طرز حکمرانی اور جنوبی ایشیا کا بحران
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 04 / فروری / 2018
- 4733
دنیا میں طرز حکمرانی اور عوامی مفادات پر مبنی حکومت کا بحران محض پاکستان تک محدود نہیں بلکہ ہمیں جنوبی ایشیائی ممالک بھی اس مرض میں مبتلا نظر آتے ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ان تمام ملکوں میں کامیاب طرز حکمرانی کے تمام تر دعوؤں کے باوجود ہمیں عوام کی ترقی اور خوشحالی کے سماجی ، سیاسی اور اقتصادی اشاریے یعنی اعداد وشمار پر کافی سنگین نوعیت کے مسائل غالب ہیں ۔ دنیا میں جو بھی ادارے ملکوں کی ترقی کے بارے میں رپورٹس جاری کرتے ہیں اس میں ان تمام ملکوں کی حکمرانی کے بحران اور عوامی مفادات سے ٹکراؤ کے تضادات کو نمایاں کرتے ہیں ۔
ایک بنیادی وجہ تو یہ ہے کہ اول تو ان تمام ملکوں میں ہمیں ماسوائے بھارت کے باقی ملکوں میں جمہوری عمل میں عدم تسلسل اور کمزور جمہوری حکمرانی کے مسائل دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ لیکن دوسرا مسئلہ مرکزیت پر مبنی حکمرانی کا نظام ہے جو اچھی سیاسی نیت کے باوجود حکمرانی کے نظام میں اچھے نتائج دینے سے قاصر ہے ۔ کیونکہ دنیا کے جمہوری اور مہذہب ملکوں جن میں امریکہ اور یورپی ممالک شامل ہیں، میں عدم مرکزیت یعنی اختیارات کی نچلی سطح پر تقسیم کو بنیاد پر حکمرانی کے نظام کو طاقت دی گئی ہے ۔ لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم دنیا کے تجربات سے سیکھنے کی بجائے ماضی کی غلطیاں کو دہرا کر اپنے لیے مشکلات پیدا کررہے ہیں۔ معروف دانشور، مصنف اور مقامی حکومتوں کے نظام کا وسیع تجربہ رکھنے والے زاہد اسلام پاکستان کے سیاسی اور سماجی سطح پر منفرد مقام رکھتے ہیں ۔ وہ کئی دہائیوں سے پاکستان اور ایشائی ممالک کے جمہوری اور بالخصوص مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط بنانے کی فکری اور علمی جدوجہد کا حصہ ہیں ۔ میں خود ذاتی طور پر ان کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور ان کے کام سے خود بھی سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اچھی بات یہ ہے کہ وہ اس نظام کی اچھے اور برے تمام پہلوؤں سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کے سوچنے اور سمجھنے سمیت تجزیاتی انداز جذباتی نہیں بلکہ دلیل کی بنیاد پر ہے۔ اور اسی کو بنیاد بنا کر وہ مقامی حکومتوں کے نظام کی مضبوطی کا مقدمہ لڑتے ہیں ۔
پاکستان میں جمہوریت ، قانون کی حکمرانی ، سیاسی نظام اور بالخصوص مقامی حکومتوں کا نظام خود میرا بھی اہم اور پسندیدہ موضوع ہے ۔ اس لحاظ سے زاہد اسلام بھی ان ہی کوششوں کی جدوجہد کے سپاہی ہیں جس میں مجھ سمیت کچھ اور لوگ بھی اس بحث کو وقتا فوقتا سیاسی ، علمی اور میڈیا کے محاذ پر اٹھاتے رہتے ہیں۔ زاہد اسلام کی حالیہ تحقیق پر مبنی جائزہ کتاب’’ دنیا بھر میں مقامی حکومتوں کے مختلف ماڈل ‘‘ پر مبنی بحث کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے ۔ کتاب میں پاکستان سمیت جنوبی ایشیائی ممالک سمیت علمی دنیا کے مختلف مقامی حکومتوں کے ماڈل پر جائز پیش کیا گیا ہے جو کافی معلوماتی بھی ہے اور اس نظام کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد بھی فراہم کرتا ہے ۔ زاہد اسلام کے بقول جمہوریت کا تصور عوام کی شراکت اور عوامی بہتری کے بغیر نامکمل رہتا ہے ۔ اگر اس نظام میں لوگ جمہوریت کے ثمرات سے مستفید نہ ہوسکیں تو کبھی بھی جمہوریت مستحکم نہیں ہوسکتی ۔ ان کے بقول بہت سے ملکوں میں جمہوریت کے نام پرشخصی یا مفاداتی حکمرانی پروان چڑھتی نظر آتی ہے اور وہاں جمہوریت محض اقتدار میں آنے کا نعرہ ہی رہ جاتی ہے جبکہ جمہوریت کے ثمرات سے عوام کی کثیر تعداد محروم رہ جاتی ہے یا رکھی جاتی ہے ۔ مقامی حکومت کا تصور ہی عوامی شراکت اور حکومت خود اختیاری کا دوسرا نام ہے او رپھر اختیارات کی عدم مرکزیت ہی ایک اچھی مقامی حکومت کا بنیادی خاصہ ہوتا ہے ۔
پچھلے دنوں جب مجھے بھی بنکاک میں جنوبی ایشائی ممالک کے مقامی حکومتوں کے تجربات پر مبنی تین روزہ کانفرنس میں ان ممالک کے تجربات سننے کا موقع ملا، تو اندازہ ہوا کہ یہ بحران بدستور تمام ممالک میں موجود ہے۔ مقامی حکومتوں کے نظام کا آئین میں موجود ہونا، انتخابات کا انعقاد کرنا ، اداروں کو کسی نہ کسی شکل میں چلانا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ اصل مسئلہ اس نظام کی اصل روح کو تسلیم کرکے اپنے حکمرانی کے نظام کو طاقت فراہم کرنا ہوتا ہے ۔ اس لیے جنوبی ایشیائی ممالک میں سب ہی ممالک کسی نہ کسی شکل میں مقامی حکومتوں کے نظام کی مضبوطی کی بحث کو آگے بھی بڑھارہے ہیں اور اس کے لیے عملی طور پر اپنے اپنے ممالک میں جدوجہد بھی کررہے ہیں ۔ زاہد اسلام کی اس مختصر کتاب میں دنیاکے 30چھوٹے اور بڑے ممالک کے مقامی حکومتوں کے نظام پر مختصر بحث کی گئی ہے اور یہ سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے کہ ان ملکوں میں اس نظام کی عملی حیثیت کیا ہے ۔ اس بحث سے ہمیں پاکستان کے نظام کو بھی سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ ہم خود یہاں اس نظام کو کیسے چلارہے ہیں اور ہماری سیاسی نیت کیا ہے اور کیا ہونی چاہیے ۔ زاہد اسلام کے بقول پاکستان میں حقیقت یہ ہی ہے کہ یہاں جو مقامی حکومتوں کا فریم ورک ہے اور جو چلایا جارہا ہے وہ فوجی حکمرانوں کا متعارف کردہ ہے ۔ جمہوری سول حکومتوں نے ان ہی کے بنائے ہوئے فریم ورک میں اپنے مقامی نظام کے ماڈل چلائے ہیں ۔
اس جائز ہ پر مبنی کتاب میں جمہوریت کے بارے میں جو بنیادی نوعیت کے تصورات یا فکری تشریحات ہیں ان پر بھی مختصر بات چیت کی گئی ہے جن میں جمہوریت، براہ راست جمہوریت، الیکٹروکریسی، لبرل جمہوریت، سماجی جمہوریت، مطلق العنان جمہوریت، مقنہ جمہوریت ،سوشلسٹ جمہوریت، شرکتی جمہوریت اور مقامی حکومت کا تصور جیسے معاملات شامل ہیں ۔ اسی طرح عالمی سطح پر چند سیاسی ماڈل جن میں وحدانی ریاستوں ، وفاقی ریاستوں ، نیپولینی ماڈل ، سوشلسٹ ممالک اور حکمرانی کے ابتدائی سرکل پر بحث موجود ہے۔ اصل میں ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ابھی تک ہمارے جیسے ملکوں میں جمہوریت اور مقامی حکومتوں کے نظام کے درمیان باہمی تعلق کی بحث کو اصل روح کے مطابق سمجھا ہی نہیں گیا ہے ۔ ہم جمہوریت اور مقامی حکومتوں کے نظام کی بحث کو سیاسی تنہائی میں دیکھنے کے عادی ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جب پاکستان جیسے ملکوں میں بھی جمہوریت اور جمہوری حکمرانی کی آواز گونجتی نظر آتی ہے تو اس میں مقامی حکومت کی بحث کہیں پیچھے گم ہوجاتی ہے یا ہمیں اس کی اہمیت کا احساس ہی نہیں ہوتا ۔ ہماری سیاسی حکومتیں کئی کئی برسوں تک اگر مقامی انتخابات سے گریز کریں یا مقامی نظام سے انحراف کریں تو یہاں محض سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت ہی نہیں بلکہ سول سوسائٹی اور اہل دانش سمیت کئی علمی اور فکری ادارے بھی ہمیں دباؤ کی سیاست بڑھاتے ہوئے نظر نہیں آتے ۔
ہم اپنے ملک میں بھی روزانہ کی بنیادوں پر ٹی وی ٹاک شوز اور سیاسی مجالس میں حکمرانی کے بحران اور عوامی استحصال کی دہائی دیتے ہیں اس کی بنیادی وجہ بھی مقامی حکومتوں کے نظام سے انحراف ہے ۔ حالانکہ ہمارے 1973کے آئین کی شق140-A میں واضح طور پر لکھاہے کہ مقامی حکومتوں کو سیاسی ، انتظامی اور مالی طور پر خود مختار بنایا جائے گا۔ مگر ہماری جمہوری اور سیاسی قیادتیں سب سے زیادہ سیاسی استحصال بھی مقامی نظام حکومت کا کرتی ہیں ۔ ہمارے بڑے لیڈر جو ہر وقت جمہوریت کا نام لے کر سیاست کرتے ہیں ان کا مسئلہ مقامی حکومت نہیں ہے اور نہ ہی وہ عوام کی سیاست اور ان کے عوامی مفادات کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس لیے زاہد اسلام نے جو مقامی نظام حکومت کی بحث کو آگے بڑھایا ہے تو ان کے پیش نظر بھی اہم نکتہ پاکستان ہے اور وہ اس ملک میں اس نظام کو مضبوط دیکھنے کے خواہش مند ہیں ۔ لیکن یہ نظام کیسے مضبوط ہوگا اور کیسے ہماری سیاسی قیادت اپنے غیر جمہوری اور مقامی نظام حکومت مخالف طرز عمل سے گریز کرکے حقیقی جمہوری نظام کو طاقت فراہم کرکے واقعی جمہوریت کی اصل خدمت کرے گی ۔ یہ کام آسان نہیں ہے اور اس کے لیے پاکستان میں سیاسی ، سماجی اور علمی و فکری ساتھیوں کو واقعی بڑی جدوجہد کرنا ہوگی ۔ اس کی ایک واضح شکل تو یہ ہے کہ ہم سب کو جمہوریت اور حکمرانی کے نظام کے نام پر مبنی فکری مغالطے اور تضادات کو سمجھ کر چیلنج کرنا ہوگا ۔
موجودہ سیاسی نظام اور سیاسی جماعتوں کی شکل مقامی نظام تو کجا جمہوریت مخالف ہے ۔ اس میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کو ممکن بنا کر ہی ہم جمہوری عمل اور مقامی حکمرانی کے نظام کو مضبوط کرسکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے تمام فریقین کو محض ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کی سیاست میں الجھنے یا محازآرائی پیدا کرنے کی بجائے موثر کردار ادا کرنا ہوگا ۔ یہ کام کسی منظم سیاسی تحریک کے بغیر ممکن نہیں۔ اس کے لیے جب تک لوگ اس نظام کی اہمیت کو بنیاد بنا کر جدوجہد نہیں کریں گے ہم اچھی حکمرانی نہیں دیکھ سکیں گے۔