مسلمانوں کے ادب میں عشق و جنوں کی روایت
- تحریر پروفیسر فتح محمد ملک
- ہفتہ 17 / فروری / 2018
- 10348
اپنے تمامتر تنوعات کے باوجود مسلمانوں کی ادبی روایت ایک ہے۔ زبانوں اور زمانوں کے اختلاف سے اوپر اُٹھ کر دیکھیں تو ہر زبان کے ادب میں ایک ہی آفاقی روح جلوہ گر ہے۔ مولانا جلال الدین رومی (پیدائش:۱۲۰۷) نے کیا خوب کہا تھا کہ ہماری زبانیں جدا ہیں مگر دل ایک ہے۔ ہماری صوفیانہ شاعری اس قول کی صداقت کی شاہدِ عادل ہے ۔
خلفائے راشدین کے بعد جب ہمارے ہاں خلافت ملوکیت بن کر رہ گئی تو امام احمد بن حنبل (وفات:۸۵۵)کے بعد علمائے کرام رفتہ رفتہ سرکار دربار کی چاکری میں مشغول ہو گئے۔ جب مسندِ اقتدارپر متمکن علماء نے دین داری پر دنیا داری کو ترجیح دینا شروع کی تو اُس کے ردعمل میں تصوف کے مختلف دبستان وجود میں آئے۔ اس صورتِ حال کی بہترین عکاسی W. Montgomery Watt کی کتاب Mulsim Intellectual میں موجود ہے۔ کہنے کو تو اس کتاب کا موضوع حضرت امام غزالی (پیدائش:۱۰۵۸) کے احوال و آثار آثار ہیں مگر فی الواقعہ یہ دستاویز مسلمانوں کی فکری اور روحانی تاریخ ہے۔ دربار سے اپنی وابستگی کے دوران ہی زبردست روحانی اضطراب نے امام غزالی کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا:
"al-Ghazali's disquiet was essentially a feeling that his civilization was facing a crisis and the solution was neither to hand nor obvious. When he had recovered from his scepticism, he began a quest for truth by examining the teachings of the four main groups of "seekers from truth", he thereby implied that both he and they lacked some important aspect of truth. The tile of his book, Deliverance from Error, has presumably, a social as well as an individual reference, and carries the implication that the community has somehow gone astray. And it would not be out of place to note here that the title of his greatest book, The Revival of the Religious Science, presumes some decadence or decay in these sciences. It is a major aim of this study to try to discover in what this decadence consisted."1
اسی روحانی اضطراب سے نجات کی تلاش میں امام غزالی اپنے سرکاری منصب سے الگ ہوئے ، مختلف دیار و امصار کی سیر و سیاحت کے بعد احیائے علوم الدین میں منہمک ہو گئے۔ یہ گویاترکِ دنیا کامسلک اپنا کر مسلمانوں کی حیاتِ تازہ کا سامان کرنے کی راہ تھی جس پرخواجہ حسن بصری (۶۴۳۔۷۲۸)، ابو یزید البسطامی(وفات:۸۷۵) ،جنید (وفات:۹۱۰) اور منصور حلاج (وفات:۹۲۲) کے نقوشِ قدم جگمگا رہے تھے۔ اِن ہی مسلمان دانشوروں کی اسلام شناسی سے ہماری ادبی روایت پھوٹی تھی۔
مسلمانوں کی اس ادبی روایت میں عشق و جنوں کا فیضان بصرہ کے مدرسۂ تصوف میں رابعہ بصری سے لے کر بغداد میں منصور حلاج تک اور پھر یہاں سے ابن العربی (وفات: ۱۲۴۰) کے ترجمان الاشواق اور مولانا رومی کی مثنوی اور علامہ اقبال (۱۸۷۷۔۱۹۳۸) کے ’’جاوید نامہ ‘‘ تک مسلسل نکھرتا اور سنورتا چلا آیا ہے۔ جب یہ فلسفۂ عشق برصغیر میں پہنچا تو بڑے ادبی اور تہذیبی مراکز میں قیام پذیر شاعروں نے فارسی زبان میں اس فلسفۂ حیات اور اس سے پھوٹنے والے ذوقِ ادب کو عام کیا مگر دیہات و قصبات کی ناخواندہ آبادی بھی اس نعمت سے محروم نہ رہی۔ ہمارے صوفی شعراء نے فارسی کے ساتھ ساتھ برصغیر کی ہر چھوٹی بڑی عوامی بولی میں اسی فلسفۂ عشق کودل نشیں انداز میں پیش کر کے غریب عوام کی روحانی تربیت کا سامان کیا۔ اس کی ایک مثال علامہ اقبال کے ہمعصر میاں محمد بخش (۱۸۳۰۔۱۹۰۷ء) ہیں۔ آج میاں محمد بخش کی ’’سیف الملوک‘‘ اُن کی شہرتِ عام اور بقائے دوام کاسب سے بڑا ثبوت ہے۔ میاں محمد بخش نے شہزادہ سیف الملوک کی مقبولِ عوام رومانی داستان کو اپنے روحانی تصورات کی ترسیل و ابلاغ کی خاطر یوں استعمال کیا ہے کہ ناخواندہ سے ناخواندہ شخص بھی اسے سن کر اس کے باطنی مفہوم سے تربیت پاتا چلا آ رہا ہے۔ خود میاں محمد بخش نے اس رومانی داستان کو عام آدمی کی روحانی تعلیم و تربیت کا ذریعہ بنایا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ سیف الملوک کی مجازی داستانِ محبت فی الحقیقت عشقِ حقیقی کا استعارہ ہے:
بات مجازی رمز حقیقی وَن وناں دی کاٹھی
سفرالعشق کتاب بنائی سیف چھپی وچ لاٹھی
سید ضمیر جعفری نے حضرت میاں محمد بخش کے منتخب کلام کا منظوم اردو ترجمہ ’’من میلہ‘‘ کے عنوان سے پیش کیا ہے۔ کتاب کے آغاز میں’’ پہلی بات‘‘ کے عنوان سے انہوں نے اپنے بچپن کی حسین یادوں کو تازہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اُن کی والدہ کا یہ معمول رہا کہ:
’’ وہ رات کے پچھلے پہر جس کو ہم لوگ ’’بڑی سرگی‘‘ کہتے ہیں اُٹھ بیٹھتیں ۔ پہلے نوافل پڑھتیں پھر کچھ دیر بقدر چار چھ روٹی، چکی پیستیں، پھر نماز فجر کے لیے مصلے پر بیٹھ جاتیں۔ پھر دُودھ بلونے کا مرحلہ آتا۔ نماز کا سلام پھیرنے کے بعد خاصی دیر تک، ایک لمبی ہزار دانہ تسبیح کے دانوں پر، گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے کا لمبا وظیفہ چلتا جس میں عربی دُعاؤں کے علاوہ پنجابی کے ابیات بھی شامل ہوتے۔ پنجابی ابیات کو جنہیں ’’مدح شریف‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا، بے جی۔۔۔ دھیمی دھیمی۔۔۔’’رحا‘‘۔۔۔(لَے) کے ساتھ پڑھتیں۔ آواز کے سوز و گداز، چہرے کے خشوع و خضوع اور استغراق کی گہری کیفیت سے، جو اُن پر طاری ہوتی، یوں لگتا جیسے پنجابی کے وہ ابیات بھی اُن کی عبادت ہی کا حصہ تھے۔۔۔ ہم دونوں بھائی (یعنی بچے ) چکی اور مصلے کے پاس ہی۔۔۔ کمرے کے اندر یا باہر صحن میں۔۔۔ سوئے ہوتے۔ عربی کی دُعائیں تو ہماری سمجھ میں نہ آتیں۔ البتہ پنجابی ابیات کا کوئی کوئی لفظ پلے پڑ جاتا۔ یوں مجموعی طور پر عبودیت میں گھلی ہوئی نغمگی کا رس غنودگی کے ان معصوم لمحات کو، سونے جاگنے کی ایک ایسی میٹھی اور مقتدر کیفیت میں ڈھال دیتا تھا کہ:
دونوں جہاں ہوں جیسے مرے اختیار میں
’بے جی‘۔۔۔ نے یہ ابیات اُس وقت سے حفظ کر رکھے تھے جب اُن کی ’بے جی‘ ۔۔۔ اپنی صباحوں، سرگیوں میں، چکی پیستے وقت، اپنی بچی کو گود میں لے کر، ان ابیات کا وِرد کیا کرتی تھیں۔ یہ بات ہمیں ہوش سنبھالنے کے بعد جا کر معلوم ہوئی کہ یہ ابیات حضرت میاں محمد بخشؒ کی مثنوی ’’سیف الملوک‘‘ سے ماخوذ تھے۔ پھر کچھ اور آگے چل کر ۔۔۔ جب خود ہم پر جوانی کی چاندنی چھٹکنے لگی۔۔۔ ہم نے دیکھا کہ یہ ابیات تو ہمارے گرد و پیش کی زندگی میں دھڑکنوں کی طرح پھیلے ہوئے تھے۔ جموں۔ کشمیر اور پوٹھوار کے بڑے بڑے قدیم عوامی میلوں۔۔۔ نیزہ اندازی کے مظاہروں۔۔۔ کبڈی کے بین الاضلاعی مقابلوں۔۔۔ اور نامی گرامی بیلوں کی انعامی ’’ہَل دوڑوں‘‘ میں کہ ہزاروں اور لاکھوں کی گنتی میں شوقین پیر و جواں کے ’’پِڑ‘‘ اِن تقریبوں پر بندھا کرتے۔۔۔۔۔ مقبول عوامی موسیقار، اپنے اپنے عہد کے ’’راجے خوشحال اور عالم لوہار‘‘ ۔۔۔۔ چمٹے ، دوتارے، گھڑے اور کھڑتال کی سنگت پر، سیف الملوک کے ابیات الاپتے سُنائی دیتے:
دشمن مرے تے خوشی نہ کریے سجناں وی مر جانا
یہ منظر میلے ٹھیلے سے ہی خاص نہ تھا۔ محراب و منبر ۔ مشائخ کی درگاہوں اور فقیروں کے آستانوں پر بھی یہی کیفیت دیکھی۔ رشد و ہدایت کی ان پاکیزہ مجلسوں میں بھی، مولانا رومؒ کی مثنوی کے فارسی اشعار کے ساتھ ساتھ ’’سیف الملوک‘‘ کے ابیات گونجتے دکھائی دیتے۔ ۔۔۔ عُرسوں ، میلوں اور کھلی مجلسوں ہی میں نہیں۔۔۔ میاں محمد صاحب (ان کے علاقے کے لوگ حضرت کو عموماً اسی مختصر نام سے یاد کرتے ہیں) گھروں اور حُجروں کے اندر بھی موجود تھے۔ یہ لوگ اپنی اپنی سطح پر ۔۔۔۔’’تمنا و تماشا‘‘ کے اظہار اور اُس کے لمس کو محسوس کرنے کے لیے ان ابیات کے گداز، شیرینی اور نمکینی کا وسیلہ ڈھونڈتے تھے۔ غالب و اقبال مجھے مدرسے اور کتاب سے ملے۔ میاں محمد صاحبؒ مجھے اپنے گھر اور اپنے کھیت سے ملے۔ ‘‘۲
سید ضمیر جعفری نے اپنی اسی تحریر میں حضرت میاں محمد بخش کو اپنے زمانے کا رومی قرار دیا ہے۔ مولانا جلال الدین رومی میاں صاحب کے ہمعصر علامہ اقبال کے بھی مرشد تھے:
پیرِ رومی مرشدِ روشن ضمیر
کاروانِ عشق و مستی را امیر
منزلش برتر زماہ و آفتاب
خیمہ را از کہکشاں سازد طناب
نورِ قرآں درمیانِ سینہ اش
جامِ جم شرمندہ از آئینہ اش
از نئے آں نے نوازِ پاک زاد
باز شورے در نہادِ ما فتاد (جاوید نامہ)
عوامی بولی میں رشد و ہدایت کا پیغام عام کرنے میں مصروف میاں محمد بخش ہوں یا فارسی اور انگریزی میں یہی تصورات عام کرنے میں مصروف علامہ اقبال ہوں، ہر دو ایک ہی جذبۂ فکر و عمل میں سرشار ہیں:
وقت است کہ بکشایم مے خانۂ رومی باز
پیرانِ حرم دیدم در صحنِ کلیسا مست!
ایسے میں دنیائے اسلام کو صحنِ کلیسا سے نکال کر حرمِ کعبہ کی راہ پر ڈالنا کل بھی ہماری سنگین ضرورت تھی اور آج بھی ہے۔ تصوف سے پھوٹتی ہوئی مسلمانوں کی ادبی روایت کو اپنا سرچشمۂ فیضان بنا کر ہی ہم اپنی اس قومی و ملی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے ہاں جب بھی مسلمانوں کی ادبی روایت کی جانب اشارہ کیا جاتا ہے تو پڑھنے سننے والوں کے ذہن میں فوراً قیامِ پاکستان کے فوراً بعد چھڑی جانے والی پاکستانی ادب، اسلامی ادب اور جماعتِ اسلامی کے’’ حلقۂ ادبِ اسلامی‘‘ کے نام پر اُٹھائے جانے والے سوالات جاگ اُٹھتے ہیں۔ جاننا چاہیے کہ مسلمانوں کی ادبی روایت کا ان ہنگامی سیاسی سوالات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ منصور حلاج سے لے کر علامہ اقبال تک جس مسلمان دانشور نے بھی مسلمانوں کی ادبی روایت کی آبیاری کی ہے اُسے کُفر کے فتوؤں سے نوازا گیا ہے۔ انہی صاحب جنوں مسلمانوں کی پروان چڑھائی ہوئی ادبی روایت سے اٹوٹ وابستگی ہماری آج کی سنگین ادبی اور روحانی ضرورت ہے۔ جب ہم اس ادبی روایت کی تفہیم و تعبیر میں کوشاں ہوں گے تب ہمیں پتہ چلے گا کہ ع: اِک جنوں ہے کہ باشعور بھی ہے۔
حواشی:
1. Mulsim Intellectual, W. Montgomery Watt, The Edinnburgh University Press, 1963, Pp. 56-57.
۲۔ من میلہ: میاں محمد کے کلام کا اردو ترجمہ، سید ضمیر جعفری، لوک ورثہ، اسلام آباد، مئی ۱۹۸۰، صفحات ۱۲،۱۳