نواز کا بھٹو سے اور مریم کا بے نظیر سے موازنہ کتنا درست
- تحریر مزمل سہروردی
- ہفتہ 10 / فروری / 2018
- 4715
پتہ نہیں کیوں لیکن ہمارے سیاسی حلقوں میں میاں نواز شریف کا ذوالفقار علی بھٹو اور مریم نواز کا محترمہ بے نظیر بھٹو سے موازنہ شروع ہو گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ موازنہ ن لیگ کی جانب سے ہی شروع کیا گیا ہے۔ بار بار نواز شریف کی نااہلی کا بھٹو کی پھانسی سے موازنہ کیا جا رہا ہے۔ ایک خاص حکمت عملی کے تحت میاں نواز شریف کی مزاحمت کو بھٹو کی مزاحمت اور مریم نواز کی جدو جہد کو بے نظیر بھٹو کی جد و جہد سے ملایا جا رہا ہے۔ ایسا تاثر دیاجا رہا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ تاریخ کے تناظر اور موجودہ حالات کے تناظر میں یہ موازنہ درست نہیں ہے۔
جہاں تک ذوالفقار علی بھٹو کا تعلق ہے تو بے شک ان کا پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک کردار ہے۔ یہ کردار نوے کی دہائی تک متنازعہ تھا لیکن اب آہستہ آہستہ بھٹو پاکستان کی سیاست میں اتنے اہم نہیں رہے جتنے نوے کی دہائی میں تھے۔ شاید اب سیاست میں بھٹو فیکٹر ختم ہو گیا ہے۔ اس لئے بھٹو پاکستان کی سیاست میں اب ماضی کا ایک باب ہیں۔ ان کا موجودہ سیاست میں کوئی اثرنہیں ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ بھٹو کو پاکستان کی عدلیہ نے پھانسی دی۔ ان کی حکومت کا تختہ الٹ کر فوج نے مارشل لا لگایا۔ اور یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ مارشل لا تھا جس میں سیاسی کارکنوں کو کوڑے بھی مارے گئے اور انہیں پابند سلاسل بھی کیا گیا۔ ملٹری کورٹس سے سزائیں بھی سنائی گئیں۔ لیکن اس کے بعد پاکستان کی فوج اور عدلیہ نے سبق سیکھ لیا۔ اسی لئے پرویز مشرف کا مارشل لا ضیاء الحق کے مارشل لا سے مختلف تھا۔ نہ کسی کو پھانسی دی گئی۔ نہ کوڑے مارے گئے اور مارشل لا نے کامیابی سے اپنی مدت بھی پوری کی۔ میاں نواز شریف کو ایک محفوظ راستہ دیا گیا حالانکہ وہی محفوظ راستہ بھٹو کو نہیں دیا گیا تھا۔ دوسری طرف سیاستدانوں نے بھی بھٹو سے سبق سیکھا ہے۔ اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ کوئی بھی د وبارہ بھٹو بننے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اسی لئے بھٹو کے برعکس میاں نواز شریف نے سعودی عرب کے محفوظ راستہ کے آپشن کو استعمال کیا۔ کیونکہ انہیں علم تھا کہ بھٹو سے غلطی ہوئی تھی۔ صرف نواز شریف ہی نہیں بلکہ سب نے اپنی اپنی باری پر محفوظ راستوں کو انتخاب کیا۔ کسی نے بھی بھٹو کی طرح بند گلی میں پھنسنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ عدلیہ کو بھی احساس ہوا کہ پھانسیاں دینا ضروری نہیں ہے ۔
