بلاامتیاز انصاف کی فراہمی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے
- تحریر منور علی شاہد
- بدھ 31 / جنوری / 2018
- 9434
ریاست مذہبی ہو یا غیرمذہبی، اپنے شہریوں کو فوری اور سستا انصاف فراہم کرنا اس کی بنیادی اور اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں انصاف کی فراہمی کبھی بھی اور کسی بھی دور میں حوصلہ افزا نہیں رہی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صورتحال بہتر ہونے کی بجائے مزید گھمبیرہوتی جا رہی ہے ۔ آپس کی سیاسی چپقلش اور ملٹری سول تنازعات نے عدلیہ اور عدالتی سسٹم کو کو نہ صرف کمزور کیا ہے بلکہ انتہائی پچیدہ، دشوار اور انتہائی مشکل بنادیا ہے۔ نچلی سطح پر کرپشن ، جھوٹی گواہیوں اور دیگر مسائل نے انصاف کو ایک سائل کے لئے ڈراؤنا خواب بنادیا ہے۔
گو کہ ہمارا معاشرہ ایک اسلامی معاشرہ ہے اور ہماری پارلیمنٹ کی پیشانی پر کلمہ طیبہ بھی کنندہ ہے اور یہاں کے باسی اسلام پر مرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود یہاں انصاف و عدل کی حالت ناقابل بیان ہے۔ حقیقت میں جنگل سے قانون کا گماں ہوتا ہے جہاں ہر طاقتور چھوٹے کو ہڑپ کرنے کے درپے ہے۔ بڑوں کی حالت تو پہلے ہی ابتر تھی اب بچے اور بچیاں بھی نانصافی کا شکار ہونے لگی ہیں۔ ہماری حکومتیں اور ہمارے ادارے معصوم بچوں اور بچیوں کو بھی تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہیں۔ جس معاشرے میں بچے وحشی درندوں کے رحم و کرم پر ہوں وہاں کیا انصاف ہوگا۔ داناؤں نے اپنی کتب میں اس بات کا بار بار تذکرہ کیا ہے کہ انصاف کسی بھی قوم کی زندگی کو توانا رکھتا ہے اور اس کی بقا کے لئے ناگزیر ہے۔ اگر انصاف ناپید ہوجائے تو پھر وہ قوم بھی قوم کہلانے کی مستحق نہیں رہتی اور دھیرے دھیرے اپنے منطقی انجام کو پہنچ جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے سے انصاف کا اٹھ جانا خطرے کی گھنٹی بجنے کے مترادف ہے اور مزید ستم یہ کہ سستے اور فوری انصاف مل جانے کی امید کی کوئی کرن دکھائی بھی نہیں دیتی۔ جنگی سازو سامان کی بہتات اور نظریات سے ملک کی حفاظت نہ کبھی پہلے ہوئی ہے اور نہ آج کے دور میں ممکن ہے۔ دانشور اور فلسفیوں نے ریاست کی بقا کے لئے انصاف کو ناگزیر قرار دیا ہے۔
چینی فلسفی کنفیوشس نے چین کے لوگوں اور معاشرے پر انتہائی گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ کسی نے ایک بار کنفیوشس سے پوچھا کہ اگر ایک قوم کے پاس تین چیزیں ہوں۔ انصاف، معیشت اور دفاع ۔۔۔۔ اور بہ وجہ کسی مجبوری کسی ایک چیز کو ترک کرنا مقصود ہو تو کس چیز کو ترک کیا جائے۔ کنفیوشس نے جواب دیا کہ دفاع کو ترک کرو ۔ پوچنھے والے نے پوچھا پھر بھی ایک چیز چھوڑنی پڑے تو کیا کیا جائے۔ ۔۔۔ کنفیوشس نے جواب دیا معیشت کو چھوڑ دو۔۔ اس پر سوال کرنے والے نے حیرت سے کہا معیشت اور دفاع کو ترک کیا تو قوم بھوکوں مرجائے گی اور دشمن حملہ کردیں گے۔ تب کنفیوشس نے جواب دیا کہ نہیں۔ ۔ ایسا نہیں ہوگا۔ بلکہ ایسا ہوگا کہ انصاف کی وجہ سے اس قوم کو اپنی حکومت پر اعتماد ہوگا اور لوگ معیشت اور دفاع کا حل اس طرح کریں گے کہ پیٹ پر پتھر باندھ کر بھی دشمن کا راستہ روک لیں گے۔ اسلام کے ظہور سے صدیوں پہلے کے ایک فلسفی کی اس بات سے انصاف کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور تاریخ انسانی کے ہر دور کے مطالعے سے اس امر کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ انصاف کے بغیر انسانی معاشروں اور ریاستوں کا استحکام ناممکن رہا ہے ۔
