اچھی خبروں کا گاہک کون بنے

  • تحریر
  • جمعہ 23 / فروری / 2018
  • 3129

ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ملک میں ایک ہی ٹی وی چینل ہوتا تھا۔ خبروں، حالات حاضرہ، ڈرامے اور دیگر پروگراموں کا واحد ذریعہ۔ سرکاری کنٹرول میں رہتے ہوئے اس کے حالات حاضرہ کے پروگراموں اور خبروں کی پیش کاری کے بارے میں یہ تاثر اور ناقدین کا گلہ عام رہا کہ سرکار دربار کا ہی ذکر اور فکر چھایا رہتا ہے۔ البتہ ڈراموں و دیگر پروگراموں کا معاملہ بالکل مختلف رہا ، ایک سے ایک کلاسیک ڈرامے، ایک سے ایک یادگار میوزک پروگرام اور عالمی معیار کے دستاویزی پروگرام اسی زمانے میں تخلیق ہوئے۔

سرکاری چینل پالیسیوں نے پی ٹی وی پر حالت حاضرہ کے علاوہ دیگر پروگراموں کی تخلیق کے کام کو بھی مسلسل ایک چیلنج بنائے رکھا، خصوصاٌ ڈرامے اور مزاحیہ پروگراموں کے مصنفین اور پروڈیوسروں کے لئے۔ ضیا الحق دور میں پی ٹی وی پر دوپٹہ پالیسی کا سختی سے نفاذ کیا گیا۔ نیوز کاسٹر کے میک اپ تک سے اخلاقیات کو خطرات لاحق ہو جاتے۔ ہیرو اور ہیروئن کے درمیان فاصلے کی بھی حدود طے کر دی گئیں۔ محبت بھر جذبات کے مکالمات میں اتنی جان ڈالنا ہیرو کی ہمت تھی کہ فاصلے کو عبور کرکے ہیروئن تک جذبات جوں کے توں پہنچ جائیں۔ مزاحیہ پروگراموں کے ساتھ تو معاملہ اور بھی حساس تھا کہ کہیں فقروں کی ساخت ، اداکاری کے اشاروں کنایوں یا کسی خیال سے غیر ارادی طور پر حکومت کی نازک مزاجی کے آبگینوں کو کہیں ٹھیس نہ لگ جائے۔  اس قدر سختی کے ہوتے ہوئے بھی اس زمانے کے پروڈکشن ماہرین نے لاجواب ڈرامے تخلیق کئے، یاد گار میوزک پروگراموں کی ایک طویل قطار لگا دی اور سب سے بڑا کمال تو مزاحیہ پروگراموں میں ہوا۔ تعلیم بالغاں، ففٹی ففٹی، جیدی سمیت درجنوں ایسے یادگار پرگرام تخلیق کئے گئے جن کا سحر آج بھی قائم ہے۔ ان ہی پروگراموں میں فاروق قیصر کا ایک شہرہ آفاق پروگرام کلیاں بھی تھا۔ پتلیوں کے کرداروں پر مبنی اس پروگرام میں معاشرے کی چھوٹی چھوٹی برائیوں اور معاملات کو اس انداز میں پیش کیا جاتا کہ تنقید بھی ہو جاتی، ہنسی بھی آتی اور اصلاح کا پہلو بھی نمایاں رہتا۔

انکل سرگم کا مرکزی کردار فاروق قیصر خود ادا کرتے ۔ ان ڈراموں میں ایک کردار ایک غیر ملکی سیاح کا بھی تھا۔ یہ سیاح کوئی بھی محیر العقول واقعہ دیکھتا تو آخر میں اس کا ایک ڈائیلاگ ہوتا۔۔۔ واٹ آ کنٹری ( What a country ! ) ۔ ہمیں یہ سب کچھ یوں یاد آیا کہ ہمارے ہاں بہت سے سیاسی اور سماجی معاملات کے روزمرہ کے مظاہر دیکھ کر بے اختیار زبان سے نکل جاتا ہے؛ واٹ آ کنٹری! اسی ڈائیلاگ کا ایک موثر متبادل بھی بہت مقبول ہے ، جو کچھ یوں ہے، او کیا لوگ ہو تم !

