پنجاب اور خیبر پختون خوا پولیس کا مقدمہ
- تحریر مزمل سہروردی
- جمعرات 01 / فروری / 2018
- 4502
محترم عمران خان صاحب کی یہ بات پڑھ کر دل بہت دکھی ہے کہ انہیں شک ہے کہ گزشتہ انتخابات میں ان کی پارٹی میں ٹکٹوں کی تقسیم میں کرپشن ہوئی تھی۔ ان کی اس سادگی پر بس مرجانے کو ہی دل کرتا ہے۔ کہ پانچ سال گزر جانے کے بعد بھی ان کو شک ہے۔ اور شک کا علاج تو حکیم لقمان کے اس بھی نہیں تھا۔ جو لیڈر اپنی جماعت میں احتساب نہیں کر سکا۔ وہ ملک میں کیا احتساب کرے گا۔ صرف اپنے سیاسی دشمنوں کو احتساب کے نام پر چت کرنا کوئی احتساب نہیں۔
حقیقی احتساب کے لئے تو سیاسی جماعتوں کو اپنے اندر احتساب شروع کرنا چاہئے۔ جس میں عمران خان دعویٰ کرنے کے باوجود ناکام ہو ئے ہیں۔ دوسرا قربان جاؤں سپریم کورٹ پر انہوں نے ایک ہی پیشی میں عمران خان کی لاڈلی کے پی پولیس کی کارکردگی کا جنازہ نکال دیا ہے۔ عمران خان کے ساتھ تو وہی ہوا ہے جو ایک نالائق بچے کی ماں کے ساتھ ہو تا ہے جو بے وجہ ہی اپنے بچے کی لیاقت کی تعریفوں کے پل باندھتی رہتی ہے اور جب امتحان کا وقت آتا ہے تو بیچارے نالائق بچے کی نالائقی عیاں ہو جاتی ہے۔ اور پھر بھی ماں اپنے بچے کی نالائقی ماننے کی بجائے اس کے اساتذہ کو کوستی رہتی ہے کہ وہ اس کے بچے کی لیاقت کو سمجھ ہی نہیں سکے۔ مجھے اب ڈر ہے کہ عمران خان یہ نہ کہ دیں کہ سپریم کورٹ کے پی پولیس کی لیاقت کو سمجھ ہی نہیں سکی اس لئے اس کو فیل کر دیا ہے۔ جہاں تک پولیس کی بات ہے۔ پولیس معاشرہ کا ایک بنیادی جزو ہے۔ یہ ملک میں قانون کی حکمرانی کی نشانی بھی ہے ۔ لیکن ساتھ ساتھ جب پولیس قانون کی خلاف ورزی کرتی ہے تو ملک میں موجود نظام قانون اور نظام انصاف دونوں ہی آلودہ ہو جاتے ہیں۔ ملک میں جنگل کا قانون آجاتا ہے۔ ہم ایک مہذب معاشرہ سے جنگلی معاشرہ بن جاتے ہیں۔ لیکن جو لوگ پولیس پر تنقید کرتے ہیں ان کے پاس بھی پولیس کا کوئی متبادل نہیں ۔ جیسے بری سے بری جمہوریت آمریت سے بہتر ہے۔ ایسے برے سے برا پولیس کا نظام بھی باقی تمام نظاموں سے بہتر ہے۔ لیکن آج کل پولیس ملک بھر میں زیر عتاب ہے۔ سندھ میں انتظار اور نقیب کے واقعات نے پولیس مقابلوں کے حوالہ سے سوالیہ نشانات پیدا کئے ہیں۔ اسی طرح پنجاب میں بھی عوام کو پولیس سے بہت شکایات ہیں۔ حقیقت یہ ہے کے پی پولیس بھی کوئی مختلف نہیں ہے۔ مختلف واقعات نے اس ضمن میں تمام دعوؤں کی قلعی کھل گئی ہے۔ اور حقیقت سامنے آگئی ہے۔
