سماج کی تطہیر کے لئے ظلم ختم کرنا ہوگا

انسان کی زندگی جہاں خوشیوں سے معمور ہے وہاں وہ دکھوں اور غموں سے بھی بھری ہوئی ہے۔ بعض دکھ اور تکالیف قدرتی ہوتے ہیں لیکن بعض اپنے ہی شامتِ اعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ کچھ اس قسم کے دکھ میرے وطنِ عزیز کے لوگ بھی برداشت کر رہے ہیں۔ وطن عزیز میں لوگ جن حالات سے گزر رہے ہیں وہ غیرمعمولی تکلیف دہ ہیں۔ بعض اوقات تو نہ صرف رونا آتا ہے بلکہ TV پر خبریں بھی چل رہی ہوں تو اسے بند کرنا پڑتا ہے۔ ہر شخص وہ خبریں سن بھی نہیں سکتا، اتنی دل دہلا دینے والی اور خون کے آنسو رلانے والی باتیں بیان کی جارہی ہوتی ہیں، اتنی دردناک کہانیاں ہیں، خصوصاً ’’قصور‘‘ شہر کے بچے اور بچیوں کی ۔۔۔ کہ قوت برداشت ہی جواب دینے لگی ہے۔

لیکن سفاک اور ظالم لوگ ہیں کہ بار بار دہرا رہے ہیں۔ بار بار ان جرائم کا ارتکاب کئے جارہے ہیں۔ یہی زینب کا واقعہ پر جو کچھ گزرا، ہر دل اور ہر آنکھ شکبار ہوئی۔ لیکن جن لوگوں کی غفلت تھی، جنہوں نے اپنی ذمہ داری ادا نہ کی ان کے سر پر تو گویا جوں بھی نہ رینگی۔ یہ دکھ بھری کہانیاں اور واقعات جیسا کہ میں نے ایک دفعہ پہلے بھی کہا تھا، پہلی دفعہ وطنِ عزیز میں نہیں ہوئے، بے شمار دفعہ ہوئے لیکن توجہ ہی نہ دی گئی۔ گویا کچھ بھی نہ ہوا تھا۔  اب حکام نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ ’’زینب‘‘ کا ملزم گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اور اس نے اقرار جرم بھی کر لیا ہے۔ قصور میں گزشتہ 2 برس میں اس قسم کے 14 واقعات ہوئے جن میں بچیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور ان میں سے 5 کو بے دردی سے ہلاک بھی کیا گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اور بقول بی بی سی کے 8واقعات میں ایک ہی ملزم ملوث ہے۔  ایک والد نے بتایا کہ ’’ہمارے بچے بازاروں اور پارکوں سے گم نہیں ہو رہے، یہ ہمارے گھروں سے گم ہو رہے ہیں کیونکہ ہماری گلیاں اپنے گھروں کی طرح ہی ہیں۔ بچوں کو گھروں کے پاس سے ہی اغوا کیا جاتا ہے اور پھر مار کر وہیں قریب ہی پھینک دیا جاتا ہے۔ یہ سب پلاننگ کے ساتھ ہو رہا ہے۔ پتہ نہیں کتنے لوگ ہیں کون ان کو راستہ کلیئر کرکے دیتا ہے۔ ڈی این اے بھی ایک ہی بندے کا آرہا ہے لیکن اس سارے معاملہ میں پولیس کی غفلت رہی ہے۔ پولیس وقتی عمل کرتی ہے۔‘‘

