عمران خان ، کامیابی اور عورت کا ہاتھ
- تحریر سید محمد اشتیاق
- منگل 20 / فروری / 2018
- 4044
مشہور و مقبول مقولہ ہے۔ ’’ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔“ اس مقولے کو کبھی دل نے تسلیم نہیں کیا کیونکہ اس مقولے سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے، گویا کہ ہر ناکام مرد کے پیچھے ایک یا ایک سے زائدعورتوں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ یہ خواتین کے ساتھ زیادتی ہے کیونکہ ہر ناکام مرد کے پیچھے اس کی ناقص حکمت عملی اور کرتوت ہوتے ہیں نہ کہ ایک یا اس سے زائد عورتیں۔ اسی لیے اس مقولے سے تعصب اور صنفی امتیاز کی بو آتی ہے۔
ویسے بھی فی زمانہ مشہور و مقبول سیاسی قائدین کے حالات زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو ان کی کامیابی کے پیچھے ایک سے زائد عورتوں کے علاوہ دیگر ہاتھوں کا بھی سراغ ملتا ہے۔ مشاہدہ تو یہی ہے کہ ہر کامیاب مرد اور عورت کے پیچھے، اس کی خداداد صلاحیتوں کے ساتھ کئی شخصیات کا ہاتھ ہوتا ہے، جن میں والدین، اساتذہ کرام کے علاوہ، ان لوگوں کا ہاتھ بھی ہوتا ہے جن کی صحبت اس نے اٹھائی ہوتی ہے۔ بلکہ وطن عزیز میں ہی اکثر ایسے کامیاب افراد مل جائیں گے، جن کے پیچھے ان کی خدادا د صلاحیتوں ساتھ کئی عورتوں کے ہاتھ کے ساتھ تیسری قوتوں کا بھی ہاتھ رہا ہے۔
محترم عمران خان وطن عزیز کے مقبول سیاسی رہنما ہیں۔ کپتان کو بطور کھلاڑی جب پہلی بڑی کامیابی ملی تھی تو پوری قوم گواہ ہے کہ اس کامیابی کے پیچھے موسم، قوم کی دعاؤں کے ساتھ کئی مردوں کا بطور کھلاڑی ہاتھ تھا۔ اسی طرح والدہ مرحومہ کی یاد میں تعمیر کیے جانے والے شوکت خانم اسپتال کی تکمیل اور کامیاب طور پر خدمات سر انجام دینے میں بھی پوری قوم کا ہاتھ تھا اور ہے۔ قوم نے جس طرح بڑھ چڑھ کر شوکت خانم اسپتال کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالا، اس نے عمران خان کی ہمت بندھائی اور انہوں نے قوم کا احسان تسلیم کرتے ہوئے، قوم کے احسان کا بدلہ چکانے کے لیے عملی سیاست میں حصہ لے کر قوم کی خدمت کا بیڑہ اٹھایا۔ لیکن ایک عشرے سے زائد مدت تک عوامی و قومی سطح پر سیاسی پذیرائی سے محروم رہے۔ کیونکہ سیاست کے میدان میں پہلے ہی سے کہنہ مشق سیاست دان موجود تھے، جن کے پیچھے آہنی ہاتھوں کے علاوہ کئی عورتوں کا ہاتھ رہا۔ عمران خان کی خواہش رہی ہے کہ وزیر اعظم بن کر وطن عزیز میں ایسی تبدیلی لائیں کہ بدعنوانی کا مکمل خاتمہ ہو، صاف وشفاف احتساب ہو، ملک میں امن و امان کی فضا ہو، تحریک انصاف میں کوئی بدعنوان اور نا اہل سیاست دان نہ ہو۔
لیکن چند سال پہلے عمران خان کو ادراک ہوا کہ تن تنہا یہ پہاڑ سر کرنا ممکن نہیں، سو ایسے ہاتھوں کی تلاش کا آغاز کیا کہ جن کی مدد سے وطن عزیز کی خدمت کا دیرینہ خواب وزیر اعظم بن کر پورا کیا جائے۔ کیونکہ شیروانی تو عرصہ دراز سے تیار ہے۔ جب ادھر ادھر نظر دوڑائی، تو کپتان کو ایک ایسا خفیہ آہنی ہاتھ نظر آگیا، جو قریب ہونے کے باوجود نظروں سے اوجھل تھا۔ کپتان اپنی ازلی لاعلمی پر، اپنے مخصوص اندا ز میں شرمائے اور مسکرائے اور اپنا ہاتھ، اس خفیہ آہنی ہاتھ سے ملایا تو کپتان کے سیاسی انداز و اطوار ہی بدل گئے اور کپتان ملکی سیاست میں گھنے بادل کی طرح چھا گئے۔ اب کپتان کی روایتی سیاست کا آغاز ہوا کیونکہ بقول کپتان ملک میں تبدیلی کے لیے فرشتے کہاں سے لاؤں۔ لیکن یہ سب جتن کرنے کے بعد بھی کپتان کی جماعت گزشتہ انتخابات میں قومی اسمبلی کی اتنی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی کہ وفاق میں حکومت تشکیل دینے کا دیرینہ خواب پورا کر سکے۔
کپتان نے انتخابات میں شکست کو دلی طور پر قبول نہیں کیا اور سابقہ شکست خوردہ جماعتوں کی روش اپناتے ہوئے، دھاندلی کا گھسا پٹا نعرہ لگایا اور اسلام آباد میں دھرنا دے دیا اور مطالبہ کیا کہ دھاندلی کی صاف و شفاف تحقیقات عدالت عظمی کے حاضر سروس جج حضرات سے کروائی جائے۔ اور خود امپائر کی انگلی کے اشارے کے منتظر رہے۔ سانحہ آرمی پبلک اسکول کی وجہ سے دھرنا تو ختم کر دیا، لیکن دھاندلی کی تحقیققات کے مطالبے پر قائم رہے۔ عدالت عظمی کے ججز کی جانب سے دھاندلی کے حوالے سے فیصلہ آیا کہ انتخابات میں منظم دھاندلی کے ثبوت نہیں ملے۔ کیونکہ تحریک انصاف ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ دوران دھرنا عمران خان نے دوسری شادی کی خواہش کا اظہار کیا اور شادی کر بھی لی۔ گو کہ شادی کا اعلان اور شادی کی رسومات، رسمی طور پر بعد میں ادا کیں۔ افسوس کہ یہ شادی زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکی، جس کا دکھ کپتان کے ساتھ ان کے مداحوں اور سیاسی کارکنان کو بھی ہوا۔ پانامہ لیکس کی وجہ سے کپتان کو میاں نواز شریف کی حکومت جاتی نظر آئی تو عام ا نتخابات اور اس میں کامیابی کی امید بندھی۔ میاں نواز شریف تو نااہل ہوگئے لیکن مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم رہی اور سیاسی حالات گو کہ مستحکم تو نہیں کہے جا سکتے لیکن سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے یہی ہے کہ عام انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہوتے نظر آتے ہیں۔
عمران خان عرصہ دراز سے روحانیت پر یقین رکھتے ہیں، اسی لیے سیاسی کامیابی کے لیے دیگر سیاست دانوں کی طرح روحانی پیروں اور پیرنیوں سے دعا بھی کرواتے ہیں اور سیاسی رہنمائی بھی حاصل کرتے ہیں۔ ایسے ہی کسی روحانی شخصیت نے محترم عمران خان کو سیاسی و روحانی کامیابی کے حصول کے لیے تیسری شادی کا مشورہ دیا تو تیسری شادی کی مبینہ خبریں بھی وطن عزیز کے طول و عرض میں پھیل گئیں۔ حسب سابق تردید کی گئی کہ ابھی صرف رشتہ دیا ہے۔ لیکن اب شادی کی تصدیق بھی کردی گئی ہے اور ذرائع ابلاغ کے لیے تصویر بھی جاری کردی گئی ہے تواس تحریر کے ذریعے عمران خان کو شادی کی مبارک باد دیتے ہیں اور ان کی سیاسی و روحانی کامیابی کے لیے پر امید ہیں۔ اس دفعہ محترم عمران خان نے روحانی شخصیت سے شادی کی ہے۔ قیاس یہی ہے کہ ہماری طرح عمران خان بھی، اس مشہور و مقبول مقولے پر یقین نہیں رکھتے کہ ” ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ “