پولیس کا نظام اور غیر معمولی اقدامات

پاکستان میں پولیس کا نظام کے بگاڑ کی وجہ ان کے داخلی اور خارجی دونوں سطحوں کے معاملات ہیں ۔ یہ خرابیاں یا بربادی کا عمل چند برسوں کی کہانی نہیں بلکہ اس میں ماضی اور حال کی پالیسیوں، اقدامات اور ترجیحات پر مبنی بگاڑ کا کھیل شامل ہے ۔ خرابیوں کی وجہ خود پولیس کا اپنا غیر شفافیت پر مبنی نظام بھی ہے۔ لیکن یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پولیس کے نظام میں بگاڑ کا اہم فریق  حکمران طبقات ہیں۔ مسئلہ کسی ایک خاص جماعت یا حکومت کا نہیں بلکہ مجموعی طور پر دیکھیں تو یہ آپ کو پورے سیاسی ، انتظامی نظام اور بری حکمرانی کے کھیل سے جڑ ا نظر آتا ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پولیس کے نظام میں بے پناہ اصلاحات کے باوجود یہ عوامی اور ادارہ جاتی سطح پر اپنی ساکھ نہیں بناسکا۔

پولیس اور عوام کے درمیان بداعتمادی  ایک اہم مسئلہ ہے ۔ کیونکہ جب بھی کسی دو فریقین میں اعتماد کی کمی ہو تو ادارے اپنی حیثیت اور ساکھ کو بہتر طور پر پیش نہیں کرسکتے ۔ ایسا نہیں کہ پورے پولیس کے نظام میں اچھے لوگ یا ایسے افراد نہیں جو قانون کی حکمرانی اور شفافیت پر مبنی پولیس نظام کے حامی نہیں ۔ اصل مسئلہ پولیس کو غیر سیاسی بنیادوں پر استعمال کے عمل کو روکنا ہے ۔ سیاسی مداخلتوں نے عملی طور پر ہمارے مجموعی اداروں کوبگاڑ دیا ہے ۔ ایسا نظام جو خود حکمران طبقہ کے بگاڑ کی وجہ سے لوگوں کی توقعات پر پورا نہیں اتررہا اس میں وقفے وقفے سے ہونی والی مثبت پالیسیاں بھی نتائج دینے کے عمل سے قاصر ہیں ۔ حکمران طبقات خود یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہم نے سب سے زیادہ مالی سرمایہ کاری پولیس کے نظام کو جدید اور شفاف بنانے سمیت عوام دوست پولیس پر کی ہے۔ مگر کامیابی پر مبنی نتائج نہیں مل سکے ۔ حکمران طبقہ ناکامی کی ذمہ داری پولیس نظام ا ور اس میں موجود پولیس کی قیادت پر ڈالتے ہیں۔ لیکن یہ مکمل سچ نہیں ۔ مکمل سچ یہ بھی ہے کہ خود حکمران طبقہ بھی پولیس کے نظام کی بربادی میں برابر یا زیادہ ذمہ دار ہے ۔ کیونکہ پولیس کے نظام میں جس ننگے پن کے ساتھ حکمران طبقات نے اپنے ذاتی ، جماعتی اور خاندانی مفادات کو طاقت فراہم کرنے اور مخالفین کے خلاف اس پولیس کو ہتھیار بنانے کا جو کھیل کھیلا ہے یا کھیل رہے ہیں وہ بنیادی خرابی کی جڑ ہے ۔

