سیاسی عدم استحکام اور معیشت کی صورتحال

موجودہ دور میں جہاں سرمایہ دارانہ نظام نے ترقی کی ہے، ترقی یافتہ ممالک نے صنعتی ارتقاء، انسانی آزادیوں اور جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے کے ساتھ صحت اور تعلیم کی سہولیات فراہم کی ہیں، ان ممالک کے لوگ ریاست کے آئین اور قانون کی پابندی کرتے ہیں تاکہ ملک کے معاشی اور سیاسی نظام اور اداروں کو بہتر طریقہ سے چلایا جا سکے۔ ان کی اقتصادی پالیسیوں میں ایک تسلسل رہتا ہے جس سے سماج پر بہتر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ لوگوں کو روز گار کے مواقع ملتے رہتے ہیں مگر پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔ بلکہ ترقی کو شخصیات کی موجودگی کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔

معاملات کو منتخب اداروں میں طے کرنے کی بجائے احتجاجوں اور دھرنوں کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور پھر معاملات اعلیٰ عدالتوں میں پہنچ جاتے ہیں جس سے ملک میں معاشی سر گرمیاں منجمد ہو جاتی ہیں۔ کاروبار اور کار خانے بند ہو جاتے ہیں غیر یقینی صورتحال سے پورا ملک متاثر ہوتا ہے۔ پانامہ لیکس کی وجہ سے پیدا ہونے والی بے چینی سے معیشت مشکلات کا شکار ہے۔ نئی سرمایہ کاری رک چکی ہے۔ 150ٹیکسٹائل ملیں بند ہو چکی ہیں اس سیکٹرکا 23%قرضہ ڈیفالٹ کر چکا ہے۔ صنعتیں بند ہونے سے لاکھوں محنت کش بے روز گار ہو چکے ہیں۔ ایکسپورٹرکے 200ارب روپے کے سیل ٹیکس ریفنڈ کی ادائیگی نہیں ہو سکی ہے جس کی وجہ سے وہ مشکلات سے دو چار ہے۔ ٹیکسٹائل سیکٹر کے 30%مزدور بے روز گار ہو چکے ہیں ، حکومت نے نئے ٹیکس دہندگان تلاش کرنے کی بجائے موجودہ ٹیکس گزاروں پر ان ڈائریکٹ سیلزٹیکس کا بوجھ ڈال دیا ہے جس سے بزنس کمیونٹی میں عدم اعتماد اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق عالمی مارکیٹ میں پاکستان ٹیکسٹائل کے 23%حصے سے محروم ہو چکا ہے جس کی وجہ مصنوعات کی پید وار ی لاگت میں اضافہ ہے۔ کپاس کی پیدا وار کئی سالوں سے کم ہو رہی ہے ۔ بھارت اور دیگر ممالک کاٹن درآمد کرنے سے حکومتی اضافی ٹیکسز اور درآمدی ڈیوٹی ادا کرنا پڑتی ہے۔ ہماری کاٹن کی پیدا وار 14ملین بیلز سے کم ہو کر11ملین بیلز پر آ گئی ہے۔ بھارت ریسرچ کے ذریعے اپنے نئے بیجوں سے پیداوار دگنی کر چکا ہے جبکہ ہمارے ریسرچ اداروں میں سٹاف تو موجود ہے مگر ریسرچ کیلئے فنڈ دستیاب نہیں ہیں۔ یہ محض نام کے ادارے ہیں یہاں پر عملہ اپنی تنخواہ وصول کر رہا ہے۔

ہماری ایکسپورٹ 25 ارب ڈالر سے گر کر 20 ارب ڈالر ہو گئی ہے جبکہ این ایل سی اور سی پیک کی مشینری کی درآمد کی وجہ سے تجارتی خسارہ ریکارڈ  35.6 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ بیرونی قرضہ63 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے جس سے زر مبادلہ کے ذخائر جن میں سے بیشتر آئی ایم ایف کے قرضوں کی مرہون منت ہے  پر اثر پڑ سکتا ہے ۔ آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کو 2.6ارب ڈالر قرضوں کی مد میں ادا کرنے ہیں اگر ہم ارد گرد کے ممالک کی برآمدات کو دیکھیں تو ویت نام میں دنیا میں سب سے زیادہ 107% ایکسپورٹس گروتھ حاصل کی بنگلہ دیش نے24% بھارت نے31% اور سر ی لنکا نے20%برآمدی گروتھ حاصل کی ہے۔ مرکزی بینک کے مالیاتی رپورٹ میں اس بات کا اعتراف کیا ہے 2016-17میں ملکی برآمدات اور تارکین وطن کی بھیجے جانی والی رقوم میں کمی ہوئی ہے۔ بیرونی زر مبادلہ کے ذخائر جو2015-16 میں18.1ارب ڈالر تھے 2016-17میں کم ہو کر 16.1ارب ڈالر ہو گئے ہیں جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 148فیصد %اضافے کے بعد 12.1ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ سروس سیکٹر میں6% ، زرعی شعبہ میں3.5% اور بڑے درجے کی صنعتوں میں6.3%گروتھ دیکھنے میں آئی ہے جس کی وجہ سے نجی شعبے کے قرضے 7سو 48ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں ۔ جبکہ 2016میں قرضے 4سو46ارب تھے۔

