اداروں کے ساتھ محاذ آرائی اور جمہوریت کا مستقبل!

میڈیا پر خبریں تقریبا ختم ہو چکی ہیں۔ تمام ٹاک شو ز پر ایک ہی موضوع زیر بحث ہے۔ عوام کے حقیقی مسائل سے قطع نظر سیاست اور ریاست کے اداروں کے درمیان محاذ آرائی کو ابھارا جا رہا ہے۔  سرمائے کی مدد سے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے ممبران کو عوام کے بنیادی حقوق سے کچھ نہیں لینا دینا ہے۔ اور یہ طاقتو ر دھڑے باہم دست و گریبان ہیں۔ سینٹ کے انتخابات کی ٹکٹوں کی تقسیم میں مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی نے ارب پتی اور غیر سیاسی شخصیات کو ٹکٹ بانٹے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی نے اپنی جماعت کے سنیئر لیڈروں اور پڑھے لکھے لوگوں کو ٹکٹ دیئے ہیں۔

میڈیا پر مباحثے غیر اخلاقی اور غیر مہذب کلچر کی علامت ہیں۔ یہ حکمران طبقات کی باہمی لڑائی عوام کیلئے درد سر بن گئی ہے۔ اس ملک کی سب سے بڑی عدالت میں بے مقصد مقدمہ چل رہا ہے تو دوسری طرف کئی ماہ سے جاری ایم کیو ایم کے مختلف دھڑوں کے درمیان تضادات کی وجہ سے نسل پرستانہ منافرتوں پر مشتمل یہ پریشر گروپ ٹوٹ پھوٹ سے دو چار ہے۔ جس سے محسوس ہوتا ہے حکمران مقتدرہ طبقات اب ماضی میں اپنے مفادات کیلئے پروان چڑھائے ہوئے گروہوں سے نجات حاصل کرنے کے بعد نئے لوگوں اور قیادت کی تلاش میں ہیں۔ ایم کیو ایم کراچی میں سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنے کیلئے 1978میں معرض وجود میں لائی گئی جبکہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ قیادت کو جنرل ضیاء الحق کے عہد میں پروان چڑھایا گیا۔ دونوں کی سمت غیر سیاسی تھی۔ ایم کیو ایم کی بنیاد مہاجرت پر مبنی نسلی ابھار تھا جبکہ مسلم لیگ کے قیام کا مقصد جنرل ضیا الحق نے اپنی سیاست کو دھڑے کی بنیادیں فراہم کرنا تھا۔ کراچی کی سیاست میں سیاسی جماعتوں کو بتاریخ خارج کر کے وہاں پر نسلی اور لسانی سیاست کو ابھارا گیا جس سے وہاں پر سیاسی تحریکیں اور محنت کشوں کی یکجہتی ختم ہوئی۔ اس کاموں سے سیاسی شعور اور طبقاتی جدو جہد کو ختم کرکے ضیاء الحق نے اپنے اقتدار کو طوالت دی۔

پچھلے ستر سالوں میں جنوب ایشیا کے ممالک میں ضیاء الحق میں امریکی مفادات کو جتنا فروغ دیا اتنا کوئی بھی حکمران نہیں کر سکا ۔ جس میں افغان جہاد سے لے کر دوسرے خارجی اور داخلی محاذ پر بے پناہ خدمات شامل ہیں۔ ایم کیو ایم کو قائم کرنے کی واردات میں ریاستی مشینری اور کراچی کی مہاجر مڈل کلاس کے سرکردہ لیڈروں کو استعمال کیا گیا۔  تنگ نظر قومیتی اور لسانی تضادات نے محنت کشوں کے اتحاد کو پارا پارا کر دیا۔ ہجرت کے  بعد مہاجروں کا اس معاشرے میں جذب یا مانوس نہ ہونا یہاں کے حکمران طبقات کی تاریخی ناکامی تھی۔  پاکستان کے مزدور طبقے کے گڑھ یعنی کراچی جہاں پر پورے ملک کے محنت کش رو ز گار کے حصول کیلئے آتے ہیں،  ان کے اتحاد کو توڑنے کیلئے مہاجرت کے تاثر کو ابھار کر طبقاتی جدو جہد کو منتشر کر دیا گیا سرمایہ داری نظام میں درمیانہ طبقہ ہمیشہ تسلسل کے ساتھ اضطراب کا شکار رہتا ہے۔ اس کو معیار زندگی گر جانے کی وجہ سے نچلے طبقات میں شمولیت کا خوف رہتا ہے۔ دوسرا وہ جلد بالائی طبقات میں شامل ہونا چاہتا ہے۔ ان جیسا بننے کیلئے سماج پر بالا دست طبقات کی مسلط کردہ روایات، رواج،  ثقافت اور اخلاقیات کو اختیار کرتا ہے۔ جب سماج میں سرمایہ داروں اور مزدوروں کے درمیان طبقاتی کشمکش کمزور پڑ جاتی ہے تو نا گزیر طور پر درمیانے طبقے کی سیاست میں شخصیت پسندانہ فسطائی جذبات جنم لیتے ہیں۔ اس کو ہم الطاف حسین کی لیڈر شپ کے ابھار اور اب  پنجابی اشرافیہ کے نمائندے میاں نواز شریف کے حالیہ طرز عمل اور نظریات کے تناظر میں دیکھ سکتے ہیں۔ جس میں سیاست انتہائی ہٹ دھرم اور رجعتی ہوتی ہے۔ ایم کیو ایم بنیادی طور پر ایسا فسطائی جنون تھا جو کہ اب مفادات کی لڑائی میں تقسیم ہو رہا ہے ۔

