یہ مرنا بھی کیا مرنا ہے
- تحریر
- جمعہ 09 / فروری / 2018
- 3618
غالب کے ہم طرفدار بھی ہیں اور قدر دان بھی۔ گزرتے وقت کے ساتھ غالب کی بڑھتی ہوئی پسندیدگی اس امر کی غماض ہے کہ غالب کی شعر گوئی اور خیال آرائی میں کوئی تو ایسی بات ہے کہ وقت کی گرد نے بھی اسے لوگوں کے حافظے سے دھندلایا نہیں۔ اکثر اشعار ایسے حسبِ حال کہ یوں لگتا ہے کہ آج ہی کہے گئے ہیں لیکن کبھی کبھی لگتا ہے کہ کچھ اشعار زمانے سے یگانگت سے دور ہو گئے ہیں۔ مثلاٌ ہمارا ایک پسندیدہ شعر کچھ یوں ہے:
ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا
نہ کہیں جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا
زمانہ بدل گیا ہے یا شاید ٹیکنالوجی نے ہر جا آنکھ رکھی ہوئی ہے کہ اب تو دریا میں غرق ہونے یا سمندر میں تھپیڑوں کی نذر ہونے کی بے بسی بھی یوں مشتہر ہوتی ہے کہ الامان الحفیظ۔ یوں تو انسانی سمگلنگ کم یا زیادہ ہر دور میں جاری رہی لیکن فی زمانہ غربت یا حالات کے ستائے زیادہ تر لوگوں کو یورپ اور امریکہ کی سرزمین میں اپنے دکھوں کا مداوا نظر آتا ہے۔ ان ممالک میں پہنچنے کے لئے کیا کیا جتن نہیں کئے جاتے۔ جان ہتھیلی پر رکھ کر ایسے ایسے راستے ڈھونڈے جاتے ہیں کہ سن کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ بہار عرب کے بعد مشرقِ وسطی میں شام، لیبیا، یمن، تیونس، عراق میں خون اور بارود نے ہولی کھیلی تو ہزاروں لاکھوں مہاجرین نے سمندر کی لہروں کا رسک لے کر یورپ کی سرزمین پر پہنچنے کی کوشش کی۔ یونان اور اٹلی فیورٹ ابتدائی منزلیں رہے جبکہ دیگر روٹس بھی دریافت کئے گئے۔ ان ممالک سے مہاجرین کی بڑی تعداد نے یورپ کا رخ کیا تو انسانی سمگلرز بھی سرگرم ہو گئے۔ ایشیا اور افریقہ کے کئی ممالک سے بھی لوگوں نے انہی راستوں کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔ یورپی یونین میں ایک بحران کھڑا ہو گیا۔ زیادہ تر ممالک مہاجرین کی آمد اور رضاکارانہ انہیں اپنے ہاں رکھنے پر آمادہ نہ تھے۔ عالمی دباؤ اور حالات کی سنگینی کے پیشِ نظر یورپ کے ممبر ممالک نے طریل بحث و تمحیص کے بعد ممبر ممالک کو ایک مخصوص کوٹہ اپنے ہاں مہاجرین کو بسانے کا دیا۔ اس پر بھی کچھ ممالک راضی نہیں۔
2013 سے لے کر 2015 تک مہاجرین کی غیر متوقع بڑی تعداد میں آمد نے یورپی ممالک کو الرٹ کر دیا۔ اسی دوران یہ بھی دیکھا گیا کہ انسانی سمگلرز نے مشرقِ وسطیٰ کے علاوہ دیگر ممالک سے بھی لوگوں کو ان قافلوں کے ساتھ یورپ پہچانا شروع کر دیا۔ ان ممالک میں افغانستان اور پاکستان کا نام بھی بار بار گونجا۔ یورپ کے ممالک نے ترکی اور دیگر ممالک سے معاہدے کرکے مہاجرین کی مزید آمد کو روکنے کی کوشش کی۔ اس دوران یورپی ممالک نے سمندری گشت سمیت ہر وہ طریقہ آزمایا جس سے مہاجرین کی آمد کی حوصلہ شکنی ہو اور انہیں راستے ہی میں روکا جا سکے یا واپس پھیرا جا سکے۔ اس کے باوجود آئے روز کوئی نہ کوئی واقعہ دیکھنے یا سننے کو ملتا ہے کہ کس طرح جان جوکھوں میں ڈال کر لوگ یورپ پہنچنے کا رسک لیتے ہیں۔ حادثات میں ہونے والی اموات دیکھیں تو اس سفر پر نکلنے والوں کی ہمت یا زندگی کو داؤ پر لگانے کے جذبے پر حیرت ہوتی ہے۔ گزشتہ ہفتے لیبیا کے ساحل سے اٹلی کے لئے روانہ ہونے والی ایک ایسی ہے کشتی میں نوے کے لگ بھگ مسافر سوار تھے۔ دوران سفر کشتی کو حادثہ پیش آیا اور بیشتر زندگی ہار گئے۔ ان میں 32 پاکستانی بھی تھے۔ اتنی بڑی تعداد میں پاکستانیوں کی ہلاکت کی خبر عالمی میڈیا میں بھی نمایاں ہوئی اور اپنے ہاں بھی۔ مرنے والوں میں ایک شیر خوار اپنے نو عمر بھائی اور ماں باپ سمیت بھی شامل تھا۔ مرنے والوں کا تعلق زیادہ ترگجرات، منڈی بہاء الدین، سرگودھا اور راولپنڈی سے تھا۔
ٹی وی پر بار بار دکھائے جانے والے مناظر دیکھنے کی ہم ایسوں کی تو ہمت نہ تھی لیکن ان مناطر کو دیکھ کر تنقید اور غیض و غضب کا شور اٹھا تو ادارے بھی متحرک ہوئے، یہاں چھاپے وہاں چھاپے۔ بتایا گیا کہ انسانی اسمگلرز کے گروہوں کے کئی کرتا دھرتا دھر لئے گئے۔ ان میں گجرات سے گرفتار محبوب شاہ اپنے بھائی اور بیٹے سمیت اس دھندے میں ملوث پایا گیا۔ کچھ اور بھی گرفتاریاں ہوئیں۔ موقع کی مناسبت سے کچھ بیانات بھی میڈیا کی زینت بنے کہ ایسے انسانیت سوز اسمگلرز کا قلع قمع کر دیا جائے گا۔ جس میڈیا کے دباؤ سے یہ ادارے متحرک ہو ئے، وہ اب دوسرے تازہ موضوعات پر متوجہ ہے۔ اگر ہمارے اداروں کی گزشتہ روش سامنے رکھیں تو اس معاملہ میں زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ گرفتار لوگوں کو شاید چند سال بعد کچھ سزا مل سکے اگر تفتیش اور تحقیقات میں کرپشن، بے حسی اور بد انتظامی کو غلبہ نہ ملا تو۔۔۔ ورنہ یہ کاروبار اسی طرح جاری رہے گا جس طرح ماضی میں رہا۔ لوگ اس خونیں مشن پر کیوں نکل کھڑے ہوتے ہیں؟ اس سوال کے کئی ممکنہ جواب ہیں۔ لیبیا کے حوالے سے ایک توجیہہ یہ ہے کہ لیبیا میں کئی پاکستانی سال ہا سال سے سیٹل تھے لیکن لیبیا کی خانہ جنگی نے سب تلپٹ کر دیا۔ لیبیا کی کرنسی دینار ٹکے ٹوکری ہوئی تو جمع جتھا کوڑیوں کا ہو گیا، ایسے میں یورپ کی سرزمین ہی جنت مکاں دکھائی دی۔ اس دوران انسانی اسمگلرز نے بھی اس روٹ سے فائدہ اٹھانے کی ٹھانی۔ گجرات وغیرہ سے پہلے دوبئی اور وہاں سے لیبیا لوگوں کو پہنچایا گیا اور پھر آگے سمندر کے حوالے کر دیا۔