اس لئے حقیقت تو یہ بھی ہے کہ میاں نواز شریف نے کبھی بھی بھٹو بننے کی کوشش نہیں کی ہے۔ بلکہ انہوں نے بھٹو کے انجام سے سبق سیکھا ہے اور سیاسی طور پر ہمیشہ ایسی پالیسی رکھی ہے کہ معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن پرنہ پہنچیں۔ انہوں نے بھٹو کی طرح تمام دروازے بند نہیں کئے بلکہ دروزے کھلے رکھ کرسیاست کی ہے۔ اس وقت بھی نواز شریف کی حکومتیں فوج اور عدلیہ کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہیں۔ اگر نواز شریف بھٹو ہوتے تو اپنی نااہلی کے بعد تمام حکومتیں ختم کر دیتے اور سڑکوں پر آجاتے۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ شاہد خاقان عباسی ، شہباز شریف سب فوج اور اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مل کر چل رہے ہیں۔ صرف نواز شریف کے بیانات اور تقاریر پر تو انہیں بھٹو نہیں سمجھا جا سکتا۔ پالیسی کو بھی تو دیکھنا ہوگا۔ جب بھٹو اسٹبلشمنٹ سے لڑ رہے تھے تو پیپلزپارٹی بھی لڑ رہی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ بھٹو لڑ رہے تھے اور ان کی پارٹی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعاون کر رہی تھی۔ یہ حسین امتزاج صرف نواز شریف کو ہی میسر ہے۔ دوسری طرف بھٹو پر بہت سے الزامات لگائے جا سکتے ہیں۔ ان کا اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ رویہ غیر جمہوری تھا ۔ وہ جاگیر دار تھے۔ ان میں لچک نہیں تھی۔ وہ کسی کی سنتے نہیں تھے لیکن بھٹو کرپٹ نہیں تھے۔ بھٹو پر پاکستان کی اسٹبلشمنٹ کرپشن کا الزام نہیں لگا سکی۔ بھٹو کے پاکستان سے باہر اثاثے نہیں تھے۔ وہ آخر تک میڈ ان پاکستان تھے۔ لیکن دوسری طرف میاں نواز شریف پر الزامات کی نوعیت بھٹو سے یکسر مختلف ہے۔ ان کے لندن میں اپارٹمنٹ ہیں۔ ان کے پاس بے پناہ دولت ہے۔ جس کا تنازعہ ہے۔ اس لئے یہاں بھی صورتحال مختلف ہے۔
اسی طرح مریم نواز اور محترمہ بے نظیر بھٹو کا موازنہ بھی درست نہیں ہے۔ اگر دیکھا جائے تو محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے والد کے پھانسی کے بعد پیپلزپارٹی کو ایک بھنور سے نکالا۔ انہوں نے بند دروزے کھولے۔ وہ مرزا اسلم بیگ کے گھر گئیں۔ ضیاء الحق دور میں وہ علاج کے لئے باہر بھی چلی گئیں۔ اور پھر جب واپس آئیں تو تب بھی معاملات طے کرکے آئیں۔ ان کا شاندار استقبال اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت نے وہ استقبال کو روکا نہیں۔ بلکہ انہیں سیاسی جدو جہد کے لئے راستہ دیا گیا۔ اسی طرح جب بے نظیر بھٹو نے اقتدار سنبھالا تو وہ شراکت اقتدار تھا۔ شراکت اقتدار بھی ان کے ساتھ جن کے ہاتھ پر ان کے والد کا لہو تھا۔ انہوں نے مزاحمت کی بجائے اسٹبلشمنٹ سے تعاون کے راستے بنائے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ کتنی کامیاب رہیں اور کتنی ناکام رہیں۔
