شادی کے فضائل نہیں مسائل پر بات کیجئے

فرانسیسی حکومت نے فرانس کے ایک مسلمان شہری کو ’’وارننگ‘‘ دی ہے کہ وہ تعداد ازدواج پر عمل پیرا ہے اور فرانس کے قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ اس لئے اس کا پاسپورٹ ضبط کر لیا جائے گا۔ اس مسلمان شخص نے کہا ہے کہ وہ صرف ایک بیوی رکھتا ہے اور باقی سب داشتائیں ہیں۔ الجیریائی نژاد مسلمان یاسین ہباج  ایک قصاب ہے۔ اس نے 2017 میں ایک فرانسیسی خاتون سے شادی کی اور فرانس کا شہری بن گیا۔

ہباج کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب اس کی ایک بیوی نے شکایت کی کہ اس کو حجاب پہن کر کار چلانے کی پاداش میں جرمانہ کیا گیا ہے۔ ہباج پر الزام لگایا گیا کہ وہ چار بیویاں رکھتا ہے۔ ہباج نے جواب میں کہا ہے کہ اس کی قانونی طور پر صرف ایک بیوی ہے اور باقی سب داشتائیں ہیں۔ اگر داشتائیں رکھنے سے فرانس کی شہریت ختم ہو سکتی ہے تو فرانس کے بہت سے لوگ شہریت سے محروم ہو جائیں گے۔ ہباج نے بیوی کی موجودگی کو چھپا کر فرانس کی خاتون سے شادی کی تھی۔ اپوزیشن پارٹیوں نے الزام لگایا ہے کہ وہ اس صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ادھر سعودی عرب میں مردوں کو چار شادیوں کی اجازت ہونے کے باوجود ملک میں غیر شادی شدہ عورتوں کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ ایک سروے رپورٹ کے مطابق 90 لاکھ خواتین میں سے صرف 29 لاکھ دو ہزار پندرہ خواتین شادی شدہ جبکہ 30 سال تک کی وہ خواتین جن کی شادی کی عمر گزر چکی ہے ان کی تعداد 18 لاکھ 13 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان غیر شادی شدہ خواتین کی اکثریت مکہ اور ریاض میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب میں غیر شادی شدہ خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پانے کیلئے سعودی نوجوانوں کے ایک گروپ نے ایک سے زیادہ شادیوں کی وکالت کی ہے اور ہر مجاز سعودی مرد سے درخواست کی ہے کہ وہ چار عورتوں سے شادی رچائے۔ اس گروپ نے فیس بک پر اس مقصد سے  ایک مہم شروع کر دی ہے جس کا عنوان ہے WE WANT THEM FOUR (ہمیں چار کی ضرورت ہے) ۔ اس مہم کا مقصد غیر شادی شدہ عورتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پانا بتایا جاتا ہے۔ ہر چند کہ سعودی عرب میں غیر شادی شدہ عورتوں کی تعداد کا شمار نہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ سعودی معاشرے میں شادی مالی اعتبار سے اکثر بڑے مہنگے سودے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ مہم چلانے والوں نے اپنی اشتہاری مہم میں کہا ہے کہ وہ سعودی مرد کو جو مالی اور جسمانی اعتبار سے ایک سے زیادہ شادیوں کا متحمل ہے وہ اس معاملے میں ہرگز ہچکچاہٹ سے کام نہ لے۔ اس طرح معاشرے میں غیر شادی شدہ عورتوں کی تعداد کو بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے جو شادی کے مہنگے اخراجات کا نتیجہ ہے۔ فیس بک پر عرب گھرانوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ شادی کو ایک دشوار مرحلہ نہ بنائیں اور لڑکے والوں پر جہیز اور مالی تقاضوں کا بوجھ نہ ڈالیں کہ اکثر نوجوان یہ ’’قیمت‘‘ چکانے کے متحمل نہیں ہیں۔ فیس بک پر یہ عجیب و غریب انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کا نظریہ کوئی اسلامی ایجاد نہیں ہے۔ اسلام نے صرف اس کی شکل درست کی ہے۔ اس لئے اہل مغرب ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے والے مسلمانوں کو شبے کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ فیس بک کے آرگنائزرز کے مطابق اب تک جتنی درخواستیں آئی ہیں ان میں سے بیشتر تیسری یا چوتھی بیوی کیلئے ہیں۔

