ملکی قانون کے خلاف سیاسی پارٹیوں کا چلن

پاکستان میں عدالت کے ایک فیصلے کے خلاف مظاہرے میں دیگر تنظیموں کے علاوہ کئی ایک سیاسی تنظیم بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے۔ اس سیاسی پارٹی پر اکثر قیام پاکستان کی مخالفت کے الزامات کافی ٹھوس دلائل کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں۔ اس کا ملک کی عدالت  کے فیصلے کے خلاف نہ صرف آواز اٹھانا بلکہ عوام کو بھی اس بات پر اکسانا کہ وہ عدالتی فیصلے پر سر عام شک و شبہ ظاہر کریں، نہ جانے  اس سیاسی پار ٹی کے کون سے عزائم کی پیش بینی کرتا نظر آتا ہے۔  کیا وہ جس طرح قیام پاکستان  کی مخالفت کرتی رہی تھی، آج پاکستان میں مروجہ قوانین کو ماننے کی منکر ہے۔ اور ایسے مشکل وقت میں ملکی استحکام اور قانون کی بالادستی کا ساتھ دینے کی بجائے ملک کی شکست وریخت کا حصہ بننا چاہتی ہے۔

جماعت اسلامی کے اس طرز عمل سے یہ سوال حق بجانب ہے کہ اگر کل کو عوام اس سیاسی پارٹی کا چناؤ کرکے اسے عنان حکومت کا امین بنا دیں تو یہ پارٹی کس قانون کے تحت حلف اٹھائے گی۔ کن قوانین کی پاسداری میں حکومتی ذمہ داری نبھائے گی۔  یوں تو عدالت کے فیصلے سے اس وقت نون لیگ بھی متفق نہیں۔ نون لیگ سے لاکھ اختلاف کے باوجود عدالت کے سیاسی اور متنازعہ فیصلے سے اختلاف کو کسی قتل کے جرم کے فیصلے سے بہر حال نہیں ملایا جا سکتا۔ دوئم یہ کہ اگر ملزمان اور ان کے وکلاء کو یہ فیصلے منظور نہ ہوں تو اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنا اور بات ہے۔ مگر ملزم کی حمایت اس طرح کرنا کہ قتل کے عمل کو جائز قرار دینا مطلوب ہو اور مقتول پر ایک متنازعہ زبانی طور پر سرزد ہونے والے جرم کا الزام ڈالنا، کسی تشدد پسند افراد یا گرہوں کا عمل ہی ہو سکتا ہے۔

ایک سیاسی پاڑی کا ایسا طرز عمل اس بات کو ثابت کر تا ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں بھی لا قانونیت کو اور وہ بھی قتل جیسے سنگین جرم کے ضمن میں فروغ دینے کے درپے ہیں۔ ایک بار پھر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ایسی سیاسی پارٹیاں ملک میں کن اصولوں کے تحت امن وامان قائم کر نے کی سعی کریں گی۔ یا پھر ان کے دور حکومت میں طالبانی قوانین نافذ ہوں گے۔  قانونی بالادستی کے اس مشکل وقت میں جبکہ عدلیہ کا سیاست میں مداخلت ایک گمبھیر مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ملک میں لاقانونیت بڑھتی جارہی ہے۔ ایسے میں پاکستانی مقننہ کے فیصلے اور ملک میں رائج قوانین کی روشنی میں ملک عالمی برادری میں تنہا ہوتا جارہا ہے۔  ایک ایسے ملک میں جہاں رائج قوانین کے بارے اتنا کنفیوژن ہو۔ جہاں ہر کوئی اپنے طور پر رائج قانون کی تشریح کرے۔ اور پھر اس پر عمل درآمد بھی اس حد تک مشکوک ہو تو ملک ساری دنیا کے سامنے تماشہ ہی بنے گا۔

عدالتیں، خصوصی عدالتیں، مذہبی عدالتیں، الکیشن کمیشن کی سفارشیں اور مختلف کمیٹیوں کی سفارشیں اور ان کی روشنی میں قوانین کا اجراء، ترمیم ، تنسیخ اور توثیق سب کچھ ایک گورکھ  دھندا کی مانند  نظر آتا ہے۔ پاکستان عالمی برادری سے اپنے آپ کو الگ رکھ کر کبھی بھی ترقی کی دوڑ شامل نہیں ہو سکتا۔ داخلی رسہ کشی، اٹھا پٹخ اور انارکی کا اصل سبب قانون کی عمل داری سے انکار کرنا ہے۔  اس کی وجہ سے عدم استحکام کی صورتحال پیدا ہوتی  ہے جس کا اثر بیرونی دنیا سے تعلقات پر پڑتا ہے۔  دنیا کا کو ئی ملک تنہا ترقی تو کیا اپنی بقا بھی قائم نہیں رہ سکتا۔ اور پاکستان اس سے مبرا نہیں۔

پاکستان کے رائج قواننین پر نگاہ ڈالنے سے دوبڑے سقم بالکل واضح اور روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ ایسے قوانین کی موجودگی اور ان پر عمل درآمد کرنے کے طریقہ کار  اور ان قوانین کو جلسے جلوسوں، دھرنوں اور عوامی دباؤ کے تحت نافذ العمل کر نے کی جو روایت پاکستان میں پڑتی جارہی ہے وہ ملک  میں قانون کی بالادستی کو ایک سنگین بحران کی طرف لے جارہی ہے۔ ایسے میں ایک جج صاحب کا یہ بیان بھی سننے میں آیا ہے کہ عدالتیں انصاف نہیں کرتیں بلکہ وہ طاقت کا توازن دیکھ کر فیصلہ کرتی ہیں۔  یہ تو جنگل کا قانون ہوا۔