نواز شریف بمقابلہ شہباز شریف ۔ ایک مکالمہ
- تحریر مزمل سہروردی
- جمعرات 15 / فروری / 2018
- 4759
لودھراں کے الیکشن نے ایک عجیب بحث شروع کر دی ہے۔ یہ کس کی جیت ہے۔ ہار تو جہانگیر ترین کی ہے۔ بیچاری تحریک انصاف تو ایسے ہی رگڑے میں آگئی ہے۔ یہ سیٹ نہ کبھی تحریک انصاف کی تھی اور نہ ہو گی۔ یہ جہانگیر ترین کی سیٹ تھی اس لئے ہار جہانگیر ترین کی ہے۔ بہر حال اس ہار نے تحریک انصاف کی سیاسی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ بلکہ ایک ایسا ماحول بنا دیا ہے جس نے تحریک انصاف کی سیاسی بقا پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیئے ہیں۔ سوال تو یہ بھی پیدا ہو گیا ہے کہ اگر تحریک انصاف لودھراں کا انتخاب نہیں جیت سکتی تو اگلا انتخاب کیا خاک جیتے گی۔ اور اگر تحریک انصاف کی پنجاب میں یہ حالت تو آگے کیا ہوگا۔
بہرحال تحریک انصاف پر تو اگلے کسی کالم پر بات ہو سکتی ہے۔ اس وقت تو سوال یہ ہے کہ لودھراں کی جیت کس کی جیت ہے۔ ایک بحث یہ ہے کہ یہ نواز شریف کے عدلیہ مخالف بیانیہ کی جیت ہے۔ دوسر موقف یہ ہے کہ یہ شہباز شریف کی گڈ گورننس کی جیت ہے۔ بہر حال تحریک انصاف کی اس بری کارکردگی کے بعد ایسا لگتا ہے کہ پنجاب میں اب سیاسی دنگل دونوں شریف برادران کے درمیان ہی رہ گیا ہے۔ مقابلہ اب نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان ہی ہے اور ہوگا۔ نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان اس سیاسی دنگل پر دونوں کے درمیان ایک مکالمہ ہوا ہے۔ جو مجھ تک پہنچا ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ یہ مکالمہ ہوا ہے۔ لیکن یہ مکالمہ صورتحال کے عین مطابق ہے۔ یعنی حسب حال ہے۔ جس کو بہر حال نظر انداذ نہیں کیا جا سکتا۔ شہباز شریف اور نواز شریف کے درمیان لودھراں کے نتائج کے بعد یہ مکالمہ قارئین کے لئے بھی پیش خدمت ہے۔ منظر کچھ یوں ہے کہ لودھراں کے نتیجہ کے بعد دونوں شریف ملے ہیں۔ اور لودھراں کے نتائج پر گفتگو شروع ہو ئی۔
نواز شریف نے شہباز شریف کو دیکھتے ہی کہا دیکھا چھوٹے ہماری تحریک کے کیسے زبردست نتائج آرہے ہیں۔ لوگوں نے ہمارے بیانیہ کو تسلیم کر لیا ہے۔ دیکھیں مریم نے ماحول ہی تبدیل کر دیا ہے۔ ہم ہاری ہوئی سیٹیں بھی جیت رہے ہیں۔ لوگ عدلیہ کے خلاف ہمارے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں۔
نواز شریف کی یہ گفتگو سن کر چھوٹے بھائی خاموش ہو گئے۔ کافی دیر خاموش رہے۔
نواز شریف نے خاموشی کو دیکھتے ہوئے کہ شہباز تم کچھ بول نہیں رہے۔ تو شہباز نے کہا بھائی جان اجازت ہو تو کچھ عرض کروں ۔
نواز شریف نے کہا بولو ۔ بولو۔ آج تو خوشی کا دن ہے۔