مسلمانوں میں دوسری ، تیسری یا چوتھی شادی کا حکم ، رواج یا ضرورت صرف سعودی عرب میں نہیں بلکہ بہت سے مسلم ممالک میں یہ ’’شوق‘‘ پایا جاتا ہے۔ ان کے خیال میں زندگی ایک ’’خوشگوار‘‘ موقع سے دوچار ہو جائے گی اور یہ بات اس وقت اور بھی یقینی ہو جاتی ہے جب یہ دوبارہ یا سہ بارہ شادی کا موقع ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم ممالک میں عقد ثانی کے خواہش مندوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ میں ایسے کئی پاکستانیوں کو جانتا ہوں جو عقد ثانی کے خواہش مند ہیں۔ ایک مسلم شادی بیورو کا دعویٰ ہے کہ ان کے لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ ارکان ہیں جن میں ہر ماہ پانچ تا دس ہزار افراد کا اضافہ ہو رہا ہے جو اکثر یہ کہتے ہیں کہ اس مرتبہ وہ رشتہ پورٹل سے بہتر انتخاب کرتے ہوئے اپنے لئے بہتر فیصلہ کریں گے۔ عقد ثانی کے بارے میں جھجک اور ہچکچاہٹ کا تیزی سے خاتمہ ہو رہا ہے۔ مسلم ممالک میں طلاق کی شرح میں اضافہ کے ساتھ ساتھ شادی کے خواہش مندوں (دوسری ، تیسری یا چوتھی) میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ طلاق شدہ افراد کا ایقان ہے کہ تلخ تجربہ کے بعد وہ دوسری بیوی کے ساتھ ’’بہتر شادی شدہ‘‘ زندگی گزار سکتے ہیں۔ سماج میں بھی اب دوسری شادی یا طلاق کو بری نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ پچاس سے ساٹھ سال کے افراد بھی عقد ثانی کے دوڑ میں برابر کے شریک ہیں۔ اور یہ بات ذہنوں میں جگہ پا گئی ہے کہ طلاق مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ دوسری یا تیسری شادی خوشگوار زندگی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ پہلی بیوی کی موجودگی میں عقد ثانی کا معاملہ اب صرف بڑے شہروں تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ آہستہ آہستہ یہ چھوٹے شہروں اور قصبوں تک پہنچ رہا ہے۔ ایک مسلم ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس یورپ، ایشیا، افریقہ اور امریکہ کے پانچ سو سے زائد شہروں کے افراد کی رجسٹریشن ہے جن میں سے بیشتر دوسری یا تیسری شادی کے خواہشمند ہیں۔

دوسری شادی کے مسئلہ پر شرعی حوالے سے علما کرام میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بہرحال اس خیال پر زور دینا شاید غلط نہ ہو گا کہ دنیا میں ہونے والی پیش رفت اور اسلام کے درمیان کوئی تعلق ہے لیکن یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ اسلام کا نام الزام دھرنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں اور غیر مسلمانوں یا مسلم ممالک اور غیر مسلم ممالک کے درمیان غلط فہمی بڑھتی جا رہی ہے۔ لیکن اس بات سے بھی نظریں نہیں چرائی جا سکتیں کہ ایسی عادات و روایات جو اسلام سے متصادم نہیں تھیں انہیں نہ صرف قبول کر لیا گیا بلکہ بعد ازاں مقامی باشندوں نے بعض روایات کو بسا اوقات اسلام کا جز نہیں تو کم از کم اسلام کے عین مطابق ضرور قرار دے دیا اور پھر بتدریج کہنے اور سمجھنے لگے کہ یہ روایات درحقیقت اسلام کا جز ہیں۔ اس کی ایک مثال حال ہی میں سامنے آئی ہے۔ سعودی عرب کے ایک انسانی حقوق کے کارکن اور سماجی ماہر نے نوجوانوں کو ’’بیرونی خواتین‘‘ کے ساتھ شادی کرنے کے خلاف انتباہ دیا ہے۔ اس سعودی دانشور کو اندیشہ ہے کہ مملکت میں کئی سعودی نوجوان لڑکیاں بن بیاہی بیٹھی ہیں۔ اس کے علاوہ غیر سعودی خواتین کے ساتھ شادیوں کے نتیجہ میں کئی سماجی اور مالی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ان مسائل سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ جو سعودی نوجوان غیر سعودی خواتین سے شادی کے خواہش مند اور خواہاں ہیں انہیں سرکاری اجازت نامہ حاصل کرنا پڑے جیسے اسرائیل یا یہودی خاتون سے شادی کیلئے سرکاری طور پر اجازت لینی پڑتی ہے۔ شاہ سعود یونیورسٹی کے سینٹر برائے تحقیقات نوجوان کے معاون جنرل سیکرٹری نظارہ الصالح نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ بعض سعودی شہری بیرونی ممالک کا محض اس لئے سفر کرتے ہیں کہ عارضی طور پر شادیاں کریں جسے ’’معیادی شادی‘‘ بھی کہا جاتا ہے (یہاں یہ بات یاد رہے کہ سعودی مردوں اور مصری خواتین سے پیدا ہونے والے ان ’’سفری بچوں‘‘ کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے)

سعودی شہری بیرونی ممالک میں قیام کی مہلت یا معیاد ختم ہو جانے کے بعد وہ اپنی ان غیر سعودی بیویوں کو طلاق دے دیتے ہیں۔ نظارہ الصالح نے کہا ہے کہ سعودی شہری عارضی طور پر لطف اٹھانے کی خاطر اس طرح کے اقدامات کرتے ہیں جو خاندانی اقدار کے مغائر ہے۔ جو افراد بیرونی خواتین کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں وہ بیرونی ممالک میں ہی اپنی بیویوں اور بچوں کو بے سہارا اور بے یار و مددگار چھوڑ دیتے ہیں۔ اس سے کئی سعودی خاندان مسائل کا شکار ہو گئے ہیں۔ بالخصوص کئی سعودی دوشیزائیں بن بیاہی بیٹھی ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی حکومت بیرونی خواتین کے ساتھ شادیوں کے معاہدات کو ہرگز قبول نہیں کرتی اور نہ ہی بیرونی خواتین (بیویوں) کو مملکت میں داخلہ کی اجازت دیتی ہے۔

میں کچھ لوگوں کو جانتا ہوں جو بجلی گل ہو جانے پر الماری میں رکھی موم بتی نہیں جلاتے بلکہ نزدیک کی دکان سے مزید موم بتی خرید کر الماری میں رکھ لیتے ہیں۔