انگریزی لا سے عربی لا تک کا دلچسپ سفر
- تحریر سرور غزالی
- منگل 27 / فروری / 2018
- 4999
عربی زبان میں لا کے معنی ہوتے ہیں نہیں اور اسی لفظ کو انگریزی زبان میں بولیں تو یہ قانون کہلاتا ہے۔ انگریز جب اپنا قانون لے کر چلا گیا تو ہم نے عربی کی لا کو اپنا قانون بنالیا۔ اب ہمارے معاشرے میں انگریزی نہیں عربی لا چل رہا ہے ۔ پھر قانون کی عدم موجودگی کا شکوہ کیوں۔ لا ثانی، لایعنی، لا فانی، لا مکانی، اتنے لا کی موجودگی کے باوجود ہم کو گلہ روا نہیں۔
لا کے تذکرے سے مجھے اپنے مولوی صاحب یاد آگئے جو کہتےہیں کہ مسجد میں انگریزی میں سوری کہنا بھی گناہ ہے۔ اس بات پر انہوں ایک بار ایک بچے کو اس بے رحمی سے پیٹاکہ مت پوچھیئے۔ وہ بچے کو پیٹتے جاتے اور اسے کدو، کریلہ اور اسی طرح کے بہت سارے خطابات سے نوازتے رہے۔ ہم میں سے ایک بچہ وہ واحد بچہ تھا جسے جینز پہن کر بھی مدرسے آنے کی اجازت تھی۔ وہ ہر روز اپنا سبق سنا کر جلدی چلا جایا کرتا تھا۔ اس روز وہ رک گیا اور چھٹی کے بعد ہم سب کو جمع کرکے بولا یہ مولوی صاحب انگریزی زبان کے لفظ سوری پر اتنا غصہ کھا رہے تھے جبکہ کدو کریلا جیسی گالیاں خود بک رہے تھے۔ ہم نے کہا یہ کدو کریلا گالیاں کیسے ہوگئیں۔ اس نے کہا تم خود سوچو وہ ساری انہی سبزیوں کے نام لے رہے تھے جو انسانی ستر کے اعضاء کے مشابہ ہیں یہ گالی نہیں تو اور کیا ہے۔ گالیاں مشابہ الفاظوں کے ذریعہ ہی دی جاتی ہیں۔ اس نے ہم سے پوچھا تم نے منٹو کو پڑھا ہے۔ میں نے کہا اب چپ رہو ورنہ اس مولوی کا ڈنڈا ہم پر بھی برسنے والا ہے۔ پر وہ ڈھٹائی سے بولا تم نے بھی تو شلجم کی کسی چھاتی سے مشابہت کا حال پڑھ رکھا ہوگا۔ صرف بنتے شریف ہو۔ اس دن ہمیں پتہ چلا کہ اسے جلدی چھٹی کیوں دی جاتی تھی۔ ایک دن میں اس نے ہمیں اتنا سکھا دیا تھا۔
یہ مولوی صاحب کے مدرسے کا ‘لا‘ تھا جس کی پابندی ہم تمام بچوں پر لازم تھی۔ وہ انگریزی نہیں عربی لا کے ماننے والے ہیں۔ ہر قانون کے ساتھ اس کی شقیں ہوتیں ہیں جنہیں الف ب ت کے ذریعہ واضع کیا جاتا ہے۔ اب آپ لا کے بعد لگاتے جایئے اس کی شقوں کے حروف تہجی۔ الف اور ب، آپ پر چھوڑتا ہوں اور سیدھا ت پر آجاتا ہوں۔ کیا بنا لا اور ت۔ قانون میں ایک نئی طرح جو کہ زیا دہ پرانی نہیں ہے، اسے سوموٹو کہتے ہیں اب اس کو بھی اردو میں پڑھا جائے عربی آتی نہیں اور انگریزی گناہ کے زمرے میں ہے تو یا تو یا سو موٹے موٹے فرد سمجھے جائیں یا سونٹے۔
لا ہو، قانون یا کچھ اور ہم لوگ تو اصل میں مارشل لاء کو ہی اصلی لا سمجھتے ہیں۔ جمہوری سوچ کا فقدان ہے۔ پیدا ہونے سے اب تک ڈکٹیٹر شپ ہی تو دیکھی ہے۔ حالانکہ مارشل کے ہاتھ عوام کو مار مار کر شل ہوگئے۔ اور اس میں ہمت ہی نہیں رہی کہ وہ اب ایک اور مارشل لا ء لگائے۔ سو انہوں نے سو موٹو کا سہارا ڈھونڈا۔ ہماری قوم کس قدر سخت جان واقع ہوئی ہے کہ عوام کے بازو مار کھا کھا کر شل نہ ہوئے۔ مارشل خود ہی تھک ہار کر ادھر ادھر دیکھ رہا ہے۔ اور لاء بھی اپنی قربت دکھا کر خود بھی مارشل لاء جیسے کرتوت دکھا رہا ہے۔ وہی جلد بازی کی سمری جس میں انصاف کے تقاضے پورے ہو نے سے بھلے رہ جائیں۔ وہی سیاسی قدغن اور گھٹن جس میں بونے سیاست داں قدآور دکھائی دینے لگیں۔