عاصمہ جہانگیر کے احترام کا اظہار مگر اختلاف کے ساتھ ۔۔۔۔

عاصمہ جیلانی جو بعد میں عاصمہ جہانگیر کہلائیں، کی زندگی جدوجہد اور ظلم و جبرکے مقابلہ میں بسر ہوئی۔  قانون دان کے طور پر اپنے پیشے اور اپنے اصولوں پر کبھی بھی سودے بازی نہ کر نے والی عاصمہ جہانگیر کی سوچ دراصل ہمارے جیسے کوتاہ ذہن کے لوگوں سے بہت آگے تھی۔ ایک قانون داں جس نے ہمیشہ قانون کی پاسداری کو اپنا شعار بنائے رکھا اور ایسے میں بغیر کسی مصلحت اور کسی لیت و لعل کے بے لاگ دو ٹوک سچ کو سامنے لانے کی کو شش کی۔

شعلوں کی طرح بھڑکنے والی شمع اب  اچانک خاموش ہوگئی ہے۔ فاطمہ جناح کی طرح برسوں بعد شاید سازشوں کے تانے بانے کھلیں۔ قانون دان اور مقننہ اگر مصلحت کوشی کرے تو حق و انصاف کا بول بالا کیسے ہوگا۔ وکیل منہ پھٹ نہ ہوگا تو موکل کا دفاع کیسے کرے گا۔ اگر عدلیہ کا منشا یہ ہو کہ طاقت کے توازن کے مطابق فیصلہ ہو جائے تو اسے کسی ایک فریق کو خاموش یا کچھ دو لو کے اصول پر راضی کرنا ہوگا۔ عاصمہ جہانگیر کے مرنے پر وہی لوگ اختلاف  کا نعرہ لگا رہے ہیں جنہیں عام  لفظوں  میں دوغلا  ہی لکھنا چاہیے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کبھی ان کی تحریک اور  انصاف کے ان اصولوں کی پزیرائی نہ کی جن پر عاصمی ساری زندگی کاربند رہیں۔  ان کے مرنے کے بعد ان سے اب بعض لوگ مرحومہ کے لئے احترام کا اظہار کرتے ہوئے بھی ان کے ساتھ اختلافات بھی سامنے لا رہے ہیں تاکہ وہ جن طاقتور اداروں کی معتوب تھیں ان سے ٹکراؤ بھی نہ ہو اور وہ نام نہاد لبرل، کشادہ دماغ اور کشادہ سوچ والے مانے جائیں۔  ہمارے معاشرے میں زیادہ تر لوگ ایسی ہی سوچ کے حامل ہیں۔ جن کی سوچ کی کوئی سمت نہیں۔ انہیں صرف اپنے مفادات سے مطلب ہے۔

کشمیر، خواتین کے حقوق، توہین مذہب اور نواز شریف کی برطرفی جیسے مسائل پر اچھے اچھوں کی سوچ کھل کر سامنے آگئی ہے۔ لیکن سچ اور قانون کی پاسداری کر نے والا وہی کچھ سوچے گا جو عاصمہ جہانگیر سوچتی تھیں۔ اور وہی کچھ کہے گا جو عاصمہ جہانگیر نے کہا۔ نواز شریف کی برطرفی پر ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو سمجھنا چاہیے کہ ان کے ساتھ کیا چال چلی جارہی ہے۔ وہ ایک ساستداں نہ تھیں جو وقتی مفاد کی بنیاد فیصلے کی بات کرتیں۔ بد قسمتی سے سیاستداں عام سوچ کے مطابق وقتی  فائدے پر قومی مفاد کا سودا کر رہے ہیں۔ خواتین کے حقوق کی بات تو پاکستان میں ایک بہت بڑی بدعت ہے۔ اور اس کے لیے بات اور کام کرنے والا کیوں معتوب نہ ہوگا۔  پاکستان میں  مردوں کا عورتوں کے متعلق رویہ نہایت معاندانہ ہے۔ صد حیف کہ ایسے افراد میڈیا اور سیاست پر بھی چھائے ہوئے ہیں۔ وہ عورتوں کو گھر میں بند رکھنے اور ان کے ساتھ حیوانی طالبانی سلوک روا رکھنا چاہتے ہیں۔ اور اسے مذہب کے حکم کا نام دے رہے ہیں۔  اسی طرح توہین مذہب کے معاملہ  اور اقلیتوں کے حقوق کا بھی یہی حال ہے۔ ایسے میں عاصمہ جہانگیر جب ان  عناصر کا منہ بند کرنے کھڑی ہو جائے تو بھلا ان کو کیسے یہ بات بھائے گی۔

کشمیر کے معاملہ پر بھی ایک وکیل کی طرح انہوں نے دوٹوک بیان دیا ۔ اور اس کی کلپ بھی موجود ہے مگر ان کے مخالفین یہ شور مچاتے نہیں تھکتے کہ وہ کشمیر کے موقف پر بات اس لیے نہیں کرتی تھیں کہ ہندوستان کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ دراصل ہمارے اختلاف کرنے کہ کلچر دن بدن بودا ہوتا جارہا ہے۔ ہم مہذب طریقے سے اختلاف رائے کےعادی رہے ہی نہیں ہیں۔ ہم نے بد تمیزی، بد تہذیبی، گالی گلوچ کو ہی اختلاف رائے سمجھ لیا ہے۔ عاصمہ جہانگیر کا قدوکاٹھ ناپنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان خود بونا نہ ہو۔

عاصمہ کی علمی اور پیشہ ورانہ اہلیت، ان کی ذہنی قابلیت اور ان کی عالمی قدرومنزلت کو یکسر نظرانداز کرکے فیس بک اور ٹی وی بحث مباحثوں میں ان کے خلاف باتیں کرنے والوں کی قابلیت کا جائزہ لینے سے ہی ان کے دلائل کے فقدان کا اندازہ لگا یا جا سکتا ہے۔