دوسری طرف مریم نواز کے حوالہ سے تو سیاسی تجزیہ نگاروں کی ابھی یہ رائے ہے کہ ان کے والد پر موجودہ مشکلات ان کی وجہ سے ہیں۔ انہوں نے اسٹبلشمنٹ کے ساتھ بنی بنائی بات خراب کر دی ہے۔ ان کی وجہ سے اسٹبلشمنٹ سے تعلقات خراب ہوئے ہیں۔ اس وقت بھی یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ن لیگ میں مریم نواز کی پالیسی کے حوالہ سے ایک اختلاف موجود ہے۔ بلکہ طلال اور دانیال کو بھی مریم کی ٹیم ہی کہا جا تا ہے۔ وہ مسلم لیگ (ن) نہیں ہیں۔ مریم نواز بے نظیر نہیں ہو سکتیں۔ کیونکہ بے نظیر بھٹو نے راستے بنانے کی سیاست کی ہے۔ جبکہ ابھی تک مریم نواز تو راستے بند کرنے کی سیاست کر رہی ہیں۔ دوسرا جب بے نظیر سیاست پر آئیں تو ان پر کوئی الزام نہیں تھا۔ جبکہ مریم نواز پر بیرون ملک جائیداد کے حوالہ سے الزامات ہیں۔ بعد میں بے نظیر پر بھی الزامات لگے لیکن آغاز میں کوئی الزام نہیں تھا۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ بے نظیر نے اپنے والد کی پھانسی کے بعد اسٹبلشمنٹ سے ٹوٹے تعلقات جوڑنے کی کوشش کی۔ جبکہ مریم نواز کے معاملے میں صورتحال یکسر مختلف ہے۔ بے نظیر جب سیاست میں آئیں تو ان پر کوئی کیس نہیں تھا۔ جبکہ مریم نواز سنگین کیسز میں گھری ہوئی ہیں۔ ایسا بھی لگ رہا ہے کہ اسٹبلشمنٹ سے مزاحمت میں جو کردار بھٹو کے دونوں بیٹوں شاہنواز اور مرتضیٰ نے ادا کیا تھا۔ وہ مریم نواز ادا کر رہی ہیں۔ اس لئے مریم نواز کا اسٹبلشمنٹ مخالف سیاست میں شاہنواز اور مرتضیٰ سے تو موازنہ بن رہا ہے۔ بے نظیر سے نہیں بن رہا۔
عوامی حمایت کے حوالہ سے بھی موازنہ کیا جا رہا ہے۔ یہ درست ہے کہ نواز شریف کی مجھے کیوں نکالا اور بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نکالے جانے کی بیانیہ کو عوامی حمائت ملی ہے۔ جیسے بھٹو کی پھانسی کے بعد اس پھانسی کے خلاف بیانیہ کو عوامی حمائت ملی تھی۔ جس طرح بھٹو کی پھانسی بھٹو کے ووٹ بنک نہیں ختم کر سکی تھی بلکہ بھٹو کی حمایت میں اضافہ ہوا تھا۔ اسی طرح نا اہلی کے بعد نواز شریف کے ووٹ بنک میں اگر اضافہ نہیں ہوا تو کمی بھی نہیں ہوئی ہے۔ لیکن صورتحال عام انتخاب میں کیا ہوگی یہ کہنا کافی قبل از وقت ہے۔ یہ دیکھا جا رہا ہے کہ اسٹبشلمنٹ نے بھی ماضی سے سبق سیکھا ہے اور پھانسیاں دینے کی بجائے سیاسی طور پر مائنس کرنے کی حکمت عملی بنائی ہے۔ نواز شریف کو سیاسی طور پر مائنس کیا جا رہا ہے۔ پہلے ان کو نا اہل کیا گیا ہے۔ ابھی سکرپٹ باقی ہے۔ ریفرنسز کے فیصلے ابھی آنے ہیں۔ پھر پارٹی صدارت کے کیس کا بھی فیصلہ آنا ہے۔ نا اہلی مدت کے تعین کا بھی فیصلہ آنا ہے۔ ابھی گیم نے پلٹی کھانی ہے۔
جو منظر فی الوقت نظر آرہا ہے۔ وہ بدل بھی سکتا ہے۔ جیتی ہوئی بازی ہاری بھی جا سکتی ہے اور ہاری ہوئی بازی جیتی بھی جا سکتی ہے۔ مریم نواز کا یہ دعویٰ قبل از وقت ہے کہ ان کے مزاحمتی نظریہ کی جیت ہو گئی ہے اور ان کی جماعت میں جو لوگ مفاہمت کی بات کر رہے تھے وہ ہار گئے ہیں۔ شاید ایسا نہیں ہے۔ گیم بدل جائے گی۔ کیونکہ ابھی گیم فائنل راؤنڈ میں ہے۔ اور دوسرے فریق کے پاس بھی کافی پتے موجود ہیں۔ جن سے گیم بدلی جا سکتی ہے۔