقشہ میں کچھ نہیں ہے۔ عمران کا حصہ زرداری لینے والے ہیں۔ اور عمران ہاتھ ملتا رہ جائے گا۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ زرداری کو کیا مل گیا ہے۔ جو میں اتنے گن گا رہا ہوں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ انہوں نے نواز شریف اور عمران خان دونوں کی گیم کھیلنے سے انکار کر دیا ۔ سکرپٹ بدل دیا۔ دونوں کا ہی سکرپٹ ناکام ہو گیا۔ وہ اسٹبلشمنٹ کو ایک تیسرے سکرپٹ پر لے آئے ہیں۔ اور اسٹبلشمنٹ سے الگ ڈیل کی۔ ڈیل کے پہلے مرحلہ میں بلوچستان ان کو گفٹ میں مل گیاہے۔ ویسے زداری صاحب کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے دوا اور دعا دی تھی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ کام بغیر دوا اور دعا کے ہوا ہے۔ یہ اسٹبلشمنٹ کا تحفہ ہے۔ جس سے بات سمجھ آگئی ہے کہ ڈیل آن ہو گئی ہے۔ اب نواز شریف کا مقابلہ کرنے کے لئے اسٹبلشمنٹ کا گھوڑا عمران خان نہیں ہے۔ بلکہ زرداری نے اس مورچہ کی کمان سنبھال لی ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ سینٹ تھا۔ پہلے سکرپٹ تھا کہ سینٹ نواز شریف کے پاس نہیں جانی چاہئے اس لئے سینٹ کے انتخابات ہی نہ ہونے دیئے جائیں۔ اسی لئے نظام کا بوریابستر گول ہونے ، اسمبلیوں کے قبل ا ز وقت ٹوٹنے کی گونج تھی۔ استعفوں کی گونج تھی۔ لیکن زرداری نے سکرپٹ ہی بدل دیا۔ اب سینٹ زرداری کو مل رہی ہے۔ اسے کہتے ہیں لاٹھی بھی بچ گئی اور سانپ بھی مر گیا۔
اب آگے دیکھیں۔ یہ ڈیل یہاں ختم نہیں ہو سکتی۔ اس ڈیل سے ایک اعلان تو یہ ہے اب آگے بھی بلوچستان دوبارہ پیپلزپارٹی کے پاس جائے گا۔ سندھ میں پیپلزپارٹی پر خطرات کے بادل ختم ہو گئے۔ پنجاب میں ایک زینب کے واقعہ سے شہباز شریف کی حکومت زلزلہ کا شکار ہو گئی تھی ۔ دوسری طرف سندھ میں اتنے بڑے واقعات لیکن سکون۔ کوئی طوفان نہیں۔ کوئی خطرہ نہیں۔ ورنہ پہلے تو سندھ میں ذرا سی بات سندھ حکومت کے لئے خطرہ بن جاتی۔ لیکن آج تو پیپلزپارٹی کی گورننس پر سوال بھی نہیں اٹھ رہا۔ وہ جو سندھ میں اتحاد بنتے نظر آرہے تھے وہ بھی ڈوبتے نظر آرہے ہیں۔ اور پیپلزپارٹی کا جادو پھر سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ اس طرح آگے بھی دو صوبے زرداری کے پاس جاتے نظر آرہے ہیں۔ نصف اقتدار تو نظر آرہا ہے۔ کے پی کے میں پیپلزپارٹی کی بحالی نظر آرہی ہے۔ کچھ سیٹیں مل جائیں گے۔ بات بنتی نظر آرہی ہے۔ مسئلہ ابھی پنجاب کا ہے۔ پنجاب میں بریک تھرو نہیں ہے۔ لیکن لوگ انفرادی سیٹوں کی بات کر رہے ہیں۔ دوست کہہ رہے ہیں کہ یوسف رضا گیلانی ایک سیٹ نکال لیں گے۔ راجہ پرویز اشرف بھی سیٹ نکال سکتے ہیں۔ کائرہ نے اپنی سیٹ میں بلدیاتی جیت لیا تھا۔ اب وہ بھی سیٹ نکال لیں گے۔ لوگ میاں منظور وٹو کی سیٹ کی بھی بات کر رہے ہیں۔ ندیم افضل چن کی سیٹ کی بھی بازگشت ہے۔ لاہور سے گھرکی بھی معجزہ کر سکتے ہیں۔ مخدوم شہاب الدین کی سیٹ بھی نکلے گی۔ مخدوم احمد محمود کی سیٹ بھی نکل سکتی ہے۔ اس طرح پیپلزپارٹی پنجاب سے مکمل آؤٹ نہیں ہے۔ دوست کہہ رہے ہیں کہ ابھی لودھراں کے ضمنی انتخاب میں پیپلزپارٹی دوسرے نمبر پر آسکتی ہے۔ جو ایک اپ سیٹ سے کم نہیں ہوگا۔ ایسے میں پنجاب میں بحالی کا سفر شروع ہو جائے گا۔ سکور جو گزشتہ انتخاب میں صفر تھا۔ دس کے قریب پہنچے گا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ پھر کیا ہوگا۔ اقتدار مل جائے گا۔ شاید زرداری مکمل اقتدار مانگ ہی نہیں رہے۔ و ہ شراکت اقتدار مانگ رہے ہیں۔ وہ مل سکتا ہے۔ مرکز میں حکومت ان کی مرضی کے بغیر نہیں بن سکے گی۔ جس طرح بلوچستان کا وزیر اعلیٰ پیپلزپارٹی سے نہیں ہے لیکن زرداری ہاؤس پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح وزیر اعظم پیپلزپارٹی سے نہیں ہوگا لیکن زرداری ہاؤس پہنچ جائے گا۔ جو بھی ہوگا ان کے ساتھ ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے شہباز شریف ہو اورپیپلزپارٹی کے ساتھ شراکت اقتدار ہو جائے۔ لیکن یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔ ابھی دو صوبوں کی حد تک منظر صاف نظر آرہا ہے۔ اسی لئے سینٹ کے انتخابات بھی صاف نظر آرہے ہیں۔ زرداری لاڈلے نظر آرہے ہیں۔ عمران خان پریشان نظر آرہے ہیں۔ نواز شریف غصہ میں ہیں۔ زرداری سکون میں ہیں۔