ہمیں روزانہ کی بنیاد پر مختلف جرائم اور سماجی و سیاسی بیماریوں میں مجرمانہ ذہنیت کے لوگ ملتے ہیں۔ ان میں یا تو ان کا پولیس سے باہمی گٹھ جوڑ ہوتا ہے یا وہ خود بھی ان مجرمانہ سرگرمیوں یا جرائم پیشہ افراد کا حصہ بن جاتے ہیں ۔عام لوگوں کا عمومی تصور پولیس کے بارے میں یہ ہے کہ یہ عوام دشمن یا کمزور طبقات کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے طاقت ور اور بالادست یا ظالم طبقہ کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے ۔ کئی جرائم میں ہمیں پولیس کے افسران یا اہلکار خود ملوث نظر آتے ہیں جو خود پولیس کے نظا م کی شفافیت پر سوال ہے ۔
اصل خرابی حکمران طبقات، ارکان اسمبلی سمیت وزیر اعظم ، وزرائے اعلی اور وزرا نے پولیس کے تبادلوں ، تقرریوں میں میرٹ کی دھجیاں آڑانے اور اپنے من پسند افراد کو سامنے لانے کی پالیسی نے پورے پولیس کے مجموعی نظام کو خراب کیا ہے ۔ بالخصوص پنجاب اور سندھ کی پولیس میں بگاڑ سب سے زیادہ ہے ۔ جعلی پولیس مقابلوں کا سامنے آنا ، جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی یا تحفظ دینا ، بچوں او ر بچیوں سمیت عورتوں کے ساتھ ظلم کرنے والوں کے ساتھ کھڑے ہونا، رشوت، بدعنوانی ، کرپشن، دھونس، دھاندلی ، اقراپروری جیسے مسائل نے پولیس کی شکل بگاڑ دی ہے ۔ اگرچہ عمران خان خود بڑھ چڑھ کر خیبر پختونخواہ کی پولیس کی بہتری کا کریڈٹ لیتے ہیں، یقینی طور پر وہاں سیاسی مداخلت بہت حد تک کم ہوئی ہے، مگر جرائم میں کمی ، مجرموں کی گرفتاری ، پولیس کا جدید تقاضوں سے اہم اہنگ ہونا ،  جیسے مسائل وہاں بھی سرفہرست ہیں ۔ اس لیے مسئلہ پورے نظام کا ہے جو اصلاح اور غیر معمولی اقدامات چاہتا ہے اور بعض اوقات لگتا ہے کہ عمران خان بھی خوشنما نعروں کے ساتھ پولیس کا مقدمہ پیش کرتے ہیں۔ جبکہ وہاں بھی بہت کچھ تبدیل ہونا ہے اور اس پر توجہ دینی ہوگی ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پولیس کو جدید نظام کی طرف بھی لایا گیا ہے اور پولیس کے تربیتی نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ لیکن محض پالیسی یا قانون سازی کرنے یا تربیت کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ کیونکہ جب پولیس کے نظام کو عملی میدان میں سازگار ماحول ، عدم مداخلت، خوداحتسابی کا نظام ، جوابدہی یا احتساب کا عمل ، نگرانی کا شفاف نظام ، تربیتی عمل میں نئے نئے پہلووں کو متعارف کروانا ، اچھے اور کام کرنے والے افسران اور اہلکار کی حوصلہ افزائی اور بہتر کام پر ستائش نہیں کی جائے گی، مسائل حل نہیں ہوسکیں گے ۔ دنیا بھر میں جرائم سے نمٹنے کے لیے بہت سے ممالک نے کمیونٹی پولیس کا نظام متعارف کروایا ہے ۔ یہ نظام بہتر بھی ہے اور مقامی لوگوں کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر آگے بڑھتا ہے ۔ ہمیں اس طرف سوچ وبچار کرنا ہوگی ۔ ایک مسئلہ پولیس کے تفتیش کا نظام ہے ۔ اس میں ابھی بھی فرسودہ طور طریقوں یا رویوں سمیت طرز عمل کا مظاہر ہ دیکھنے کو ملتا ہے ۔ ان پہلوؤں میں تشدد کا عنصر بھی نمایاں ہے اور بدنیتی کی بنیاد پر تفتیش کے عمل میں شفافیت کو نظرانداز کرکے من پسند افراد کو فائدہ پہنچانے جیسے اقدامات بھی توجہ طلب مسئلہ ہے ۔ عدالتیں کئی بار اس بات پر توجہ دلاچکی ہیں کہ پولیس کی جانب سے تفتیش کے مسائل میں ناانصافی کے باعث عدالتیں بھی لوگوں کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہورہی ہیں ۔ ہماری حکومتوں نے کئی بار ماڈل تھانے یا پولیس اسٹیشن جیسے تجربات کیے لیکن یہ سب کچھ مصنوعی عمل ثابت ہوا کیونکہ مجموعی طور پر تھانے کلچر عوام دوست نہیں بن سکا ۔ عام آدمی تو کجا بہت پڑھے لکھے اور بااثر افراد بھی تھانے جانے کے عمل میں خوف کا شکار ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ مسائل کا سامنا عام اور مظلوم عورتوں کو ہوتا ہے جو تھانے کے غیر سازگار ماحول کی وجہ سے وہاں زیادہ استحصا ل کا شکار ہوتی ہیں ۔ عورتوں کی ایک بڑی تعداد تو اپنے خلاف ہونے والے مظالم کے باوجود تھانے جانے سے گریز کرتی ہیں ۔

