عاصمہ جہانگیر انسانی حقوق اور جمہوریت کا روشن استعارہ!
- تحریر افتخار بھٹہ
- ہفتہ 24 / فروری / 2018
- 4663
حریت فکر کی علمبردار، بہادری اور عمل کا نمونہ عاصمہ جہانگیر رخصت ہوئیں۔ اس کی زندگی انسانی حقوق، جمہوریت، قانون اور آئین کی بالا دستی کیلئے جدو جہد سے عبارت تھی۔ انہوں نے تین آمروں کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ یہ محترم خاتون ملک کے بے نوا طبقوں کی آواز تھیں۔ دستور کی بالادستی، جمہوریت، آزادی اظہار، حقوق نسواں کے لئے جد و جہد ان کا شعار تھا۔ انہوں نے ریاستی یا غیر ریاستی جبر و تشدد کا بہادری سے مقابلہ کیا۔ وہ اب ہمارے درمیان نہیں رہیں لیکن اس کی باتیں اور یادیں ہمارے درمیان رہیں گی۔
آج کل اس کی یاد میں مختلف تنظیموں اور جماعتوں کی طرف سے تعزیتی ریفرنسوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں اس کے کار ہائے نمایاں کو بیان کرتے ہوئے خود کو اس کی جدو جہد میں شریک ثابت کرنے کیلئے زور لگایا جا رہا ہے ۔ سیکو لر فہم کی حامل عاصمہ جہانگیر انسانوں کی مذاہب و عقیدہ و ذات پات اور رنگ و نسل کی بنیاد پر تقسیم کی قائل نہیں تھیں۔ اس کے نزدیک دو طبقات تھے ایک استحصالی اور دوسرے مظلوم جو کہ سماج میں نسلی معاشرتی سماجی اور معاشی منافرتوں کا شکار اور دوسرے درجے کے شہری تھے۔ عاصمہ جہانگیر سے میری پہلی ملاقات گجرات میں ہوئی جبکہ وہ بھٹہ مزدور راہنماؤں کو ملنے کیلئے گجرات تشریف لائیں۔ اس کے بعد ایک انتخابی مہم کے سلسلہ میں گجرات ضلع کچہری میں اصغر علی گھرال کے ہمراہ بات چیت کا موقع ملا۔ میں اور میرے دوست اس کے جرات مندی کے ہمیشہ قائل رہے ہیں۔ کیونکہ اس نے سب سے پہلے لاہور میں مغربی پاکستان میں فوجی آپریشن کے خلاف مظاہرہ کیا۔ وہ ضیاء الحق کی آمریت کے خلاف مال روڈ پر جدو جہد میں مصروف رہ۔یں 1971میں راقم الحروف اور افتخا ر الحق تراب 19سال کی عمر میں یحیٰی خان کے آپریشن کے خلاف بھوک ہڑتال کی وحشت اور نظریاتی جبریت کے عہد میں پروان چڑھتے آمروں کے خلاف جدو جہد کی تحریک میں محترمہ نصرت بھٹو ، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور عاصمہ جہانگیر کی شخصیات ہمیشہ نمایاں رہیں گی۔
عاصمہ جہانگیر نے ریاستی جبر ، آئین کی پائیمالی اور رجعت پسندوں کی نا انصافیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی اس کا نظریہ پسے ہوئے طبقات کی برابری کے ساتھ رجعت پسند اور باطل سوچ سے آزادی کا فلسفہ تھا۔ وہ اتنا سچا اور طاقتور ہے کہ اکیلی عاصمہ جہانگیر کی آواز پوری ریاست کیلئے چیلنج بن جاتی ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے واہگہ بارڈر جا کر امن کی شمعیں روشن کیں۔ دہلی میں خطاب کے دوران پاکستان کے انسانی حقوق کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے جمہوریت اور انسانی حقوق پر آواز اٹھائی جس سے ان کے تمام مخالفین کے بیانات اور الزامات کی نفی ہوتی ہے۔ بھٹہ مزدوروں کیلئے جلسے کیے اور ان کے مقدمات کی پیروی کی۔ اقلیتوں کے حقوق کی حمایت کرنے کے ساتھ ان کے خلاف عدالتوں میں مقدمات کی پیروری کی۔ خواتین کے حقوق کیلئے آواز اٹھائی۔ 2005میں مشرف دور میں خواتین پر تشدد کے خلاف عاصمہ جہانگیر کی قیادت میں خواتین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے میرا تھن ریس کا انتظام کیا۔ اس ریس کو روکنے کی کوشش میں عاصمہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ 2006-7میں وکلاء تحریک کے دوران ججوں کی رہائش گاہوں پر رات کو پیہرا دینے کا فیصلہ کیا۔ وہ رات عاصمہ کی جدو جہد کے حوالہ سے منفرد تجربہ تھا جس میں عاصمہ جہانگیر کے ساتھ کامریڈ فاروق طارق اور چند سماجی کارکن تھے۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان میں نا قابل فراموش خدمات سر انجام دیں عاصمہ جہانگیر، آئی اے رحمن اور ممتاز دانشور صحافی حسین نقی کی معاونت میں خود کو مضبوط تصور کرتی تھیں۔ عاصمہ جہانگیر کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہ تھا اور نہ ہی اس نے کوئی پولیٹیکل فورم قائم کیا تھا اور نہ ہی اس کا کوئی سیاسی حلقہ انتخاب تھا۔ مگر اس نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس کا ہر انتخاب میں ووٹ کیلئے ترجیح ہمیشہ پاکستان پیپلزپارٹی رہی ہے۔ اس کی جدو جہد بے باکی اورجرات کی گونج تمام انسانی حقوق جمہوریت قانون اور آئین کی بالا دستی پر یقین رکھنے والوں کیلئے راہنمائی کا ایک روشن ستارہ تھی۔ اس کی آواز پختونخواہ ، بلوچستان اور سندھ میں سنی جاتی تھی۔ اس نے بلوچ لیڈر اکبر بگٹی سے ملاقات کی۔ اس نے نظریاتی اختلاف اور تنقید سے قطع نظر ہمیشہ ریاستی تشدد جو کہ ملکی یا عالمگیر سطح پر تھے ان کے خلا ف آواز اٹھائی اور کسی قانونی مقدمہ کی پیروی کرتے وقت اس کو نظریات کے ترازو میں نہیں تولا بلکہ اپنی اس کمیٹمنٹ کے ساتھ منسلک رہی ۔
عافیہ صدیقی کے لئے جب مذہبی طبقات محض مظاہرے کر رہے تھے تب عافیہ کیلئے پہلی پٹشن عاصمہ جہانگیر نے دائر کی۔ اس نے دنیا کو بتایا کہ اس کے ساتھ کیا ظلم ہوا ہے۔ نیز عافیہ کے بیٹے کیلئے مشرف کے راستے میں کھڑی ہوئی تھی جب ماورائے عدالت لا پتہ کیے جانے والوں کی خبر لینے کا کسی کو خوصلہ نہیں تھا۔ تب ان کی بازیابی کیلئے عاصمہ جہانگیر نے تحریک چلائی جس کی وجہ سے مقتدرہ ادارے نے مطلوبہ افراد کو کورٹ میں پیش کیا۔ جب اسامہ بن لادن کی فیملی کو ایبٹ آبا د آپریشن کے بعد گرفتار کیا گیا تو عاصمہ نے آواز اٹھائی یہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔ یہ اس کیس کے حوالے سے پاکستان کی پہلی اور آخری آواز تھی۔ جس کے بعد اس کے بارے میں کسی کو کچھ کہنے کا حوصلہ نہیں ہوا ہے۔ کشمیر میں جب برہان وانی کو قتل کرکے سری نگر میں کرفیو لگایا گیا تو اسلام آباد میں ہندوستان کےخلاف پہلا احتجاجی مظاہرہ عاصمہ جہانگیر نے کیا ۔جبکہ امت مسلمہ کو خبر نہیں تھی صدر ٹرمپ نے یور و شلم کو اسرائیل کا دار الحکومت قرار دے دیا تو اس وقت سب سے طاقتور ٹویٹ پاکستان میں ٹرمپ کے خلاف عاصمہ جہانگیر کی آئی تھی۔ عاصمہ جہانگیر نے ہمیشہ طاقتور مقتدرہ افراد کی نا انصافیوں اور تشدد کے خلاف آواز اٹھائی جس کے بدلے میں اس کو رجعت پسندوں کی طرف سے سماجی معاشرتی فرقہ وارانہ اور انسان دوستی کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
