انسانی حقوق کی علمبردار سے انسانیت سوز سلوک
- تحریر محمد فاتح ملک
- جمعرات 15 / فروری / 2018
- 4359
گزشتہ دو روز سے سوشل میڈیا پر عاصمہ جہانگیر کے حوالے سے ایک مذہبی اور سیاسی حلقے کی طرف سے جو رویہ اختیار کیا گیا ہے اسے قومی فریضہ کہوں یا قومی جہالت ۔ سمجھ سے بالا تر ہے کہ کیا نام دوں ۔ پاکستان میں یہ پہلا واقعہ نہیں کہ جو شخص انسانیت کی بات کرتا ہو، اقلیتوں کے حقوق کی بات کرتا ہو، مذہبی جنونیت کا مخالف ہو اسے غدار ، کافر اور یہود و نصاریٰ کا ایجنٹ قرار دیا گیا ہو۔ قائداعظم کی زندگی میں انہیں بھی بے انتہا دفعہ کافر اعظم کہا گیا تھا۔ کیونکہ وہ اس دور کے ملا کے دین کے پیچھے نہیں چل رہے تھے۔ وہ جہاں مسلمانوں کے حقوق کی جنگ لڑتے رہے وہاں انسانی حقوق کی جنگ بھی خوب لڑی۔
قائد اعظم کا جنازہ بھی بعض مذہبی شخصیات نے ادا نہیں کیا تھا۔ وجہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ سلمان تاثیر نے ایک نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والی مظلوم عیسائی عورت کے حق میں بیان دیا تو اسلام کے ٹھیکیداروں نے اسے ’’واصل جہنم‘‘ کرنے میں زیادہ دن نہیں لگائے۔ سلمان تاثیر کو ’’توہین اسلام‘‘ کی سزا دے دی گئی۔ باوجود اس کے کہ وہ با بار اپنے مسلمان ہونے کا اعلان ٹی وی انٹرویوز میں بھی کرتے رہے۔ پاکستان میں انسانیت کی خدمت کا سب سے بڑا نام عبدا لستار ایدھی کا ہے لیکن ان کے ساتھ ان کی زندگی میں بھی اور بعد میں بھی کافی افسوس ناک سلوک ہوا۔ ان کی زندگی میں ان پر قادیانیوں کے ایجنٹ ہونے کے فتاویٰ آتے رہے۔ کئی بار ان کو منکر اسلام قرار دیا گیا۔ بے نام بچوں کو گود لینے پر انہیں فحاشی پھیلانے کا سہولت کار قرار دیا گیا۔ ایدھی صاحب کی انسانی حقوق کی کوششوں کو جہاں ساری دنیا نے سراہا وہاں ملک میں ایک مخصوص ذہنیت اور ایک مخصوص ’’مذہبی سوچ‘‘ کے حامل افراد نے میڈیا ، خاص طور پر سوشل میڈیا پر انہیں بہت بدنام کیا۔ ہمارے ملک میں ایک رو چل پڑی ہے کہ جو بھی آپ کی رائے سے مختلف سوچ کا حامل ہو اسے فوراً غیر ملکی ایجنٹ، کافر اور قادیانی کا خطاب دیا جاتا ہے۔ جو بھی انسانی حقوق کے لئے آواز بلند کرے اسے اسلام دشمن، یہود و نصاری کا کارندہ اور قادیانیت کا تمغہ تھما دیا جاتا ہے۔ کیا انسانیت کا نام لینا اتنا بڑا جرم ٹھہر گیا ہے۔ کیا انسانیت کی بات کرنا مسلمانوں کا کام نہیں۔ کیا انسانیت کی بات صرف غیرمسلم کر سکتا ہے۔ کیا ہم اتنے گر گئے ہیں کہ محسن انسانیت کے لائے ہوئے دین میں انسانیت کو تلاش نہیں کر پا رہے۔ گو یا کہ: جرم ’’انسانیت‘‘ پہ ہمیں لوگ سزا دیتے ہیں
