ریاستی امور سے نا بلد سیاسی قیادت
- تحریر افتخار بھٹہ
- ہفتہ 03 / فروری / 2018
- 4662
پاکستانی ریاست کا بحران نئی انتہاؤں کا چھو رہا ہے۔ سیاسی قیادت کی ریاست کے اداروں کے ساتھ محاذ آرائی جاری ہے۔ کچھ جماعتیں عدلیہ اور دیگر اداروں کی حمایت میں بہت آگے جا چکی ہیں۔ اور ان کے ہر فیصلے کی حمایت کر رہی ہیں۔ جبکہ دوسری ان پر تنقید کرنے کا کوئی پہلو فراموش نہیں کرتیں۔ جس کی واضح مثال ریاستی اداروں کی حمایت سے پروان چڑھنے والی مسلم لیگی قیادت ہے۔ یاد رہے مسلم لیگ کے نام سے کئی سیاسی برانڈ پاکستان کی سیاست میں مقتدرہ اداروں کی ضرورت رہے اور اس میں شامل سیاستدان جمہوری اور آمرانہ ادوار میں اقتدار کے ایوانوں کا حصہ رہے ہیں۔ اور ابھی بھی موجود ہیں۔
میاں نواز شریف عدالتی فیصلے کے بعد مسلم لیگ کے صدر ہیں اور اپنی جماعت کے بارے میں فیصلوں کا مکمل اختیار رکھتے ہیں۔ ان کی جماعت کی حکومتیں مرکز، پنجاب، آزاد کشمیر اور گلگت پاکستان میں موجود ہیں مگر وہ ریاستی اداروں کے ساتھ محاذ آرائی بھی کر رہے ہیں۔ ان کے قریبی ساتھیوں کا رویہ بھی ان سے مختلف نہیں بلکہ نہال ہاشمی سنیٹر کو عدالت عالیہ کی طرف سے نا اہلی کی سزا ہو چکی ہے۔ میاں نواز شریف کی تمام سیاست محاذ آرائیوں سے آراستہ ہے۔ وہ اپنے نامزد کیے ہوئے پانچ آرمی چیفس سے نبھا نہیں کر سکے ہیں۔ آج وہ نظام عدل کی بہتری کی بات کرنے کے ساتھ آئین کی بالا دستی کی بات کرتے ہیں اور آمریتوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ جبکہ انہیں سب سے زیادہ فائدہ آمروں نے پہنچایا ہے۔ وہ ضیاء الحق کی وراثت کے سب سے بڑے بینی فیشری ہیں۔ اگر جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دوران انہیں پنجاب کا وزیر خزانہ نہ بنایا جاتا تو وہ وہ وزیر اعلیٰ سے وزیر اعظم کے عہدہ پر تین مرتبہ کیسے فائز ہوتے۔ یاد رہے ہمارے پالیسی ساز ادارے ہمیشہ چھوٹے صوبوں کی قیادتوں سے تحفظات رکھتے رہے ہیں اور انہیں کبھی کھل کر مجموعی قومی مفادات کے حوالہ سے کردار ادا کرنے کا موقع نہیں دیا گیا ہے۔ آج میاں صاحب کو شیخ مجیب الرحمن کی یاد ستا رہی ہے۔ یہ بات اپنے ذہن میں رکھنی چاہیے کہ میاں نواز شریف نہ تو شیخ مجیب الرحمن ہیں اور نہ ہی وہ مجیب الرحمن کا لبادہ اوڑھ رہے ہیں۔ وہ شیخ مجیب الرحمن بن ہی نہیں سکتے ہیں کیونکہ وہ بنیادی طور پر پنجابی حکمران طبقات سے وابستگی رکھتے ہیں۔ ویسے بھی صوبہ پنجاب کو قومی اسمبلی میں زیادہ نشستیں حاصل ہیں۔ پنجاب بنگال نہیں اور پنجابی بنگالیوں کی طرح کوئی مظلوم قوم نہیں۔ بنگالیوں میں تو بجا طور پر شدید احساس محرومی پایا جاتا تھا جبکہ انہیں مغربی پاکستان کے حکمران طبقات کی پالیسیوں کی وجہ سے مزید قومی و معاشی احتصال کا نشانہ بنایا گیا۔ اسی لئے انہوں نے پاکستان کے اندر رہتے ہوئے خود مختاری کی بات کی۔ جبکہ نواز شریف یا پنجابیوں کو ایسا کوئی مسئلہ در پیش نہیں ہے۔
صوبہ پنجاب اور اس کی قیادت عددی لحاظ سے دیگر صوبوں پر بالا دستی رکھتی ہے۔ مظلومیت تو صرف نواز شریف خاندان کی ہے جنہیں اقتدار سے باہر کر دیا گیا ہے۔ اور ان کی جماعت حکومت میں ہوتے ہوئے بھی بے بسی کا اظہار کر رہی ہے۔ ماضی میں پنجابیوں کو نواز شریف کی قیادت میں صوبائی شاؤ نزم کے نام پر(جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نو لگ گیا داغ) ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا گیا تھا۔ اب اتحاد اتنا مضبوط ہو چکا ہے جس میں انتشار ڈالنا ممکن نہیں رہا۔ نواز شریف موٹر ویز ، فلائی اوورز اور سڑکوں کی تعمیر کی بات کرتے ہیں مگر پنجاب میں اسی فیصد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔ صوبے کے پچاس فیصد لوگ سطح غربت سے نیچے زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔ تعلیم اور صحت کے ادارے زبوں حالی سے دو چار ہیں۔ ہمیں چمکتا پاکستان لاہور اور پنجاب کے چند شہروں میں دکھائی دیتا ہے ۔دوسری طرف خارجہ تعلقات سے محسوس ہوتا ہے کہ ہم عالمی تنہائی سے دو چار ہو چکے ہیں۔ ہمارے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات تسلی بخش نہیں ہیں۔ ہم قرضہ جاتی بحران کا شکار ہونے ہیں کیونکہ ہماری برآمدات تیزی سے گر رہی ہیں۔ اگر صورتحال کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ نواز حکومت ملک میں گڈ گورننس قائم کرنے اور مالی امور کو بہتر طریقے سے چلانے میں ناکام رہی ہے۔ دوسری طرف ملک کی مقبول قیادت عمران خان اپنے فکری سیاسی ابہام سے باہر نہیں نکل سکی ہے۔ اس کا منشور کرپشن فری پاکستان تھا مگر اب وہ جہانگیر ترین نا اہلی کیس میں اس کو بچانے کیلئے میاں نواز شریف کے موقف کے قریب دکھائی دیتے ہیں۔ وہ طالبانائزیشن کی راہ ہموار کرنے والی قوتوں سے اتحاد کر چکے ہیں۔ وہ فاٹا میں پاک فوج کو بجھوانے اور دہشت گردی کے آپریشن کے خلاف رہے ہیں۔ عمران خان خود تو کرپشن فری سیاستدان ہو سکتے ہیں مگر ان کے حواریوں کا کردار بلا تبصرہ ہے۔ پاکستان کی دونوں مقبول قیادتیں جہادی قوتوں کے حوالہ سے یکساں موقف رکھتی ہیں اور ان کی خارجہ پالیسی واضح نہیں ہے۔ نہ ہی کوئی پبلک ویلفیئر کا عوامی ایجنڈا رکھتی ہیں۔ ان دونوں قیادتوں کے درمیان طعنے بازی اور الزامات کے حوالے سے لفظی جنگ جاری ہے۔ دونوں ہی اپنے ارد گرد موجود با اثر طبقات کے مفادات کا تحفظ کرنے کیلئے سیاست کر رہے ہیں۔ میاں نواز شریف کوئی قومی یا سماجی مفادات کی سیاست نہیں کر رہے ہیں بلکہ وہ اپنی خاندانی موروثی سیاست کا تحفظ چاہتے ہیں۔
اس ساری صورتحال میں ہمیں قومی فکری فہم و تفہیم کے حوالہ سے پیپلزپارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کی آواز توانا سنائی دیتی ہے جس کی گفتگو سے محسوس ہوتا ہے کہ مستقبل میں ریاستی امور پر دسترس رکھنے والی قیادت کی امید کی جا سکتی ہے۔ کچھ دن قبل بلاول بھٹو نے ورلڈ اکنامکس فورم کے دوران دنیا کے بڑے اور موثر اخبارات کو انٹرویو کے دوران سیاسی سماجی اور عالمی امور کے بارے میں پختہ خیالات کا اظہار کیا ہے۔ یاد رہے اس کانفرنس میں دو ہی شخصیات چھائی رہیں مودی جسے فری تجارت اور صدر ٹرمپ جس نے تحفظاتی تجارت کے حوالے سے گفتگو کی۔ مودی کی تقریر کے چار مرکزی نقطے تھے دنیا کو گلوبل لائزیشن کی مخالفت سے خطرہ ہے، دنیا کو دہشت گردی سے خطرہ ہے، دنیا کو ان ممالک سے خطرہ ہے جو دہشت گردوں کو اچھے اور برے میں تقسیم کرتے ہیں، صاف ظاہر ہے یہ اشارہ پاکستان کی طرف تھا۔ دنیا کو گلوبل وارمنگ سے خطرہ ہے۔ ٹرمپ امریکہ فرسٹ کی بات کرتا رہا۔ پاکستانی وزیر اعظم کا شو فورم بہت کم ریٹنگ تھا۔ اس سے ہم اپنی عالمی حیثیت کا ادراک کرتے ہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم دنیا کی دانشور اشرافیہ کا سب سے زیادہ اکٹھ ہوتا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے بھارتی نیوز میڈیا انڈیا ٹو ڈے کو انٹرویو کے دوران جس ہوش مندی کے ساتھ اشتعال انگیز اور منفی سوالات کے جوابات دیئے اس سے معلوم ہوتا ہے ملک کا نوجوان سیاست دان تعصبات اور مجبوریوں اور کمزوریوں کو پیچھے چھوڑ کر ملک کیلئے نیا راستہ تلاش کرنے کا حوصلہ اور فہم رکھتا ہے۔ بلاول کا یہ انٹر ویو اس حوالہ سے دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے کہ پاکستان کی نوجوان قیادت میں ملک سے محبت کے علاوہ مسائل کو سمجھنے اور دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا حوصلہ موجود ہے۔ اسی لیے بلاول کی باتوں کو نہ تو پاک بھارت کے تعلقات کے حوالے سے دیکھا جا سکتا ہے نہ ہی کسی ایک پارٹی کی حکمت عملی اور پالیسی قرار دیا جا سکتا ہے۔ وہ اپنی خاندانی قیادت کی قربانیوں کی بدولت پیپلزپارٹی کے عہدے پر فائز ہوا ہے جس میں اس کو یقیناً اپنے والد سابق صدر آصف علی زرداری کی حمایت حاصل ہوگی اور وہ اپنے بقول ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے ویژن کے مطابق ملک میں سماجی معاشی اور سیاسی سدھار چاہتا ہے جس کے لئے اس نے سوشل ڈیمو کریسی کا ایجنڈا چنا ہے جس میں تعلیم ،صحت اور روز گار کی فراہمی کے ساتھ امیر طبقات سے آمدنی کے تناسب سے زیادہ ٹیکس وصول کرنا شامل ہے تا کہ ریاست کو عوام کی بنیادی ضرورتوں کیلئے مالی وسائل حاصل ہو سکیں۔ جمہوری عمل کو بار بار فوجی مداخلت سے تاراج نہ کیا جا سکے۔ بلاول نے کہا سیاست نے اسے چنا ہے اس نے سیاسی مخالفین کی نکتہ چینی اور دشنام طرازی کے حوالہ سے براہ راست جواب دیتے ہوئے یہ واضح کیا کہ وہ ملکی سیاست میں ہونے والے ڈائیلاگ پر کسی عالمی فورم یا میڈیا پر گفتگو کرنا مناسب نہیں سمجھتا ہے بلکہ اس کی بجائے اس نے نفرت اور انتہا پسندی سے پاک ایک ایسے معاشرے کے قیام کیلئے کام کرنے کی خواہش کی ہے جس میں سب کو باہمی احترام کے ساتھ زندہ رہنے کا حق حاصل ہو۔ بلاول بھٹو نے بھارت کی اندرونی سیاست پر براہ راست گفتگو کرنے لیڈروں کی مقبوضہ بیان بازی پر بات کرنے کی بجائے یہ اصول کی بات کی ہے عقیدہ اور نسلی تعلق کے حوالے سے تقسیم پیدا کرنے کی کوششیں کسی بھی ملک کیلئے سود مند نہیں ہو سکتی۔ مودی حکومت کی نا قص پالیسیوں اور کمزوریوں کی طر ف اشارہ کیا دونوں ممالک کی نئی نسل ذاتیات اور الزام تراشی کی سیاست کو مسترد کرتی ہے۔ دونوں ممالک کی نئی نسل کو پرانی عداوت کو ختم کرنے کیلئے پل بنانے اور مواصلت شروع کرنے کیلئے کام کرنا ہوگا۔ اس نے ڈائیلاگ بڑھانے پر زور دیا جس سے انتہا پسندی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ اس نے واضح کیا معاملات ریاستوں کے درمیان ہوتے ہیں کسی ملک کی فوج دوسرے کے ساتھ تعلقات کا فیصلہ نہیں کرتی ہے۔ پاکستان کو دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کیلئے مضبوط فوج کی ضرورت ہے اور لیڈر پاکستانی فوج کی پشت پر ہے۔ پاکستان کی نوجوان نسل کے نمائندہ کے طور پر بلاول بھٹو زرداری کی باتیں پاکستان اور بھارت کی عوام کیلئے امید کا پیغام ہیں۔
ملک کے موجودہ مقبول لیڈروں میاں نواز شریف اور عمران خان کے بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ سیاستی سماجی، معاشی اور عمرانی فکر و فہم کا تقابلی جائزہ لیں تو اس نوجوان میں سب سے واضح فکری فہم و فراست اور اسٹیٹ من شپ نظر آتی ہے جو قومی اور عالمی تعلقات عامہ کے معاملات حل کرنے میں اپنا واضح عملیت پسند نقطہ نظر رکھتا ہے۔ پاکستان کیلئے اس کی باتوں میں نئی نسل اور ریاست کیلئے کرن کی امید موجود ہے جبکہ دوسری طرف محض دشنام طرازی محاذ آرائی طبقاتی مفادات اور پاور شیئرنگ کے حصول کیلئے مفاداتی جذباتی نعرے بازی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے ہم ریاست کاری کے امور سے نا بلد قیادت کے بحران سے دو چار ہیں۔