مرکزی بینک کے مطابق زیادہ قرضے پلانٹ مشینری اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں کیلئے لئے گئے تھے 2017- 18کے دوران افراط زر کی شرح ٹارگٹ کے اندر 4.5 سے5.5% رہنے کی توقع کی گئی ہے۔ ملکی معیشت کے پھیلاؤ کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا ہمارا صنعتی سیکٹر سکڑ رہا جس کی وجہ چین سے درآمدات اور سمگلنگ ہے۔  یہ مصنوعات ناقص معیار کی اور سستی ہیں جس نے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی چھوٹی اور کاٹج انڈسٹری کو متاثر کیا ہے ۔ ممکنہ سی پیک کے منصوبوں کی تکمیل سے شاید لوگوں کو روز گار تو مل سکے گا مگر مقامی صنعت اور کاروبار پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ملک میں مینو فیکچرنگ کا شعبہ زوال پذیر ہے جبکہ سروسز سیکٹر میں اضافہ ہو رہا ہے جس میں ٹیلی کمیونیکشن آئی ٹی ، کمپیوٹر ، بینکنگ انشورنس اور خدمات کے شعبے شامل ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر میں ہسپتالوں اور سکولوں کا کاروبار انتہائی منافع بخش ہے جس سے ایف بی آر بہت ہی کم ٹیکس وصول کر پا رہا ہے ۔ حکومت کو زرعی اور صنعتی شعبہ کی طرف توجہ دینا ہوگی کیونکہ یہ سیکٹرز ملازمت کے مواقع پیدا کرتے ہیں ۔ موجودہ حکومت نے 2016 میں ریکارڈ قرضے حاصل کیے۔ مقامی بینکوں سے 3 کھرب روپے کے قرضے حاصل کیے گئے۔ حکومت نے مجموعی طور پر55ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے جس میں چین سے لئے گئے قرضے شامل نہیں ہیں ۔

معاشی ماہرین کے مطابق ابھی مزید قرضے حاصل کیے جائیں گے۔ ہو سکتا ہے آئی ایم ایف کے ساتھ کوئی نیا معاہدہ کرنا پڑے کیونکہ حکومت کی پرانے قرضوں کو ادا کرنے کیلئے نئے قرضے لینے کی پالیسی رہی ہے۔ ہم نے اپنے ریاستی اثاثوں رہن رکھنا شروع کر دیا ہے ۔ ہمارے قرضے بڑھ کر جی ڈی بی کا 65 فیصد ہو چکے ہیں حکومت نے414ارب روپے کے گردشی قرضے بھی ادا کرنے ہیں۔ گزشتہ دنوں میں اسٹاک مارکیٹ بھی نیچے آئی ہے سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ملکی معیشت دباؤ کا شکار ہے بعض جماعتوں نے کرپشن کے نام پرسیاسی محاذ آرائی شروع کر رکھی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی ایجنڈا نہیں ہے ۔ عمران خان کی سیاست میں آمد کے بعد بعض لوگوں کو بہت خوشی ہوئی تھی کہ شاید کوئی  زیرک اور دانشمند سیاستدان عمران خان کے اندر سے نکلے اور پاکستان کی تقدیر بدل دے۔ مگر اس کے تضادات اور بیانات نے ملک کے سنجیدہ حلقوں کو مایوس کیا ہے۔

پی ٹی آئی قیادت کو اپنے اس مہم جو پالیسیوں پر رویوں پر نظر ثانی کرنی ہوگی تا کہ معیشت اور سیاست کا پہیہ با خوبی چلتا رہے ۔ ایک طرف نواز شریف نے اداروں کے ساتھ محاذ آرائی شروع کر رکھی ہے تو دوسری طرف کراچی اور حیدر آباد کی شہری سیاست پر چھائی ہوئی ایم کیو ایم میں تضادات اتنے ابھر چکے ہیں کہ اس میں گروپنگ واضح نظر آ رہی ہے جس کا فائدہ بہر صورت پیپلز پارٹی اٹھائے گی۔ آنے والے دنوں میں پاکستان کی سیاسی اور معاشی افق پر طوفانی کیفیات طاری ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ تمام عمل ملکی سیاست کیلئے بہتر نہیں ہے۔