ایک اور والد نے کہا کہ یہ علاقہ اتنا ہے کہ آدھے گھنٹہ میں آپ پورا شہر پیدل پھر سکتے ہیں کل 6 سے 7کلومیٹر کا علاقہ ہے۔ جب بھی کسی بچی کا واقعہ پیش آتا ہے تو کئی دن تک ہمارے گھر میں قبرستان کا ماحول بن جاتاہے۔ ایک ماں نے بتایا کہ پولیس نے ہمیں بتایا تھا کہ انہوں نے ان کی بیٹی فاطمہ عمر سات سال کے ساتھ زیادتی کرنے والے مدثر کو مار دیا ہے۔ اب ہمیں زینب کے واقعہ کے بعد پولیس نے پھربلایا۔ اس سے پہلے تو ہمیں ہمیشہ یہی تسلی دی جاتی تھی کہ ہمارا مجرم مرچکا ہے اب زینب کا واقعہ کے بعد پتہ چلا کہ اصل مجرم کوئی اور تھا۔  ’’نورفاطمہ ‘‘ عمر سات برس کے والد نے بتایا کہ ’’ہماری بچی کی لاش ایک زیر تعمیر گھر سے ملی۔ فاطمہ کے بعد اب قصور میں میرا دل نہیں لگتا۔ میں خوف زدہ تھا کہ کہیں میرے دوسرے بچوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ نہ ہو۔ پولیس ہمیں یہی کہتی رہی کہ ہم انشاء اللہ قاتل کو ضرور ڈھونڈیں گے۔ ‘‘ لائبہ سلیم عمر سات سال کی والدہ کہتی ہیں کہ مجھے پتہ چلا میری بچی لائبہ سلیم عمر سات سال کو کسی نے مار کر پھینک دیا، میں وہاں گئی مجھے وہ نظر نہیں آئی۔ میں نے پولیس سے پوچھا کہ میری بچی کہاں ہے؟ مجھے دکھاؤ کہ میری بچی ہے کہ کسی اور کی۔ پولیس والوں نے مجھے دھکے دے کر گاڑی میں پھینک دیا۔ پھر وہ مجھے ہسپتال لے گئے۔ میری زندگی تو لائبہ کے بعد ختم ہو گئی۔ پولیس والوں نے ایک مہینہ کوشش کی کچھ بھی نہیں ہوا۔ انہوں نے کوئی بندہ نہیں پکڑا یہ جھوٹ بولتے تھے۔ شہبار شریف تو مجھ سے افسوس کرنے بھی نہیں آیا۔
ایک اور بچی جس کی عمر 6 برس تھی کے والد نے بیان کیا کہ سمجھ نہیں آتا کہ اس ظالم نے میری بچی کو نہ جانے کس چیز سے مار ا اور کس طرح تشدد کیا۔ اپنی طرف سے ظالم نے اسے مار کر پھینک دیا مگر جب دیکھا تو اس کی سانس چل رہی تھی۔ کئی روز وہ ہسپتال میں بے ہوش اور وینٹی لیٹر پر رہی جب آنکھیں کھولی تو بولتی نہ تھی بس روتی رہتی تھی۔ اس سانحہ نے ہماری زندگی بدل کر رکھ دی ہے۔

اب آئیے زینب امین کی طرف جس کی عمر سات سال تھی۔
ان کی والدہ کہتی ہیں کہ جب ہمیں اس گمشدگی کی اطلاع ملی تو ہم مدینے میں تھے۔ پانچ دن تک زینب کو ڈھونڈا نہیں جا سکا۔ ہمیں بہت غصہ ہے، میرا دل کرتا ہے کہ ان پولیس کے افسروں سے پوچھوں کہ ان کے بچے ہیں کہ نہیں۔ یہ ماں کہتی ہے کہ جب میں سعودی عرب میں تھی میری بات لوگوں سے ہوئی تو انہوں نے مجھے کہا کہ پاکستان میں تو درندے ہیں۔ کیا یہ ہماری تذلیل نہیں ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ اب ایسے اقدامات ہوں اور ایسے قوانین بنیں کہ پھر ایسا واقعہ نہ ہو۔  مجھے، بلکہ ہم سب کو ان والدین سے اور ان کے عزیز و اقارب سے ہمدردی ہے اور ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ مجھے چنداں ضرورت نہ تھی کہ ان واقعات کو دہراتا یا لکھتا لیکن یہ مجبوری ہے کہ ان واقعات کو لکھ کر وطن عزیز کے لوگوں کی غیرت اور حمیت کو جگایا جائے، جھنجھوڑا جائے۔ جب قوم کی حمیت ختم ہو جاتی ہے اور انساں انساں میں فرق ہونے لگتا ہے تو پھر حیوانیت ہی جنم لیتی ہے اور سفاکی مزید پھوٹتی ہے۔  زینب امین کی والدہ نے جو کہا بالکل سچ کہا کہ پولیس والوں سے پوچھوں کہ ان کے بھی اپنے بچے ہیں کہ نہیں۔ اس پر ایک واقعہ میں نے پڑھا کہ
نواب آف کالا باغ (ملک امیر احمد خاں صاحب مرحوم) بڑے سخت گیر ایڈمنسٹریٹر تھے۔ ان کے دور میں لاہور سے ایک پانچ سالہ بچہ اغوا ہو گیا نواب صاحب نے SSP صاحب کو بلوا کر 24گھنٹے میں بچہ برآمد کرنے کا حکم دے دیا۔ 24گھنٹے گزر گئے مگر بچہ برآمد نہ ہوا۔ نواب صاحب نے اگلے دن ASP، SPاور SSP کے بچے منگوائے اور ان بچوں کو کالاباغ بھجوا دیا اور یہ اعلان کر دیا کہ جب تک پولیس اغوا شدہ بچہ برآمد نہیں کرے گی اس وقت تک ان افسروں کے بچے انہیں واپس نہیں ملیں گے۔ نواب صاحب کا یہ نسخہ کامیاب ہوا اور پولیس نے اسی دن بچہ برآمد کرلیا۔ نواب صاحب اکثر کہا کرتے تھے کہ جب تک عوام کے مسئلے کی تکلیف بیوروکریسی تک نہیں پہنچتی افسر اس وقت تک وہ مسئلہ حل نہیں کرتے۔

