وائس چانسلرز کی تقرری کا مسئلہ

پاکستان میں ریاستی اور حکومتی نظام میں سب سے زیادہ اگر کسی شعبہ کوسیاسی بنیادوں، اقرپروری ، نااہلی اور عدم شفافیت کی بنیاد پر چلایا گیا ہے تووہ مجموعی طور پر تعلیم کا نظام ہے ۔ وہ ریاستیں جو دنیا میں اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر داخلی اور خارجی محاذ پر اپنا نام بناتی ہیں ان کی پہلی ترجیح تعلیم کا اعلی معیار اور اس میں  سرمایہ کاری کرنا ہوتا ہے ۔ اسی لئے  تعلیم میں سیاسی مداخلت ، عدم شفافیت اور میرٹ کی بالادستی کے  نظام کو یقینی بنایا جاتا ہے ۔ لیکن پاکستان میں  تعلیم کی وہ اہمیت نہیں جو ہمیں دنیا کی ذمہ دار ریاستوں یا حکومتی نظام میں  نظر آتی ہے ۔

اعلی تعلیم کا معیار قائم کرنا ، اس کی ایسی ساکھ قائم کرنا جو دنیا میں سب کے لیے قابل قبول ہو، اعلی تعلیم کے اداروں کی عالمی درجہ بندی میں اپنا مقام رکھتی ہو، نصاب میں جدید تقاضوں کے مطابق تبدیلیوں کو اجاگر کرنا، اساتذہ اور تحقیق کے معیار کو بہتر بنانا ،غیر نصابی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور ایک متبادل علمی اور فکری بیانیہ کو پیش کرنا سرکاری اور غیر سرکاری درس گاہوں کی بنیادی ترجیحات یا فکر ہوتی ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے ہم نے اعلی تعلیم کے اداروں میں سیاسی مداخلت کو بنیاد بنا کر ایسے معیارات قائم کیے ہیں جو توجہ طلب ہیں ۔ پنجاب کے بارے میں یہ بات برملا کہی جاتی ہے کہ یہاں دیگر صوبوں کے مقابلے میں تعلیم کا معیار اور درجہ بندی بہتر ہے۔ اگرچہ یہاں بھی صورتحال کوئی آئیڈیل نہیں لیکن جب دیگر صوبوں سے موازنہ کیا جائے تو صورتحال ان کے مقابلے میں بہتر نظر آتی ہے ۔ لیکن تعلیم میں سیاسی مداخلت اور تعلیم پر تعلیمی ماہرین کے مقابلے میں حکومتی اجارہ داری کے مسائل یہاں بھی سرفہرست نظر آتے ہیں ۔ حال ہی میں پنجاب نے صوبے کی مختلف یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلر کی تقرری کے لیے جو شرائط نامہ ترتیب دیا ہے وہ سنگین نوعیت کے مسائل اور حکومتی کنٹرول کی نشاندہی کرتا ہے جو توجہ طلب مسئلہ ہے ۔

مسئلہ یہ ہے کہ جب وائس چانسلر کی تقرری کے معاملات اعلی تعلیمی ماہرین کی مشاورت کے برعکس سرکاری  افسران یا بیوروکریسی کے اشتراک سے  آگے بڑھائی جائیں گے تو اس میں تعلیمی فکر اور شفافیت کا عمل بہت پیچھے رہ جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر پنجاب حکومت کے نوٹیفیکیشن کے مطابق ’’ وائس چانسلر بنیادی طور پر ایک لیڈر شپ پوزیشن ہے ‘‘ اس میں ہوشیاری کے ساتھ  ’’ اکیڈیمک لیڈر شپ ‘‘ کا لفظ نکال دیا گیا ہے ۔ صرف لیڈر شپ کے لفظ کو استعمال کرکے بنیادی طور پر اس اہم اور حساس پوزیشن پر اکیڈیمک یعنی تعلیمی معیار اور صلاحیتوں کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔ کوئی بھی لیڈر چاہے وہ تعلیم سے ہٹ کر کسی بھی شعبہ کا ہو وہ وائس چانسلر بن سکتا ہے ۔ وائس چانسلر کی تقرری کے لیے امیدوار کے پاس سات بنیادی نوعیت کی صلاحیتیں ہونی چاہیے ۔ اول کسی بھی اعلی تعلیمی ادارہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری، دوئم کسی سنیئر اکیڈمک، ریسرچ اور مینجمنٹ لیڈر شپ کا تجربہ ، سوئم کسی عالمی ادارے، اکیڈمک ادارے ٹیچنگ، ریسرچ جیسی اہم پوسٹ پر کام کا تجربہ ، چہارم ملکی یا غیر ملکی اداروں سے مالی وسائل کو پیدا کرنے کی صلاحیتیں ، پنجم پہلے سے کام کرنے والے ادارے میں کوئی نیا ادارہ قائم کیا ہویا پہلے سے قائم شدہ تعلیمی ادارے کی ازسر نو تشکیل دی ہو یا اصلاحات متعارف کروائی ہوں، ششم اشاعتی مواد، ریسرچ پیپرز اور کتب لکھنے کا وسیع تجربہ، ہفتم ملکی اور غیر ملکی سطح سے مختلف اہم ایوراڈ اور اعزازت کا بہتر ریکارڈ رکھتا ہو۔ لیکن اس کی تشریح میں کئی مسائل غالب نظر آتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وائس چانسلر کی تقرری کے لیے امیدوار کو جن خصوصیات پر نمبر ملنے چاہئیں ان میں سے ایک بھی اہلیت کے معیار میں شامل نہیں ۔ مثلا دنیا کی ٹاپ یونیورسٹیوں سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کرنا ، پچاس یا زائد تحقیقی منصوبوں یا ایم فل یا پی ایچ ڈی مقالوں کی نگرانی، یونیورسٹیوں میں کئی دہائیوں کا تدریسی تجربہ ، متعلقہ تعلیمی یا تحقیقی میدان میں کوئی منفرد اعزاز حاصل کرنا ، ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے بہترین استاد قرار دیا جانا، موقر جرائد کے ادارتی بورڈ ز میں شامل ہونے یا تحقیقی جرائد شائع کرنے ، کونسلنگ، عالمی تعلیمی اداروں میں ممبر شپ میں امیدوار کو کوئی خاص اہمیت یا نمبر نہیں رکھے گئے ہیں۔ بظاہر لگتا ہے کہ حکومت کسی سابق بیوروکریٹ یا کسی مالیاتی ادارے کے نمائندے کو وائس چانسلر لگانے کی خواہش مند نظر آتی ہے ۔

اسی طرح سے حکومتی نوٹیفیکیشن میں وائس چانسلر کی تقرری میں پی ایچ ڈی کو محض  Preferably لکھا گیا ہے جبکہ یہ لازمی ہونا چاہیے ۔ کیونکہ ایسی یونیورسٹی جس میں پڑھانے والے اساتذہ بھی پی ایچ ڈی ہوں اور پڑھنے والے طالب علم بھی پی ایچ ڈی کررہے ہوں وہاں نان پی ایچ ڈی وائس چانسلر کی تقرری  ایک سنگین مذاق کے مترادف ہوگی ۔ اسی طرح نوٹیفیکیشن میں جو عالمی ادارے کا تجربہ لکھا گیا ہے، اس کی وضاحت نہیں کہ کس نوعیت کا تجربہ کیونکہ اگر اس کا تجربہ تعلیمی میدان سے باہر یا محض کسی مینجمنٹ ادارے میں کام کا ہو تو وہ کیسے اہل ہوسکتا ہے ۔ مالی وسائل کو پیدا کرنے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس کی مالیت پانچ سو میلین یا ایک بلین سے زیادہ ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں کوئی ایسا ادارہ ہے جو یونیورسٹیوں یا اساتذہ کو اتنی بڑی گرانٹ دیتا ہو ، تو جواب نفی میں ہوگا۔ خدشہ یہ ہے کہ ایسے افراد جو انتظامی امور یا کسی ترقیاتی منصوبوں میں وسائل پیدا کرسکے ہوں ان کو تعلیمی ماہرین کے مقابلے میں اہمیت دی جارہی ہو۔ عمومی طور پر ایک پروفیسر کی تقرری کے لیے کم ازکم 15آرٹیکل، ایسوسی ایٹ پروفیسر کے لیے 10آرٹیکل درکار ہوتے ہیں جبکہ یہاں وائس چانسلر کی تقرری کے لیے محض پانچ آرٹیکل کی بات کی گئی ہے۔

