موروثی سیاست کے خاتمہ کا آخری موقع

پاکستان ہمیشہ سے ہی معاشی بحرانوں کی آماجگاہ رہا ہے۔ دوسری طرف اس ملک کے سیاستدانوں کے کارخانے منافع بخش ہونے کے علاوہ ترقی کی منزلیں بھی طے کرتے چلے جاتے ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی اسٹیل مل دیوالیہ ہوچکی ہے مگر ہمارے حکمرانوں کے لوہے کے کارخانے منافع  بخش ہیں۔  پاکستان کی ہوائی سروس کی پروازیں ساری دنیا میں جگ ہنسائی کا سبب بنی ہوئی ہیں مگر نجی ائر لائنز منافع بنا رہی ہیں۔ اسی طرح اور بہت سے ادارے ہیں جو ملکی تحویل میں ہونے کی وجہ سے خسارے کا شکار ہوتےہیں۔ جبکہ یہی ادارے جب نجی ملکیت میں کام کرتے ہیں تو منافع کے ریکارڈ توڑتے ہیں۔  بدقسمتی سے ریاست کو ہمیشہ ہی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پاکستان کا سیاسی مزاج اور ماحول دنیا سے نرالا اور منفرد ہے۔  دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ ایوانوں میں پہنچنے والے لوگ ایوانوں میں موجود ہوکر بھی کاروبار سے وابستہ ہوتے ہوں ۔ وہ اپنے کاروبار کو کسی اور کو سونپ کر ملک اور قوم کی خدمت کا حلف اٹھاتے ہیں۔ عوام کو یہ کیوں نہیں نظر آتا  کہ وہ جن کو منتخب کرتے ہیں ، وہ دراصل زر سے محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ انہیں عوام سے کیا لینا دینا ۔ یہ تویک طرفہ محبت ہے۔  یک طرفہ محبت کو تو سزا سمجھا جاتا ہے۔ پھر سزا برداشت کرتے رہے ہو اور آنے والی نسلوں کو منتقل کرتے رہو۔ آخر ان لوگوں کو یہ کیوں نہیں دکھائی دیتا کہ ان کے بچوں کیلئے کیا مراعت ہیں۔ ان سیاسی امراء کے بچوں نے کبھی ننگے پاؤں زمین پررکھے ہیں یا برسات کے موسم میں کسی ٹپکتے ہوئے کمرے میں رات گزاری ہے۔ کیا کبھی کسی وقت کا کھانا میسر نہ ہونے پر بھوک کی شدت کو محسوس کیا ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اگر ایک بار ایوانوں کا رخ کر لیتے ہیں تو پلٹ کر دیکھنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔  پاکستان میں سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ سیاسی خاندان ہیں، جو نسل در نسل  اپنے پنجے سیاسی ایوانوں میں گاڑے ہوئے ہیں۔ جماعتیں منشور پر چلتی ہیں جبکہ یہاں تو خاندانی نظام چلتا ہے ۔

ملک کی عدلیہ کسی سپاہی کی مانند مختلف محاذوں پر بر سرپیکار ہے۔ وہ ملک میں حقیقی معنوں میں انصاف کو بحال کرنے کیلئے پرعزم دیکھائی دے رہی ہے۔  ہمارے جج صاحبان مسلسل ان سیاسی خاندانوں کی زد میں ہیں۔ انصاف کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ قدرت نے جن سے یہ کام لینا ہوتا ہے ان لوگوں میں تحمل اور برداشت کوٹ کوٹ کر بھرا جاتاہے۔  قانون بنانا ایوان کا کام ہے تو عدالتیں ان قوانین کو جو ایوان بناتا ہے  ان کے مطابق فیصلے کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان کی دوبڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی جو موروثی سیاست کی بھرپور علم بردار ہیں،  اور مسلسل اس کی حفاظت بھی کررہی ہیں۔  سیاسی جماعتوں کا پنڈورا بکس کھولا جائے توچند ایک کو چھوڑ کر تقریباً سب سیاسی جماعتیں موروثی سیاست کرتی دکھائی دیں گی۔ یہ عجیب لوگ ہیں ایک طرف تو موروثی سیاست پر تنقید بھی کرتے ہیں اور دوسری طرف جلسوں میں اپنے موروثیت کا اعلان بھی کرتے ہیں۔

اعلی عدلیہ اور سیاسی کاروبارکرنے والوں کے درمیان آہستہ آہستہ خلیج بڑھتی جا  رہی ہے۔  عدلیہ اور فوج کئی بار اس بات کو باور کرا چکے ہیں وہ جمہوریت کے راستے میں نہیں آنا چاہتے اور نہ ہی جمہوریت کی ریل گاڑی کو پٹری سے اترتا دیکھنا چاہتے ہیں ۔ لیکن اس بات کو حتمی نہیں سمجھنا چاہئے جوکہ ہمارے کچھ سیاستدان سمجھ بیٹھے ہیں۔ کیونکہ اداروں کے درمیان تصادم بھی ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور خلیج پیدا ہوتی بھی دکھائی دے رہی ہے۔  ایسی صورتحال میں ملک کی باگ ڈور تو کسی نہ کسی کو سنبھالنی ہوگی ۔  ہم بطور عوام اس بات کو کیوں محسوس نہیں کر رہے کہ ملک میں جن کی حکومت ہے وہ خود ہی سراپا احتجاج بن کر گھوم رہے ہیں۔  اور اعلی ترین اداروں کو تنقید و تضحیک کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ آفرین ہے ان لوگوں پر اپنے  اداروں پر اٹھنے والی انگلیوں کو برداشت کرتے ہیں۔

سمجھنا چاہئے  یہ لوگ ملک میں نہ تو جمہوریت کو پنپنے دینا چاہتے ہیں اور نہ ہی مارشل لاء کے حمائتی ہیں۔ یہ ملک میں اپنا اپنا خاندانی نظام قائم کرنے کی جستجو میں ہیں۔ انہیں ہماری مدد صرف اپنے نام کے ایک ووٹ کیلئے درکار ہے ۔ ہم جب تک اپنے اوپر لادے ہوئے لسانیت اور فرقہ پرستی کے خول سے باہر نہیں نکلیں گے، اپنی آنکھوں پر سے شخصیت پرستی کی عینک نہیں اتاریں گے، ہم صحیح فیصلہ کر ہی نہیں پائیں گے۔ اگر واقعی آپ کو پاکستان سے محبت ہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے خلوص میں کسی قسم کی ملاوٹ نہیں ہے تو پھر دل و دماغ کو پاکستان کی بقاء کیلئے اور اپنی فلاح کیلئے صحیح فیصلہ کرنا ہوگا۔  یہ فیصلے کا سال ہے اور ہماری نسلوں کی سلامتی کا سوال ہے۔ اب بھی اگر ان سیاسی کاروباریوں سے نجات حاصل نہ کی تو پھر یونہی لاقانونیت عام ہوگی۔  ہمارے گھروں میں یونہی صف ماتم بچھتی رہے گی اور ان پر ہماری مائیں، بہنیں اور بچے ہماری خون آلود لاشوں پر سینہ کوبی کرتی رہیں گے۔