90کی دہائی میں جنرل اسد بیگ، جنرل اسد دورانی اور جنرل حمید گل کے ساتھ مل کر بے نظیر بھٹو کی حکومتیں گرانے والے نواز شریف کو بھی سمجھ میں نہیں آتی تھی کیونکہ اس وقت میاں صاحب محب وطن ہوا کرتے تھے۔ اب جبکہ وہ احتسابی شکنجے میں ہیں اور انہوں نے طلال چوہدری کے حوالے سے سپریم کورٹ میں مقدمہ کی پیروی کی درخواست کی تھی۔ عاصمہ نے اوکاڑہ ملٹری فارم کے مزار عین کے مقدمہ کی بلا معاوضہ پیروی کی۔ میرے دوست کامریڈ فاروق طارق کا عاصمہ جہانگیر کے ساتھ 2001سے رابطہ تھا۔ اس نے یہ مقدمہ بلا معاوضہ لڑا تھا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی عدالت میں اس نے بہادری کے ساتھ مظاہرین کے ساتھ غیر انسانی حقوق کی داستان کو بیان کیا اور ہائی سیکیورٹی جیل تبدیل کرنے کا کہا۔ چیف جسٹس نے مہر عبدالستار کی بیڑیاں کھولنے کا حکم دیا اور جیل میں عاصمہ سے ملاقات کرنے کی اجازت دی۔ فاروق ستار نے عاصمہ جہانگیر اور عابد ساقی کے ساتھ عبدالستار سے جیل میں ملاقات کی۔
عاصمہ کے والد غلام جیلانی ایڈووکیٹ ایک متحرک سیاسی شخصیت تھے۔ وہ ایڈمرل احسن ، شاہ احمد نورانی، ولی خان اور اصغر خان جیسے عمائدین میں شامل تھے جنہوں نے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کی مخالفت کی اور کہا کہ گولی چلنے کی صورت میں نتائج گھمبیر ہوں گے۔ چنانچہ مشرقی پاکستان الگ ہو گیا۔ ان کے والد کا گھر ہمیشہ سیاسی سر گرمیوں کا مرکز رہا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو جب بھی لاہور آتے تھے تو میاں محمود علی قصوری کے گھر ٹھہرتے تھے جبکہ محترمہ نصرت بھٹو ، بے نظیر بھٹو عاصمہ جہانگیر کے والد کی رہائش گاہ پر قیام کرتی تھیں۔ اس طرح سیاست عاصمہ کے خون میں بچپن ہی سے رچی بسی تھی۔ عاصمہ جہانگیر کو کئی بین الاقوامی ایوارڈ ملے۔ اس کی جدو جہد پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ہدیہ تبریک پیش کیا ہے۔ حکومت نے انہیں ہلال امتیاز سے نوازا۔ وہ ایک ایسی لیڈر تھیں جس کا تعلق کسی سیاسی جماعت گروہ یا این جی او سے نہیں تھا ۔ اس کا حلقہ سیاست انسانی حقوق سے محبت کرنے والے تھے۔ وہ یقیناًآج دکھی ہیں۔ اس کو خراج عقیدت پیش کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسانی حقوق اور جدو جہد کی بالا دستی کیلئے جدو جہد کو جاری رکھا جائے۔ سماجی اور معاشی نا انصافیوں سماجی آزادیوں لبرل اور ڈیمور کریٹس سوچوں کی علمبردار تھیں۔ عاصمہ اب نہیں رہی ہے وہ دن دور نہیں جب پاکستانیوں کو احساس ہوگا کہ انہوں نے کس قدر قیمتی چیز کو کھو دیا ہے۔