شہباز شریف نے کہا بھائی جان ہمیں حقیقت کی دنیا میں رہنا چاہئے۔ سیاست میں اگر حقیقت آنکھ سے اوجھل ہو جائے تو سیاست ہی آنکھ سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ عوام عدلیہ کی جانب سے دیئے گئے ناہلی کی فیصلوں کو نہیں مان رہی تو سوال یہ ہے کہ لودھراں کے نتائج نے تو جہانگیر ترین کی نا اہلی کے فیصلہ کی توثیق کر دی ہے۔ اگر انہی نتائج کو دوسری طرح دیکھا جائے تو لودھراں کے عوام نے جہانگیر ترین کی نا اہلی کی توثیق کر دی ہے۔ اور اس پر مہر ثبت کر دی ہے۔ اسی طرح یہ بھی کیسی صورتحال ہے کہ نون لیگ کا بیانیہ صرف پنجاب میں ہی مقبول ہے۔ کیوں اٹک سے آگے اور صادق آااد سے آگے اور ڈیرہ غازی خان سے آگے یہ بیانیہ ختم ہو جاتا ہے۔ ہم اس پر غور کیوں نہیں کرتے کہ نا اہلی کے بعد بے شک ہم 120کا انتخاب تو جیت گئے جس کو مریم بیٹی کی جیت کہا جا رہا ہے ۔ لیکن ساتھ ہی ہم پشاور میں ہونے والا ضمنی انخاب مولانا فضل الرحمٰن کی حمائت کے باوجود ہار گئے۔ تب اس بیانیہ کی قبولیت کہاں چلی گئی تھی۔ کیوں کراچی میں یہ بیانیہ قبول نہیں ہو رہا ہے۔ اور نون لیگ کی کراچی میں بالکل آؤٹ ہے۔ کیوں ہم سندھ سے آؤٹ ہیں۔ کیوں ہمارے اتنے مقبول بیانیہ کے باجود سندھ سے نون لیگ کے کارکن ہمیں چھوڑ رہے ہیں۔
اگر ہمارے بیانیہ اتنا ہی مقبول ہو رہا ہے تو لوگ بلوچستان میں ہمیں کیوں چھوڑ گئے۔ ہماری حکومت کیوں ختم ہو گئی۔ بلوچ عوام اس تبدیلی کے خلاف کیوں اٹھ کھڑے نہیں ہوئے۔ کیسے انہوں نے اس تبدیلی کو قبول کرلیا۔ کیوں اس تبدیلی کے خلاف کوئی مہم چلانے کی بجائے ثنا ء اللہ زہری صاحب دبئی چلے گئے۔ کیوں نہیں اس تبدیلی کے بعد انہوں نے بلوچستان میں تحریک شروع کی ۔ حقیقت میں تو یہ چاہئے تھا کہ کوئٹہ میں حکومت کی تبدیلی کے بعد ہم وہاں ایک بہت بڑا جلسہ کرتے۔ جلوس نکالتے اور اس تبدیلی کے خلاف عوامی ریفرنڈم منعقد کرتے۔ لیکن ہم خاموش ہو گئے۔ ہماری تو آواز بھی نہیں نکلی۔ اور ہمارا مقامی لیڈر دبئی چلا گیا۔ اب لودھراں کو ہی دیکھ لیں۔ اگر یہ اسی بیانیہ کی جیت ہے تو آپ اور مریم نے لودھراں کے ضمنی انتخاب میں جلسہ کیوں نہیں کیا۔ آپ لوگوں کا لہو گرمانے لودھراں کیوں نہیں گئے۔ مریم بیٹی نے بھی لودھراں جانے کی ہمت نہیں کی۔ شاید اس لئے کہ آپ کو امید ہی نہیں تھی کہ لودھراں میں جیت ممکن ہے۔ اگر آپ کو ایک فیصد بھی امید ہوتی تو آپ لودھراں میں جلسہ کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے۔
یہ ساری گفتگو سن کر میاں نواز شریف کے تیور بدل رہے تھے ۔ وہ اب تک خاموش تھے۔ لیکن انہوں نے خاموش توڑتے ہوئے کہا کہ پھر یہ جیت کیوں ہے۔ کیوں جہانگیر ترین ہار گئے۔ شہباز شریف نے کہا بھائی جان یہی تو میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں۔ آپ دیکھیں کہ لودھراں میں انتخاب ہارنے کے بعد بھی میں نے اور میری حکومت نے لودھراں پر توجہ کم نہیں کی۔ آپ ذرا دیکھیں کہ ہم نے لودھراں کی تعمر و ترقی پر اربوں روپے خرچ کئے ہیں۔ لودھراں میں بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کا سب کیمپس قائم کیا گیا۔ جس سے لودھراں میں اعلیٰ تعلیم کے دروزے کھل گئے۔ وہاں گرلز کالجز بنائے گئے۔ تعلیم پر خرچ کی جانے و الی رقم نے لودھراں کو تبدیل کیا ہے۔ جو تبدیلی نظر آئی ہے۔ اسی طرح صحت کے شعبہ میں بھی ہمارے اقدام بول رہے ہیں۔
