انسانی حقوق کی نگہبان۔عاصمہ جہانگیر

مرتے وہ لوگ ہیں جو صرف اپنے لئے جیتے ہیں لیکن جو دوسروں کے لئے جیتے ہیں وہ کبھی مرا نہیں کرتے۔ ایسے لوگ مر کر بھی امر ہو جاتے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر بھی صرف دوسروں ہی کے لئے جیتی تھی لہذا وہ کبھی مر نہیں سکتی، وہ زندہ رہے گی۔  لوگ اس کو زندہ رکھیں گے اسی طرح  جیسے آج امریکہ میں مارٹن لوتھر جونیئر شہریوں کے یکساں حقوق کی تحریک کا سرگرم رہنما، نسلی تفریق اور امتیاز کے خلاف شہری نافرمانی کی تحریک چلانے والا زندہ ہے۔

 عاصمہ جہانگیر بھی زندہ رہے گی اسی طرح جس طرح آج نیلسن منڈیلا زندہ ہے۔ بیسویں صدی کے آخری عشروں میں لبرل ازم کی عالمی علامت، نسلی امتیاز کے خلاف کامیاب جدوجہد کرنے والا نیلسن منڈیلا جس کو دنیا نے زندہ رکھا ہوا ہے۔ مولانا رومی کا ایک بہت مشہور قول ہے کہ خدا تک پہنچنے کے بہت سے راستے ہیں لیکن میں نے خدا کا پسندیدہ ترین راستہ مخلوق سے محبت کو چنا ہے۔ جو لوگ عاصمہ کو جانتے ہیں وہ بخوبی واقف ہیں کہ عاصمہ کا بھی یہی راستہ تھا وہ بھی خدا کی مخلوق سے محبت کرتی تھی۔ بلا امتیاز رنگ و نسل، مذہب و عقیدہ سبھی کو انسان سمجھتی تھی اور تمام زندگی انہی کے حقوق کے لئے وقف کر رکھی تھی ۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کا ممبر ہونے کی حثیت سے میرا عاصمہ جہانگیر سے براہ راست تعلق ایک دہائی سے زیادہ عرصہ پر محیط رہا ہے۔ سینکڑوں بار ان سے انفرادی و اجتماعی ملاقاتیں ہوئیں، دلائل اور سچ پر مبنی ان کی باتوں کو سنا، ہر بار ایک نئی بات سمجھی اور سیکھی ۔ گارڈن ٹاؤن لاہور میں واقع ایچ آر سی پی کے نیشنل سیکریٹیریٹ میں ہونے والی تقریبات میں ان کو ملنے اور سننے کے مواقع ملتے تھے۔ جس وقت عاصمہ جہانگیر وہاں موجود ہوتی تھیں اس وقت اندر کا ماحول اور گہماگہمی کا اپنا ہی رنگ ہوا کرتا تھا۔ قدآور مردوں اور دراز قد عورتوں کے درمیان ایک دبلی پتلی سی خاتون کی اپنی ایک الگ منفرد شان ہوا کرتی تھی۔ ہر طبقہ کے مردوزن کا ہجوم ان کو گھیرے میں لئے ہوتا تھا۔ جب کبھی الگ ملاقات ہوتی تو مسکراتے ہوئے پوچھتیں تھیں کہ کیا خبریں ہیں۔ تو میں ان کو تازہ خبروں سنادیتا تھا۔ ہر سال مارچ، اپریل کے ماہ منعقد ہونے والی سالانہ تقریب میں مجھے بولنے کا ضرور موقع دیا کرتی تھیں۔

پاکستان کی تاریخ کے طالب علموں اور محققین کی تحقیق اس وقت تک نامکمل اور ادھوری رہے گی جب تک وہ عاصمہ جہانگیر کا تذکرہ نہیں کریں گے ۔ عاصمہ جہانگیرانسانی حقوق کے افق پر چمکتا ہو وہ روشن ستارہ تھیں جن کی روشنی سے ہر انسان منور ہوا تھا خواہ اس کا عقیدہ کچھ بھی ہو۔ اور وہ کہیں بھی رہتا ہو۔ پاکستان ایسے قدامت پسند معاشرے میں جہاں ملا، ملائیت اور غیر جمہوری طاقتوں کا غلبہ ہو، وہاں ایک عورت ہونے کے باوجود بہادری، دلیری، جرات اور استقامت کے ساتھ سب دھمکیوں اور فتوؤں کو پاؤں تلے روندتے ہوئے طبعی موت پانا غیر معمولی بات ہے۔ جن موضوعات پر مرد اور ادارے بولنے سے ہچکچاتے اور گھبراتے تھے، ان کے بارے میں عاصمہ بے خوف و خطر اور دھڑلے سے بات کرتی تھیں۔ کسی ڈکٹیٹر کا دور ہو یا سول حکومت کا، جب بھی کبھی ایسا فیصلہ ہوا  جو انسانی حقوق، جمہوریت اور قانون کے منافی تھا، ہر موقع پر انہوں نے قانون کی بالادستی ، مساوات، اور انسانی حقوق کی پاسداری کے لئے اپنی آواز سب سے پہلے بلند کی۔ ایک ایسی سوسائٹی جہاں مذہبی ٹھیکیداروں نے انسان کی شناخت مذہب و فرقہ قرار دے ہو، وہاں انہوں نے خطبہ حجتہ الوداع میں بیان کردہ انسانی برابری اور مساوات کا علم بلند کئے رکھا اور جس کے نتیجہ میں وہ مختلف ممالک اور طبقوں کی ایجنٹ بھی قرار دی گئیں۔

