عدلیہ پر انگلیاں اٹھانے والو غور کرو
آج کل عدلیہ کی توہین ھماری سیاست کا موضوع ہے۔ جب سے سابق وزیراعظم نواز شریف پانامہ لیکس کے مقدمہ میں نا اہل قرار پائے ہیں، مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور وزرا عدلیہ کو مختلف ایشوز پر طعنے دے رہے ہیں۔ عدلیہ نے توہین عدالت کے مرتکب راہنماؤں کو سزا دینے کا عمل شروع کردیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی قیادت وکلاء گردی اور جنرل مشرف کو بیرون ملک فرار کروانے کے حوالے سے انصاف کے مختلف پیمانوں پر نکتہ چینی کرتی آرہی ہے۔ حالانک مسلم لیگ کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے جنرل مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالا۔ جنرل مشرف نے ایک انٹرویو میں چوہدری نثار کا شکریہ بھی ادا کیا ۔ اگر نون لیگ جنرل مشرف کو پاکستان واپس بلانا چاہتی ہے تو وہ ایف آئی اے کے ذریعے ریڈ وارنٹ جاری کرکے اور انٹرپول کے ذریعے انہیں واپس بلا سکتی ہے۔ لیکن وہ سعودی عرب اسٹبلشمنٹ اور دیگر قوتوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتے ۔ صرف پوائنٹ سکورنگ کے ذریعے الزام تراشیاں کرنا چاہتے ہیں۔
زیادہ دیر کی بات نہیں جب پیپلز پارٹی کی حکومت میں چیف جسٹس افتخار چودہری کے سو موٹو اور ان کے عدالتی فیصلوں کے دفاع کا فریضہ مسلم لیگ (ن) نے سنبھال رکھا تھا ۔ اسی طرح وکلاء گردی کے حوالے سے وہ عدلیہ کی آنکھیں بند ہونے پر بھی عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ اسلام آباد سیکٹر ایف ایٹ میں سی ڈی اے کے فٹ بال گراؤنڈ میں وکلا نے قبضہ کرکے اپنے دفاتر تعمیر کرنے شروع کر دیئے ہیں۔ وفاقی حکومت کی پولیس اور سی ڈی اے بے بس دکھائی دی۔ شہریوں اور سول سوسائٹی نے سوشل میڈیا پر فٹ بال گراؤنڈ کی بحالی کے حق میں زبردست تحریک چلائی اور آج چیف جسٹس آف پاکستان نے سو مو ٹو نوٹس لے کر شہریوں میں امید جگا دی۔
یہاں میں یہ بتاتا چلوں کے پیپلز پارٹی تبدیلی کی جماعت پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی سمیت کسی بھی جماعت نے اس مسلئہ پر شہریوں کا ساتھ نہیں دیا۔ اور چپ سادھے رکھی ۔ کیا ہماری سیاسی جماعتیں اپنی پارٹیوں میں کرپشن کے مرتکب اور قانون شکنی میں پیش پیش پارٹی راہنماؤں سے اسی طرح جواب طلبی کر سکتی ہیں۔ اگر وہ اس اخلاقی طاقت سے محروم ہیں تو پھر وہ عدلیہ کو متنازع نہیں بنا سکتے۔ کیا کسی دن عاصمہ جہانگیر سمیت وکلاء رہنماؤں کو بھی وکلاء گردی کے خلاف آواز بلند کرنے کی توفیق ہوگی ۔
آخر وکلاء آئین اور قانون کے رکھوالے ہوتے ہیں۔ اگر وہی کسی معاشرے میں قانون کو ہاتھ میں لینا شروع کردیں اور غیر قانونی اقدامات کے فروغ کو عام روش قرار دیں تو پھر باقی معاشرے کا کیا عالم ہوگا ۔