عاصمہ جہانگیر: مزاحمت کی علامت

انسانی حقوق کی معروف ، پرجوش اور سرگرم راہنما عاصمہ جہانگیر واقعی اپنی ذات میں ایک با کمال عورت تھیں ۔ اس ملک میں جب بھی انسانی حقوق سے وابستہ معاملات یا تحریک پر تاریخ  مرتب کی جائے گی تو عاصمہ جہانگیر کا نام کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جاسکے گا۔ پاکستان میں وہ واقعی انسانی حقوق کا استعارہ تھیں اور ایسی آواز جو ہمیشہ کمزور ، مظلوم ، بے کس اور بے سہارا عورتوں اور مردوں کے لئے اٹھتی تھی ۔ جن مسائل یا مقدمات کو لینے یا لڑنے کے کوئی سکہ بند بہادر تیار نہ ہوتا تو عاصمہ جہانگیر اپنے خود کو پیش کردیتی تھیں ۔ وہ  ایک ایسی متحرک اور فعال شخصیت تھیں جو ہمیشہ کچھ نہ کچھ کرنے کی لگن، شوق اور جستجو رکھتی تھیں ۔

عاصمہ جہانگیر کا کمال یہ ہے کہ اس نے ملکی اور عالمی سطح پر جہاں اپنے حامی اور چاہنے والوں کا ایک بڑا طبقہ پیدا کیا وہیں اس کے مخالفین کی تعداد بھی کم نہ تھی ۔ وہ کیونکہ  دیدہ دلیری کے ساتھ معاشرے کے حساس سیاسی ، سماجی ، قانونی اور مذہبی معاملات پر کھل کر اور بے باکی سے اظہار کرتی تھیں جو اس روائیتی معاشرے میں بہت سے لوگوں کے لیے قابل قبول نہ تھا ۔ عاصمہ جہانگیر کی سوچ، فکر ، حکمت عملی اور طریقہ کار سے بہت سے لوگوں کو اختلاف ہوسکتا ہے اور اختلاف کا پیداہونا خود کوئی عمل نہیں ۔ لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ انہوں نے اس ملک میں انسانی حقوق کا مقدمہ بغیر کسی تفریق کے ایک توانا اور مضبوط آواز کے طور پر لڑا ۔  وہ جہاں ایک سپاہی تھیں وہیں انہوں نے انسانی حقوق کی تحریک کو اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی بنا پر بھی قوت بخشی۔  پاکستان میں انسانی حقوق کی پاسداری ، قانون کی حکمرانی ، عدل وانصاف کی سربلندی ، مظلوموں اور پسے ہوئے طبقوں کی دادرسی  اور فوجی حکمرانوں سمیت جمہوری آمروں کے خلاف ایک توانا آواز خاموش ہوگئی ہے ۔ یہ آواز پاکستان کے منظرنامہ پر کئی دہائیوں سے چھائی ہوئی تھی اور کئی مضبوط سیاسی اور فوجی حکمران اسے اپنے خلاف ایک مضبوط آواز سمجھتے تھے ۔ آہنی عزم سے دلیرانہ لڑنے والی  غیر معمولی عورت عاصمہ جہانگیر نے جو بھی انسانی حقوق کے تناظر میں مقدمہ لڑا ، وہ نہ صرف کمزور طبقات کا تھا بلکہ ایسے کرداروں کا تھا جن کا کوئی پرسان حال نہیں تھا ۔ مذہب ، رنگ و نسل اور فرقہ سے بالاتر ہوکر انہوں نے وہ مثال قائم کی جو بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے ۔

