آزادی صحافت تا زرد صحافت

ڈاکٹر شاہد مسعود نے قصور میں زینب سے زیادتی اور قتل کے ملزم عمران علی کے فارن کرنسی اکاؤنٹس اور انٹرنیشنل پورنو مافیا کے ساتھ لنک کی جو ہوش ربا کہانی اپنے ٹی وی پروگرام ناظرین کو سنائی تھی۔ اس کا ثبوت کہیں سے بھی فی الحال میسر نہیں آیا اور ان کی سنائی جانے والی رام لیلا نے الٹا پنجاب حکومت اور پنجاب پولیس کو بچوں سے جنسی زیادتی اور قتل میں ملوث مبینہ مجرموں سے نمٹنے میں غفلت اور نااہلی پر تنقید سے بچنے اور زرد صحافت کا نشانہ بننے کی دہائی دینے کا موقع بھی فراہم کردیا ہے ۔

دیکھتے ہیں ڈاکٹر شاہد مسعود اور ان کی قبیل کے چند اور صحافی پاکستانی صحافت میں اپنی ایکس ٹو ٹائپ صحافت کے جواز کے لیے اور کتنی کہانیاں گھڑ پاتے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کی سنسنی خیزی اور مبالغہ آرائی پہ مبنی افسانوی رپورٹنگ نے ایک بار پھر مین سٹریم اور سوشل میڈیا پہ یہ بحث چھیڑی ہے کہ کیا پاکستان کو مین سٹریم میڈیا میں نجی نیوز ٹی وی چینلز کی بھرمار سے مجموعی طور پہ فائدہ ہوا ہے یا نقصان۔ اس بحث میں اکثر لوگوں کا خیال یہ ہے کہ نجی ٹی وی چینلز اور اخبارات کی بھرمار نے یک گونہ فائدہ تو پہنچایا ہے لیکن بہت سی اچھی روایات جو مین سٹریم میڈیا میں قائم ہوئی تھیں وہ ملیامیٹ ہوگئی ہیں۔ مجھ سمیت سوشل میڈیا پر متبادل اور زیادہ آزاد و معروضی لبرل میڈیا کے قیام کے حامی بلاگرز، مضمون نگاروں، صحافیوں اور سٹیزن جرنلزم کے حامیوں نے ہمیشہ اس بات پہ مین سٹریم الیکٹرانک میڈیا کی اکثریت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ ان کے پاپولر اینکرز نے یہ وتیرہ بنارکھا ہے کہ وہ قاتلوں، دہشت گردوں، انتہا پسندوں اور فرقہ پرستوں کو زیادہ جگہ فراہم کرتے ہیں۔ اور ان کی ایسے پروجیکشن کرتے ہیں جن سے ان سے ہمدردی کا شائبہ پیدا ہوتا ہے ۔ میں نے بذات خود حافظ سعید، احمد لدھیانوی،اورنگ زیب فاروقی، طاہر اشرفی، ملک اسحاق اور ان جیسے دیگر فرقہ پرستوں، انتہاپسندوں، عسکریت پسندی کے حامیوں کی پروجیکشن کرنے پہ حامد میر، طلعت حسین، نجم سیٹھی، رضا رومی، اعجاز حیدر وغیرہ پر تنقید کی اور ایسے ہی دائیں بازو کے جھنڈے تلے انتہا پسندی پھیلانے والے شاہد مسعود، عامر لیاقت حسین و دیگر پہ  تنقید کی ہے ۔

اس تنقید کا سب سے بڑا سبب تو یہ ہے کہ ان کی روش سے نہ صرف جھوٹ اور افواہ سازی کی ثقافت میڈیا میں پھلی پھولی بلکہ صریحاً حماقت پہ مبنی رویوں نے بھی فروغ پایا ہے ۔ مذہبی اور نسلی بنیادوں پر نفرت، جھوٹ اور حماقت کی فروخت کے لیے مین سٹریم میڈیا پر سازگار ماحول اس طرح سے پھیلا کہ بقول ہود بھائی ہم نے کسی کو لال مسجد کے باہر کھڑے ہو کر پاکستان میں داعش و طالبان سے یک جہتی کے نعرے مارتے ، مذہبی اقلیتوں کو مرتد قرار دینے کے فتوے اعلانیہ جاری کرنے کو براہ راست ٹی وی چینلز پہ نشر ہوتے دیکھا۔ ہم نے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے خلاف توہین رسالت کے ارتکاب کی جھوٹی کہانیاں نشر ہوتی دیکھیں اور ان کے خلاف اشتعال انگیز ٹاک شوز براہ راست نشر ہوتے  دیکھے ۔ نفرت کی لائیو کوریج نے شہباز بھٹی کے قاتلوں سے ہمدردی پیدا کردی تو ممبئی میں معصوم لوگوں کے خون سے ہولی کھیلنے والوں کو ہیرو بنادیا اور ملالہ کے ساتھ جو ہوا اسے ڈھونگ اور ڈراما سمجھنے پہ بہت سے لوگوں کو قائل کرلیا ۔ پانچ بلاگرز جب جبری گم ہوئے تو دیکھتے ہی دیکھتے ان کے خلاف مین سٹریم میں کئی مقبول اینکر پرسنز نے ایسی مہم چلائی کہ وہ ایک دم سے توہین رسالت کے مرتکب اور ملک سے غداری کرنے والے ٹھہرائے گئے تھے ۔

