چودھری نثار علی خان اور سیاسی یتیم

سیاست میں اکثر یہ بات اہم نہیں ہوتی کہ آپ بات ٹھیک کر رہے ہیں۔ زیادہ اہم بات یہ ہوتی ہے کہ آپ کب کیا بات کر رہے ہیں۔ درست بات غلط وقت پر بھی غلط ہی سمجھی جاتی ہے اور کئی دفعہ صحیح وقت پر غلط بات بھی صحیح ہو ہی جاتی ہے۔ اس لئے سیاست میں بات سے زیادہ ٹائمنگ کی اہمیت ہوتی ہے۔ ٹائمنگ غلط ہونے پر سمجھدار سیاستدان بھی بیوقوف اور جاہل لگتا ہے۔ اور ٹائمنگ ٹھیک ہونے پر جاہل بھی سمجھدار لگنے لگتا ہے۔

چوہدری نثار علی خان بھی اس وقت اسی قسم کی صورتحال کا شکار ہیں۔ وہ شاید بات ٹھیک کر رہے ہیں لیکن ان کی ٹائمنگ ٹھیک نہیں ہے۔ اول تو اپنی بات کرنے کا موقع ضائع کر چکے ہیں۔ وہ لیٹ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ٹرین مس کر دی ہے۔ اگر کوئی موقع تھا تو نواز شریف کی نا اہلی کے اگلے دن تھا۔ آج وہ موقع ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ بار بار کی ناراضگی چپ ہو کر گھر بیٹھ جانا پھر بولنا پھر چپ کرجانا۔ مان جانا۔ پہلے خلاف انٹرویو دینا پھر نواز شریف کی آمد پر پنجاب ہاؤس پہنچ جانا۔ پریس کانفرنس میں ضد کر کے ساتھ بیٹھنا۔ پھر غائب ہوجانا۔ نہ کسی کا فون سننا۔ نہ کسی کو جواب دینا۔ موڈ میں رہنا۔ ایسے رویہ کے ساتھ کوئی بھی سیاسی لڑائی نہیں لڑی جا سکتی۔ اس طرح تو صرف عشق معشوقی ہو سکتی ہے۔ یہ نخرہ تو صرف ایک عاشق ہی معشوق کا برداشت کرتا ہے۔ لیکن چوہدری نثار علی خان یہ بھول رہے ہیں کہ یہ سیاست کا کھیل ہے عشق معشوقی نہیں ہے۔ جب دل چاہا کرلی۔

