طلبہ تنظیموں کی بحالی کا مسئلہ
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 11 / فروری / 2018
- 7699
اگر کسی بھی معاشرے میں جمہوری عمل کو مضبوط بنانا ہے تو یہ مقصد سیاسی تنہائی میں حاصل نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اس کو معاشرے کے مجموعی مزاج اور فکر کی بنیاد پر آگے بڑھانا ہوگا۔ یہاں المیہ یہ ہے کہ جمہوریت سے وابستہ افراد جمہوریت اور قانون کی حکمرانی پر بات تو بہت کرتے ہیں مگر عملی طور پر ان کا طرز عمل جمہوریت کے برعکس ہوتا ہے ۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ مجموعی طور پر معاشرے میں رائے عامہ بنانے والے مختلف فریقین باہمی تضادات اور فکری مغالطے کے باعث جمہوری عمل کی بحث و مباحثہ کو مضبوط بنانے کی بجائے کمزور کرنے کا سبب بن رہے ہیں ۔
جمہوری عمل کو موثر اور شفاف بنانے کے عمل میں ایک مسئلہ طلبہ تنظیموں کی بحالی کا ہے ۔ سب جماعتیں بنیادی طور پر طلبہ تنظیموں کے حامی ہیں اور اپنے موقف میں طلبہ تنظیموں کی بحالی کی حمایت کرتی ہیں ۔ لیکن عملی طور پر سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کے مزاحمتی پہلو یا جدوجہد یا دباؤ کی سیاست کو دیکھیں تو طلبہ تنظیموں کی بحالی میں ان کا مجموعی کردار بہت ہی زیادہ کمزور یا سمجھوتے کی سیاست سے جڑا ہوا ہے ۔ حالانکہ اگر ہم پاکستان کی سیاسی اور جمہوری تاریخ کا مطالعہ کریں تو اس میں دو فریقین کا سب سے زیادہ موثر اور جاندار کردار ہے ۔ اول طلبہ تنظیموں کا کردار اور دوئم مزدور تنظیمیں جنہوں نے نہ صرف طلبہ اور مزدوروں کے حقوق پر توجہ دی بلکہ ملک کے اندر موجود جمہوری عمل اور جمہوری تحریک کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ہے ۔ سیاست میں جیسے مقامی حکومتوں کے نظام کو جمہوری عمل یا جمہوریت میں بنیادی نرسریوں کے طور پر جانا جاتا ہے تو اسی طرح طلبہ تنظیموں میں طلبہ کی موثر شمولیت بھی ان کے لیے جمہوری عمل میں شمولیت کے تناظر میں نرسریوں کی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان میں کمزور سا جمہوری اور سیاسی نظام دکھائی دیتا ہے، اس کو قائم کرنے یا اسے برقرار رکھنے میں طلبہ سیاست کا اہم کردار ہے جیسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن بدقسمتی سے 9 فروری1984کو اس وقت کے فوجی آمر جنرل ضیا الحق نے طلبہ تنظیموں پر پابندی عائد کرکے 1973کے دستور کی خلاف ورزی کرتے ہوئے طلبہ کو بنیادی جمہوری حق سے محروم کیا۔ آج طلبہ پر پابندی کو 36 برس گزرگئے لیکن کسی بھی جمہوری حکومت کے لئے طلبہ تنظیموں کی بحالی ان کی بنیادی ترجیحات کا حصہ نہ بن سکی ۔ سب جماعتوں نے خالی وعدے کیے لیکن عمل ان کا طلبہ تنظیموں کی بحالی کے خلاف تھا اور آج بھی وہ بڑی ڈھٹائی سے اس بحالی میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