صرف پاکستان کے مین سٹریم میڈیا کے نجی شعبے پر ہی موقوف نہیں ہے بلکہ پاکستان کے ریاستی ادارے بھی بقول ہود بھائی افراد، گروپوں اور سیاسی جماعتوں کے رویوں، آرا پہ اثر انداز ہونے کے لئے خفیہ فنڈز استعمال کرتے ہیں اور اس کا کیا جواز بنتا ہے ۔ کیا ریاست کا یہ آئینی فریضہ نہیں بنتا کہ وہ اپنے شہریوں کو جعلی خبروں، کردار کشی اور نفرت انگیز مہم سے بچائے۔  اگرچہ ہودبھائی نے پہ ذکر نہیں کیا لیکن میں اس کا تذکرہ ضرور کروں گا کہ پاکستان کے مین سٹریم میڈیا میں کالعدم جماعتوں کے قائدین کی پروجیکشن کا سلسلہ ابھی تک رکا نہیں ہے اور نہ ہی ان کی قیادت کو جعل سازی کے ذریعے معتدل اور امن کا پیامبر بنانے کا سلسلہ رک پایا ہے ۔ اس کی سب سے بڑی مثال کالعدم اہلسنت والجماعت، سپاہ صحابہ پاکستان اور جماعت دعوۃ، ملی مسلم لیگ، لشکر طیبہ اور ان تنظیموں کی قیادت کو ملنے والی پروجیکشن ہے ۔ اس وقت ٹاک شوز میں فرقہ پرستوں اور ایک دوسرے کی جان کے دشمن مخالفین کو اکٹھے مدعو کرلیا جاتا ہے ۔ جو جتنا گالم گلوچ کرے گا اور جتنا جارح ہوگا چاہے وہ اینکر ہو یا مہمان، کسی بھی سائٹ پہ جو رپورٹر جتنا چیخے گا اتنا ہی زیادہ ریٹنگ بڑھے گی۔

زیادہ تر ٹاک شوز، تجزیہ نگاری پہ مبنی پروگراموں کے سکرپٹ پہلے سے طے شدہ اور لکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ نیوز ٹی وی چینلز پہ آج کل یہ طریقہ بہت عام ہوگیا ہے کہ ٹی وی چینل کا مالک جس گروپ کے ساتھ ہے اس گروپ کی اشیر باد سے وہ مخالفوں پہ بلاسفیمی کا الزام لگانے والا مواد نشر کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس طرح کے ٹی وی چینلز اپنے ممدوح پارٹی کی مخالف پارٹی کا تعلق کسی مذہبی طور پہ معتوب فرقے یا مذہب سے جوڑتا ہے۔ اور اس پہ توہین کا الزام عائد کردیا جاتا ہے۔ یا پھر مخالف پارٹی کے لیڈر کا رشتہ دار، سی آئی اے سے جوڑکر اسے غدار وطن ، ملک دشمن قرار دے دیا جاتا ہے ۔

یہ گٹر صحافت کا بدترین نمونہ ہے جس کا نظارہ ہم اکثر وبیشتر پاکستان کے مین سٹریم میڈیا پر دیکھتے ہیں۔ اس گٹر صحافت نے لوگوں کی عام زندگی اور ایک دوسرے کے ساتھ عام برتاؤ میں بھی جارحانہ رویوں اور عدم برداشت کو ہوا  دی ہے ۔ اس وقت میڈیا کی ملکیت کی شفافیت ، مالیاتی گوشواروں کا پبلک ہونا، سچائی اور ثبوت کا احترام اور بنیدی صحافتی اخلاقیات کا دامن تھامنا ضروری ہوگیا ہے ۔