کتاب میلہ اور خوش نصیبی

  • تحریر
  • جمعہ 02 / فروری / 2018
  • 3879

زندگی کے معمولات میں سے اپنی اپنی پسند ڈھونڈنا اور اس سے حظ اٹھانے کا ملکہ بھی ایک طرح کی خوش نصیبی ہے۔ یوں تو محبوب کا ہرجائی ہو جانا کسی بھی چاہنے والے کے لئے قیامت سے کم نہیں لیکن پروین شاکر نے اس میں بھی ایک خوبی ڈھونڈ نکالی:
وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا
بس یہی بات اچھی ہے میرے ہرجائی کی

ہمیں جب دنیا میں سفر کرنے کا موقع ملا تو جا بجا حیرانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد میں دنیا کے کسی بھی نئے ملک یا جگہ کے سفر میں ان حیرتوں کی تلاش ہمارے سفر کی ایک مسلسل تحریک رہی۔ ایسے ہی ایک سفر میں ہمارا امریکہ کے مشہور شہر لاس اینجلس جانے کا اتفاق ہوا۔ اگلے روز ہفتے کا دن تھا اور کام کاج کی چھٹی تھا۔ اس لئے آرام سے اٹھے اور دوپہر کے لگ بھگ ہوٹل سے باہر نکلے کہ آس پاس کسی شاپنگ مال کا رخ کریں۔ ہوٹل سے نکلتے ہی سامنے ایک بڑے بورڈ نے ہمار ے قدم روک لئے۔ یہ ایک بہت بڑی بک شاپ تھی۔ قدم خود بخود اٹھتے چلے گئے۔ اندر گئے تو حیرانیاں ہماری منتظر تھیں۔  کتابوں کی ایک عظیم اور پھیلی ہوئی ایک دنیا ہمارے سامنے تھی۔ یہ ایک معروف اور بڑا بک اسٹور تھا۔ ہزاروں لاکھوں کتابوں کو مضامین کے اعتبار سے ترتیب وار لگایا ہوا۔ دوسری حیرت یہ ہوئی کہ اسٹور میں گاہکوں کی ایک بڑی خاصی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس قدر تعداد کے باوجود مگر ایک پراسرار اور خوش کن خاموشی سی تھی۔ وزیٹرز بک شیلفوں کے ساتھ لگے اپنی اپنی پسند کی کتاب اٹھائے ورق گردانی میں مصروف پائے۔ جنہیں زیادہ دیر ورق گردانی کرنا  ہو ان کی سہولت کے لئے اسٹول موجود تھے۔ جنہیں اس دوران چائے کافی یا اسنیکس کی حاجت ہو ان کے لئے ایک کونے میں ایک کیفے بھی موجود تھا۔

کتاب اور علم دوستی کا یہ ماحول دیکھ کر ہم تا دیر سماج کی اس توانا روایت کو سوچتے رہے جہاں نوجوانوں سمیت ہر عمر کے لوگ ہزار دیگر رنگینیوں کی موجودگی میں کتاب اور علم سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس پر ہمیں پال کینیڈی کی طاقتور قوموں کے عروج و زوال پر لکھی مشہور کتاب یاد آئی جس کے آخری پیرا گراف میں زوال کے بنیادی اسباب کا یوں ذکر ہے کہ جب تک طاقتور قومیں علم، ٹیکنالوجی اور مضبوط معیشت میں اپنی سبقت برقرار رکھتی ہیں، کامیاب اور مائل بہ عروج رہتی ہیں، جب علم اور ٹیکنالوجی میں جمود یا پسماندگی ڈیرہ ڈال لے اور اقتصادی حالات کھوکھلے ہونے لگیں تو بڑی بڑی سے بڑی قوموں کو زوال کی گھاٹی میں گرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔  یورپ ، ایشیا سمیت جہاں کہیں بھی سفر کا موقع ملا، اس قول کو بے رحمی کی حد تک سچ پایا۔ جنوبی کوریا کی ترقی کی داستانیں بہت سن رکھی تھیں۔ سئیول کوریا کی سب سے بڑی کیوبو بک شاپ کو دیکھا تو سمجھ میں آگیا کہ کوریا علم اور ٹیکنالوجی میں اس قدر آگے کیوں ہے۔ یہی حال ہانگ کانگ، تائیوان اور سنگاپور میں دیکھا۔ ایک دلچسپ مشاہد ہ یہ بھی ہوا کہ مقامی زبان کے ساتھ ساتھ ترجمے پر کتابوں کی بہتات تھی، اور وہ بھی تازہ ترین کتابوں کی۔ کچھ ایسا ہی تجربہ نیو دہلی اور ممبئی بھی ہوا۔ بک شاپس ہر مرکزی شاپنگ ایریا میں نمایاں اور بڑی بڑی جگہ پر دیکھیں۔

