بدلتا ہوا عالمی منظر نامہ اور قومی بیانیہ

کوئی تووجہ ہے کہ موجودہ بیانیے، طرز فکر اور طریقہ فکر و اظہار سے کوئی مطئمن نہیں ہے۔ ریاست سیاستدان عسکری ادارے مذہبی علماء، سیاستدان اور سیکولر زندگی یا مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے سب ہی شاکی نظر آتے ہیں کہ کوئی چیز ہے جو ہمارے رویوں اور سوچنے کے انداز کو اندر ہی اندر گھن کی طرح چاٹ رہی ہے۔ یہ دیمک، یہ گھن کیا ہے۔ اور اس کا علاج کیا ہے۔ اس پر متعدد آراء موجود ہیں اور ظاہر ہے اس کا تعلق ہر فرد اور گوپ کے اپنے سماجی سیاسی ثقافتی نسلی، لسانی پس منظر سے ہے۔ اسی تناظر میں حل پیش کئے جاتے ہیں۔

اکثر یہ آراء اور حل آپس میں متصادم لگتے ہیں اس کی وجہ مختلف طبقات کو آپس میں مکالمے کی کمی اور اپنے اپنے موقف پر اصرار ہے۔ پاکستان کا قومی بیانیہ کیا ہونا چاہیے۔ مدراس کا بیانیہ کیا ہے۔ مغرب کے متعلق بیانیہ کیا ہے۔ اس قسم کے لا تعداد سوالات نے قوم کو پریشان کر رکھا ہے۔ جس کی وجہ سے اجتماعی اور قومی یکجہتی پر مبنی بیانیے کی تشکیل میں مشکل ہو رہی ہے اور دانشور حلقوں نے اس حوالہ سے ہمیشہ عجیب و غریب بحث میں الجھا رکھا ہے۔ جس میں اب میڈیا میں بیٹھے ہوئے کالم نگار، اینکرز، سول بیورو کریٹس زیادہ ہی سر گرم دکھائی دیتے ہیں۔ اپنے ذہن میں موجود ذاتی خیالات کو عام لوگوں کے ذہنوں میں ٹھونسنا چاہتے ہیں۔ اس فکری انتشار کے پھیلاؤ کی وجہ سے پاکستان میں انتہا پسندی، دہشت گردی، سیاسی و سماجی عدم برداشت اور رویوں کے بگاڑ میں اضافہ ہوا ہے۔ جس کی نشوو نما ریاست نے تعلیمی اداروں سیاسی و سماجی اصلاحات، اندرونی اور خارجہ پالیسیوں کے بنیادی ہدف کے طور پر کی۔  نتیجہ میں ایسا قومی بیانیہ سامنے  آیا ہے۔ مگر حالیہ نیشنل ایکشن کے حوالہ سے اعلیٰ سطح کے اجلاس سے معلوم ہوا ہے کہ ہم 2002سے دہشت گردی اور ان کے سہولت کاروں کے حوالہ سے ابھی تک وہاں ہی کھڑے ہیں۔  مختلف اداروں کے درمیان تضادات موجود ہیں جو کہ اصلاحات کو منطقی انجام تک پہنچانے میں رکاوٹ ہیں۔

یہی وجہ ہے عالمی سطح پر ہماری پالیسیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔حال ہی میں فری اینڈ فری الیکشن نیٹ ورک کے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ ملک میں17فیصد لوگ آمریت کے حامی ہیں اور45 فیصد جمہوریت کے حامی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے55 فیصد لوگ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔ بظاہر یہ ساری صورتحال گہری توجہ کی طالب ہے۔ جمہوریت کے حوالے اور اکثریت سے منتخب ہونے والے وزیر اعظم کے بارے میں بھی ایک جماعت کی طرف سے تحفظات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اب اس کو وزیر اعظم ماننے سے ہی انکار کیا جا رہا ہے۔ سابق صدر رویز مشرف نے بھی جمہوریت کی افادیت سے انکار کرتے ہوئے اس کو پاکستان کیلئے بہتر نظام حکومت نہیں قرار دیا ۔ جنرل ضیاء الحق کے بھی اس سے ملتے جلتے خیالات تھے اور اس کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی گمشدہ ڈائری مل گئی تھی جس میں صدارتی نظام کو عظیم قائد کا پسندیدہ قرار دیا گیا۔ اسی قسم کی کوشش میاں محمد نواز شریف نے کی تھی۔

ہمیں قومی بیاننے کی تشکیل کے حوالہ سے فکری چیلنج در پیش ہیں۔ مذہب کی سیاسی تعبیر اور امت، ریاست اور معاشرت کے تصورات پر از سر نو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ عسکریت پسندوں کے بیاننے کی قوت ان کی مذہبی دلیل میں پوشیدہ ہے ور اس کیلئے عسکریت پسندوں کے فکری تناظر کو سمجھ کر اس کا اہم ترین چیز ہے علماء اور ماہرین کے درمیان مذہبی مکالمہ تاکہ دور حاضر کے تقاضوں کو سمجھا جا سکے۔ سماجی رویوں کی تہذیب کی ضرورت ہے۔   دور حاضر کے تقاضوں کو سمجھا جائے۔  مذہبی فکر کی غیر متعصب تشکیل نو کی کاوشوں کی ضرورت ہے، سماجی رویوں کی تہذیب کی ضرورت ہے۔ نصاب تعلیم میں اہم تبدیلیوں کی ضرورت ہے، اور ماضی کی ضروریات کے تحت شامل کئے جانے والے موضوعات کو خارج کر دینا چاہیے۔ بچوں کو تاریخ اور سیاست کو پڑھایا جانا چاہیے، تا کہ وہ اچھے شہری کے حقوق و فرائض سے روشناس ہو سکیں۔ آئین پاکستان کو تسلیم  نہ کرنے والا سیاسی جماعتوں پر پابندی لگانی چاہیے۔ خارجی امور کی پالیسی کے بارے میں صرف ریاست کو بیان دینے کا حق ہے۔ ملک کی مذہبی جماعتوں کا اس حوالہ سے کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے تاکہ ہم خارجہ پالیسی کو جمہوری سوچ کے ساتھ پروان چڑھا سکیں۔

ریاست کالعدم تنظیموں کے بارے میں ابہام مکمل طور پر ختم کرے۔ انسانی حقوق اور اظہار آزادی کے بنیادی فریم ورک میں رہتے ہوئے انتہا پسندوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی۔ ہمارا قوامی بیانیہ ملک کی سلامتی، عوام کی فلاح و بہبود ، رو داری اور انسانیت دوست رویوں پر مبنی ہونا چاہیے۔ موجودہ سیاسی پس منظر میں اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کا ایک نیا بیانیہ سامنے آیا ہے جس کی نمائندگی مسلم لیگ (ن) کر رہی ہے۔ کیونکہ  وہ عدالت  اور نیب کی ممکنہ کارروائیوں سے شاکی ہے تو دوسری طرف عمران خان ریاستی اداروں کے پیچھے کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔

اس ساری صورتحال میں ملک بالخصوص پنجاب میں انتظامیہ ڈھانچہ بکھر چکا ہے جس سے ملک کی معیشت ، ثقافت اور سماجیت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ملک میں اداروں میں فکری یکجہتی اور یکسوئی کی موجودگی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ورنہ موجودہ تضادات سے بحران میں اضافہ ہوگا۔