دادا امیر حیدر کی یاد میں
- تحریر پروفیسر فتح محمد ملک
- جمعہ 02 / فروری / 2018
- 9558
ایک ایسے زمانے میں جب نظریاتی وابستگی ذہنی پسماندگی کی دلیل بن کر رہ گئی ہے ڈاکٹر ایوب مرزا اپنی نظریاتی استقامت پر نازاں ہیں۔ غالب نے کہا تھا کہ:
وفاداری بشرط استواری اصل ایماں ہے
آج جبکہ سرمایہ دار دنیا کے ذرائع ابلاغ روس میں اشتراکی ریاست کی موت پر فتح و نصرت کے شادیانے بجانے میں مصروف ہیں، ڈاکٹر ایوب مرزا اہلِ ایمان کی صف میں قائم نظر آتے ہیں۔ اشتراکی نظریہ حیات کے عصری بحران پر مضطرب دانشوروں نے ہمارے ہاں بالعموم معذرت خواہی، سمجھوتہ بازی اور خود تنقیدی کے تین مختلف ردعمل ظاہر کیے ہیں۔
ڈاکٹر ایوب مرزا نے اس سیاسی و تمدنی بحث و تمحیص سے الگ تھلگ رہ کر اس بحران کو سمجھنے کا ایک جداگانہ طرزِ عمل اپنایا ہے۔ ڈاکٹر مرزا نے اس بحران کو سمجھنے اور سمجھانے کی خاطر ایک ایسے انقلابی کارکن کی عمر گزشتہ کی کتاب کی ورق گردانی کی ہے جس کی زندگی اشتراکی تحریک کے دوران حیات پر محیط ہے، جس نے اس تحریک کو آغاز سے لے کر زوال تک، اشتراکی روس اور سرمایہ پرست یورپ سے لے کر غلامی کی دہلیز پھلانگ کر آزادی کے صحن میں وارد ہونے والے ہندوستان اور پاکستان تک دیکھا، برتا اور بھگتا ہے اور یوں جس کی داستانِ حیات ایک ایسا آئینہ بن گئی ہے جس میں عالمی اشتراکی تحریک آفاقی اور مقامی ہر دو زاویوں سے جلوہ گر ہے۔ اس دانا و بینا مگر پارٹی مرکزیت کے سامنے لاچار، ایثار و محبت کے خوگر مگر ابن الوقت رہنماؤں کے حصار میں پابند انقلابی کا نام امیرحیدر اور عرف دادا ہے۔
دادا امیر حیدر برٹش انڈیا کی چھاؤنی راولپنڈی کے نواحی گاؤں سے اٹھ کر امریکہ، یورپ اور روس کے اشتراکی حلقوں میں مدتوں سرگرم عمل رہنے کے بعد پارٹی احکامات کے تحت بمبئی اور مدراس کے مزدوروں میں جوشِ عمل اور جرأت کردار کی سزائیں بھگتنے کے بعد بالآخر اپنے آبائی گاؤں میں آ مقیم ہوا۔ نہیں مقیم کہاں ہوا متحرک رہا۔ دادا امیر حیدر نے اپنے دیس پردیس رہنماؤں کی حکمت عملی پر مایوس ہو کربیٹھ رہنے کی بجائے اپنے آتشیں انقلابی جذبات کو اپنے وطن کی تعلیمی و معاشرتی اصلاح کے عمل میں ڈھال دیا۔ ڈاکٹر ایوب مرزا نے دادا امیر حیدر کے جوش کردار کی کہانی اس انداز میں بیان کی ہے کہ دادا کی داستان حیات عالمی اشتراکی تحریک کی رسائی اور نارسائی کی روداد بن کر رہ گئی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں برصغیر میں اشتراکی تحریک کے خوب و ناخوب کی ترجمانی، تجزیہ اور تنقید کو بطور خاص پیشِ نظر رکھا ہے اور حق یہ ہے کہ انہوں نے اس تحریک کے چھپے ہوئے گوشوں کو روشن کرنے کی خاطر انتھک محنت کی ہے۔
