سینٹ انتخابات ، مشاہد حسین ، مولانا سمیع الحق اور اتحاد

سینٹ انتخابات کا جوڑ توڑ دلچسپ موڑ میں داخل ہو گیا ہے۔ خیر سے سید مشاہد حسین اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے واپس نون لیگ جوائن کر لی ہے۔ یہ کوئی خبر نہیں ہے سید مشاہد حسین کم از کم 2013سے نواز لیگ میں شامل تھے۔ لیکن اعلان نہیں تھا۔ وہ بے شک (ق) لیگ کے ٹکٹ پر سنیٹر منتخب تھے لیکن گزشتہ چار سال سے وہ کام ن لیگ کے لئے ہی کر رہے تھے۔ گزشتہ دو سال سے ان کے اور چودھری برادران میں باقاعدگی علیحدہ ہو چکی تھی لیکن اعلان نہیں تھا۔

آپ اس کو چودھری برادران کی رواداری بھی کہہ سکتے ہیں۔ سید مشاہد حسین کی ذہانت بھی کہ سکتے ہیں کہ انہوں نے کمال مہارت سے دونوں کشتیوں میں سواری کی۔ انہوں نے چودھری برادارن کے ساتھ تعلقات اس حد تک خراب بھی نہیں کئے وہ انہیں نکال ہی دیتے اور پنڈورا بکس کھل جاتا۔ یہ درست ہے کہ کم از کم دو سال سے چودھری برادران کو بھی علم تھا کہ سید مشاہد حسین جا رہے ہیں وہ بھی خاموش رہے اور انہوں نے عزت سے جانے دیا۔ ویسے یہ چودھری برادران کی خاص بات ہے کہ وہ جانے والوں کو بھی عزت دیتے ہیں۔ انہیں خراب نہیں کرتے۔ اسی لئے جب چودھری پرویز الہیٰ سے جب سوال کیا گیا کہ سید مشاہد حسین نے ق لیگ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ تو انہوں نے آرام سے کہہ دیا مجھے علم نہیں۔ حالانکہ چودھری پرویز الہیٰ سے زیادہ کس کو علم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ہی سید مشاہد حسین کو دوبارہ ق لیگ کا سیکرٹری جنرل بننے سے روکا تھا کہ وہ جا رہے ہیں۔ چودھری پرویز الہیٰ کو کافی عرصہ سے سید مشاہد حسین کے حوالہ سے بہت سے تحفظات تھے لیکن وہ خاموش تھے۔

دوسری دلچسپ بات مولانا سمیع الحق کو تحریک انصاف کی جانب سے سینٹ کا ٹکٹ دینے کی بات ہے۔ سیاسی طور پر یہ کوئی صحیح نہیں لگ رہا ۔ اس موقع پر جب سینٹ میں ایک ایک سیٹ کی بہت اہمیت ہو گی۔ ہر پارٹی زیادہ سے زیادہ سیٹیں لینے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایسے میں تحریک انصاف ایک سیٹ مولانا سمیع الحق کو دے رہی ہے جن کے پاس کے پی کے اسمبلی میں ایک بھی سیٹ نہیں ہے۔ جواب میں سینٹ میں مولانا سمیع الحق کے پاس تحریک انصاف کو دینے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ تحریک انصاف متحدہ مجلس عمل کے قیام سے اس حد تک پریشان ہو چکی ہے کہ وہ مولانا سمیع الحق کو سینٹ ٹکٹ دینے پر مجبور ہو گئی ہے۔ یہ وہی تحریک انصاف ہے جو کسی کے ساتھ اتحاد کرنے کے لئے تیار نہیں تھی۔ سولو فالئٹ کی پالیسی پر عمل پیرا تھی۔ وہ اب اس حد تک پریشان ہو چکی ہے کہ مولانا سمیع الحق کو سینٹ کا ٹکٹ دینے پر تیار ہو گئی ہے۔ ویسے تو یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس ٹکٹ کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ اپنے انتخابی حلقہ کو مستحکم کر رہے ہیں۔  پرویز خٹک اور مولانا سمیع الحق کا تعلق ایک ہی ضلع اور شہر سے ہے۔ پرویز خٹک چاہتے ہیں کہ متحدہ مجلس عمل کے مقامی اثر کو زائل کرنے کے لئے مولانا سمیع الحق اگلے انتخاب میں ان کا ساتھ دیں۔ اسی لئے یہ سینٹ کی ٹکٹ صرف پرویز خٹک اپنی سیٹ سیدھی کرنے کے لئے دے رہے ہیں۔ باقی اس کا تحریک انصاف کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