پولیس کے نظام میں خرابیاں موجود ہیں۔ سب سے بڑی خرابی جھوٹی ایف آئی آر کا اندراج ہے۔ اس ضمن میں پنجاب اور کے پی میں حالات مختلف نہیں ہیں۔ کیونکہ قانون ایک ہی ہے۔ عمران خان کو یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ اصل مسئلہ پرانے اور فرسودہ قوانین ہیں۔ ایف آئی آر کے اندراج کا قانون فرسودہ ہے۔ لیکن کے پی میں بھی اس قانون کو بدلنے کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ ملک بھر میں جھوٹے ایف آئی آر درج کروانے کی کوئی سزا نہیں ہے۔ مزہ تو تب تھا کہ کے پی میں جھوٹے ایف آئی آر درج کروانے کی مثالی سزا کا قانون منظور کر کے ایک روایت ڈالی جاتی۔ تا کہ پنجاب کے پی کی تقلید پر مجبور ہو جاتا۔ پولیس کا دوسرا سب سے بڑا مسئلہ تفتیش کا ناقص نظام ہے۔ لوگ جھوٹی ایف آئی آر اسی لئے درج کرواتے ہیں کہ تفتیش کا ناقص نظام پر اثر انداذ ہو سکتے ہیں۔ اگر تفتیش کے عمل کو شفاف بنا لیا جائے تو لوگ جھوٹی ایف آئی آر درج کروانا خود ہی بند کر دیں گے۔ لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ تفتیش کے نظام کو شفاف بنانے کے لئے بھی کے پی کے میں کوئی کام نہیں ہوا۔ ایسی کوئی قانون سازی نہیں کی گئی جس کے تحت غلط اور ناقص تفتیش کا راستہ روکا جا سکے۔ صرف پولیس کو آزاد کر دینا کافی نہیں ہے۔ پولیس کی آزادی کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں۔ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ ہم نظام پولیس میں ایسی اصلاحات کریں جو پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنا سکیں۔
جہاں تک پولیس میں سیاسی مداخلت کا سوال ہے تواس میں صورتحال پورے ملک میں یکساں ہے۔ میں یہ ماننے کو تیار نہیں کہ کے پی میں صورتحال کوئی مختلف ہے۔ سیاسی تقاریر اپنی جگہ۔ آپ دیکھ لیں کہ کے پی کے وزیر مشتاق غنی کے بھائی کے گھر میں کم سن ملازم کی ہلاکت کامعاملہ ہی دیکھ لیں اگر اس کی جگہ پنجاب اور نون لیگ کا کوئی وزیر ہوتا تو عمران خان اور تحریک انصاف ایک طوفان برپا کر دیتے۔ چائلڈ لیبر کا معاملہ اٹھا دیا جاتا۔ اسی طرح مردان میں کمسن بچی کے معاملے میں بھی کے پی پولیس کی کارکردگی سامنے آئی ہے۔ کوہاٹ کے معاملے میں بھی سیاسی اثر و رسوخ نے کام کیا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل کا واقعہ بھی اس کی ایک مثال ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ پنجاب پولیسی کی حیثیت ایک لاوارث اور ایسے یتیم بچے کی ہے جس کا کوئی والی وراث نہیں ہے۔ دوسری طرف کے پی کی پولیس ہے جس کی حیثیت ایک ایسے لاڈلے بچے کی بن گئی ہے جس کو بے جا لاڈ پیار کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ صورتحال بالکل مختلف ہے۔ پنجاب میں پولیس کے نظام بہت سی اصلاحات کی گئی ہیں۔ تھانوں کے کلچر کو تبدیل کرنے کے لئے فرنٹ ڈیسک قائم کئے گئے ہیں۔ فرنٹ ڈیسک پر کیمرے لگائے گئے ہیں جن کو ہر وقت دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان اقدامات کے وہ نتائج نہیں آئے ہیں جن کی توقع تھی۔ لیکن مقابلے میں کے پی میں تو ایسا کچھ نہیں ہوا۔ وہاں تو تھانہ کلچر تبدیل کرنے کی کوئی کوشش بھی نہیں کی گئی ۔ فرنٹ ڈیسک اور تھانوں میں کوئی کیمرے نہیں لگائے گئے۔ اگر یہ سب کچھ کے پی میں کیا گیا ہوتا تو تحریک انصاف کی قیادت آسمان سر پر اٹھا لیتی ۔ کہ دیکھیں کہ ہم نے ہر تھانے میں کمیرہ لگا دیا ہے۔ یہ کیمرہ آئی جی آفس اور دیگر افسران کے دفاتر میں دیکھاجا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر طوفان آجاتا۔ لیکن پنجاب میں کام ہوا ہے اور کوئی کریڈٹ لینے کو تیار نہیں۔ شاید پنجاب پولیس سیاسی طور پر لاوارث ہے اور کے پی پولیس کے سیاسی ورثا بہت فعال ہیں۔
اسی طرح پنجاب پولیس نے آئی ٹی کے حوالہ سے بہت سے اصلاحات کی گئی ہیں ۔ جن کی باقی صوبوں میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ بلکہ ان آئی ٹی اصلاحات میں اب باقی صوبوں کی پولیس بھی پنجاب پولیس سے مدد مانگ رہی ہے۔ آئی جی پنجاب پولیس کیپٹن (ر) عارف نواز سے دوسرے صوبوں کے آئی جی پنجاب پولیس کی آئی ٹی اصلاحات کو اپنے صوبوں میں رائج کرنے کے حوالہ سے مدد مانگ رہے ہیں۔ لیکن پنجاب پولیس کے اس کریڈٹ کو کوئی لینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ سب سے پہلے پنجاب پولیس اور بالخصوص لاہور پولیس نے پولیس شہدا کے ورثا کی مدد کے لئے ویلفیئر آئی ایپ متعارف کروائی گئی۔ جس کے بعد یہ ایپ باقی صوبوں میں بنائی گئی۔ لیکن پنجاب پولیس کا یہ کریڈٹ بھی کوئی لینے کے لئے تیار نہیں۔ اسی طرح تفتیش کو بہتر بنانے کے لئے پنجاب میں نہ صرف فرانسک لیب بنائی گئی ہے بلکہ ملزمان سے سچ جاننے کے لئے پولی گرافک ٹیسٹ بھی شروع کئے گئے ہیں۔ پنجاب کی فرانسک لیب صرف ڈی این اے ٹیسٹ نہیں کر رہی بلکہ اس کو مقدمات میں کاغذات کی جانچ پڑتال کے لئے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ جس سے جھوٹے کاغذات کو جھوٹا قرار دینے میں مدد مل رہی ہے۔ یہ تو زینب کیس کی وجہ سے پنجاب فرانسک لیب کی افادئت سامنے آگئی ورنہ اس کا بھی کوئی نام لینے کے لئے تیار نہیں تھا۔
پنجاب پولیس میں مسائل ہیں۔ اس میں خرابیاں بھی ہیں۔ وہی خرابیاں جو باقی محکموں میں موجود ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ باقی محکموں کی خرابیاں اتنی تکلیف دہ نہیں ہیں جنتی پولیس کی خرابیاں تکلیف دہ ہیں۔ لیکن پنجاب پولیس کو سیاسی اہداف کے لئے سنگل آؤٹ کردینا بھی کوئی دانشمندی نہیں ہے۔ عمران خان کی شہباز شریف سے سیاسی لڑائی اپنی جگہ۔ لیکن جس طرح وہ پنجاب پولیس کو سنگل آؤٹ کر رہے ہیں یہ کوئی اچھی روایت نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ پنجاب پولیس جواب میں کیا کرے۔ جناب آئی جی پنجاب اور پولیس کے دیگر ذمہ داران خود تو عمران خان کو جواب نہیں دے سکتے۔ مصیبت تو یہ بھی ہے کہ یہ اپنے کام کی خود تعریف بھی نہیں کر سکتے۔ کیونکہ جونہی یہ اپنے ایک کام کی تعریف کریں گے ان کی باقی کوتاہیوں کا شور مچ جائے گا۔ صورتحال کبھی بھی آئیڈیل نہیں ہو سکتی۔ اس لئے پنجاب پولیس کی تعریف نہیں ہو سکتی۔