پاکستان میں ظلم اور بربریت اور اس قسم کے واقعات صرف زینب تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ ان کی بازگشت دور تک جاتی ہے اور وطن عزیز میں مذہب کی آڑ میں سیاست کی آڑ میں گھروں کو برباد اور اجاڑ دیا جاتا ہے اور کسی کا قتل کر دینا تو ان کے نزدیک اتنی بڑی بات بھی نہیں۔ اور اس پر مزید ستم ظریفی یہ ہے کہ ارباب حل و اقتدار خود ایسی باتوں میں ملوث پائے جاتے ہیں جن کی شہ پر یہ سب کچھ ہو جاتا ہے۔  جس قسم کا مذہبی تشدد اس وقت وطن عزیز میں ہے کہ وہاں کی اقلیتیں تو ان سے بالکل بھی محفوظ نہیں ہیں۔  ان کے لئے ہر وقت مسائل کھڑے ہوتے ہیں۔ شکر ہے کہ جو مجرم زینب کا پکڑا گیا ہے وہ کوئی قادیانی یا مرزائی نہ تھا یا عیسائی وغیرہ نہ تھا۔ وہ تو ایک مسلمان، پانچ وقت کا نمازی راسخ العقیدہ مسلمان، نعت خواں اور ختم نبوت کا جانثار تھا۔ اگر کوئی جھوٹی خبریبھی اڑا دیتا کہ نعوذباللہ اس بچی کا قاتل کسی اور مذہب یا فرقہ کا تھا تو ان کی تو خیر نہ تھی۔ یہ میں یوں ہی نہیں کہہ رہا ۔ ابھی چند دن ہی کی بات ہے کہ پاکستان کے 24 TV پر اینکر نے بہت سے لوگ انٹرویو کے لئے بلائے ہوئے تھے جن میں طاہر اشرفی نے یہ زہر اگلا کہ مرزا غلام قادیانی کا تحریف شدہ قرآن چھپ رہا ہے اور تقسیم ہو رہا ہے۔ اس کو بند کرانا ہوگا، وغیرہ۔ اس پر مسلم لیگ (ن) کے زعیم قادری  نے جواب دیا کہ وہ Ban کیا جا چکا ہے، چھاپے مارے جارہے ہیں، ان کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔ ان کے خلاف پرچے درج کئے جارہے ہیں۔ اب بھی اگر کوئی یہ کام کرے گا تو میں خود جا کر ہاتھ سے اس کا گلا دبا دوں گا۔  یہ لوگ چوری کرتے ہیں، فراڈ کرتے ہیں، یہ جھوٹ بولتے ہیں۔ میں تو ان کو آئین کے مطابق غیرمسلموں والے حقوق بھی دینے کو تیار نہیں ہوں۔‘‘

اب اس سے اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں کہ پاکستان میں کس قدر نفرت انگیزی پھیلائی جارہی ہے۔ عوام تو بیچارے ایک طرف رہے، نام نہاد علماء اور حکومت کے کارندے جب ایسی زبان استعمال کریں گے تو یہ صرف زینب کا ریپ اور قتل ہی نہیں یہ حق، انصاف اور حقوق کا ریپ اور قتل بھی ہے۔ اور یہ وہ ظلم ہے جس کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا۔  قرآن کریم میں جگہ جگہ ظلم کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے اور خدا تعالیٰ ظالم کو بغیر بدلہ کے نہیں چھوڑتا۔ مجھے شیخ سعدیؒ کا قول یاد آرہا ہے انہوں نے لکھا کہ میں ساری عمر دو افراد کی تلاش میں رہا۔ ایک وہ جس نے خدا کی راہ میں دیا اور پھر وہ فقیر اور محتاج ہو گیا۔ دوسرے وہ شخص جس نے ظلم کیا ہو اور پھر وہ خدا کے عذاب سے بچ گیا ہو۔  پس قوم جس عذاب اور لعنت سے دوچار ہے وہ ایک دو نہیں بلکہ بے شمار ہیں۔ جھوٹ، بے ایمانی، کرپشن، دغابازی، سفاکی، ظلم ، خیانت میں حد درجہ ملوث ہو گئی ہے۔
چند دن پہلے جو سیاستدانوں نے جلسہ کے میدانوں میں، ایوانوں میں پارلیمنٹ میں ایک دوسرے پر ’’لعنت لعنت‘‘ کی پکار لگائی تھی۔ اس لعنت نے برسنا تو ہے ہی اور یہ ساری قوم پر ہو رہی ہے۔