اب تین درجن سے زائد نیوز چینل ہیں، درجنوں انٹرٹینمنٹ چینل ہیں لیکن حالت یہ ہے کہ ریموٹ سنبھالے تمام نیوز چینل ایک ایک کرکے دیکھ لیجئے، مجال ہے کسی چینل پر آپ کو کوئی خیر کی خبر مل جائے۔ لوٹ کھسوٹ، چوری ڈکیتی، مخالفین کے لتے، سیاست کے تانے بانے کے سوا شاذ ہی کچھ اور ملے۔ اور اس پر مستزاد ٹاک شوز کی تکرار اور چنگھاڑ۔ گھبرا کر یا بیزار ہو کر انٹر ٹینمنٹ چینل گھما کر دیکھیں تو ایک کے بعد ایک چینل پر مونہہ بسورتے کردار، روتے دھوتے، ایک دوسرے پر چیختے چنگھاڑتے ہی نظر آتے ہیں۔ مزاحیہ پروگرام تو اب سیاسی تمثیل کے ہو کر رہ گئے۔ اسٹیج تھیٹر کے کردا ر اپنے تمام تر ذو معنی اور سطحی پن کے ساتھ اب اسکرین میں آن گھسے ہیں۔ دیکھیں تو کیا دیکھیں۔ کبھی کبھی تو یہ خیال آتا ہے کہ ایک ٹی وی چینل ہی بہتر تھا ۔ اب تو اکثر یہ حالت ہو جاتی ہے کہ ایک انگریزی محاورے کے مصداق کہ پانی پانی ہر جا مگر پینے کو ایک بوند بھی نہیں !

میڈیا کی اس فراوانی میں سیاست کی جولانی نے مستقل رونق لگا رکھی ہے۔ ایک خبر سے فراغت نہیں ہوتی کہ دو مزید بریکنگ نیوز تیار کھڑی ہوتی ہیں۔ لودھراں کے ضمنی الیکشن اور سینیٹ کے الیکشن کے کس بل ابھی گن ہی رہے تھے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آ گیا کہ ایک بار نا اہل پارٹی صدارت کے لئے بھی نا اہل ہے۔ یہاں تک تو بات واضح ہوئی لیکن اس سے آگے یہ کہ ایسے شخص کے پارٹی فیصلے اور اقدامات بھی کالعدم ٹھہرے۔ اب یار لوگ اس سوچ میں ہیں کہ سینیٹ انتخابات پر اس کا کیا اثر ہو گا، وزیراعظم کے انتخاب کی قانونی حیثیت کیا ہوگی وغیرہ وغیرہ ۔ یہ اور اس طرح کے دیگر سوالات اور ان سوالات سے جنم لینے والے وسوسوں کے گھمسان میں اس دوران پاکستان کے حق میں دو اچھی خبریں بھی ملیں لیکن ان میں سے ایک خبر کو تو کچھ کوریج ایک آدھ دن کے لئے ملی لیکن دوسری خبر کو مین اسٹریم میڈیا میں پذیرائی نصیب ہی نہ ہوئی ۔  ہمارا گزشتہ کالم پاکستان کو درپیش ایک ممکنہ مہم جوئی کے بارے میں تھا کہ پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں امریکہ اور برطانیہ پاکستان کو اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کے سلسلسے میں واچ لسٹ میں ڈالنے کے لئے محرک ہیں۔ تازہ ترین صورتحال کے مطابق پاکستان کی سفارتی کوششیں اس حد تک رنگ لائی ہیں کہ پاکستان کو رواں اجلاس میں واچ لسٹ میں ڈالنے کا فیصلہ موخر کر دیا گیا ۔ پاکستان کو تین مہینے کا وقت دیا گیا ہے کہ وہ اپنی پوزیشن واضح کرے۔ ایک کمیٹی اس بابت اپنی رپورٹ جون میں ہونے والے اجلاس میں پیش کرے گی جس پر دوبارہ بحث ہوگی۔

وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بجا طور پر اپنے دوست ممالک کی مدد کا شکریہ ادا کیا ہے جن کی معاونت اور سپورٹ سے یہ بلا تین مہینے کے لئے ٹل گئی لیکن یہ بلا واپس نہیں گئی۔ تین ماہ بعد پھر سے وارد ہونے کے لئے ٹھہر ائی گئی یا ٹھہر گئی ہے۔ کچھ سیکیورٹی ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ تین ماہ تک موخر کرنے کی ایک بنیادی وجہ پاکستان کو اس دوران مسلسل دباؤ میں رکھنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ تین ماہ تک اس کا التوا اپنی جگہ لیکن بنیادی سوال بھی اپنی جگہ بدستور قائم ہیں ۔ دنیا کے بیشتر ممالک پاکستان کے موقف کے حامی نہیں یا کم از کم ان کی مکمل تشفی نہیں ہوئی۔ تین ماہ بعد جب یہ رپورٹ جون میں پیش ہوگی تو اس وقت پاکستان میں نگران حکومت ہوگی (اگر اس دوران حالات نے کوئی غیر متوقع پلٹا نہ کھایا تو۔۔ )۔ ملک کے اندر اس سمت مزید انتظامی اقدامات کے لئے جس سیاسی قوت اور ارادے کی ضروت ہے وہ اس وقت شاید اس انداز میں دستیاب نہ ہو۔ اس لئے عین ممکن ہے کہ اس صورت میں یہ بلا پھر سے سر پر آن کھڑی ہو۔

پاکستان کو یورپی ممالک میں برآمدات کے لئے جی ایس پی پلس کی رعایت کافی بھاگ دوڑ کے بعد دی گئی تھی۔ اس کا دوسرا سالانہ جائزہ ابھی مکمل ہوا ہے۔ پاکستان مخالف لابی نے بھرپور زور لگایا کہ پاکستان پر معاہدوں کی پابندی نہ کرنے کو ثابت کیا جائے۔ 27 معاہدوں میں سے اقلیتی اور انسانی حقوق سے متعلق معاہدے بالخصوص نشانے پر تھے۔ پاکستان نے انتظامی اقدامات اور سفارتی حمایت حاصل کرنے میں عمدہ مہارت کا مظاہر ہ کیا اور یوں یہ لٹکتی ہوئی تلوار بھی دو سال کیلئے ٹل گئی۔ پاکستان کی برآمدات کا ایک تہائی کے لگ بھگ یورپی ممالک کو جاتا ہے۔ جی ایس پی پلس کی سہولت نے پاکستان کی برآمدات کو بہت بڑا سہارا دیا ہے، بالخصوص بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے میں یہ سہولت غنیمت ہے۔ دوسرے جائزے کے بعد اس سہولت میں دو سال تک کا اضافہ یقینی ہو گیا ہے جو معیشت اور برآمدات کے لئے اچھی خبر ہے۔

ریموٹ ہاتھ میں لئے ہم ایسے ناظرین تین درجن چینل گھما کر کوئی اچھی خبر کے متلاشی رہتے ہیں۔ مانا کہ سیاست کی خبریں زیادہ سنسنی خیز اور رسیلی ہوتی ہیں لیکن ملک اور اس کے نظام کے بارے میں ہمہ وقت پریشان کن خبرین سن سن کر انسان تھک بھی جاتا ہے اور مایوسی کا شکار بھی ہو جاتا ہے۔ اس پس منظر میں حیرانی کیسی کہ ہر دوسرے یا تیسرے شخص سے ملک کے مسقتبل کے بارے میں سوال سننے کو ملتا ہے۔ اگر ناظرین اور میڈیا کچھ اچھی خبروں کو بھی سننے اور دکھانے کو شعار بنا لیں تو کیا ہو۔ شاید ہم یاسیت اور نرگسیت کے شکار ہیں اور کوئی اچھی خبر سن اور دکھا کر اپنی کیفیت سے باہر نکلنے کے لئے مائل ہی نہیں۔ کلیاں پروگرام کے سیاح کردار کا فقرہ شاید اتنے سالوں بعد بھی اور وہ بھی میڈیا کے ہجوم میں آج بھی اسی لئے تازہ لگتا ہے کہ ہم خود کو بدلنے پر مائل ہی نہیں۔۔۔ واٹ آ کنٹری!