عاصمہ جہانگیر کو بھی ’’جرم انسانیت‘‘ پر خوب سزا دی گئی۔ جو وجود ’’صنف نازک‘‘ ہونے کے باوجود اس ملک میں تعصبات کا مردانہ وار مقابلہ کرتی رہی، اس کی آنکھ بند ہوتے ہی اس کی خدمات کا صلہ سوشل میڈیا پر دیا گیا وہ نا قابل بیان ہے۔ ایسے تو کوئی دشمنوں کے ساتھ نہیں کرتا جو ہم ’’عاشقان رسول‘‘ نے کیا۔ کاش ان اسلام کے نام لیوا لوگوں نے جو ’’جہاد‘‘ اسلام کے نام پر کیا اس سے پہلے اسلام کی تعلیم دیکھ لی ہوتی۔ محسن انسانیت، معلم اسلام کے ارشادات غور سے پڑھ لئے ہوتے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
" اذکروا محاسن موتاکم وکفوا عن ساوئھم "
" اپنے مردوں کی خوبیوں کا ذکر کرو اور ان کے عیوب کو نہ چھیڑو "
اسی طرح ایک اور موقعہ پر آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں:
’’لا تسبوا لأموات فانّھم قد افضوا الی ما قدموا‘‘
’’تم مرے ہوئے لوگوں کو برا بھلا نہ کہو۔ ان سے برا سلوک نہ کرو کیونکہ وہ اپنے خدا کے حضورپہنچ چکے ہیں۔‘‘
اس تعلیم کے بعد بھی اگر اسلام کے نام پر یہ سب کیا جائے تو کیا یہ اسلام کی توہین نہیں۔ کیا یہ رسول اللہ ﷺ کی توہین نہیں کہ ان کی تعلیم پر عمل نہیں کیا جا رہا۔ عاصمہ جہانگیر کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے مذہب و ملت سے بالاتر ہو کر انسانیت کے لئے کوشش کی۔ انسانیت کی بھلائی کی فکر کی۔ دکھ میں پسی ہوئی انسانیت کے لئے آواز اٹھائی۔ کیا یہ اتنا برا جرم ہے کہ ان کی وفات پر ایسا پراپیگنڈا کیا جائے۔ کیا ہم بہ حیثیت قوم اس قدر گر چکے ہیں کہ انسانی حقوق کے لئے لڑنے والوں سے انسان ہونے کا حق بھی چھین لیں۔ کیا ہم اسلامی جمہوریہ میں رہتے ہوئے اسلامی آداب بھی بھول گئے ہیں۔ اگر ہم خود کسی مظلوم کی مدد نہیں کر سکتے۔ کسی بے کس کا سہارا نہیں بن سکتے۔ جنگل کے قانون کے ہوتے ہوئے اقلیتوں کے حق میں آواز بلند نہیں کر سکتے۔ ظالم جابر آمریت کے آگے ڈٹ کر مقابلہ نہیں کر سکتے۔ مذہب کے ’’ٹھیکداروں‘‘ کے سامنے درست بات پیش نہیں کر سکتے۔ مرد ہوتے ہوئے بھی ایسی مردانگی نہیں دکھا سکتے تو کم از کم اس عورت کی عزت ہی کرنا سیکھ لیں جس نے ایسے بے حس معاشرے میں یہ سب کچھ کیا۔ اس شخصیت کی موت کے بعد ایسی کردار کشی تو نہ کریں جو کسی انسان کو زیب نہیں دیتی۔
اگر یہ سب ہیومن رائٹس کے ’’سیکولر‘‘ اور ’’لا دین‘‘ نظریات لگتے ہیں تو خدارا رسول خدا ﷺ کی حدیث پر عمل کر لیں اور ان کے عیبوں کی پردہ پوشی کریں۔ یا شاید یہ کرنا بھی ہمارے ’’ایمان ‘‘ کے لئے اب مشکل ہے۔
ویسے تو سوشل میڈیا پر آنے والے یہ شعر ان کی زندگی کی صحیح عکاسی کرتے ہیں:
گستاخ لگی نہ غدار لگی
ہاں تھوڑی سی بیدار لگی
مردوں کے اس ریوڑ میں
اک عورت ہی جی دار لگی