کہتے ہیں کہ جب بغداد پر حملہ ہوا تو ایک ولی اللہ نے کہا کہ اے اللہ یہ مسلمان ہیں ان کی نصرت فرما اور ہلاک ہونے سے بچا۔ تو ان کو الہاماً بتایا گیا یَا اَیُّھَا الْکُفَّارُ اُقْتُلُوا الْفُجَّارَ۔ کفار کو فجار( یعنی نافرمانوں) کی گردن زنی پر لگایا گیا ہے۔ گویا مسلمانوں کو فجار کہا گیا ۔ کہ یہ لوگ نافرمان ہیں خدا کے احکامات کو ٹالتے ہیں اور ان کے اخلاق اچھے نہیں رہے۔ ان کی سزا یابی کے لئے پھر اللہ تعالیٰ نے کفار کو ہی لگایا۔  ایک اور بات یہاں ارباب حل و اقتدار کے لئے بھی ہے کہ بغیر کسی امتیاز کے وہ  عوام کی خدمت کریں۔ خدمت میں کوئی امتیازی بات نہیں ہونی چاہئے کہ یہ مسلمان ہے یا غیر مسلم یہ اپنی پارٹی کا ہے یا غیر پارٹی سے تعلق رکھتا ہے، یہ پنپنے کی باتیں نہیں ہیں ایسی باتوں اور حکمت عملی سے ملک کمزور ہوتا ہے۔  اور پھر جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، بانی اسلام حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی نہ ہی کوئی ایسی تعلیم ہے اور نہ ہی آپ کا عمل۔ آپ تو رحمۃ للعالمین تھے ہمیشہ امن کی راہ کو آپ نے اختیار فرمایا اور اس کی تعلیم دی۔ ہم جیسے لوگ جو وطن عزیز سے دور دوسرے ممالک میں رہتے ہیں اور جو حضرت خاتم الانبیاء ﷺ اور اسلام کی صحیح تعلیمات کو لوگوں تک پہنچاتے ہیں، انہیں بہت سی مشکلات کا سامنا اس وقت ہوہے جب وطن عزیز میں اس قسم کے بھیانک امور، نفرت انگیزی اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کے حقوق کا استحصال کیا جارہا ہو۔ لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ پاکستان میں جو کچھ لوگ کرتے ہیں کیا یہ آپ کے رسول ؐ کی تعلیم ہے۔ پس صحیح اسلامی تعلیمات کو اپنائیں اور نفرت انگیز اور شرارت سے بچیں، ہر کسی کے لئے دل میں رحمت کے اور پیار کے جذبات پیدا کریں۔
بقول شاعر:
خلوص کی بارش سے کہو ذرا زور سے برسے
نفرتوں کے آئینوں پہ بڑی دھول جمی ہے

ایک مسلمان نے کسی یہودی کو دعوت اسلام کی کہ تو مسلمان ہو جا، مسلمان خود فسق و فجور میں مبتلا تھا، یہودی نے اس فاسق مسلمان کو کہا کہ تو پہلے اپنے آپ کو دیکھ اور تو اس بات پر مغرور نہ ہو کہ تو مسلمان کہلاتا ہے، خداتعالیٰ اسلام کا مفہوم چاہتا ہے نہ نام اور لفظ! یہودی نے اپنا قصہ بیان کیا کہ میں نے اپنے لڑکے کا نام خالد رکھا تھا مگر دوسرے دن مجھے اسے قبر میں گاڑنا پڑا۔ اگر صرف نام ہی میں برکت ہوتی تو وہ کیوں مرتا۔ اگر کوئی مسلمان سے پوچھتا ہے کہ کیا تو مسلمان ہے۔ تو وہ جواب دیتا ہے الحمدللہ۔ پس یاد رکھو کہ صرف لفاظی اور لسانی کام نہیں آسکتی جب تک کہ عمل نہ ہو محض باتیں عنداللہ کچھ وقعت نہیں رکھتیں۔

چنانچہ خداتعالیٰ نے فرمایا ہے پس خدا کی مخلوق پر رحم کرو۔ توبہ کرو، دعائیں کرو، دوسروں کے لئے اپنے دلوں میں رحم کے جذبات پیدا کرو اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خدا کا خوف اور اس کی محبت دلوں میں پیدا کرو۔ اگر یہ نہیں تو پھر کچھ بھی نہیں وہ حیوانوں والی درندگی ہوگی۔ سفاکی ہوگی جس کا انجام ٹھیک نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ وطن عزیز کا حامی و ناصر ہو۔ آمین