کسی کو سمجھ نہیں آرہی وہ کیوں نارض ہیں۔ کیا وہ اس لئے نارض ہیں کہ ان کے مشورے نہیں مانے جا رہے۔ ان سے مشاورت نہیں کی جا رہی۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ یہ کیسی زبردستی ہے کہ میرا مشورہ ضرور مانا جائے۔ میرا مشورہ نہیں مانا گیا۔ مجھ سے مشورہ نہیں کیا گیا اس لئے میں ناراض ہوں۔ کل جب صرف چوہدری نثار علی خان کے مشورے مانے جا رہے تھے۔ جب صرف چوہدری نثار علی خان سے مشاورت کی جا رہی تھی تو کیا باقی ناراض ہو گئے تھے۔ کل جب چوہدری نثار علی خان نواز شریف کی آنکھ کا تارہ تھے تو کیا باقی سب نے اس طرح خلاف پریس کانفرنس شروع کر دی تھیں۔ کون بیچارے چوہدری نثار علی خان کو سمجھائے کہ سدا بادشاہی رب دی۔ اللہ نے آپ کو بہت عزت دی۔ بہت عرصہ نون لیگ میں آپ کے نام کا سکہ چلتا رہا ہے۔ اگر اب نہیں چل رہا تو صبر کریں۔ برداشت کریں۔ جیسے سب کر رہے ہیں۔ یہ کیا زبردستی کہ اگر میرا مشورہ نہیں مانا جائے گا تو میں ناراض ہو جاؤں گا۔  چوہدری نثار علی خان کی جانب سے سنیارٹی کا رونا بھی کوئی جائز نہیں ہے۔ ن لیگ میں آج تک کونسا کام سینیا رٹی پر ہوا ہے۔ جب پہلے سنیارٹی کو نظر انداذ کیا گیا تو چوہدری نثار علی خان خوش تھے۔ کیونکہ تب اس میں ان کی مرضی شامل تھی۔ اب جب وہ خود پھنس گئے ہیں تو رونے لگ گئے ہیں۔ جب جاوید ہاشمی کے ساتھ زیادتی ہوئی تو چوہدری نثار علی خان خوش تھے۔
چوہدری نثار علی خان کی جانب سے یہ رونا بھی جائز نہیں کہ ن لیگ میں فیصلے کرنے کے لئے کوئی فورم نہیں۔ سنٹرل ایگز یکٹو کا اجلاس نہیں بلایا جاتا۔ جب نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان مل کر بند کمروں میں بڑے بڑے فیصلے کرتے تھے۔ تب تو کبھی چہدری نثار علی خان نے یہ مطالبہ نہیں کیا تھا کہ میرے ساتھ بند کمروں میں یہ اہم فیصلے نہ کریں۔ پہلے پارٹی سنٹرل ایگزیکٹو بلائیں ۔ وہاں مشاورت کریں۔ پھر فیصلہ کریں۔ آج اپنے برے وقت میں انہیں پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو یاد آگئی ہے۔ کیا یہ جائز ہے۔ مزہ تو تب تھا جب وہ اپنے اچھے وقت میں ان سب اصولوں کے لئے آواز اٹھاتے۔ آج جب اپنی موت آئی ہے تو اصول یاد آگئے ہیں۔ سنٹرل ایگزیکٹو یاد آگئی ہے۔ پارٹی یاد آگئی ہے۔ نواز شریف جس انداذ سے پارٹی چلاتے ہیں اس میں چوہدری نثار علی خان کل تک شامل تھے۔ اس انداذ کے ساتھ تھے۔ اس میں شامل تھے۔ آج گلہ کیسا۔

جہاں تک چوہدری نثار علی خان کی یہ بات ہے کہ وہ سیاسی یتیم نہیں ہیں۔ تو یہ بھی غلط ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ سیاسی یتیم ہیں۔ ان کے ساتھ اس وقت ن لیگ میں جو سلوک ہو رہا ہے۔ وہ تو کسی سیاسی یتیم کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ یتیم کی بھی کوئی عزت ہوتی ہے۔ وہ اس وقت نہایت ڈھٹائی سے ن لیگ میں بیٹھے ہیں۔ وہ سمجھیں یا نہ سمجھیں انہیں نکال دیا گیا ہے۔ وہ اب ایسے ہی بیٹھے ہیں جیسے کسی کو گھر سے نکال دیا جائے اور وہ دروازے پر بیٹھ جائے کہ میں نہیں نکلتا۔ میں تو بیٹھا ہوں۔ ان کو اس وقت ن لیگ سے نکال دیا گیا ہے۔ صرف اعلان باقی ہے۔ اور اعلان بھی مناسب وقت پر کر دیا جائے گا۔ ن لیگ میں ایسے ہی کیا جاتا ہے۔ خود چوہدری نثار علی خان ایسے کئی سیاسی قتل میں شریک رہے ہیں۔ تازہ مثال سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کی تھی۔ انہیں بھی باقاعدہ نہیں نکالا گیا۔ وہ آخر تک ن لیگ کی ٹکٹ پر سنیٹر رہے تھے۔ لیکن ن لیگ سے نکل بھی چکے تھے۔ ایسے ہی چودھری نثار علی خان ن لیگ کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی ہیں لیکن ن لیگ سے نکل بھی چکے ہیں۔

