پاکستان میں صحافتی دائرہ کار اور لاف زنی

پاکستان میں صحافت اور جمہوریت کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ قیام پاکستان کے وقت چند ایک اخبارات رسائل اور الیکٹرانک میڈیا کا واحد ذرائع ریڈیو ہوتا تھا۔ اس کا زیادہ تر استعمال حکومتی پراپیگنڈا کیلئے ہوتا تھا۔ سامعین ملکی ریڈیو کی خبروں پر بہت کم اعتبار کرتے تھے اور با وثوق خبروں کے حصول کیلئے بی بی سی اور دیگر غیر ملکی ریڈیو اسٹیشن سے معلومات حاصل کرتے تھے۔ اخبارات اور رسائل کو ماضی میں سرکاری پابندیوں کا سامنا رہا ہے۔ اخبارات کو بند کر دیا جاتا تھا جبکہ صحافیوں کو سچ بات لکھنے اور کہنے پر قید و بند اور کوڑوں کی سزائیں بھگتنا پڑتی تھیں۔

بائیں بازو کے صحافی اور اخبارات زیادہ معتوب رہے ہیں جس کی وجہ ان کا ریاستی بیانیے سے انحراف اور حکومتی کارکردگی پر تنقید تھا۔ انسانی حقوق اور جمہوریت کے حق میں نعرے اور تحریکیں مقتدرہ طبقات کو بالکل نہیں بھاتی تھیں۔ صدر ایوب سے لے کر جنرل ضیاء الحق کے ادوار کے دوران صحافی ریاستی تشدد کا سامنا کرتے رہے۔  آج بھی پاکستان صحافیوں کیلئے دنیا کے خطر ناک ترین ممالک میں شامل ہوتا ہے۔ جبکہ حکومت کے حامی صحافی ہر دور میں فائدہ میں رہے ہیں اور انہوں نے کہیں پر وفاقی نظام کی مخالفت اور صدارتی نظام کو خلافت کے قریب قرار دینے کے دعوے کیے تھے۔ کئی صحافیوں کے نزدیک بنیادی جمہوری نظام جس میں80 ہزار بی ڈی ممبر قوم کے مستقبل کا فیصلہ کرتے تھے،  بہتر تھا اور وہ عوام کو براہ راست ووٹ دینے کے حق میں نہیں تھے۔ اس کے ساتھ ہی عوامی حقوق کی جدو جہد کرنے والوں کو نظریہ پاکستان کا دشمن بلکہ غیر ملکی ایجنٹ بھی قرار دیا جا سکتا تھا۔  صدر ایوب خان کے عہد میں زیادہ صحافی جن کا تعلق بائیں بازو سے تھا ، ان کو ریاستی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے عہد میں بعض صحافی اور اخبارات مشکلات سے دو چار ہوئے کیونکہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کے نظریہ سیاست سے اختلاف رکھتے تھے۔ ان تمام ادوار میں  میڈیا پر مکمل طور پر سرکاری کنٹرول تھا۔ حکومت کے خلاف خبر کو پلیٹ سے اُڑا دیا جاتا تھا اور وہاں سٹاپ پریس لکھا جاتا تھا۔ جنرل ضیاء الحق کے عہد میں حکومتی سطح پر جھوٹ کو پرموٹ کیا گیا جس کی مثال نہیں ملتی ہے۔  بھٹو کے خلاف خود ساختہ کہانیوں پر مبنی ظلم کی داستانوں کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اخبارات میں جمہوری سرگرمیوں اور سیاسی لیڈروں کے بیانات کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی گئی جبکہ ریاستی بیانیے کے قریب دائیں بازو کی مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو جلسے اور جلوس کرنے اور بیانات چھپوانے کی مکمل آزادی تھی۔ اسی عہد میں تمام دائیں بازو کے لکھاریوں کو محکمہ اطلاعات اور تعلیم میں بھرتی کیا گیا جس کی مدد سے سیاسی نظریاتی اور پالیسی بیانیے تراشے گئے۔ یہ تمام افراد اپنی نظریاتی سوچ کو قومی بیانیے کے طور پر منوانے میں کامیاب رہے۔  آج بھی میڈیا پر ہمیں اخبارات میں کالم نگاروں کی صورت اور چینلز پر اینکر اور تجزیہ نگاروں کی شکل میں ایکس فیکٹر کے ساتھ موجود ہیں۔