ڈاکٹر مرزا نے صرف مطبوعہ اور دستیاب مواد پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ نایاب مواد کی تلاش میں برصغیر کے دیاروامصار کی خاک بھی چھانی، صرف دستاویزات کے مطالعہ کو ہی کافی نہیں جانا بلکہ مرکزی اہمیت کی شخصیات سے بالمشافہ گفتگو سے بھی روشنی لی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دادا کی زندگی کا مشاہدہ و محاکمہ ایک case study کے طور پر نہیں کیا بلکہ جلوہ ہائے معشوق میں انہماک و انجذاب کے پیرائے میں کیا ہے۔
اشتراکی تحریک کے ساتھ ڈاکٹر ایوب مرزا کی رسم و راہ روزِ اوّل ہی سے عاشقانہ چلی آ رہی ہے۔ ادب کی دنیا میں وہ سیاسی عمل کے خارزار کو طے کر کے وارد ہوئے تھے۔ امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدوں میں پاکستان کی اسیری کے ابتدائی ایّام میں روشن خیال نوجوانوں اور ترقی پسند دانشوروں کی تنظیمیں ریاستی جبر و استبداد کی لپیٹ میں آ کر منتشر ہوئیں تو جیل کاٹنے کے بعد نوجوان ایوب مرزا کے سینگ انگلستان میں جا سمائے جہاں طبی تعلیم کی تکمیل کے بعد انہوں نے اپنا کلینک قائم کیا۔ میڈیکل پریکٹس نے ذاتی زندگی کو سرسبز و شاداب بنا دیا مگر اہلِ وطن کے مصائب نے بہت جلد ذاتی خوشحالی میں زہر گھولنا شروع کر دیا۔ نتیجہ یہ کہ وہ انگلستان سے بوریا بستر باندھ کر راولپنڈی کے سیٹلائٹ ٹاؤن میں آ براجے اور جامع مسجد روڈ پر کلینک قائم کرکے انفرادی اور اجتماعی امراض کی تشخیص میں مشغول ہو گئے۔ پاک چین دوستی کی انجمن قائم کی اور فیض صاحب سے روس اور چین کی نظریاتی کش مکش پر مناظرہ کرنے لگے۔ یہی مناظرہ بازی ، اب سے اٹھارہ بیس برس پیشتر، انہیں ادب کے میدان میں کھینچ لائی ’’ہم کہ ٹھہرے اجنبی‘‘ فیض پر سب سے پہلی معتبر ادبی دستاویز ہے۔ فیض کا کام کرنے والوں کے لیے یہ کتاب ہمیشہ ایک بنیادی حوالے کا کام دیتی رہے گی، مگر جہاں تک ایوب مرزا کا تعلق ہے انہوں نے یہ کتاب ادب میں اپنا مقام پیدا کرنے کے خیال سے نہیں بلکہ فیض کے انقلابی مسلک کو ہماری اجتماعی زندگی میں عام کرنے کی دُھن میں لکھی ہے۔ ابھی اس کتاب کی رونمائی کی تقریبات میں اس حقیقت پر غور و فکر جاری تھا کہ تمامتر ایثار و شجاعت کے باوجود ’’مسلک شام و سحر‘‘ کیوں نہ بدلاجا سکا کہ وطن عزیز ضیاء آمریت کے تسلط میں آ گیا اور یوں سیاسی عمل کی راہیں ایک بار پھر مسدود ہو کر رہ گئیں۔ ایسے میں بے دست و پا ہو کر بیٹھ رہنے کی بجائے ایوب مرزا نے شاعری کے ترجمہ و تخلیق کی راہ اختیار کی۔ رومانیہ کے عوامی شاعر میہائی ایمی نیسکو کے تراجم پر مشتمل کتاب اور خود اپنی نثری نظموں کا مجموعہ اسی اضطراب کی یادگار ہے۔