وہ سیاسی یتیم اس لئے بھی ہیں۔ ان کے پاس اب کوئی سیاسی گھر نہیں ہے۔ وہ تحریک انصاف میں جا سکتے تھے لیکن اپنی سیاسی ہٹ دھرمی اور بیوقوفی کی وجہ سے انہوں نے یہ موقع بھی کھو دیا ہے۔ ایک وقت تھا کہ ان کے لئے تحریک انصاف کے راستے کھلے تھے۔ وہ جاتے تو انہیں شاید مرضی کی جگہ مل جاتی لیکن اب انہوں نے اتنی دیر کر دی ہے کہ وہ موقع بھی ان کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ وہ پیپلزپارٹی میں بھی نہیں جا سکتے۔ کیونکہ پیپلزپارٹی کے ساتھ ان کی محاز آرائی بہت زیادہ ہے۔ ایسے میں وہ کیا کر سکتے ہیں۔ دیکھا جائے تو وہ اب اپنی ایک پارٹی بنا سکتے ہیں۔ جو پاکستان کی اور بہت سی سیاسی جماعتوں کی طرح ایک one man پارٹی ہوگی۔ بس وہ اکیلے ہی اس میں ہو ں گے۔ جیسے شیخ رشید اکیلے ہیں۔ افتخار چوہدری اکیلے ہیں۔ اور کئی مثالیں ہیں۔ ایسے ہی چوہدری نثار علی خان کی بھی اپنی ایک پارٹی ہوگی۔ جس میں وہ اکیلے ہو ں گے۔ وہ اور ان کی سیاست۔ اور یہی ان کا سیاسی انجام ہوگا۔ بدتمیزی اور روکھا پن ان کی شخصیت کی پہچان ہے۔  نواز شریف کی قربت کی وجہ سے یہ سب برداشت کرتے تھے۔ وہ نواز شریف کے کندھوں پر بیٹھ کر سب سے اوپر تھے۔ اور آج جب نیچے سے کندھے نکل گئے ہیں تو وہ سب سے نیچے آگئے ہیں۔ بس یہی ان کا حقیقی سیاسی قد ہے۔ نہ وہ کل کسی کو قبول تھے۔ نہ آج قبول ہیں۔

ان کا یہ دعویٰ کہ وہ متحرک ہونے لگے ہیں، بھی مضحکہ خیز ہی ہے۔ وہ ن لیگ میں تنہا ہیں۔ ان کا کوئی گروپ نہیں ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اپنے مزاج اور موڈ کی وجہ سے انہیں ن لیگ کے اعلیٰ حلقوں میں کوئی خاص پسند نہیں کیا جاتا۔ عام طور پر ن لیگ میں یہی مشہور رہا ہے کہ چوہدری نثار علی خان کا تو نواز شریف سے زیادہ مزاج ہے۔ شاید نواز شریف سے ملنا آسان ہے چوہدری نثار علی خان سے ملنا مشکل ہے۔ وہ کوئی موبائیل بھی استعمال نہیں کرتے۔ اس لئے ان سے رابطہ مشکل ہی رہتا ہے۔ ن لیگ میں یہی مشہور ہے کہ کوئی پاگل ہی چوہدری نثار علی خان کے ساتھ جائے گا۔ چوہدری نثار علی خان کے ساتھ اراکین اسمبلی میں سے کوئی مشکل ہی آئے گا۔ اس لئے ان کا کوئی گروپ نہیں ہے۔ وہ تنہا تھے وہ تنہا ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ افسری کی ہے۔ کبھی کسی سے دوستی نہیں کی۔

اب کارکنوں میں دیکھا جائے تو چودھری نثار علی خان ن لیگ کے کارکنوں میں کوئی مقبول نہیں ہیں۔ ان کے حلقہ کی بات ایک طرف اپنے حلقہ سے باہر وہ اراکین ا سمبلی کو ملنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ کارکنوں سے ملنا تو دور کی بات۔ ان کا ن لیگ کی کسی بھی تنظیم سے کبھی کوئی رابطہ نہیں رہا۔ انہوں نے کبھی کسی کارکن کا کوئی کام نہیں کیا۔ انہوں نے کبھی کسی تنظیم کے کسی فنکشن میں شرکت نہیں کی۔ انہوں نے کارکنوں کے حقوق کی کبھی کوئی بات نہیں کیا۔ اس لئے ان کا کارکنوں میں متحرک ہونے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