پنجاب میں سینٹ کے لئے اپوزیشن کے لئے دلچسپ صورتحال ہے۔ تحریک انصاف پنجاب سے ایک سیٹ حاصل کر سکتی ہے لیکن اس سیٹ کے لئے اس کو پی پی پی یا ق لیگ میں سے کسی ایک کا تعاون درکار ہے۔ دوسری طرف ق لیگ نے بھی کامل علی آغا کو کھڑا کر دیا ہے۔ چودھری برادران کو علم ہے کہ عمران خان کے لئے پی پی سے تعاون مانگنا مشکل ہے۔ اس لئے تحریک انصاف کی پہلی چوائس ق لیگ ہی ہوگی کہ اگر ق لیگ سے تعاون مل جائے تو سیٹ نکل سکتی ہے۔ لیکن چودھری برادران کے لئے بھی آخری موقع ہے۔ اگر اب ان کی عمران خان کے ساتھ کوئی انتخابی حکمت عملی طے نہ ہوئی تو پھر کوئی موقع نہیں ہو گا۔ سوال یہی ہے کہ ق لیگ کے چند ووٹوں کے لئے عمران خان چودھری برادران کو کیا دینے کے لئے تیار ہو سکتے ہیں۔ کیا چودھری برادران کے لئے صرف گجرات کی حد تک سیٹ ایڈجسٹمنٹ ممکن ہے۔ کیا باقی لوگوں کو بھی ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے۔  اب تحریک انصاف کی سیاست کی یہیں تو سمجھ نہیں آتی۔ ایک طرف وہ مولاناسمیع الحق کو سیٹ دینے کے لئے تیارہیں جن کے پاس کوئی سیٹ نہیں۔ دوسری طرف وہ چودھری برادران سے تعاون کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہے جن کے پاس سیٹیں بھی ہیں اور وہ تحریک انصاف کے ساتھ مل کر اگلے انتخاب میں بھی سیٹیں نکال سکتے ہیں۔ سیاست میں یہ دو عملی سمجھ سے بالاتر ہے۔

عام فہم سیاسی سمجھ بوجھ تو یہی کہتی ہے کہ سینٹ کے موجودہ انتخابات تحریک انصاف اور ق لیگ کے لئے سنہری موقع ہیں کہ وہ اگلے انتخاب کے لئے ایک وسیع سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا فارمولہ طے کرلیں۔ چودھری برادران کو بھی حقیقی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنی چاہئے۔ بے وجہ سیٹیں نہیں مانگنی چاہئے۔ صرف ان سیٹوں پر بات کرنی چاہئے جو ق لیگ جیت سکتی ہے۔ اور وہاں تحریک انصاف کا کوئی چانس نہیں ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کو اب حقیقت کا ادراک کرنا چاہئے ۔ انہیں سمجھنا ہوگا کہ پنجاب میں مزید سولو فلائٹ سے جیت ممکن نہیں۔ چھوٹے چھوٹے اتحاد بنانے ہو ں گے۔ سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے ہی بات چلے گی۔  باقی ق لیگ کے پاس پی پی کا آپشن تو ہے۔ وہ تو ایڈجسٹمنٹ ہو ہی جائے گی۔ اس میں بظاہر کوئی رکاوٹ نظر نہیں آرہی۔ زرداری عمران خان سے زیادہ سیاسی اور حقیقت پسند ہیں۔ ان سے بات جلدی طے ہو جاسکتی ہے۔ لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ چودھری برادران کی پہلی آپشن تحریک انصا ف ہے۔ جہاں تک سید مشاہد حسین کا تعلق ہے تو سید مشاہد حسین نے سیاسی طور پر ایک بہت خوبصورت اننگ کھیلی ہے۔ انہوں نے کرکے دکھایا ہے کہ کیسے اپنی اگلی اننگ کی پلاننگ کی جاتی ہے۔ انہوں نے ن لیگ میں جگہ کافی محنت سے بنائی ہے۔ ویسے تو میاں نواز شریف انہیں شرع سے پسند کرتے تھے لیکن شاید وہ میاں نواز شریف کی ہدایت پر ہی ق لیگ میں رہے۔ اور اب اپنی مدت پوری کرکے ن لیگ میں آگئے ہیں۔ ہمارے باقی سیاستدانوں کو بھی ان سے سیکھنا چاہئے۔

سینٹ کے انتخابات میں امید تو یہی تھی کہ بلوچستان سے جوڑ توڑ کی خبریں آئیں گی۔ وہاں ہارس ٹریڈنگ ہو گی۔ سندھ سے خبریں آئیں گی۔ سندھ میں بھی اپ سیٹ کا امکان ہے۔ ایم کیو ایم کو سینٹ کے انتخابات میں دھچکے لگ سکتے ہیں۔ کوئٹہ سے گرفتار خالد لانگو نے بھی کاغذات نامزدگی حاصل کر لئے ہیں۔ نواز زہری تو استعفیٰ دےکر دوبئی چلے گئے ہیں۔ ان کے دوبئی جانے سے ن لیگ کو مزید دھچکے لگ سکتے ہیں۔ اسی طرح کراچی میں بھی سکرپٹ بدل سکتا ہے۔  پیپلزپارٹی نے پنجاب کا میدان چھوڑ دیا ہے۔ فی الحال پیپلزپارٹی پنجاب میں سینٹ کے انتخابات میں خاموش ہے ۔ لیکن اگر پرویز الہیٰ کے فارمولہ کو غور سے دیکھا جائے تو وہ مل کر لڑنے کی بات کر رہے ہیں۔ وہ تحریک انصاف کو پیپلزپارٹی کے ساتھ تعاون کرنے پر بھی منانے کی بات کر رہے ہیں۔ یہ کتنا ممکن ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ کیونکہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کو مرکز میں بھی تعاون کرنا ہوگا۔ تب ہی کوئی سیٹ ممکن ہوگی۔ زرداری چاہتے ہیں کہ تحریک انصاف پنجاب میں تعاون لے لے اور مرکز میں دے دے۔ لیکن ابھی اس کا ماحول نہیں بن رہا۔