لودھراں میں 125بیڈ کا نیا ڈسٹرکٹ ہسپتال بنا یاگیا ہے۔ وہاں شہباز شریف ماڈل ایمرجنسی بنائی گئی ہے۔ نیا ٹراما سنٹر بنایا گیا ہے۔ دس ارب ستر کروڑ روپے کی لاگت سے تو لودھراں میں نئی سڑکیں بنائی گئی ہیں۔ جس نے لودھراں کا نقشہ بدل دیا ہے۔ وہاں نئی جیل بنائی گئی ہے۔ ماڈل بازار بنائے گئے ہیں ۔ نئے پولیس سٹیشن بنائے گئے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ہارنے کے بعد ہم نے لودھراں کو نظر انداذ کر دیا تھا بلکہ میں نے لودھراں پر توجہ ڈبل کر دی تھی۔ اس لئے لودھراں کی جیت نہ تو کسی بیانیہ کی جیت ہے۔ نہ ہی جہانگیر ترین کی ہار ہے۔ یہ شہباز شریف کے گڈ گورننس ماڈل کی جیت ہے۔ جس نے پہلے بھی نتائج دیئے ہیں۔
شہباز شریف کی یہ باتیں نواز شریف کو کوئی خاص پسند نہیں آئیں اور یہ مکالمہ اور ملاقات ختم ہو گئی۔
بہر حال اس وقت نواز شریف کا سب سے بڑا مد مقابل شہباز شریف ہی ہے۔ گیم دونوں شریفوں کے درمیان ہی پھنس گئی ہے۔ جیسے ایک دوست نے مجھے لطیفہ سنایا کہ کسی نے دولتانہ سے کہا کہ اگر آپ میں سے دولت کو مائنس کر دیا جائے تو باقی آنہ ہی رہ جاتا ہے۔ اسی طرح اگر نون لیگ اب تک کی کامیبایوں میں شہباز شریف کو مائنس کر دیا جائے تو باقی سندھ ، بلوچستان اور کے پی کے کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ پنجاب میں تو نااہلی سے پہلے بھی نون لیگ جیت رہی تھی، اب بھی جیت رہی ہے۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ نااہلی نے پنجاب میں کوئی فرق نہیں ڈالا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ نا اہلی نے باقی صوبوں میں بھی کوئی فرق نہیں ڈالا۔ جہاں پہلے ہار رہے تھے وہاں اب بھی ہار رہے ہیں۔ جہاں سے پہلے بھی جیتنے کی کوئی امید نہیں تھی اب بھی نہیں ہے۔
نواز شریف کے اندر سے اگر شہباز شریف کو مائنس کر دیا جائے تو شاید شہباز شریف کو کم اور نواز شریف کو زیادہ نقصان ہوگا۔ شہباز شریف نے بتایا ہے کہ ماضی میں بھی وائیں جیسے وزیر اعلیٰ کو لانا غلطی تھی۔ اس سے یہی پنجاب ہاتھ سے نکل گیا تھا۔ کیونکہ کمزور کپتان تھا۔ آج پنجاب اسی لئے کھڑا ہے کہ کپتان شہباز شریف ہے۔ لیکن شاید نواز شریف نہ اس کو مانتے ہیں اور نہی انہیں یہ قبول ہے۔ یہی شہباز شریف کا ڈس کریڈٹ بھی ہے۔ اسی لئے اس کی وزارت عظمیٰ کی نامزدگی میں ابہام رکھا جا رہا ہے۔ کیونکہ نواز شریف کا اصل مقابلہ ہی شہباز شریف سے ہے۔ بس یہی حقیقت ہے۔