آخر یہ ایکس فیکٹر کیا ہے اس کا تجزیہ کرنے کیلئے صحافت سے منسلک سیاسی نظریاتی اور تجزیات کے ابھار کو دیکھنے کی ضرورت ہے جنہیں معروضی حالات میں حکومت اور ریاستی مفادات کیلئے تراشا گی۔ ایوب خان کا سیاسی بیانیہ اینٹی جمہوریت اور انسانی حقوق کے خلاف تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا بیانیہ جمہوریت اور سوشلزم کے حوالے سے تھا جس کے حامی غریب طبقات اور بائیں بازو کے سیکولر صحافی تھے۔ جبکہ جنرل ضیاء الحق کا سیاسی بیانیہ اسلامی نظام حکومت کا قیام، جمہوریت پسندوں کی بیخ کنی، آمرانہ نظام حکومت کو قائم کرنا اور عوامی حقوق کی مخالفت تھا۔ یہ بیانیہ ان گروہوں کی حمایت سے بعد میں جہاد افغانستان میں تبدیل ہو گیا۔ جس کے لئے مسلح گروہ تخلیق کیے گئے اور آج ہم ان نا کردہ گناہوں کا بوجھ اتارنے کیلئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں۔ دائیں بازو کی مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے ضیاء الحق کی بھرپور مخالفت کی اور اس کے خلاف بات کرنے والوں کو ریاست کا دشمن قرار دیا گیا۔ اخبارات اور میڈیا میں اس حوالے سے بحثیں ہوئیں اور جہاد افغانستان میں پاکستان کی شمولیت کو پاکستان کی سلامتی کیلئے ناگزیر قرار دیا گیا۔  آج بھی اس بیانیے کے حامی موجود ہیں جو کہ جہاد افغانستان کو درست جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو امریکی پالیسیوں کی حمایت قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ ماضی میں یہ امریکہ کے حامی رہے ہیں۔ اسی طرح میڈیا میں سیاست دانوں کا ٹرائل کیا جاتا رہا اور آج بھی جاری ہے۔

ماضی میں سویت یونین کے خلاف اتنی جھوٹی کہانیاں اور افسانے لکھے گئے جن کا حقائق کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔ پاکستان میں جمہوریت پسند قوتوں اور انسانی حقوق کے حامیوں کی کردار کشی کی گئی۔ محترمہ نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کےخلاف غیر اخلاقی مہم چلائی جاتی رہی۔ یہ تمام کام کرنے والے ہمارے صحافی اور دانشور ہی تھے۔  آج ہمیں اس قبیل سے تعلق رکھنے والے زیادہ کالم نگار سیاست دانوں کی کردار کشی کرنے میں مصروف ہیں جبکہ سیاست دان اداروں اور اپنے مخالف سیاستدانوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں عوام کی حیثیت محض تماشائی کی سی ہے۔ جنرل ضیاء الحق کی باقیات سے تعلق رکھنے والے حکومت میں موجود ہونے کے باوجود ریاستی اداروں پر تنقید کر رہے ہیں تو چینلوں پر موجود حکومتی خاتمے کے خلاف سے پشین گوئی کرتے، ڈیڈ لائن دیتے اور خاتمے کی تاریخیں آگے بڑھاتے رہتے ہیں۔ ان کے اشاروں پر سیاست دان ناچتے رہتے ہیں۔

