ایک اور دہشت کا سامنا

  • تحریر
  • جمعہ 16 / فروری / 2018
  • 3038

با خبر تو پہلے سے جانتے تھے لیکن ہم ایسے بے خبروں کو بھی حکومت کی پر اسرار پھرتیوں اور پے در پے اقدامات سے کچھ کچھ انداز ہ ہو رہا تھا کہ پس پردہ کچھ ہلچل سی ہے۔ اب بات کھلی تو تفصیلات بھی سامنے آگئیں کہ پاکستان کو عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ پر نظر رکھنے کے لئے قائم ادارے FATF کی طرف سے دوبارہ واچ لسٹ میں شام کئے جانے کے امکان کا سامنا ہے۔ سو حکومت نے چند ہفتے قبل قومی سلامتی کونسل کے ایک اعلیٰ سطحی میں کئی اقدامات کی منظوری دی جن کی روشنی میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے تنطیموں پر پاکستان نے بھی بالآخر پابندی لگا دی۔ نہ صرف یہ بلکہ ان تنظیموں کے دفاتر، اداروں اور دیگر سہو لیات کا کنٹرول بھی صوبائی حکومت نے سنبھال لیا ہے۔

نہ صرف یہ بلکہ وزارت خزانہ کے وزیر مملکت اور مشیر برائے خزانہ چند ہفتوں سے دوڑ دھوپ کر رہے ہیں کہ پاکستان کیلئے اس ادارے کے ممبر ممالک کی حمایت حاصل کی جا سکے ۔ 35 ممالک پر مشتمل اس بین الملکی ادارے میں امریکہ اور برطانیہ نے یہ تحریک پیش کی ہے کہ پاکستان اس ادارے کے وضع کردہ اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی فنانسنگ روکنے کے ضوابط اور اسی بابت اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کی مکمل پیروی نہیں کر رہا۔ اس لئے پاکستان کو ایک بار پھر واچ لسٹ میں ڈال دیا جائے۔ ایک بار پھر واچ لسٹ میں شامل ہونے سے عالمی سطح پر پاکستان کی مالی مشکلات میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی معیشت کو پہلے ہی شدید مالی خسارے اور دباؤ کا سامنا ہے، ایسے کسی اقدام سے پاکستان میں سرمایہ کاری اور عالمی سطح پر پاکستان کو قرضوں کے حصول میں مزید مشکلات کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے ۔

FATF کیا ہے؟ اس ادارے کا مکمل نام Financial Action Task Force  ہے۔ یہ ادارہ 1989 میں ترقی یافتہ ممالک کی تنظیم OECD نے ایک بین الملکی تنظیم کے طور پر قائم کیا۔ اس کے قیام کا بنیادی مقصد منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے ا قدامات تجویز کرنا تھا۔ اس ادارے نے غور و غوض کے بعد انیٹی منی لانڈرنگ کے لئے چالیس تجاویز پیش کیں جنہیں اس ادارے نے با ضابطہ منظور کیا۔ ان ضوابط کی پابندی کے لئے دیگر ممالک سے بھی تعاون مانگا گیا ۔ عدم تعاون کرنے والے ممالک کو عالمی سطح پر مختلف رکاوٹوں اور قانونی مشکلات کا شکار ہونا پڑا، اس لئے بیشتر ممالک نے ان ضوابط کی طوعاٌ کرہاٌ  تائید کی اور پابندی کی۔ نائین الیون کے بعد دہشت گردوں کی فنانسنگ کی روک تھام کے لئے اس ادارے نے مزید نو تجاویز کیں، یوں اینٹی منی لانڈرنگ کی چالیس اور دہشت گردوں کی فنانسنگ روکنے کے لئے یہ نو تجاویز عالمی سطح پر تمام مالی اداروں اور سیاسی و حکومتی تنظیموں کے لئے رہنما اور لازم اصول ٹھہرے۔  پاکستان اس سے قبل بھی اس ادارے کی جانب سے واچ لسٹ میں رہا ہے۔ 2012 سے لے کر 2015 تک۔ پاکستان نے اپنے تئیں منی لانڈرنگ کی حوصلہ شکنی کے لئے اپنے بنکنگ نظام میں اسٹیٹ بنک کے ذریعے کئی سخت قوانین نافذ کئے۔ اسٹیٹ بنک کی سخت نگرانی اور عالمی سطح پر ایسی کسی شکایت پر فوری ایکشن کا ہی نتیجہ تھا کہ دو سال پہلے ایک بنک کو ایران کے ساتھ پابندیوں کے خلاف ورزی کرنے پر سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں بنک مالکان کو بنک سے ہی ہاتھ دھونے پڑے۔