زوارا لیبیا کی ایک معروف پورٹ ہے جہاں سے انسانی اسمگلرز اور مہاجرین گزشتہ چند سالوں میں اٹلی جانے کے لئے روانہ ہوتے رہے ہیں۔ اٹلی کے حکام کے مطابق یہ حیرت انگیز حقیقت قابل غور ہے کہ اس جگہ سے روانہ ہونے والے لوگوں کا زیادہ تر تعلق اری ٹیریا اور تیونس سے تھا۔ تیسری بڑی قومیت یہاں سے روانہ ہونے والوں کی پاکستانی تھی۔ حادثے کا شکار یہ کشتی بھی یہیں سے روانہ ہوئی۔ بارہ لاشیں تو ڈھونڈ نکالی گئیں لیکن باقی سمندر برد ہو گئیں۔ کھلے سمندر میں بے بسی کے ہاتھوں غرقاب کی منظر کشی باقی صدیقی نے کچھ یوں کی ہے:
کشتیاں ٹوٹ گئیں ہیں ساری
اب لئے پھرتا ہے دریا ہم کو
لوگ اس قدر دیوانے کیوں ہو جاتے ہیں؟ اس پر خطر سفر کے ممکنہ نتائج سے چشم پوشی کیوں کرتے ہیں؟ اس موضوع پر کئی رپورٹیں ماضی میں سامنے آئیں۔ ان رپورٹوں کے مطابق دو وجوہات نمایاں دیکھی گئیں۔ گجرات، منڈی بہا ؤ الدین اور ملحقہ علاقوں سے بھلے وقتوں میں ایک کثیر تعداد باہر جا کر لشٹم پشٹم سیٹ ہو گئی۔ ان کی بھیجی گئی دولت نے ان کے خاندانوں اور علاقوں کی کایا پلٹ دی۔ بیرون ملک سیٹل ہونے والوں نے ہمیشہ کوشش کرکے اپنے عزیزوں کو کسی نہ کسی طور اپنے ہاں بلا کر سیٹل کروانے کی کوششیں کیں۔ ان کی دیکھا دیکھی بہت سے نوجوان اپنے آنکھوں میں بیرون ملک کے خواب سجائے وہاں پہنچنے کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ دوسری بڑی تعداد ان لوگوں کی بھی ہے جن کی تعلیم اور ہنر کی مدد سے یہاں مناسب ملازمت نہیں ملتی یا دیکھا دیکھی ان کے والدین یا وہ خود بیرون ملک جانے کے سوا کسی دیگر آپشن پر تیا ر ہی نہیں۔ انسانی اسمگلرز کے لئے ان کا جنون بڑے کام کی چیز ہے۔ جعلی دستاویزات اور دو نمبرراستوں پر کوئی ہوش مند کیوں جائے گا لیکن یہاں معاملہ ہی کچھ اور ہے۔ جانے والے کو بھی پتہ ہے کہ سب کچھ جعلی ہے اور راستہ جان کے روگ سے اٹا پڑا ہے اور بھجنے والے کو بھی۔ اس سارے سفر کی قیمت بھی بھاری ہوتی ہے۔ پہلے ہی عسرت کے مارے ہونے کا باوجود قرض، زیورات بیچ کر یا ایسے ہی دیگر ذرائع سے لاکھوں روپے ان ایجنٹوں کو دیئے جاتے ہیں۔ اس دوران مزید فراڈ یہ بھی سننے میں آئے کہ جانے والوں کو راستے میں اغوا کر لیا گیا اور انہیں چھڑوانے کے لئے مزید تاوان وصول کیا گیا۔
ساغر صدیقی کا گلہ بجا تھا کہ جس عہد میں فقیروں کی کمائی لٹ جائے ، اس دور کے سلطان سے یقیناٌ کوئی بھول ہوئی ہے۔ وجوہات چاہے کچھ بھی ہوں اس المئے کی تہہ میں ہمارے نظام کی بوسیدگی اور بے عملی ہے جہاں بے روزگاری زندگی عذاب بنا دیتی ہے، خواب مرنے لگتے ہیں۔ ہنر کی بے توقیری بد دل کر دیتی ہے۔ کرپشن اور بد انتظامی سے لتھڑے ہوئے نظام میں ہوس کے پجاری انسانی مجبوریوں کو لالچ کے جال پھینک کر پھانس لیتے ہیں۔ ایسے میں کوئی کشتی کسی حادثے کا شکار ہو کر اپنے ساتھ انسانوں کو بھی ہڑپ کر لیتی ہے اور اس نظام کی بوسیدگی پر ایک اور مہر بھی ثبت کر دیتی ہے، جہاں یہ کیفیت ہے کہ:
وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہم
اپنی دیواروں سے ٹکراتے ہیں ہم