یہ تمام مشاہدات اس وقت ہمیں کچھ یوں یاد آئے کہ ہمارے دوست اور لاہور بک فئیر کے منتظمین میں سے محمد سلیم ملک اور فرخ سہیل گوئیندی نے 32 ویں لاہور انٹر نیشنل بک فئیر میں شرکت کی دعوت دی۔ کہنے کو تو ہم نے اکثر احباب سے یہی سنا کہ کتاب پڑھنے کی عادت اب بہت کم ہو گئی ہے۔ مطالعہ کی عادت میں تیزی سے کمی کو اکثر علم دوست حلقوں میں زیرِ بحث پایا۔ پبلشنگ کے کاروبار سے منسلک احباب میں سے اکثر کو شاکی پایا لیکن اس کے باوجود مختلف بک فئیرز میں ہم نے کتاب دوست گاہکوں کا عموماّ خاصا رش دیکھا۔
لاہور انٹرنیشنل بک فئیر کو ہی دیکھ لیں۔ کہنا آسان مگر یہ سالانہ کتاب میلہ اپنے بتیس سال پورے کر چکا۔ الحمراء کے لان میں شامیانوں سے شروع ہونے والا یہ کتاب میلہ اب دھیرے دھیرے شہر کا ایک عظیم علمی اور سماجی ایونٹ بن گیا ہے۔ اس بار لاہور انٹر نیشنل بک فئیر یکم سے پانچ فروری تک لاہور ایکسپو سنٹر میں منعقد ہو رہا ہے۔ تین سو سے کچھ کم اسٹالز لگے ہیں۔ گزشتہ سالوں کی روایت دیکھیں تو روزانہ ہزاروں کی تعداد میں ہر عمر کے لوگ اپنی اپنی پسند کی کتابیں خریدنے یا ورق گردانی کرنے آتے ہیں۔ ہم نے اکثر فیمیلیز کو بچوں سمیت وہاں گھنٹوں اسٹالز پر مصروف پایا۔ ہم نے اکژ وزیٹرز کو واپسی پر ایک ایک یا دو دو شاپنگ بیگز کے بو جھ کے ساتھ جھکے ہوئے کاندھوں کے ساتھ مگر شاداں و فرحاں جاتے دیکھا تو یہ یقین بھی مستحکم ہوا کہ علم اور کتاب دوستی کی روایت ہمارے ہاں اتنی بھی گئی گزری نہیں ہے۔

یہ بھی مگر تلخ حقیقت ہے کہ پبلشنگ کا کاروبار ہمارے ہاں اتنا بھی آسان اور خوشحال نہیں۔ بائیس کروڑ کی آبادی میں ایک ہزار کی تعداد میں چھپنے والی کتابوں کے ایڈیشن بکنے میں اکثر دو سے تین سال لگ جاتے ہیں۔ بیشتر کتابوں کے دوسرے ایڈیشن کی باری خال خال ہی آتی ہے۔ علاقائی زبانوں ماسوائے سندھی میں شائع کتابوں  کے لئے حالات مزید مشکل ہیں۔ کئی مشہور کتابیں نایاب ہو چکیں، مارکیٹ سے دستیاب نہیں لیکن ان کے ناشر اب نئے ایڈیشن کا رسک کم ہی لینے کو تیا ر ہوتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں اس کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ ایسی کتابوں کو Print on demad اسکیم کے تحت جتنی تعداد کی ضرورت ہو الگ سے چھاپ دیا جاتا ہے۔ سو پچاس تو کیا ایک کتاب بھی اگر درکار ہو تو بھی اکثر پبلشر چھاپ دیتے ہیں۔ ایسی کتابوں کی قیمت قدرے زیادہ ہوتی ہے لیکن بہت سے ایسی کتابیں جن کے مزید ایڈیشن کی تجارتی بنیادوں پر ضرورت نہیں، ضرورت مند قارئین یا لائیبریریوں کو یہ کتابیں دستیاب ہو جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں بھی اب کمپیوٹر کمپوزنگ مستعمل ہے، امید ہے کہ یہ رجحان بھی جلد یا بدیر ہمارے ہاں شروع ہو سکے گا۔