تاریخ اسلام میں غزوہ احد کے موقع پر اس وقت کے مسلمانوں نے بھی ریاست کو بچانے کے لئے پیٹوں پر پتھر باندھ کر ہی دشمن کا راستہ روکا تھا۔ اس کے پس پردہ بھی انصاف اور عدل کی طاقت ہی پنہاں تھی۔ حضرت علیؓ کا ایک انتہائی معروف قول بھی ہمیں انصاف کی اہمیت کی طرف توجہ دلاتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی معاشرہ کفر پر تو قائم رہ سکتا ہے لیکن ظلم پر نہیں۔ اس قول کے تناظر میں جب اقوام کی معاشرتی زندگیوں پر نگاہ ڈالیں تو یہ بات روز روشن کی طرح حقیقت بن کر سامنے آتی ہے کہ ظلم پر مبنی اسلامی معاشرے بدترین اخلاقی انحطاط کا شکار دکھائے دیتے ہیں۔ جبکہ کفر کے معاشرے بطور مثال دنیا کے سامنے موجود ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہاں انصاف اور عدل کا بول بالا ہے۔ مذہب و عقیدہ کی تفریق کے بغیر انصاف کی فراہمی آج مغربی معاشروں کی پہچان ہے۔
پاکستان میں سڑکوں، پلوں کے جال بچھائے جا رہے ہیں، اربوں مالیت کے دفاعی معاہدے بھی کئے جا رہے ہیں، ہر طرح کی ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کرنے کے لئے اپنے وسائل سے بھی زیادہ دولت خرچ کی جا رہی ہے۔ 95 فیصد مسلمانوں والی ریاست میں دفاع اسلام کے نام پر سینکڑوں تنظیمیں معرض وجود میں آ چکی ہیں، ہزاروں مدرسوں میں لاکھوں مومنین و مجاہدین اسلام کی تیاری ہو رہی ہے اور ان سب کا مقصد اسلام و پاکستان کا دفاع کرنا ہے۔ لیکن حقیت یہ ہے کہ یہ سب پاکستان کو کمزور کر رہے ہیں اور اسلام کا غلط تصور سادہ لوح عوام اور دنیا کے سامنے لا رہے ہیں۔ کیونکہ جس طرح کا اسلام پاکستان میں پھیلایا جا رہا ہے اس میں انصاف و عدل نام کا کوئی تصور موجود نہیں جبکہ اسلام کا مطلب ہی امن و سلامتی ہے۔ مسلمان ہو یا غیرمسلم، کسی کو بھی انصاف کے حصول کے لئے کئی نسلوں تک انتظار کی سولی پر لٹکنا پڑتا ہے۔ جنگ عظیم دوم کے دوران انگلستان کے وزیراعظم ونسٹن چرچل کو اس کے ایک سپہ سالار نے بتایا کہ ہم شکست کھانے والے ہیں اور جرمن فوجیں لندن کا محاصرہ کرچکی ہیں تو اس نے صرف ایک سوال پوچھا تھا کہ کیا ہماری عدالتیں ابھی تک انصاف کر رہی ہیں۔ جواب ملا کہ جی ہاں۔۔ تو چرچل نے کہا پھر ہمیں کوئی شکست نہیں دے سکتا۔
آج پاکستان کے معاشرے کی زبوں حالی ہمارے سامنے ہے اور اس کی بربادی و تباہی اور زوال کے قصے ہر خاص و عام کی زبان پر ہیں۔ والدین پریشان ہیں،عورتیں اور بچیاں خوفزدہ ہیں ہر طرف انسانی شکل میں درندے ہی درندے دکھائی دیتے ہے۔ جنگل کے قانون کا راج ہے جہاں فتح طاقتور کی ہی ہوتی ہے ۔ علمائے دین تمام اخلاقی قدروں سے بے پرواہ ہوچکے ہیں۔ پیروں اور گدی نشینوں نے مذہب کی آڑ میں اپنے مفادات کے کاروبار شروع کر رکھے ہیں۔ شریعت کے نفاذ کی دھمکیوں کی آڑ میں حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سیاستدان اور دیگر اشرافیہ اور حکمران طبقہ اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوچکا ہے ۔ تشدد اور عصبیت ہمارا معاشرتی طرہ امتیاز بن چکا ہے۔ ان سب سماجی اور معاشرتی مسائل کا حل بلا امتیاز عدل و انصاف کی فوری فراہمی میں پوشیدہ ہے۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی ، سماجی اور مذہبی صورتحال میں احترام انسانیت، عدل وانصاف کی فراہمی ، رواداری اور اندرونی استحکام وقت کی اشد ضرورت ہے۔