طلبہ تنظیموں کی بحالی میں فوجی آمروں کو پس پشت ڈالیں لیکن اصل مجرم پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں ہیں جو جمہوری حکومتوں کے باوجود طلبہ کو جمہوری حق دینے کے لیے تیار نہیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت میں ان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے طلبہ تنظیموں کی بحالی کا اعلان تو کیا لیکن وہ عمل درآمد میں ناکام رہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج کے سیاسی نظام ، جمہوری حکومتوں اور پارلیمنٹ میں ایسے کئی ارکان جن کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے ہے، بیٹھے ہیں جو خود عملی طور پر طلبہ سیاست کی مدد سے ہی سیاسی میدان میں اپنی پرجوش اور فعال صلاحیتوں کی وجہ سے شہرت حاصل کرسکے تھے ۔ لیکن عملا ان کا کردار بھی کافی مایوس کن ہے ۔ طلبہ تنظیموں پر پابندی کی چار اہم دلیلیں دی جاتی ہیں ۔ اول طلبہ سیاست سے بالاتر ہوکر اپنی توجہ محض تعلیم اور پروفیشن پر دیں اور سیاست کرنے سے گریز کریں ۔ دوئم طلبہ سیاست کے نتیجے میں تعلیمی اداروں میں تشدد اور انتہا پسندی کو غلبہ ہوا جو قابل قبول نہیں ۔ سوئم طلبہ کے سیاست میں حصہ لینے سے ان کی تعلیم کا عمل ہی محض متاثر نہیں ہوا بلکہ مجموعی طور پر تعلیم کے معیار میں کمی ہوئی ۔ چہارم طلبہ سیاست سیاسی جماعتوں کی آلہ کار بن کر تعلیم اور انتظامی امور میں مداخلت کرتی اور دھمکیوں کی بنیاد پر انتظامیہ پر دباؤ ڈالا جاتاہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ طلبہ سیاست کو طالب علموں اور تعلیمی اداروں کے لیے ایک بڑے خطرے کے طور پر پیش کیا گیا ۔
اگر ان چار نکات کو بنیاد بنا کر تجزیہ کیا جائے تو پھر تو اس پابندی کا نتیجہ تعلیمی نظام کی بہتری اور نوجوانوں کی ترقی کے طو رپر سامنے آنا چاہیے تھا۔ لیکن آج ہماری تعلیم کا جو حال ہے یا اس میں جو بربادی ہوئی ہے اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے ۔ معاشرے کے پڑھے لکھے نوجوانوں میں انتہا پسندی ، عدم برداشت، دہشت گردی ، لاقانونیت، غصہ ، نفرت اور لاتعلقی کا جو مظاہرہ دیکھنے کو مل رہا ہے اس کی ذمہ دار تو ریاست، حکومت اور تعلیمی اداروں کی انتظامیہ ہے ۔ کیا وجہ ہے کہ تعلیمی اداروں کی ساکھ طلبہ تنظیموں پر پابندی کے باوجود بہتر نہیں ہو سکی۔ مسئلہ یہ نہیں کہ طلبہ سیاست میں جو خرابیاں پیدا ہوئیں، اس کو جواز بنا کر اس کا خاتمہ کیا جائے ۔ کیونکہ مسئلہ کا حل تلاش کیا جانا چاہیے تھا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں طلبہ تنظیموں نے بھی مسائل پیدا کیے لیکن کیا مسائل کی بنیاد پر پابندی مسئلہ کا حل تھی ۔ اس منطق کو مان لیا جائے تو پھر خرابیاں تو ہر جگہ پر پیدا ہوئیں ان پر بھی پابندی لگنی چاہیے ۔ دلچسپ بات یہ ہے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی تنظیمیں فعال طور پر موجود ہیں اور ان کے باقاعدگی سے انتخابات ہوتے ہیں ۔ لیکن طلبہ کو اس حق سے محروم رکھا گیا ہے ۔ مسئلہ محض طلبہ کا سیاست میں حصہ لینے کا نہیں بلکہ تعلیمی اداروں میں جو مسائل تعلیم کے تناظر میں طلبہ کو درپیش ہوتے ہیں اس کے حل میں طلبہ کے منتخب نمائندے اور تعلیمی اداروں کی انتظامیہ ان امو رپر توجہ دے کر طلبہ کے داخلی مسائل کو حل کرنے میں مدد فراہم کرتی تھی ۔ اسی طرح طلبہ کو تعلیم کے ساتھ ساتھ جو سیاسی ، سماجی شعور سے آگاہی ہوتی تھی وہ اس کو معاشرے کی تشکیل میں اختیار کرتا تھا ۔ لیکن طلبہ تنظیموں کے انتخابات نہ ہونے اور پابندی کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں ایسے گروہی ، علاقائی ، لسانی اور فرقہ وارنہ سمیت مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث گروہ بن گئے جو تعلیمی ماحول کو خراب کرنے کے بھی ذمہ دار بنے ہیں ۔
آج ہمیں ملک کے سیاسی نظام میں سیاسی جماعتوں کی حیثیت کمزور نظر آتی ہے اور نئے لوگ سیاسی جماعتوں سے لاتعلق نظر آتے ہیں، اس کی ایک وجہ طلبہ تنظیموں پر پابندی بھی ہے ۔ ہم غیر سیاسی ذہن بنا کر معاشرے کو چلانا چاہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ کسی بھی طور پر جمہوری سیاست کے حق میں نہیں ہوگا۔ خود طلبہ تنظیموں کو بھی سمجھنا ہوگا کہ اول وہ اپنی ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کریں اور ہر طرح کی انتہا پسندی اور پرتشدد عمل سے گریز کریں اور ثابت کریں کہ وہ طلبہ کے طرز عمل کو جمہوری فریم ورک میں رکھ کر ہی اپنے کام کو آگے بڑھائیں گے ۔ اسی طرح سیاسی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ ضرور اپنی تنظیموں کی حمایت کریں لیکن ان کو داخلی سطح پر خود مختاری دی جائے اور بلاوجہ طلبہ تنظیموں پر اپنا ایجنڈا مسلط نہ کیا جائے ۔ کیونکہ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ماضی میں سیاسی جماعتوں کی بے جا طور پر مداخلت کے عمل نے بھی کچھ مسائل پیدا کیے ۔ مگر ریاست اور حکومت ڈ رتی ہے کہ اگر انہوں نے طلبہ تنظیموں کو بحال کیا تو یہ لوگ تعلیم کے ساتھ ساتھ ریاستی و حکومتی امور میں ہونے والی غلطیوں کی نہ صرف نشاندہی کریں گے بلکہ مزاحمت کے عمل کو بھی بیدار کریں گے ۔ ریاست اور حکومت چاہتی ہے کہ نئی نسل اور نوجوان پڑھا لکھا طبقہ حکومت کے معاملات کی نگرانی اور آواز اٹھانے کی بجائے اپنی توجہ تعلیم پر دیں تاکہ بغیر دباؤ کے اپنا کام کریں۔
اگر واقعی طلبہ اپنی تنظیموں کی بحالی چاہتے ہیں تو ان کو تین امور پر توجہ دینی ہوگی ۔ اول ماضی کی غلطیوں کا ادراک کرکے ایک نیا دائرہ کار خود سے تشکیل دیں جو سب فریقین کے لیے قابل قبول ہو۔ دوئم ریاست، حکومت اور سیاسی جماعتوں پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنے غیر جمہوری رویوں سے گریزکریں جو طلبہ کے حق میں نہیں ۔ سوئم معاشرے کا وہ طبقہ جو رائے عامہ تشکیل کرتا ہے اس سے مکالمہ کا آغاز کریں اور ان کو باور کروائیں کہ طلبہ تنظیموں پر پابندی کے کیا منفی اثرات نمودار ہوئے ہیں۔ اور جو دیگر طبقات کے طلبہ تنظیموں پر تحفظات ہیں ان کو سمجھ کر اپنے لیے نیا دائرہ کار وضع کریں ۔اسی طرح خود ریاست اور حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ طلبہ تنظیموں پر پابندی مسئلہ کا حل نہیں۔ یہ طلبہ کا سیاسی ، جمہوری ، قانونی اور آئینی حق ہے۔ اس سے انحراف کرکے ہم جمہوریت دشمنی کے مرتکب ہورہے ہیں۔