بات یہ ہے کہ ایوب مرزا کے ہاں ادبی سرگرمی ہمیشہ ہی سے سیاسی عمل کا بدل چلی آ رہی ہے۔ میں موجودہ کتاب کو بھی اسی انداز میں دیکھتا ہوں۔ پاکستان میں اجتماعی احساس کے زوال اور نفسانفسی کے چلن کے قومی طرزِ حیات بن جانے کے باعث خود داد امیر حیدر کے ساتھ یہی معاملہ ہوا تھا کہ یاروں کے ایک ایک کر کے رخصت ہو جانے کے بعد دادا کو جہاد ترک کر کے صرف مجاہدے پر قناعت کرنا پڑی تھی۔ جہاد انقلاب کا راستہ ہے اور مجاہدہ، تصوّف کا۔ جب دادا نے دیکھا کہ موقع پرستی کا جادو کامریڈوں کے سر چڑھ کر بولنے لگا ہے تو وہ اپنی ذات کو اس دلدل سے بچا کر ایک طرف ہو گئے۔ مجھے اس حسن اتفاق پر فخر ہے کہ میں نے اس دور میں ۔۔۔ ایوب آمریت کے دورِ عروج میں ۔۔۔ دادا کو قریب سے دیکھا۔ بشیر الاسلام عثمانی اور منو بھائی کے گھروں میں کبھی کبھار، ایوب مرزا کے کلینک میں بارہا اور راولپنڈی پریس کلب میں اکثر ان سے سامنا ہو جایا کرتا تھا۔ میری چائے کی درخواست ہمیشہ یہ کہہ کر انہوں نے آئندہ پر ڈال دی: ’’نہیں نہیں، فتح محمد تم بس اپنی پڑھائی کا خیال کرو بہت ضروری ہے۔‘‘ آج دادا کا خیال کرتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ بصرے کے مدرسہ تصوّف کے فرد ہوں اور آٹھویں صدی کے اس طائفہ سے بچھڑ کر ہمارے زمانے میں آ گئے ہوں۔ انتہائی سادہ رہن سہن، نرم میٹھی باتیں، اپنی ذات کو گفتگو سے باہر رکھنا، نہ کسی کی غیبت نہ کسی سے شکایت، بس اپنے گاؤں کی بہبود اور اپنے سکول کی ترقی کی دھن میں سرگرداں رہنا، ہر کسی کی خوبیوں پر اترانا مگر اپنے معمولی پن پر اصرار کرنا۔۔۔ دادا کے یہ سب اوصاف اب صرف کتابوں میں ملتے ہیں اور وہ بھی بہت پرانی کتابوں میں جن کے پڑھنے کا رواج کم ہو چلا ہے۔ ڈاکٹر ایوب مرزا نے دادا کو بھی کتاب بنا دیا ہے۔ ہمیں ان کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس کتاب کی بدولت وہ قادر و نایاب اوصاف جن سے دادا کی زندگی عبارت تھی مرحوم کے جسدِ خاکی کے ساتھ مٹی میں مل جانے کی بجائے سرمۂ چشم بصیرت ہو گئے ہیں۔
یہ کتاب انتھک، بے لوث اور صاحب ایمان انقلابی کارکن کی زندگی کی کہانی ہی نہیں، ایک عہد کی سرگزشت اور ایک عہد آفریں تحریک کا آئینہ بھی ہے۔ حق یہ ہے کہ دادا سے گہری محبت اور نظریاتی یگانگت کے ساتھ ساتھ اشتراکی نظریۂ حیات سے اٹوٹ وابستگی کتاب کی سطر سطر سے نمایاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایوب مرزا مجھے اہلِ ایمان کی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں:
بہ آں گروہ کہ از ساغر وفا مستند
سلام ما برسانید ہر کجا ہستند