افغان جہاد کی فنانسنگ کیلئے منشیات کا دھندہ اور نیٹ ورک امریکہ نے قائم کیا تھا۔ اسی طرز پر ایم کیو ایم بھی بھتہ خوری اور دوسرے جرائم کے ذریعے اپنی سیاسی تنظیم اور مسلح ونگ چلاتی رہی۔ جبر و خوف کے ذریعے انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے اس کے لیڈروں نے خود کو مالیاتی بنیادوں پر مضبوط کیا۔ جوں جوں تنظیم میں کالے دھن میں اضافہ ہوا تو ہوس بڑھنے لگے۔ حصہ داروں کی تعداد میں اضافہ ہوا جس سے ایم کیو ایم کے جبر میں اضافہ ہوا۔ اس کے تضادات آقاؤں کیلئے مسئلہ بننے لگے تو کانٹ چھانٹ کی کوشش کی گئی۔ اس کی لیڈر شپ بکھر گئی، پہلے چھوٹے تاجروں سے بھتہ وصول کیا جاتا تھا تو آہستہ آہستہ پرانے بڑے صنعت کاروں اور سرمایہ داروں کو بھتے کی پرچیاں ملنے لگی۔ ریاست کے کرتا دھرتا ان وارداتوں پر چونکے اور اس تنظیم کو کمزور یا تقسیم کرنے کیلئے اقدامات کیے۔ اسی وجہ سے ہمیں کراچی اور حیدر آباد کی سیاست میں ہلچل نظر آتی ہے۔

میاں نواز شریف نے ریاستی ڈھانچے پر ترکی ماڈل کے تحت مکمل خود مختاری حاصل کرنے کیلئے منصوبہ بندی کی۔ جس میں پہلا کام سینٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنا تھا جو کہ مقتدرہ طبقات کیلئے ناقبول تھا۔ وہ ریاست کو ستر سال سے اپنے ڈھب سے چلا رہی تھی۔ نواز شریف جس نے اپنے حق میں فیصلوں کو پی سی او ججوں کی کسوٹی سے نہیں پرکھا تھا،  آج اس کو ہر پی سی او جج کے فیصلہ پر اعتراض ہے جو کہ ماضی میں مقتدرہ طبقات کا اتحادی ہونے کی وجہ سے ہمیشہ تمام فیصلے اس کے حق میں آئے ہیں۔ میاں نواز شریف کا یہ کہنا کہ مسلم لیگ (ن) نے ججوں کی بحالی کی تحریک میں فعال کردار ادا کیا۔ سابق چیف جسٹس پاکستان افتخار احمد چوہدری نے ایک  نجی چینل کے انٹر ویو میں کہا کہ ججوں کی بحالی کی تحریک میں میاں نواز شریف کا کوئی کردار نہیں ہے۔ تحریک کے شروع میں وہ پاکستان میں موجود ہی نہیں تھا اور بعد میں اپنے سیاسی مفادات حاصل کرنے کیلئے اس کی حمایت کی۔ اس نے آمروں کی سر پرستی میں اپنی سیاست کا آغاز کیا لہذا اس کا جمہوریت آئین اور قانون کی بالا دستی سے کیا تعلق ہے۔ موجودہ صورتحال میں حکمران طبقات اور اس کے طفیلی گروہوں کے تضادات اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ وہ نظام کے دفاع میں نعرے لگاتے ہوئے بھی اس کے کلیدی اداروں پر ضربیں لگاتے جا رہے ہیں۔ اس نظام کے تقدس کی قسمیں کھانے والے سیاست دان اب اس کی ناکامی کا اپنی تقریروں میں تذکرہ کر رہے ہیں۔

لینن نے لکھا تھا کہ کسی سماج کے انقلاب کیلئے پک کر تیار ہونے کی پہلی عکاسی حکمرانوں کے شدید تضادات اور حل نہ ہونے والے تضادات، کسی سماج کے انقلاب کیلئے پک کر تیار ہونے والی دوسری عکاسی کی صورت ہوتی ہے۔ نواز لیگ اینٹی اسٹبلشمنٹ ہونے کا دعویٰ اقتدار میں ہوتے ہوئے کر رہی ہے جبکہ تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور مذہبی جماعتیں بڑی سرکار کے پیرو کار اور تابع ہونے کو چھپا رہی ہیں۔ تجزیہ سے معلوم ہوتا ہے ملک کے مقتدرہ حکمران طبقات کسی نئے طفیلی گروہ اور نئے لیڈر شپ کی تلاش میں ہیں۔ مگر عوام کو پارلیمنٹ آئین اور جمہوری نظام کی بالا دستی کیلئے کردار ادا کرنا ہے۔ عوامی حمایت کے بغیر کوئی بھی اقدام سیاسی توازن کو تبدیل نہیں کر سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں مقتدرہ طبقات کیلئے ناقابل  قبول بیانیے عوام میں پذیرائی حاصل کر لیتے ہیں۔

نواز شریف کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ جمہوری نظام سویلین بالادستی اور آئینی شقوں کو زیادہ سنجیدہ لے رہا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ وہ طاقتوں کے اس پرانے توازن کو تبدیل کر سکتا ہے۔ لیکن جمہوری نظام کی بالا دستی کے دعوئے کے باوجود اس کے پاس عوام کی محرومیوں اور غربت کے خاتمہ کیلئے کوئی پروگرام نہیں ہے۔