اردو زبان میں طبع زاد کتب میں ادب کے ساتھ ساتھ تاریخ، سماجیات، سوانح عمریاں، سفر نامے، مذہب، سیاست، معاشیات، یاد نگاری سمیت بہت سے موضوعات پر سال بہ سال کتابوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو خوش آئیند ہے۔ انگریزی دان طبقے کے لئے درآمدی کتب بھی ہیں اور مقامی طور پر شائع شدہ بھی لیکن درآمدکنندگان شاکی ہیں کہ حکومت نے یونیسکو کے ایک معاہدے پر دستخط کے باوجود ریڈنگ میٹیریل کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی لگا دی ہے۔ کل ملا کر اس وقت کتابوں کی درآمد پر بارہ فی صد سے زائد درآمدی اخراجات  ہوتے ہیں ۔ سول ایوی ایشن کی جانب سے عائد ہینڈلنگ چارجز کا اضافی بوجھ اس کے علاوہ ہے ۔ روپے کی گرتی ہوئی قدر کو بھی اس میں شامل کر لیں تو درآمد شدہ کتب کے اخراجات اور قیمتیں قارئین کے لئے مزید بڑھ گئی ہیں۔  تجارتی بنیادوں پرکتابوں کے بہتر فروغ سے اس میدان سے منسلک پیشہ ور احباب کے لئے امکانات میں مزید بہتری ممکن ہے، ہمارے ہاں ترجمے کا رجحان زیادہ تر عالمی ادب کی مشہور کتابوں تک زیادہ رہا ہے لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے کئی پبلشرز نے مختلف موضوعات کی مشہور کتابوں کے تراجم پر بھی توجہ دی ہے۔ جمہوری پبلشرز سمیت بہت سے مزید ناشرین نے اس میدان میں کامیاب کوششیں کی ہیں اور قارئین نے اپنی پسندیدگی سے اس رجحان کو تقویت دی ہے۔ انگریزی میں مناسب شدبد کے باوجود ہماری پہلی ترجیح کتاب کو اپنی زبان میں پڑھنے کی ہوتی ہے۔ ترکی اور روسی سمیت انگریزی کتب کے تراجم کی بڑھتی ہوئی دستیابی اور موضوعات کی وسعت نے ہم ایسوں کے لئے سہولت پیدا کر دی ہے۔

لاہو ر انٹرنیشنل بک فئیر کے لئے ایکسپو سنٹر لاہور معمول کے تجارتی نرخ ہی چارج کرتا ہے۔ بہتر ہو اگر وزارت تجارت جس کے تحت یہ ادارہ ہے، ایسے سماجی ایونٹ کے لئے رعایتی کرایہ لے۔ اسی طرح پنجاب حکومت سروسز پر عائد 16% ٹیکس سے اسے چھوٹ دے تاکہ اس کے شرکاء پر اخراجات کا بوجھ کم ہو سکے اور وہ اپنے خریداروں کو پہلے سے بھی بہتر ڈسکاؤنٹ دے سکیں۔ ان مشکلات کے ہوتے ہوئے بھی اس بک فئیر نے ایک ہی چھت تلے کتاب اور علم دوست احباب کے لئے بہت سی حیرانیاں جمع کر دی ہیں۔ اب اپنی اپنی پسند اور بساط ہے کہ وہ اس سے فائدہ اور حظ اٹھائیں۔ سیاسی اور سماجی انتشار پر مبنی خبروں اور واقعات کے کے ہڑبونگ میں سکون اور علم پرور یہ لمحات غنیمت ہیں اور اس قابل ہیں کہ ان سے اپنی اپنی پسند کے مطابق حظ اٹھایا جائے۔