ایک زمانے میں بنک اکاوئنٹ کھلوانا بہت آسان تھا لیکن اب یہ بہت سے دستاویزی مراحل کے بعد بنکوں کے ہیڈ آفس کی سکروٹنی کے بعد ممکن ہے۔ دستاویزات میں معمولی سی کمی یا عدم اطمینان کی وجہ سے بنک اکاؤنٹ کھلنے میں تاخیر اب معمول ہے۔ اسٹیٹ بنک نے ا ینٹی منی لانڈرنگ قوانین کی سختی سے پابندی کو یقینی بنانے میں مستعدی کو شعار بنائے رکھا ہے جو ایک مستحسن اقدام ہے۔ اس قدر سختی کے باوجود گزشتہ سال پاکستان کے سب سے بڑے بنک کی نیویارک برانچ کو اینٹی منی لانڈرنگ ضوابط کی خلا ف ورزی پر 225 ملین ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑا۔ پاکستان سمیت تمام ممالک کی اب یہ مجبوری ہے کہ ان عالمی ضوابط کی پاسداری کریں یا پھر جرمانوں سمیت دیگر اقدامات کے لئے تیار رہیں۔  بھارت ایک عرصے سے عالمی فورم پر پاکستان کو ٹارگٹ کئے ہوئے ہے۔ بھارت کا الزام ہے کہ ممبئی دھماکوں میں پاکستان کی ایک تنظیم ملوث ہے۔ یہی تنظیم بقول بھارت کشمیر میں مسلح کاروائیوں کی پشت پناہی کرتی رہی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ بھارت چند دیگر تنظیموں پر ایسے ہی الزامات لگاتا آیا ہے۔ پاکستان میں موجود چند گروپس بھارت کی ہٹ لسٹ پر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ سے ایک قرار داد کے ذریعے کچھ عرصہ قبل کچھ تنظیموں پر پابندی کی قرارداد بھی بھارت اور امریکہ کی آشیرباد سے منظور کروائی گئی۔ اس کے بعد سے پاکستان پر دباؤ کی کوششیں جاری ہیں کہ ان تنظیموں پر پابندی لگائی جائے۔ پاکستان ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے اور دہشت گردی سے لگنے والے اپنے زخم اور نقصانات سے عالمی برادری کو آگاہ کرتا آیا ہے لیکن بھارت اور امریکہ کا حالیہ گٹھ جوڑ اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

صدر ٹرمپ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی بڑھتی قربتیں پاکستان کو دنیا میں سفارتی محاذ پر تنہا کرنے پر کمر بستہ ہیں۔ گزشتہ سال صدر ٹرمپ کے بھارتی دورے اور بعد ازاں امریکہ کی افغان پالیسی نے خطے میں بھارت کے کردار کو بڑھاوا دینے کی کوششوں کو مزید تیز کر دیا ہے۔ FATF میں امریکہ کی جانب سے پیش کی جانے والی تحریک کے پسِ پردہ بھارت کی یہی مسلسل کوششیں کارفرما ہیں۔ پاکستان کا یہ موقف رہا ہے کہ بھارت کشمیر میں جاری مزاحمت میں ناکامی اور اپنی ہزیمت چھپانے کے لئے پاکستان پر الزام تراشی کر رہا ہے۔ اس موقف کے باوجود اب پاکستان کو اس فورم پر اس تحریک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس سے بچنے کے لئے پاکستان نے حالیہ اقدامات اٹھائے ہیں۔ پاکستان کو اب اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ پر عالمی گائیڈ لائینز پر عمل درآمد کرنے کے سوا چارہ کار نہیں۔ پاکستانی حکام اور اداروں کو پس پردہ جاری اس کشا کش کا مکمل علم بھی تھا اور ادراک بھی لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ عین آخری موقعے پر راتوں رات صدارتی آرڈی نینس اور انتظامی اقدامات اٹھائے گئے ، جس سے ملک کے اندر اور بیرون ملک یہ تاثر گیا ہے کہ یہ سب کچھ اگلے ہفتے ہونے والے اجلاس میں اپنی کارگزاری دکھانے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ اس فورم پر گزشتہ سال جون میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان نے Compliance اور سخت اقدامات کی یقین دہانی کروائی تھی لیکن اس کے باوجود حکومتی اور انتظامی سطح پر لیت و لعل اور تساہل برتا گیا۔ گزشتہ سال نومبر میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان سے عملی اقدامات کی وضاحت مانگی گئی، تب کہیں جا کر دو ہفتے بعد نیشنل سیکیورٹی کے اجلاس میں ان اقدامات پر غور کیا گیا ۔ آئندہ ہفتے پیرس میں اجلاس سر پر آتے دیکھ کر اور قرارداد کی حمایت میں جرمنی اور فرانس کو بھی پا کر حکومت نے سفارتی محاذ پر بھی گھوڑے دوڑا دئیے ہیں اور انتظامی و قانونی اقدامات بھی دھڑا دھڑ اٹھانا شروع کر دیئے ہیں۔ سینیٹ میں پی پی پی کے سینیٹر فرحت اللہ بابرنے بجا طور عین آخری وقت عجلت میں اٹھائے گئے ان اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے انہیں Eye wash قرار دیا یعنی دکھاوا۔ بہتر ہوتا کہ حکومت اور دیگر ادارے اس حساس مسئلے اور اس کے ممکنہ عواقب کے پیشِ نظر بروقت اقدامات اٹھاتے تو عالمی سطح پر ان اقدامات ساکھ زیادہ معتبر ٹھہرتی۔

پاکستان دہشت گردی کا شکار ہونے اور بے تحاشا نقصانات اٹھانے کے باوجود دہشت گردی سے نمٹنے کے اقدامات میں گاہے گومگو اور گاہے بے عملی کا شکار رہا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان ایک ایسا ہی مربوط اور متفقہ پلان تھا جس میں دہشت گردی کے سدِ باب کے لئے بنیادی وجوہات کے تدارک اور فنانسنگ روکنے کے اقدامات تجویز کئے گئے لیکن چند ایک اقدامات کے سوا اس پلان پر مکمل عملدرآمد کی نوبت نہ آئی۔ اب بھی وقت ہے کہ اس عالمی دباؤ کے باوصف نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر بھی صدق دل سے عمل کرکے ایک محفوظ پاکستان کی طرف بڑھا جائے نہ کہ وقتی طور پر عالمی دباؤ سے نکلنے ہی کو کمال جانا جائے۔