قصہ بازار کلاں پشاور کا

3 فروری کے روزنامہ ’’آج‘‘ میں ہمارے محترم دوست ڈاکٹر امجد حسین کا کالم نظر نواز ہوا جو انہوں نے محبت کے ساتھ بازار کلاں کی تزئین کے بارے میں لکھا تھا اور بار بار انتظامیہ کو ستائش پیش کی تھی۔ پشاور کی قدیم تاریخ میں بازار کلاں اہمیت کا حامل ہے۔ اس بازار کی ابتدا گور گور گھٹڑی سے ہوتی ہے اور سڑک چوک یار خان تک جاتی ہے۔

یہ علاقہ گنج کہلاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مہاراجہ کنشک کا علاقائی خزانہ علاقہ گنج ہی تھا۔ شاید یہی وجہ ہے یہ علاقہ متمول، بارسوخ لوگوں کی رہائش گاہ تھا۔ آج بھی اسی بازار میں تاریخی محلہ سیٹھاں موجود ہے۔ جس میں سیٹھوں کے برجوں والے محل نما گھر موجود ہیں۔ گور گھٹڑی بذات خود تاریخ کا نادر نمونہ ہے۔ جس کی دوسری منزل پر بازار کلاں کی طرف ابھری ہوئی کھڑکی مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ماہر جرنیل ایوی ٹیبل کا دفتر اور چوکی تھا۔ جس میں بیٹھ کر وہ بازار کلاں کا نظارہ کرتا تھا اور شہر کی نقل و حمل پر نظر رکھتا تھا۔ رتی بھر بے اعتدالی پر سزائیں دیتا تھا۔ (نہ جانے ایوی ٹیبل کون تھا؟ لیکن آج بھی قدیم پشاوری گھرانوں میں اسے ’’ابوطویلہ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے)

ڈاکٹر امجد نے بازار کلاں کی تزئین کا ذکر محبت سے کیا ہے۔ ہم اس سے قبل بھی لکھ چکے ہیں کہ ڈاکٹر امجد کو پشاور سے والہانہ محبت ہے جس کو صرف اور صرف ’’عشق بلا خیز‘‘ کا نام دیا جا سکتا ہے:

اے پشاور کے دلربا کوچو
آپ کے جاں نثار ہیں ہم لوگ

ہمیں یہ جان کر مسرت ہوئی کہ بازار کلاں کی تزئین نو کی داغ بیل ڈالی جا چکی ہے۔ اور ہمارا دل بے رحم بے قابو ہو کر پشاور کے در و بام پر پرواز کرنے لگا ہے:

کلیاں پھوٹیں، قریا مہکا، یاد پشاور آتا ہے

گور گٹھڑی سے گھنٹہ گھر کی طرف جائیں اور دائیں ہاتھ کو پشاور کا تاریخی محلہ آتا ہے جسے محلہ سیٹھاں کہا جاتا ہے۔ اس سے ذرا آگے محلہ قاضی خیلوی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شہر کی انتظامیہ اسی علاقے میں رہائش پذیر تھی۔ یہ صنعت کاروں اور تاجروں کا بازار تھا۔ آگے چلیں تو ایک اور محلہ آتا ہے جس کا نام ہے محلہ باقر شاہ۔ ہم اس محلے کے پس منظر سے زیادہ واقف نہیں لیکن یہ جانتے ہیں کہ ہمارے مہربان دوست خیل الرحمان کا آبائی گھر یہیں تھا جو بعد میں نیوی کمانڈر ہوئے اور ان سے ہماری تجدید ملاقات بحرین میں ہوئی۔ کمانڈر خلیل الرحمان ریٹائرمنٹ کے بعد سابق صوبہ سرحد کے گورنر بنے۔ اسی محلے کی ایک اور باغ و بہار شخصیت کا نام تھا فرشتہ خان۔ وہ صاف ستھری شلوار قمیض میں ملبوس، بالوں کو کنگھی کرکے، ماتھے پر جھکائے رکھتے تھے۔ مناسب داڑھی بھی تھی اور تہواروں پر شلوار قمیض پر نکٹائی بھی لگا لیتے تھے۔ فرشتہ خان جان محفل تھے۔ کرکٹ کے رسیا تھے۔ شاہی باغ کے جم خانہ کلب میں اور محلہ باقر شاہ کے مخصوص تندور پر غضب ناک محفلیں جماتے تھے۔ گھنٹہ گھر کے قریب مسجد کے سامنے ایک خیراتی ڈسپنسری تھی۔ اس رعایت سے ڈسپنسری کا پشاوری نام ’’کلیجیوں والا اسپتال‘‘ پڑ گیا۔ گھنٹہ گھر کے نیچے مچھلی بازار تھا (شاید اب بھی ہو) مچھلی بازار کے دکان دار ایسے کہ بڑے بڑے اہل زبان کو نیچا دکھا دیں۔ وہ مچھلی کیا بیچتے تھے گویا دستر خوان شاہی کا سودا کر رہے ہوں:

کیا گھنٹہ گھر بھی بجتا ہے
آزان موذن دیتا ہے
اس شہر کی جامع مسجد سے
کیا جوتی اب بھی چراتے ہیں

پشاور اور ہمارے درمیان سالوں اور میلوں کی مسافت حائل ہو گئی ہے لیکن جب بھی پشاور کا ذکر آتا ہے تو دل کی ساری انمگیں جاگ اٹھتی ہیں۔ گور گھٹڑی، بازار کلاں، قصہ خوانی بازار ، جابجا قہوہ خانے جن سے ٹانکے لگی چینکوں میں قہوہ تختہ کلب پر آتا تھا۔ امجد جان: اپنے دل پر ہاتھ رکھو اور ہمارے دل کی صدا سنو:

وہ شہر ہماری دھڑکن ہے
وہ دل میں ہمارے بستا ہے
ہم پھولوں کے رکھوالے ہیں
اس شہر کے رہنے والے ہیں