نواز شریف کی لڑائی کا مقصد کیا ہے
- تحریر محمدعامرحسینی
- اتوار 25 / فروری / 2018
- 3896
سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو سپریم کورٹ پاکستان کے تین رکنی بنچ نے پارٹی صدارت سے بھی نااہل قرار دے دیا ہے اور ان کے نااہلی کے بعد بطور صدر مسلم لیگ نواز کیے جانے والے فیصلوں کو بھی کالعدم قرار دے دیا ہے ۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ان کا نام مسلم لیگ نواز کی صدارت سے ہٹا دیا ہے ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں پولیٹکل پارٹیز ایکٹ 2017 کی شق نمبر 203 جسے مسلم لیگ نواز کی حکومت نے ترمیم کے ذریعے ایکٹ کا حصّہ بنایا تھا کو 17 مختلف درخواست گزاروں نے چیلنج کیا تھا، جن میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلزپارٹی بھی شامل تھی۔
حکومت اور مسلم لیگ نواز کے وکلاء نے عدالت عالیہ میں مذکورہ بالا ترمیم کے حق میں دلائل دیتے ہوئے بنیادی موقف یہ اختیار کیا کہ آئین کا آرٹیکل 17 ہر شخص کو تنظیم سازی کرنے اور اس کا حصّہ بننے کا حق دیتا ہے اور وہ چاہے کوئی عدالتی سطح پہ پارلیمنٹ کی اہلیت کے قابل قرار دیا جانے والا شخص ہی کیوں نہ ہو۔ اور اس شق کو آئین کی دفعہ 62 اور 63 سے جوڑ کر نہیں دیکھا جاسکتا۔ عدالت عالیہ نے اپنے مختصر فیصلے میں حکومتی وکلاء کے اس موقف کو ایک تو اس دلیل کے ساتھ رد کیا کہ آئین کا آرٹیکل 17 بھی کسی فرد کے تنظیم سے وابستہ ہونے پہ قواعد و ضوابط عائد کرتا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ عدالت عالیہ کے بنچ کے ذہن میں آئین کے آرٹیکل 17 کی ذیلی شق الف ہو جس میں کسی شخص کی کسی تنظیم سے رکنیت کو بہرحال ملکی سلامتی، امن عامہ اور اخلاق سے پابند کیا ہے ۔ اور اسی اخلاق سے متعلقہ آئین کی شق 62 اور 63 ایف کے ساتھ ملا کر دیکھنے پہ اصرار کرتے ہوئے نواز شریف کو پارٹی صدارت سے بھی نااہل قرار دے ڈالا ہو، یہ بات تفصیلی فیصلے میں واضح ہوگی۔
مسلم لیگ نواز کی جانب سے اس کیس کے آغاز میں ہی کہا جارہا تھا کہ یہ کیس نواز شریف کو نشانہ بنانے کے لیے چلایا جارہا ہے ۔ سپریم کورٹ کے موجودہ ججز پہ نواز شریف سمیت جملہ مسلم لیگی حکومتی و تنظیمی عہدے داروں کی تنقید کا لب لباب یہ تھا کہ سپریم کورٹ نے پاناما کیس کا ایک کمزور فیصلہ دیا تھا جس کو دور کرنے کے لئے وہ اب نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کا فیصلہ کرے گی ۔ وزرات عظمیٰ کے بعد پارٹی صدارت سے نااہل قرار دئے جانے والے نواز شریف نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بنچ کے فیصلے کے بعد جو بیان میڈیا کو جاری کیا، وہ شاید ان کے اب تک کے جاری کیے جانے والے بیانات میں سے سب سے سخت بیان ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ‘ایک ادارے کا ہاتھ پارلیمنٹ کے گریبان تک پہنچ چکا ہے ۔ پارلیمنٹ کی طرف سے بنائے گئے قانون کو من مانی تعبیر سے ختم کرنا انتہائی خطرناک عمل ہے ’۔ نواز شریف اور ان کے دیگر رہنما پارلیمنٹ کے سادہ اکثریت سے بنائے گئے کسی قانون کو کالعدم قرار دیئے جانے کے عمل کو پارلیمنٹ کی بالادستی کے منافی عمل قرار دیتے ہیں لیکن ان کی اس دلیل سے اپوزیشن پارٹیاں بھی اتفاق نہیں کررہی ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے قانونی امور میں وسیع تجربہ رکھنے والے رہنما چودھری اعتزاز احسن اور چئرمین سینٹ رضا ربانی کا کہنا ہے کہ سادہ اکثریت سے پارلیمنٹ کے بنائے قانون کو اگر سپریم کورٹ آئین کی کسی شق یا آئین کی مجموعی روح کے خلاف سمجھے تو اسے ختم کرسکتی ہے ۔ وہ اس ضمن میں عدالتوں کے ماضی میں کردار کو زیر بحث لاتے ہیں تو اس سارے عمل میں قریب قریب 30 سال تو خود ان کا ( نواز شریف کا) کردار بھی ایسا ہی رہا ہے کہ انہوں نے آمروں اور ججوں، بیوروکریٹس کے ساتھ مل کر جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی کوششوں کا ساتھ دیا ہے ۔
نواز شریف جب آئین کی شق 62 ون ایف کے تحت پاناما کیس میں اپنی نااہلی کو پارلیمنٹ کی توہین قرار دیتے ہیں تو ان کے سامنے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کا فیصلہ رکھا جاتا ہے جس کے درخواست گزار تو وہ خود تھے ۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے نواز شریف کو ایک بار پھر یاد دلایا ہے کہ وہ پاناما ایشو کو خود پارلیمنٹ سے نکال کر سپریم کورٹ لے کر گئے تھے اور پارلیمنٹ کو انہوں نے اہمیت نہیں دی تھی۔ میاں محمد نواز شریف پاناما کیس پہ فیصلے کے بعد سے اپنے گرد ‘مظلومیت’ کا ایک ہالہ تعمیر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ پنجاب میں خاص طور پہ اپنے حامی اور ووٹرز کے سامنے خود کو ‘مزاحمت، بغاوت اور عظیم جمہوریت پسند’ لیڈر کے طور پہ متعارف کرانے کی سرتوڑ کوشش کررہے ہیں۔ نواز شریف کے میڈیا مینجرز نے پاکستان کے مین سٹریم میڈیا کے اندر ایک بڑے پیمانے پہ لابی کو متحرک کیا ہے ۔ ایک معروف میڈیا گروپ کے مالک اور ان کے گروپ کے اخبارات اور ٹی وی چینل سے وابستہ درجن بھر صحافیوں، تجزیہ کاروں اور اینکرز کے بارے میں عمومی رائے یہ ہے کہ وہ نواز شریف کی میڈیا پروپیگنڈے کی مہم کی نہ صرف نگرانی کررہے ہیں بلکہ خود بھی اس کا حصہ ہیں۔ پاکستان میں لبرل پریس کا ایک سیکشن حیرت انگیز طور پہ نواز شریف کی حمایت میں جم کر کھڑا نظر آتا ہے ۔ اس سیکشن کی شہرت عام طور پہ امریکی، برطانوی لبرل پریس سیکشن اور بین الاقوامی لبرل تھنک ٹینکس، ریسرچ انسٹی ٹیوشنز کے ساتھ جڑے ہونے کی ہے ۔
یہ سیکشن بین الاقوامی رائے عامہ اور پاکستان کے اندر لبرل سوچ رکھنے والوں کو نواز شریف کے بارے میں یہ رائے دیتا آیا ہے کہ نواز شریف لبرل اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہوگئے ہیں اور وہ افغانستان و بھارت و امریکا کے حوالے سے پاکستانی قدامت پرست ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور ان کے حامیوں کی سوچ پہ مبنی خارجہ و داخلہ پالیسیوں میں بدلاؤ چاہتے تھے ۔ وہ پارلیمنٹ کی بالادستی کے منصوبے پہ کام کررہے تھے اور ڈیپ سٹیٹ پالیسی کو ریورس گئیر لگانے والے تھے ۔ اس حوالے سے ڈان لیکس بھی سامنے آئی۔ نواز شریف کی حمایت میں سرگرم پاکستانی لبرل پریس کا یہ سیکشن اپنے تئیں انٹرنیشنل اور نیشنل میڈیا کے اندر لبرل ڈیموکریٹ پرتوں کو یہ بیانیہ پیش کررہا ہے کہ پاکستان کی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں پہ ملٹری اسٹبلشمنٹ کا جو بہت طاقت ور اثر ہے اس کو پنجاب میں مقبول کوئی سیاست دان ہی توڑ سکتا ہے ۔ ان کے خیال میں نواز شریف اس کے لیے بہترین شخص ہیں۔ اس پرو نواز لبرل سیکشن کی اس روش کے بارے میں بہت سی آرا زیر گردش ہیں۔ ایک میڈیا گروپ سے تعلق رکھنے والے کئی ایک نامور صحافیوں کو کئی اداروں کا سربراہ بھی متعین کیا گیا۔ پیمرا کے چئیرمین، پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین، لاہور کلچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور پی ٹی وی کارپوریشن سمیت کئی اداروں میں تعینات کیے جانے والے نام ایسے ہیں جو میڈیا میں نواز شریف کے امیج بلڈنگ پروجیکٹ سے وابستہ بتلائے جاتے ہیں۔ نواز شریف کا بطور لبرل اینٹی اسٹیبلشمنٹ امیج بلڈ اپ کرنے والی صحافتی اور سول سوسائٹی کی لابی کے مقابلے میں پاکستانی مین سٹریم میڈیا کے اندر ایک لابی بہت نمایاں طور پہ متحرک نظر آتی ہے ۔ اس لابی کا بظاہر چہرہ بہت قدامت پرست اور انتہائی دائیں بازو کی جانب جھکا نظر آتا ہے ۔ یہ نواز شریف اور ان کی حمایت میں سرگرم لابی کو ہندوستانی و امریکی ایجنٹ اور اسلام مخالف قرار دیتی ہے ۔ نواز شریف کو سکیورٹی رسک بھی بتایا جاتا ہے ۔
یہی لابی ایک دوسری انتہا پہ جاکر عسکری اور عدالتی اشرافیہ کو فرشتے ثابت کرنے پہ مصر ہے ۔ پاکستان کے اندر مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا میں ایک تیسرا رجحان بھی ہے ۔ یہ گروہ نواز شریف کی موجودہ کمپین کو نہ تو جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی اور ووٹ کے تقدس کی جنگ خیال کرتا ہے اور نہ ہی پاکستانی ریاست کی غیر منتخب ہئیت مقتدرہ عسکری و عدالتی اسٹیبلشمنٹ اور سول نوکر شاہی کو ‘مشکل کشا’، سب سے زیادہ محب وطن یا نیک نیت تصور کرتا ہے ۔ یہ سیکشن موجودہ رسہ کشی کو حکمران طبقات کے درمیان مفادات کی لڑائی کے سوا کچھ خیال نہیں کرتا۔ اس سیکشن کے خیال میں مسلم لیگ نواز، تحریک انصاف اور ریاست کے غیر منتخب ہئیت مقتدرہ کے اندر ان جماعتوں کے مبینہ اتحادیوں کی باہمی لڑائی اصل میں ہئیت مقتدرہ کے ہی دو بڑے دھڑوں کی باہمی لڑائی ہے ، جسے نواز شریف کیمپ زبردستی اسٹیبلشمنٹ نواز اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ لڑائی بنا کر دکھاتا ہے ۔ نواز شریف اور ان کے ساتھی انٹرنیشنل میڈیا پہ جہاں خود کو لبرل چہرے کے ساتھ پیش کر رہے ہیں، وہیں پہ وہ ملک کے اندر مذہبی اور سیاسی رجعت پسندوں کے ساتھ بھی اپنا اتحاد مضبوط کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کے اتحادیوں میں جمعیت اہلحدیث (ساجد میر گروپ)، جمعیت علمائے اسلام (ف)، تحریک اسلامی (ساجد نقوی)، جے یو پی، سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت ہے جبکہ نواز شریف نے پنجاب کے کئی موثر پِیروں، گدی نشینوں اور بڑے اور موثر بریلوی، دیوبندی اور اہلحدیث مدارس کے مولویوں کو بھی اپنے ساتھ ملاکر رکھا ہے ۔ اس میدان میں وہ خود سامنے زیادہ نہیں آتے بلکہ شہباز شریف، رانا ثناء اللہ، زعیم قادری، راجا ظفر الحق اور کیپٹن صفدر وغیرہ کو آگے رکھتے ہیں۔ نواز شریف نے خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کے خلاف جے یو آئی (ف) کے مولوی فضل الرحمان اور ان سے منسلک مولویوں ہاتھ ملایا ہے تو تحریک انصاف مولوی فضل الرحمان کے حریف سمیع الحق اور ان کے مدرسے کے اثر کو اپنے لیے استعمال کررہی ہے۔ مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف اپنی سیاسی رسہ کشی میں مذہب کے ہتھیاروں سے ایک دوسرے پہ حملہ آور ہوتی ہیں۔
یہاں پہ آکر وہ ترقی پسند اور لبرل حلقے جو نواز شریف کے لبرل ہونے پہ سوالیہ نشان لگاتے ہیں، وہ نواز شریف کی حمایت میں کھڑے ہونے والے صحافتی و سول سوسائٹی کے لبرل سیکشن سے سوال کرتے ہیں کہ وہ بلاسفیمی اور دیگر طرح کے مذہبی ہتھکنڈے استعمال کرنے والی نواز لیگ کو کیسے لبرل جماعت کے طور پہ پیش کرتے ہیں جبکہ وہ اینٹی لبرل اور مذہبی رجعتی پسندی کا کارڈ استعمال کرنے پہ عمران خان اور ان کی جماعت پہ تنقید کی دھار تیز رکھتے ہیں۔ لوگ نواز شریف کو لبرل قرار دینے والے پاکستانی لبرل پریس کے سیکشن سے یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ عمران کے خان کے سمیع الحق جیسے طالبان کے مبینہ استاد کے ساتھ تعلقات کو زیر بحث لانے کے ساتھ وہ اتنی شدت اور قوت کے ساتھ نواز، شہباز شریف کے فضل الرحمان اور محمد احمد لدھیانوی وغیرہ کے ساتھ تعلقات کو کیوں زیربحث نہیں لاتے اور اس بنیاد پہ ان سے کیوں الگ کھڑے نہیں ہوتے۔ نواز شریف کی اس وقت ساری سیاسی مہم جوئی کا مقصد 2018 کے انتخابات سے پہلے پہلے ایسی فضا تیار کرنا ہے جس میں خاص طور پہ پنجاب میں وہ اپنی خود ساختہ مظلومیت کے سہارے الیکشن میں اتنی بھاری اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوجائیں کہ ان کو آئین پاکستان میں ایسی تبدیلیوں کا موقعہ مل جائے جن کی مدد سے وہ پہلے سے کہیں طاقتور انداز میں واپس اسمبلی میں آئیں اور پاکستان میں ریاست کا کوئی ادارہ بشمول پارلیمنٹ ان کے اشارے سے ہٹ کر کوئی قدم نہ اٹھاسکے ۔ اسی مقصد کی خاطر وہ عدلیہ کے خلاف ایک خاص پیٹرن پہ عمل پیرا ہیں۔
نواز شریف کی مشکل یہ کہ اس مرحلے پہ اپوزیشن جماعتیں ان کا ‘بیانیہ’ خریدنے کو تیار نہیں ہیں۔ نہ ہی پاکستان تحریک انصاف جو پنجاب میں بہرحال ان کے خلاف ایک بڑی طاقت کے طور پہ موجود ہے اس کو کامیاب ہوتا دیکھنا چاہتی ہے ۔ نواز شریف کے پاس تو بعض تجزیہ نگاروں کے بقول اتنی بڑی عوامی حمایت بھی نہیں جو کبھی ذوالفقار علی بھٹو کے پیچھے نظر آئی تھی۔