عاصمہ جہانگیر کے ساتھ کئی دہایؤں سے تعلق تھا اور پہلی بار جب ان کو بولتے سنا تو ان کی جرات پر واقعی داد دینے کو دل چاہا ۔ اس پہلی ملاقات کے بعد کئی میٹنگوں ، اجلاسوں ، کانفرنسوں اور سیمیناروں میں ان کے ساتھ بیٹھنے، سننے اور بولنے کا موقع ملا ۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ تمام تر مشکلات اور دھمکیوں کے باوجود ان کی آواز مدھم ہونے کی بجائے اور زیادہ جوش کے ساتھ طاقت پکڑتی تھی ۔ مذہبی انتہا پسندی کے خلاف وہ ایک طاقت ور فریق کے طور پر مقدمہ بڑی جرات سے لڑتی رہیں اور آخری دم تک اس انتہا پسندی کے خلاف لوگوں کو منظم کیا ۔ عاصمہ جہانگیر نے جو جرات اور بہادری حاصل کی وہ بنیادی طو رپر اپنے والد سے متاثر ہوکر حاصل کی تھی ۔ ان کے والد ملک غلام جیلا نی سول سروس کے بعد سیاست میں متحرک ہوئے ۔ مشرقی پاکستان میں یحیٰی خان نے فوجی کارروائی کا آغا ز کیا تو ملک غلام جیلانی اس کی مخالفت میں پیش پیش تھے ۔ اس جرم کی پاداش میں پہلے ان کو گھرمیں نظربند کیا گیا اور پھر جیل بھیج دیا گیا۔ اس وقت عاصمہ جہانگیر کی عمر 21 برس تھی اور وہ قانون کی طالبہ تھیں۔ وہ اپنے والد کی رہائی کے لیے کئی نامور وکلا کے پاس گئیں  لیکن جنرل یحیٰی خان کے خوف سے کوئی بھی مقدمہ لڑنے کو تیار نہ ہوا۔ بیٹی ہونے کے ناطے انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ یہ مقدمہ خود لڑنا چاہتی ہیں ، انہوں نے مقدمہ بھی لڑا اور جیتا بھی ۔ یہ مقدمہ آج بھی ہماری قانونی اور عدالتی تاریخ میں عاصمہ جیلانی مقدمہ کے نام سے مشہور ہے اور یہ ہی مقدمہ بنیادی طور پر ان کی وجہ شہرت بھی بنا ۔ یہ وہ دور تھا جب وکالت کا شعبے کو مردانہ شعبہ سمجھا جاتا تھا ۔ مگر عاصمہ نے اس میدان میں آکر دوسری عورتوں کے لیے بھی مثال پیش کی اور کئی نوجوان لڑکیاں ان کی دیکھا دیکھی اس شعبے سے منسلک ہوئیں ۔

عورتوں کے خلاف تشدد کے مسائل ہوں یا بچوں کے ساتھ ذیادتی کے معاملات، لاپتہ افراد کا معاملہ ہو یا پولیس ٹارچر کے واقعات وہ کسی بھی معاملہ میں خاموش نہیں رہیں ۔ ریاستی اداروں اور حکمران طبقات سمیت بالادست قوتوں سے ان کی لڑائی ہمیشہ سے رہی ، اگرچہ یہ لڑائی ان کی ذاتی کم اور انسانوں سے تعلقات اور ان کو مضبوط دیکھنے سے جڑی ہوئی تھی ۔عاصمہ جہانگیر نے اپنی دوستوں کی مدد سے پاکستان میں پہلی بار ویمن ایکشن فورم کی بنیاد رکھی جو جنرل ضیا الحق کی نام نہاد اسلامائزیشن کی پالیسیوں اور عورتوں کے خلاف قانون سازی کے خلاف متحرک ہوئی اور اس کے بعد بچوں کے حقوق پر کام کرنے کے لیے اے جی ایچ ایس او ربعد میں انسانی حقوق کمیشن کی بنیاد رکھی ۔ ان سب اداروں کے پیچھے ان کی واحد سوچ انسانی حقوق کی پاسداری کی جنگ تھی ۔ عاصمہ کا جو بھی موقف تھا وہ اس میں کوئی الجھاؤ نہیں رکھتی تھیں اور بلند آواز سے نہ صرف موقف پیش کرتیں بلکہ اس کے لیے جدوجہد خود بھی کرتیں تھیں اور دوسروں کو بھی ترغیب دیتی تھیں کہ ان کو اس ظلم کے خلاف خاموش رہنے کی بجائے مل کر آواز اٹھانی ہوگی ۔ جنرل مشرف کے دور میں چلنے والی وکلا تحریک میں بھی ان کی حیثیت ایک قائد کی تھی اور ایک طرف وکلا اور دوسری طرف سول سوسائٹی کی قیادت کرنے کا شرف بھی ان کو حاصل ہوا۔ وہ پہلی خاتون تھیں جو سپریم کورٹ بار کی صدر منتخب ہوئیں ۔غیرت کے نام پر قتل اور عورتوں کے خلاف دیگر فرسودہ رسم و رواج سمیت جاگیر دارانہ نظام اور سوچ کے خلاف ا ن کی حیثیت کی ایک سپاہی کی تھی ۔

عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر میں نے ان کے سخت ترین مخالفین کو بھی دیکھا جو ساری زندگی عاصمہ کی سوچ اور فکر سے مختلف رائے رکھتے تھے لیکن وہ یہ تسلیم کرتے تھے اور کررہے ہیں کہ عاصمہ واقعی ایک مضبوط اور توانا آواز تھی اور جس جرات سے وہ بات کرتیں تو کئی مردوں کے پیچھے چھوڑ دیتی تھیں ۔ بالخصوص جمہوریت کو مضبوط بنانے اور غیر جمہوری قوتوں کو کمزور کرنے کی خواہش بھی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی ۔ وہ اس خواہش کو محض خواہش تک محدود نہیں رکھ سکیں بلکہ عملی طور پر پاکستان میں جمہوریت کی مضبوطی کا مقدمہ آخری سانس تک لڑا۔ وہ بنیادی طور پر اس بات کی خواہش مند تھیں کہ ہر ادارے کا اپنا ایک دائرہ کار ہے اور اسی میں رہ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ مجھے ذاتی طور پر ان کی بعض حکمت عملیوں اور طریقہ کار سے اختلاف تھا اور یہ بات وہ بھی جانتی تھیں اور بہت سے لوگ بھی واقف ہیں ۔ لیکن ان کی جدوجہد کو میں قدر کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ کیونکہ ایک ایسے معاشرے میں جہاں محرومی کی سیاست غالب ہو اور کمزور طبقات کے ساتھ ریاستی وحکومتی استحصال موجود ہو اور ریاستی ادارے کمزور کی بجائے طاقت ور کے ساتھ کھڑے ہوں،  وہاں انسانی حقوق کا مقدمہ لڑنا آسان کام نہیں تھا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر حکومت ان کو اپنے لیے خطرہ اور حزب اختلاف ان کو اپنا دوست سمجھتی تھی ۔ جب بھی حکمران اقتدار سے باہر آتے تو ان کو اپنی آواز یا مقدمہ لڑنے کے لیے عاصمہ جہانگیر کی ضرورت ہوتی تھی ۔

عاصمہ جہانگیر پر ان کے مخالفین نے لاتعداد الزامات لگائے ان کی کردار کشی بھی کی  لیکن وہ جرات کے ساتھ آگے بڑھتی رہیں ۔ ان کا موقف تھا کہ کچھ لوگ ان کو کمزور دیکھنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ میں جو آواز بلند کررہی ہوں اس پر خاموشی اختیار کرلوں ، مگر یہ میرے لیے ممکن نہیں تھا ۔ ان کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ بہت زیادہ کام کرنے کی عادی تھیں اور ہر وقت کچھ نہ کچھ کرتی دکھائی دیتی تھیں ۔  پاکستان میں انسانی حقوق ، عورتوں ، بچوں ، مزدوروں اور ہاریوں کے حقوق پر مبنی سماجی و سیاسی تحریک کا بڑا کریڈیٹ عاصمہ جہانگیر کو جاتا ہے ۔

اب وہ اس دنیا سے چلی گئیں ہیں ، لیکن ایک بات طے ہے کہ ان جیسی جرات مند آواز کا متبادل ملنا کوئی آسان کام نہیں ۔ بعض کردار اپنے کام سے پہچانے جاتے ہیں اور عاصمہ جہانگیر بھی ان میں سے ایک ہیں جن کو ان کے حامی اور مخالفین دونوں آسانی سے بھول نہیں سکتے ۔