عاصمہ جہانگیر نے نہ صرف پاکستان اور ایشیا میں عورتوں کے حقوق کے لئے غیر معمولی خدمات سرانجام دیں بلکہ عالمی سطح پر بھی  پاکستان کا نام روشن کیا۔ ملکی سیاست میں جبر کے خلاف مزاحمت کی بنیاد رکھی۔ پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو بغل میں دو کتوں  کو دبائے اتاترک بننے کے گھمنڈ میں نئی روشن خیالی کو متعارف کرایا تھا۔  مئی 2005 میں خواتین پر تشدد کے خلاف نکالی جانے والی مخلوط میراتھن ریس پر مذہبی جماعتوں کے مطالبہ پرحکومت کی طرف سے پابندی لگادی گئی تھی اور یہ دور بھی پرویز مشرف ہی کا تھا میں خود بھی وہاں موجود تھا۔ دنیا نے دیکھا کہ عاصمہ نے تمام تر رکاوٹوں کے باوجود سڑک پر دوڑ لگائی اور بعدازاں دیگر خواتین سمیت پولیس کے تشدد کا نشانہ بنی تھیں۔ جن گروہوں کے آگے  پرویز مشرف  نے گھٹنے ٹیکے ہوئے تھے ان کے سامنے عاصمہ جہانگیر اکیلی سیسہ پلائی دیوار بنی رہی تھیں ۔ نیوز چینلز کے ریکارڈ گواہی دیں گے کہ حساس ترین سیاسی موضوعات پر لائیو گفتگو کے دوران ان کا انداز گفتگو بہت پرتحمل اور شائستہ ہوا کرتا تھا جبکہ ان کے مقابل دیگر کے منہ سے جھاگ نکل رہی ہوتی تھی۔ جس سے ان کی کمزوری کا پتہ چلتا تھا۔  عاصمہ جہانگیر صرف انسانی حقوق ہی کی نگہبان نہ تھیں بلکہ وہ امن کی بھی علامت بھی تھیں ۔ کئی سال تک مال روڈ پر یکم جنوری کو مال روڈ پر امن مارچ کرنا، واہگہ بارڈر پر جاکر امن کی شمعیں روشن کرنا ان کی امن محبت کی روشن مثالیں ہیں۔

پریس کلب لاہور کی تاریخ گواہ رہے گی کہ کیسے اس نے باہمت خاتون کو دھاڑتے ہوئے سنا، اور انسان دشمن نظریات کا پرچار کرنے والوں کوللکارتے دیکھا تھا۔ عاصمہ جہانگیر کی انسانی حقوق کی خدمت کا سب سے بڑا کارنامہ لاہور میں1986 میں ایک آزاد اور خود مختار کمیشن کا قیام ہے جس کو آج پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ آج اس کا یہ مقام ہے کہ اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت دیگر عالمی ادارے اور حکومتیں ایچ آر سی پی کی ہی رپورٹس پر یقین رکھتی ہیں۔ اسی ادارے کی توسط سے انسانی حقوق کی صورتحال پر نظر رکھتی ہیں۔ آپ کو اس ادارہ کے شریک بانیوں کا اعزاز حاصل ہے تاہم سچ یہی ہے کہ اس ادارے کو بام عروج پر لے جانے میں عاصمہ جہانگیر کا اہم  کردار اور بے مثال جدوجہد شامل  ہے۔ عاصمہ جہانگیر کا دوٹوک موقف تھا کہ مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر ریاست و حکومت کو کسی شہری سے امتیازی سلوک کرنے کا حق نہیں اور یہی وہ اصولی موقف تھا جس کی وجہ سے ملک کے رجعت پسند ان کے جانی دشمن ہوچکے تھے۔ عاصمہ جہانگیر کی انسانی حقوق کی خدمات کی فہرست بہت طویل ہے ان میں بے گھر عورتوں کے لئے شیلٹر ہومز کا قیام، بھٹہ مزدوروں کے مسائل کے حل کے لئے ایک طویل قانونی جنگ  اور پھر جبری مشقت کی ہرقسم کی پابندی لگوانا۔ اس کے علاوہ انہوں نے  بچوں کے حقوق کے لئے بہت سے اقدامات کئے۔

عاصمہ جہانگیر کو انسانی حقوق کی دیگر عالمی شخصیات کی طرح پابند سلاسل بھی ہونا پڑا اور متعدد بار نظربندی کا سامنا رہا۔ عاصمہ جہانگیر نے انسانی حقوق کے تحفظ اور پاسداری میں کبھی بھی امتیاز نہ برتا تھا اس کا ثبوت امریکہ میں لاپتہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ تھا۔ سب سے پہلے عاصمہ ہی نے اس کو اٹھایا تھا۔ عاصمہ جہانگیر نے پاکستان کے نام اور وقار کو دنیا میں بلند کئے رکھا۔ دنیا کے جس کونے میں بھی جاتیں وہاں پاکستانی عاصمہ جہانگیر کے حوالے سے ذکر ہوتا۔ آج عاصمہ جہانگیر ان پاکستانی شخصیات میں شامل ہوگئی ہیں جن کو بیرون ملک پاکستان کا نام بلند کرنے کی پاداش میں نفرت، تعصب کا مرتے دم تک سامنا رہاتھا۔ عاصمہ جہانگیر کا نام انسانی حقوق کی جدوجہد اور ان کا دفاع کرنے والوں کی فہرست میں سرفہرست لکھا جائے گا خواہ اس کا تعلق پاکستان ، ایشیا یا اقوام عالم سے ہو۔