یہ بات ہمیں سمجھنی ہوگی کہ اصلاحات کا عمل اگر پائدار نہ ہو اور یہ محض پالیسی سازی تک ہو اور عملدرآمد اس کی ترجیحات کا حصہ نہ ہو تو کچھ بھی ممکن نہیں ۔ یہ فکری مغالطے سے ہمیں باہر نکلنا چاہیے کے اداروں کو مضبوط بنائے بغیر ہم ایک مہذہب معاشرے میں اپنے آپ کو ڈھال سکیں گے ۔ دنیا میں بنیادی فرق ہی ادارہ جاتی عمل کی مضبوطی ، جوابدہی اور شفافیت سے جڑا ہوتا ہے ۔ پولیس کا نظام بھی اپنے اندر بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں چاہتا ہے ۔ یہ تبدیلی کا عمل معمول کے فیصلوں سے ممکن نہیں بلکہ یہ سمجھنا ہوگا کہ حالات بھی غیر معمولی ہیں اور اقدامات کی کڑوی گولی کھا کر ہمیں غیر معمولی اقدامات کی طرف ہی پیش رفت کرنی ہوگی ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کیا ہمارے حکمران طبقات میں پولیس کی اصلاح اور واقعی اسے قانون کے تابع کرنے کی خواہش یا ترجیحات موجود ہیں ، تو جواب نفی میں ملتا ہے ۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ حکمران طبقہ پولیس کے نظام کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر پولیس خود مختاراور شفاف ہوگی تو ان کی بھی جوابدہی ہوگی جس کے لیے حکمران اور بالادست طبقہ تیار نہیں ۔ ہماری پارلیمنٹ، پالیسی ساز ادار وں میں پولیس جیسے مسائل پر شور تو بہت سننے کو ملتا ہے اور عمومی رویہ پولیس مخالفت میں سامنے آتا ہے ۔ مگر پولیس کیسے ٹھیک ہوگی اور اس کے لیے خود ان کا اپنا کردار کیا ہوگا اس کو سمجھنے کے لیے ہم تیار نہیں ۔

پولیس پر ضرور غصہ نکالیں کیونکہ خرابیاں پولیس کے نظام میں بھی ہیں۔ مگر کچھ ماتم ہمیں اپنا بھی کرنا چاہیے کہ ہم خود اس پولیس کے نظام کو کیسے بگاڑ رہے ہیں ۔ بہتر ہوگا کہ پولیس کے سابق افسران جو اچھی شہرت رکھتے ہیں ان کی مدد سے پولیس کا داخلی اور خارجی پوست مارٹم کرکے  ایسے فیصلے سامنے لائیں جائیں جس پر عملدرآمد کرنا حکومت او رپولیس دونوں کے لیے لازمی ہوں۔ پارلیمنٹ جیسے اداروں میں اس پر بحث ہو کہ ہماری پولیس کو کیسے شفاف او رجوابدہ بنایا جاسکتا ہے ۔ پولیس کے نظام میں سیاسی مداخلتوں اور جرائم پیشہ لوگوں کے ساتھ گٹھ جوڑ یا ان کی شمولیت کے عمل کو اس ادارے سے کیسے صاف اور شفاف کیا جاسکتا ہے ۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں پولیس سمیت ادارہ سازی پر توجہ دینی چاہیے ، یہ ہی ہماری پہلی اور اولین ترجیح ہونی چاہیے ۔