طاہر القادری کا ایجنڈا نامعلوم ہے۔ پاکستان میں صحافت اور سیاست کی سرحدوں کا کوئی تعین نہیں ہو سکتا ہے۔ ہمارے ملک میں سیاست دانوں اور اینکرز میں کوئی فرق نہیں رہا ہے تو وہاں پر معاملات کیسے درست رہ سکتے ہیں۔ جمہوریت ایک پچیدہ عمل اور ریاست کاری کے تقاضوں کے ساتھ پیوند ہوتا ہے۔ ریاست کے معاملات چلانے کیلئے ویژن، سماجیت، معیشت اور انتظامی صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس حوالے سے لیاقت علی خان ، حسین شہید سہروردی ، ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نمایاں شخصیت تھیں۔ مگر وہ اسٹبلشمنٹ کیلئے نا قابل قبول رہی ہیں۔ صحافت میں حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر اور تجزیہ پیش کیا جاتا ہے۔ حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی جاتی ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری کی  حکومت کو ڈبونے میں میڈیا کا کردار تھا، جس نے کرپشن کی کہانیوں کے ذریعے پیپلز پارٹی کے خلاف فضا قائم کی۔ حالانکہ اس حکومت نے صوبائی خود مختاری کے مسائل کو حل کیا۔ ملک کی سلامتی اور امن و امان کیلئے پارلیمنٹ عدلیہ انتظامیہ اور صحافت کا اپنا کردار ہے۔

 صحافت رائے عامہ کو تشکیل دینے میں اہم رول ادا کرتی ہے۔ اگر معاملات ذمہ داری سے سر انجام دے رہی ہو اور بالا دست طبقات کی آلہ کار نہ ہو تو صورتحال بہتر سماج کی تخلیق کی طرف جا سکتی ہے۔ مگر ہمیں میڈیا میں تقسیم واضح دیکھائی دے رہی ہے تمام چینلز اپنے اینکرپرسن کے ذریعے پیغامات میں سیاسی اور فکری انتشار میں اضافہ کر رہے ہیں۔ کہیں پر مختلف خبروں اور واقعات کے حوالے سے بے بنیاد انکشافات ہیں جس کو ایک اینکر کے قصور واقعے کے حوالے سے اکاؤنٹس کے انکشاف کے پس منظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ عالمی سطح پر ٹرمپ میڈیا کا مخالف ہے وہ آئے دن عجیب و غریب بیانات دیتا رہتا ہے۔ بعض راہنما کبھی طالبان کی نظریاتی حمایت اور طرز عمل کی مخالفت میں بیانات دیتے رہتے ہیں۔ اسی طرح بعض سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اینکرز اور تجزیہ نگار طالبان سے در پردہ ہمدردی رکھتے ہیں۔ اس طرح ضیاء کا ایکس فیکٹر ابھی تک زندہ ہے۔ میڈیا کے ساتھ ایک سوشل میڈیا بھی ہے جہاں پر ہر بات لکھنے اور کہنے کی آزادی ہے۔ بلا تحقیق لکھتے اور بولتے جائیں، آپ کے سامنے صرف لیپ ٹاپ یا مائیک ہونا ضروری ہے۔ اداروں کی حامی اور سیاسی جماعتوں کی حمایتی سوشل میڈیا ٹیم متحرک ہے جس نے متبادل میڈیا کو پروان چڑھایا ہے۔ اس کے لیے ابھی اخلاقیات کا تعین نہیں ہو سکا ہے۔

صحافت بھی ابھی اخلاقیات کی حدود سے دور ہے۔ اس میں لاف زنی کے ذریعے اپنی عدالت لگانے کی کوشش کی جاتی ہے جس کی وجہ سے میڈیا پر اُڑنے والی گرد  سے صحافت کا چہرہ مسخ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ مگر مجموعی طور پر زیادہ صحافیوں کا کردار قابل تحسین ہے جس میں آئی اے رحمان ، عارف نظامی، سہیل وڑائچ، اور حامد میر جیسے نام شامل ہیں۔ جنہوں نے کہا ہے مشکوک پیشہ وارنہ ساکھ اور غیر ذمہ دارانہ رویہ رکھنے والے صحافتی تمدن کی نمائندگی نہیں کرتے ہیں۔