بنیادی طور پر حکومت پنجاب کی نئی اہلیت کی شرائط میں کسی بڑی کمپنی کے سربراہ کو تو بہت زیادہ نمبر مل سکتے ہیں  لیکن دنیا کی بہترین یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے ، متعلقہ شعبہ میں دنیا بھر کی سائنسی تحقیقات پر اثرانداز ہونے اور کئی دہایؤں تک تدریس کے تجربے کے حامل فرد کو شارٹ لسٹنگ میں ٹیکنیکی بنیاد پر نمبروں سے محروم رکھا گیا ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہم کہتے ہیں کہ جامعات کا مقصد تحقیق اور ایک متبادل علم کو سامنے لانا ہے تو ایسا وائس چانسلر جس نے خود کبھی تحقیق نہ کی ہو اور نہ ہی اس کا تجربہ ہو وہ کیسے ان بڑی درس گاہوں کو تحقیق کے شعبہ میں عالمی معیار پر لاسکتا ہے ۔ یہ بات حکومت کو سمجھنی ہوگی کہ وائس چانسلر محض ایک انتظامی عہدہ نہیں بلکہ اس کا اصل کام تعلیمی معیار، تحقیق اور متبادل علم کی تلاش میں ایک مستند قیادت فراہم کرنا ہوتا ہے۔ ہماری حکومتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ اول ان کی تعلیم ترجیحات میں بہت پیچھے ہے ۔ ان کی اس عدم دلچسپی کا بڑا فائدہ ہماری بیورووکریسی اٹھاتی ہے ۔ یہ لوگ نہ تو کسی یونیورسٹی میں تعلیم دینے یا وہاں کام کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں او ر نہ ہی کی کوئی بڑی فکری پوزیشن ہوتی ہے ۔ لیکن پنجاب کی حکومت نے بدقسمتی سے اس بیوروکریسی کو تعلیمی ماہرین پر ترجیح دے کر پورے تعلیمی نظام کا ہی بیڑہ غرق کردیا ہے ۔ حکومت پنجاب نے وائس چانسلر کی تقرری کے لیے جو سرچ کمیٹیاں بنائی ہیں ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جن کا تعلیم میں کام کرنے کا کوئی تجربہ نہیں اور زیادہ تر بڑے کاروباری افراد کو ترجیح دی گئی ہے جو کہ خود تعلیم دشمنی پر مبنی ہے ۔

سوال یہ ہے کہ کسی بھی صوبائی حکومت میں اس کا اعلی تعلیم کا اصل چہرہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن ہے ۔ پنجا ب میں یہ کمیشن موجود ہے اور فعال بھی ہے ۔ اس کے سربراہ ڈاکٹر پروفیسر نظام الدین تعلیم کے میدان میں نہ صرف وسیع تجربہ رکھتے ہیں بلکہ ان کی ساکھ اور شہرت بھی بہت اچھی ہے۔ پنجاب میں ان کی تقرری اہم اقدام ہے  لیکن کیا وجہ ہے کہ صوبائی سطح پر موجود ہائر ایجوکیشن کمیشن کی موجودگی کے باوجود صوبائی حکومت اس کمیشن کو زیادہ طاقت ور بنانے اور وائس چانسلر کی تقرری میں اس ادارے کو زیادہ خود مختار بنانے سے کیوں گریزاں ہے ۔ کیوں صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مقابلے میں سرکاری بیوروکریسی کو زیادہ بااختیار او رطاقت ور بنا کر اعلی تعلیم کے معاملات میں خرابیاں پیدا کی جارہی ہیں ۔

اب بھی وقت ہے کہ پنجاب کی حکومت وائس چانسلر کی تقرری میں میرٹ، شفافیت سمیت تعلیمی ماہرین کی مدد سے آگے بڑھے اور بیوروکریسی سمیت بڑے کاروباری طبقات سے جان چھڑائے ۔ یہ ہی عمل ہماری درس گاہوں کی ساکھ کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